واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


حدود و قیود

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-05-11, 12:17 PM   #1
حدود و قیود
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 23-05-11, 12:17 PM

بدن پسینے سے شرابور ہو جاتا ہے اور زمین پاؤں سے کھسکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے ۔ جب قدم ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں مقابلے پر اتر آتے ہیں ۔ پہلی بار جب سائیکل کے پیڈل پر پاؤں رکھ کر توازن قائم کیا تو دو پہیے دو پاؤں سے بہت زور آور محسوس ہوئے۔ مگر رفتہ رفتہ وہ بھی ایک رفتار کے بعد میری ہی توانائی کے استعمال پر اُتر آئے ۔ گاڑی چلانے کے شوق سے زمین پاؤں تلے نکلنے کے نئے فن سے آشنا ہوئے ۔ نئے سے نئے تجربہ کے شوق میں ٹرین اور پھر جہاز تک کے سفر سے زمین پاؤں کے نیچے سے نکلنے میں جسمانی توانائی کے ضیائع سے آزاد ہو گئی ۔ ہاتھوں کے بل رینگنے سے لے کر ہواؤں میں اُڑنے تک کے سفر سے زندگی کی کامیابی کی چوٹیاں تو سر کرتے چلے گئے۔اور بدن پاؤں کے ہرجائی پن سے مٹی کی محبت سے محروم ہو گیا ۔آسمان کی بلندیوں تک جانے سے پہلے سفر کی دعا سے �آغاز کیا جاتا ہے ۔ کیونکہ ہم ہمیشہ ہوا میں رہنے کا تصور نہیں کر سکتے ۔ ہوا میں اُڑنے والے بھی ایک وقت تک ہی وہاں رہ سکتے ہیں ۔اتنا ایندھن بچا کر رکھتے ہیں کہ لوٹ سکیں ۔توانائی ضائع ہو جائے تو اُترتے نہیں گرتے ہیں ۔حدودمیں رہنا آسان بھی اور محفوظ بھی ۔
حدودو قیود چاہے معاشرتی اقدار میں ہوں یا ملکوں کی سرحدوں میں ۔ بلا اجازت داخلے کی صورت میں خوف میں جکڑے رہتے ہیں ۔دوسرے کا گھر دیوار سے جھانکنے میں بہت خوبصورت دکھائی دیتا ہے ۔اپنی دیوار پھلانگنے سے پہلے جان لینا ضروری ہے کہ وہ اپنی حدود میں ہی رہتا ہے ۔جھانکنا اور دیوار پھلانگنا حدود سے نکلنے کے مترادف ہے ۔
خیالات کی سرحدیں چاہے کتنی ہی کیوں نہ پھلانگ لی جائیں پانے کے لئے ۔مگر کھونے کا ڈر ہمیشہ ساتھ رہتا ہے ۔زمین اپنے خاندان کائنات نظام شمسی میں حدود و قیود کی پابندی میں ہے ۔پھر انسان کی حدود کیا ہیں ۔زمین پہ چلنا ، پانی پہ تیرنا یا ہوا میں اُڑنا ۔ اشرفالمخلوقات ہونے کے ناطے اتنا حق تو ملا ہے اسے ۔ اپنی سوچ اور ہمت سے آگے بڑھتا ہے ایک حد تک۔انسان کی سوچ کی آزادی میں ہی اس کی قیود ہیں ۔دیکھتی آنکھیں ، سنتے کان ، بولتی زبان اور ہلتے ہاتھ فطری راستوں پہ رہیں تو ٹھیک ۔وگرنہ آزمائش کی سختی میں پورا وجود ہی سزاوار ہو جاتا ہے ۔اگر انسان اپنی راہوں سے بھٹک جائے تو موجب فتنہ و فساد ہو تا ہے ۔
حقوق ملکیت جتنی آزادی دیتے ہیں ۔ حقوق آدمیت اُتنی ہی بندشیں عائد کرتی ہے ۔ راست اقدام عمل، بغض باطل اور کینہ غافل سے بچنے میں ممدو معاون ہوتے ہیں ۔جن باتوں سے اجنبی رہنے میں عافیت سمجھی جاتی ہے ۔وہی اپنا پن کھونے پر آنسوؤں سے اپنائیت کا اظہار کرتے ہیں ۔اجنبی اجنبیوں سے انسیت رکھتے ہیں ۔انسان مزاج سے ایک دوسرے کے قریب رہتا ہے فطرت سے نہیں ۔فطرت کے تقاضے حالات سے پیدا نہیں ہوتے ۔بلکہ خیالات میں رقص خواہش پہ نچھاور ہوتے ہیں ۔الفاظ سے جادو سر چڑھ کر نہیں بولتا ۔الفاظ کی بناوٹ اور شاہستگی بوجھل سوچ کو آزادی لہر ارجمند کر دے تو آزادی فطرت پہ رہ کر اختیار کی جائے تو نعمت ہے ۔اگر حدودو قیود سے آزاد ہو تو بے راہ روی ہے ۔ جو عمر کی ہر دہائی میں مختلف رنگ رکھتی ہے ۔جوانی میں بڑھاپا سوچنا گوارا نہیں ۔ اور بڑھاپے میں جوانی نا گوار ہے ۔خوشیاں پل بھر میں جدا ہو جاتی ہیں ۔مگر لطیف احساس تنہائی کے پہرے میں دیپ نہیں جلاتا ۔
دکھ تکلیف میں چاہے شدت کم ہو مگر یہ ہم سفر بڑا طویل ہوتا ہے ۔غم گساری کے ساتھی مسافر جلد راستے میں اُترتے جاتے ہیں ۔تنہا سفر طے کرنے میں بہت طویل ہوتا ہے ۔پابندیاں بیماری میں پرہیز کی مانند عارضی طور پر تکلیف دہ تو ہوتی ہیں ۔ مگر توانائی بحال کرنے میں معاون و مددگار ہوتی ہیں ۔بد پرہیزی لطف دوبالا کر دیتی ہے ۔ مگراثرات جان پر بھی آ سکتے ہیں ۔تخیل انسان رینگنے سے اُڑنے تک کے مراحل کا محتاج نہیں ۔جب چاہا جہاں چاہا قصد سفر باندھ لیا ۔ توانائی کے ضیائع کا خوف نہیں ۔ اس لئے واپس لوٹنے کی بھی جلدی نہیں ہوتی ۔ ہوا کے گھوڑے پر تا حیات سوار رہ سکتا ہے ۔
اسی لئے معاشرہ مذہب کی حدود وقیود کا پابند رکھا گیا ہے ۔جو اُڑان تخیل کو پابند کرتا ہے ۔ اور توانائی کو بچا کر رکھنے کا عندیہ دیتا ہے ۔تاکہ واپس لوٹنے میں گرنے کی ضرب سے محفوظ رہا جا سکے ۔آزادی کلچر میں پیدا ہوتی تبدیلیوں کا مظہر ہے ۔ جو بیماری میں بد پر ہیزی کی مانند پنپتی ہیں ۔لطف اُٹھانے کے لئے ہی انہیں قبول کیا جاتا ہے ۔مگر دیکھنے والے اس کے اثرات و انجام سے بے خبر نہیں ہوتے ۔ظاہری حالت کی مقبولیت انھیں قبولیت پر آمادہ کرتی ہے ۔
بے ہنگم ساز کی طرح انسانی ہجوم سے ہنگامہ برپا ہے ۔ دور سے کان صرف ایک شور سن پاتے ہیں ۔جو مختلف زبانوں میں ادا کئے گئے الفاظ نہ سمجھ آنے والی ایک ہوائی ساز میں بدل جاتے ہیں ۔ زندگی اتنی تیز رفتاری سے گزر جاتی ہے ۔کہ آوازیں کبھی سمجھ کر اور کبھی انجان بن کر پاس سے گزر جاتی ہیں ۔آزادی کا یہ روپ مانوسیت نہیں رکھتا ۔ بھیڑ میں صرف قریب سے گزرنے والے کلامِ ہم زبان سے اپنائیت محسوس کرتا ہے ۔وگرنہ سوچ خود سے ہی مانوس زبان میں ہم کلام ہوتی ہے ۔کامیاب زندگی کا مقام جو سمجھ بیٹھے ہیں وہ خوشحال تو ہیں مگر خوش باش نہیں ۔بامراد تو ہیں مگر با نصیب نہیں ۔قسمت اور نصیب محنت سے ٹکراتا ہے ۔کبھی پیشانی پہ لکھی تقدیر تو کبھی عقل کی تدبیر جانتا ہے ۔ خون پسینہ بہا کر جو حاصل کرتا ہے ۔ ہاتھ کی میل سمجھ لیتا ہے ۔جسے ہاتھ کی لکیروں سے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے ۔اور ہاتھوں ہی کے بل خواہش کو منزل کا نشان بنا لیتا ہے ۔
منزل امید کا چراغ ہے ۔ بجھنے پر نشان بنتی ہے ۔منزلیں خواہشوں کی ہوتی ہیں ۔زندگی تو ایک کھلا میدان ہے جہاں سب ہی ایک دوسرے کے سامنے رہتے اور گزرتے ہیں ۔کیونکہ ان کے آنے کا انداز ایک اور جانے کا بھی وہی ایک۔ منزل تو پھر ایک ہوئی صرف ۔ راستے الگ الگ ہیں ۔کوئی کانٹوں جھاڑیوں کا راستہ اختیار کرتا ہے کوئی میدانوں کا تو کوئی ریگستانوں کا ۔
طویل راستوں سے جو عاجز ہوتے ہیں وہ شارٹ کٹ اختیار کرتے ہیں ۔منزل پالیں تو ٹھیک ورنہ سفر کی صعوبتوں سے انجام عبرت کے نشان میں بدل جاتے ہیں ۔جو منزل تک پہنچنے کے لئے ہاتھ کی لکیروں کا راستہ اختیار کرتے ہیں ۔نہیں بھولنا چاہئے وہی ہاتھ روزانہ ان کے گلے اور گریبان تک آسانی سے جاتے ہیں ۔اس لئے معافی مانگنے سے عاجز ہیں ۔ہاتھ کھلی آزادی پاکر ہی گریبان پھاڑتے ہیں ۔
اگر آزادی اصول وضوابط میں حدودو قیود کے اندر رہے تو آباد ورنہ برباد ہے۔

تحریر : محمودالحق

(اتحاد ائیر لائن کے ساتھ ہوائی سفر کے دوران لاہور جاتے ہوئے لکھا )
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 368
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-11), ننھا بچہ (31-05-11), محمدعدنان (25-05-11), حیدر (31-05-11)
پرانا 25-05-11, 12:13 PM   #2
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حقائق تو ہیں تلخ مگر مشکل پیرائے میں قلمبند ہو گئے ۔ کئی بار کوشش کر چکا ہوں کہ ایسی تحاریر لکھنے میں اگر آ ہی جاتی ہیں تو ٹھیک ۔ کم از کم پوسٹ نہ ہوں ۔
شکریہ اگر شمار نہ بھی ہوں مگر اعداد و شمار میں اہمیت ضرور رکھتی ہے کیونکہ پاک نیٹ پر پوسٹ کی گئی یہ میری ساٹھویں "60 " تحریر ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (25-05-11), ننھا بچہ (31-05-11), حیدر (31-05-11), عروج (07-06-11)
پرانا 25-05-11, 02:22 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 278,002
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
ہمیشہ کی طرح ایک اورخوبصور ت تحریرپرشُکری قبول کیجئے محمودبھائی۔ جزاک اللہ

سرورق کیلئے تجویزکرتی ہوں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (25-05-11)
پرانا 31-05-11, 02:33 PM   #4
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
ہمیشہ کی طرح ایک اورخوبصور ت تحریرپرشُکری قبول کیجئے محمودبھائی۔ جزاک اللہ

سرورق کیلئے تجویزکرتی ہوں۔
شکریہ زارا بہن
ہمیشہ کی طرح آپ کا ایک اور شکریہ قبول کر لیا ۔
خوش رہو !ٓ!
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 31-05-11, 03:05 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,353
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشا اللہ سنچری ہونے والی ہے۔ ویری گُڈ
آٍغاز میں تو پریشان پریشان رہا کہ یہ بزم خیال نام سے کون صاحب آ گئے ہیں جو آتے ہی ہر جگہ پنگا لینے سے باز بھی نہیں آ رہے۔ ہیں نئے ممبر لیکن حرکتیں ساری سینئرز والی ہیں۔
آج معلوم پڑا کہ یہ تو اپنے ہی محمود بھائی ہیں ۔

باقی رہ گئی بات شکریہ کی۔ تو ہو سکتا ہے جناب کی جانے کتنے لوگ "آف لائن" یا رجسٹر ہوئے بغیر پڑھتے ہوں ۔ اب وہ تو آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے نا۔ اس لیے اپنی مشغولیات کو "بلاشک صرف اُس ایک کے لیے " ہی سہی کہ جو آپکی تحریر کو پڑھتا ہے، لیکن جاری ضرور رکھیے۔
اور ویسے بھی تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اکثر و بیشتر تخلیق کاراُ سوقت وہ پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے کہ جب وہ تحریر پیش کرتے ہیں، جو انکو بعد میں مل جاتی ہے۔
میں پہلے جس فورم پر ہوا کرتا تھا وہاں میرے ساتھ اکثر ہی یہ واقعہ پیش آیا کہ جب میں کوئی تھریڈ بناتا تھا تو مجھے کوئی پذیرائی نہیں ملتی تھی۔ لیکن کبھی کبھی مہینوں یا سال بعد جا کر وہ تھریڈ ایسا شاندار چل پڑتا تھا کہ حیرانگی ہوتی تھی۔
چناچہ دل گرفتہ مت ہوئیے ۔ اور اپنے کرم فرماؤں کی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریروں کو پیش کرتے رہیے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (01-06-11)
پرانا 04-06-11, 11:10 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
ماشا اللہ سنچری ہونے والی ہے۔ ویری گُڈ
آٍغاز میں تو پریشان پریشان رہا کہ یہ بزم خیال نام سے کون صاحب آ گئے ہیں جو آتے ہی ہر جگہ پنگا لینے سے باز بھی نہیں آ رہے۔ ہیں نئے ممبر لیکن حرکتیں ساری سینئرز والی ہیں۔
آج معلوم پڑا کہ یہ تو اپنے ہی محمود بھائی ہیں ۔

باقی رہ گئی بات شکریہ کی۔ تو ہو سکتا ہے جناب کی جانے کتنے لوگ "آف لائن" یا رجسٹر ہوئے بغیر پڑھتے ہوں ۔ اب وہ تو آپ کا شکریہ ادا نہیں کر سکتے نا۔ اس لیے اپنی مشغولیات کو "بلاشک صرف اُس ایک کے لیے " ہی سہی کہ جو آپکی تحریر کو پڑھتا ہے، لیکن جاری ضرور رکھیے۔
اور ویسے بھی تاریخ سے یہ سبق ملتا ہے کہ اکثر و بیشتر تخلیق کاراُ سوقت وہ پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے کہ جب وہ تحریر پیش کرتے ہیں، جو انکو بعد میں مل جاتی ہے۔
میں پہلے جس فورم پر ہوا کرتا تھا وہاں میرے ساتھ اکثر ہی یہ واقعہ پیش آیا کہ جب میں کوئی تھریڈ بناتا تھا تو مجھے کوئی پذیرائی نہیں ملتی تھی۔ لیکن کبھی کبھی مہینوں یا سال بعد جا کر وہ تھریڈ ایسا شاندار چل پڑتا تھا کہ حیرانگی ہوتی تھی۔
چناچہ دل گرفتہ مت ہوئیے ۔ اور اپنے کرم فرماؤں کی تجاویز کو مد نظر رکھتے ہوئے تحریروں کو پیش کرتے رہیے۔
حیدر بھائی پہلے تو آپ کا شکریہ طویل جواب سے نوازا ۔ نئی آئی ڈی بزم کا خیال رکھنے کی ہے تو پنگا تو بنتا ہے ۔
لیکن یہ کیا انکشاف کر دیا کہ سینئیر ممبرز کی حرکتیں پنگا لینے کی ہیں
جہاں تک شکریہ کی بات ہے تو میرے نزدیک اس سے مراد ہے کہ پڑھ لیا گیا ۔ نہ کہ تعریف کے زمرے میں آتا ہے ۔ کوئی بھی تحریر پوسٹ ہونے کے بعد اگر شکریہ کے بنا ہو تو محسوس ہوتا ہے کہ ابھی پڑھی نہیں گئی یا پسند نہیں آئی ۔
دل گرفتہ والی کوئی بات نہیں حیدر بھائی مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-06-11, 02:30 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ ا پنی تحاریر سے نوازتے ر ھئیےکیونکہ ان میں ایک ایسا پیغام ھؤا کرتا ھے جو زندگی کی پُرخار راہ سے کانٹے چننے میں آسانی وصبر بھی مہیا کر دیتا ھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 12:47 PM   #8
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
آپ ا پنی تحاریر سے نوازتے ر ھئیےکیونکہ ان میں ایک ایسا پیغام ھؤا کرتا ھے جو زندگی کی پُرخار راہ سے کانٹے چننے میں آسانی وصبر بھی مہیا کر دیتا ھے۔
سکول میں ایک بار جملہ بنایا تھا Life Is Not a Bed of Roses پھر زندگی نے اسےخود سے سمجھایا ۔ صبر سے بڑا ہتھیار زندگی میں نہیں پایا ۔ جب بھی آزمایا نتیجہ سو فیصد رہا ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, ہنگامہ, کوشش, کلچر, کلامِ, قدم, قصد, محبت, معاشرہ, انسان, اجنبی, جلد, خون, خبر, دعا, رفتار, راستہ, زندگی, سفر, شور, عقل, عائد, عبرت, غافل, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ایوانِ وزیراعلیٰ پنجاب کو خواتین کی آئی ٹی یونیورسٹی بنادیا گیا عبدالقدوس خبریں 10 14-02-12 01:02 AM
ہاورڈ یونیورسٹی کے نمائندے کو معزول چیف جسٹس کو ایوارڈ دینے سے روک دیا گیا عبدالقدوس خبریں 1 01-03-11 07:30 PM
ایوان صدر اور وزیراعظم کے سکیورٹی اہلکاروں کی مکمل چھان بین شروع گلاب خان خبریں 1 01-03-11 07:25 PM
”آئیفا ایوارڈزکاؤنٹ ڈاؤن“ اور ”آئیفا ایوارڈزویک اینڈ ود اسٹارز“آج جیو سے پ عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:51 PM
یورو کپ فٹبال:روس، ہالینڈکو3-1شکست دے کرسیمی فائنل میں پہنچ گیا بیسل … یور عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:32 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:02 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger