| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 642
|
||||
| 17 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا | gazali (05-12-11), shafresha (18-08-11), کنعان (18-08-11), ننھا بچہ (18-08-11), مہتاب (18-08-11), ملک اظہر (04-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), مرزا عامر (03-12-11), wajee (18-08-11), ابوسعد (02-12-11), اجمل (02-12-11), احمد نذیر (03-12-11), احمد بلال (18-08-11), راجہ اکرام (18-08-11), رضی (03-12-11), شمشاد احمد (18-08-11), شعبان نظامی (05-12-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() |
بہت اچھی معلومات ہیں
جزاک اللہ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے مہتاب کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#3 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقبال نے سید سلیمان ندوی کو لکھے گئے خط میں تصوف کو عجمی پودا کہا ہے آپ اس بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟
|
|
|
|
| شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا گیا | عبداللہ آدم (02-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 266
کمائي: 5,514
شکریہ: 189
211 مراسلہ میں 501 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
| اجمل کا شکریہ ادا کیا گیا | شعبان نظامی (30-12-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
اس موضوع پر ایک اچھی تصنیف،مولفہ: شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجرمدنی قدس سرہ
|
|
|
|
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 266
کمائي: 5,514
شکریہ: 189
211 مراسلہ میں 501 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اس کتاب کا مطالعہ فرمائیں
|
|
|
|
| اجمل کا شکریہ ادا کیا گیا | شعبان نظامی (05-12-11) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
مقبول
|
تصوف ،مسلمانوں کی افیون،۔
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (03-12-11), حیدر Rehan (03-12-11) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
آپ کی دیانت داری سے اس امر کا تقاضا کیا جاسکتا ہے کہ آپ اقبال رح کی طرح سید سلیمان ندوی کا وہ جواب بھی یہاں رکھ دیں ۔ نوٹ: مجھے اس بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں لیکن جملے کی ساخت سے یہ اندازہ لگایا ہے ، شاید جواب نہ بھی دیا ہو ، کوئی لازمی نہیں ۔ |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (03-12-11), حیدر Rehan (03-12-11) |
|
|
#10 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
ارے یاد آیا ایک اور وضاحت کیے دوں کہ یہاں اقبال سے مراد علامہ محمد اقبال ہی ہیں۔ مخدومی! السلام علیکم آپ کا نوازش نامہ قوت روح اور اطمینان قلب کا باعث ہے۔ میں ایک مدت کے مطالعہ اور غور و فکر کے بعد ان ہی نتائج پر پہنچا ہوں جو آپ کے والا نامہ میں درج ہیں، جو کام آپ کر رہے ہیں جہاد فی سبیل اللہ ہے، اللہ اور اس کے رسول آپ کو اس کا اجر عطا فرمائیں گے۔ اس میں ذرہ بھی شک نہیں کہ تصوف کا وجود ہی سرزمین اسلام میں ایک اجنبی پودا ہے جس نے عجمیوں کی دماغی آب و ہوا میں پرورش پائی ہے۔ آپ کو خیرالقرون والی حدیث یاد ہوگی، اس میں نبی کریم فرماتے ہیں کہ میری امت میں تین قرن کے بعد سمن (ویظہر فیہم السمن) کا ظہور ہوگا۔ میں نے اس پر دو تین مضامین اخبار وکیل امرتسر میں شائع کئے تھے جس کا مقصود یہ ثابت کرنا تھا کہ ’سمن‘ سے مراد رہبانیت ہے، جو وسط ایشیائی اقوام میں مسلمانوں سے پہلے عام تھی۔ ائمہ محدثین نے جیسا کہ آپ کو معلوم ہے یہ لکھا ہے کہ اس لفظ سے مراد عیش پرستی ہے، مگر لسانی تحقیق سے محدثین کا خیال صحیح نہیں کھلتا، افسوس ہے کہ عدیم الفرصتی اور علالت کی وجہ سے میں ان مضامین کا سلسلہ جاری نہ رکھ سکا میرا تو عقیدہ ہے کہ غلو فی الزہد اور مسئلہ وجود مسلمانوں میں زیادہ تر بدھ (بہمنیت) مذہب کے اثرات کا نتیجہ ہیں، خواجہ نقشبند اور مجدد سرہند کی میرے دل میں بڑی عزت ہے، مگر افسوس ہے کہ آج یہ سلسلہ بھی عجمیت کے رنگ میں رنگ گیا ہے۔ یہی حال سلسلہ قادریہ کا ہے جس میں میں خود بیعت رکھتا ہوں، حالانکہ حضرت محی الدین(عبدالقادر گیلانی) کا مقصود اسلامی تصوف کو عجمیت سے پاک کرنا تھا۔ مولف سے میری مراد ایڈیٹر کتاب الطواسین موسیو مبگنان ہے، میں نے فرانسیسی زبان میں اطواسین کے مضامین پر حواشی لکھے ہیں، انشاءاللہ معارف کے لئے کچھ نہ کچھ لکھوں گا، میری صحت بالعموم اچھی نہیں رہتی، اس واسطے بہت کم لکھتا ہوں، مثنوی اسرار خودی کا دوسرا حصہ یعنی رموز بے خودی (اسرار حیات ملیہ اسلامیہ) قریب الاختتام ہے، شائع ہونے پر ارسال خدمت کروں گا، امید ہے کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ مخلص اقبال |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | ابوسعد (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), بلال الراعی (04-12-11), رضی (05-12-11), عبداللہ آدم (05-12-11) |
|
|
#11 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
کمائي: 853
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
صوفیا ئے کرام کا برصغیر پاک و ہند میں اشاعت اسلام میں کردار جو اظہر من الشمس ہے اور پہلی سے گریجویشن تک نصابی کتب میں پڑھایا جاتا ہے اور بچہ بچہ اس سے بخوبی واقف ہے، ہماری بدقسمتی کہ جو حقیقت ہمارے لئے باعث فخر و افتخار ہے اسے بھی ہم اپنے مسلکی انا کی بھینٹ چڑھانے سے نھیں چوکتے۔اسطرح خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کا روحانی طرز عمل سے بھی پردہ پوشی کی جا رہی ہے۔
علامہ اقبال کا خط جس میں انھوں نے تصوف کی آڑ میں چند مفاد پرست عناصر کا ذکر کیا ہے وہ تو آپ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن جو رائے اقبال نے تصوف کے حق میں دی اسے چھپانا چاہتے ہیں۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے حقیقی تصوف کی وضاحت کرتے ہوئے 9 مارچ 1916ء کو شاہ سلیمان پھلواری کو خط لکھا کہ "حقیقی اسلامی تصوف کا میں کیونکر مخالف ہو سکتا ہوں کہ خود سلسلہ قادریہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں نے تصوف کو کرامت سے دیکھا ہے۔ بعض لوگوں نے غیر اسلامی عناصر اس میں داخل کر دیئے ہیں، جو شخص غیر اسلامی عناصر کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، وہ تصوف کا خیر خواہ ہے نہ کہ مخالف" جس شخص کی ساری زندگی تصوف سے عبارت ہو اور جسکا سارا علمی مجموعہ تصوف پر مبنی ہو آپ اس سب کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے صرف ایک نقطہ پکڑ کر جو صرف اصلاح کے تناظر میں لکھا گیا اسے اچھال کر کون سی اسلام کی خدمت کر رہے ہیں۔ اقبال کے افکار میں ”مرد مومن“ یا ”انسان کامل“کا ذکر جا بجا ملتا ہے۔ اس کے لئے وہ ” مرد حق“ ”بندہ آفاقی“ ”بندہ مومن“ ”مرد خدا“ اور اس قسم کی بہت سی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں حقیقتاً یہ ایک ہی ہستی کے مختلف نام ہیں جو اقبال کے تصور خودی کا مثالی پیکر ہے۔ نقطہ پرکار حق مرد خدا کا یقیں اور عالم تم ، وہم و طلسم و مجاز عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث مومن نہیں جو صاحب ادراک نہیں ہے ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ غالب وکار آفریں ، کار کشا ، کارساز کوئی اندازہ کر سکتا ہے اس کے زور بازو کا نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہےں تقدیریں امام حسن بصری رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواجہ اویس قرنی رحمۃ اللہ تعالی علیہ امام قشیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت محی الدین ابن عربی رحمۃ اللہ تعالی علیہ غوث اعظم شیخ عبدالقدر جیلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواجہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ تعالی علیہ خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالی علیہ داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت بابا فرید شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شیخ سنائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مولانا جامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ مولانا رومی رحمۃ اللہ تعالی علیہ شیخ سعدی شیرازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت امیر خسرو رحمۃ اللہ تعالی علیہ شاہ عبدالطیف بھٹائی رحمۃ اللہ تعالی علیہ رحمان بابا رحمۃ اللہ تعالی علیہ لال شھباز قلندر رحمۃ اللہ تعالی علیہ بابا بلے شاہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت مہر علی شاہ اور خودحضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ تعالی علیہ سب کے سب صوٍفیا ہیں کے نہیں۔ اب اگر تصوف مخالف حضرات علامہ کے اس موقف کو غلط معنی دیتے ہوئے اسے تصوف کی ابتداء میں شکوک و شبہات پر مبنی اور غیر حقیقی قرار دینے پر مصر ہیں تو وہ صرف اور صرف علامہ کے نیک و اصلاحی مقصد کی آڑ لیکر اپنے مضموم عقائد کو دوسروں پر ٹھوسنا چاہتے ہیں۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ کوئی اسلام اور مسلمانوں میں موجود معاشرتی برائیوں کو آڑ بناکر اسلام کی بنیاد کو غلط کہے۔ یا کوئی دوران حج جیب کتروں کی طرف سے لوٹے جانے کے واقعات کا جواز بنا کر حج کو بند کرنے کا کہے۔ یا مساجد میں جوتوں کی چوری کو بڑھتے ہوئے جرائم کا بہانہ بناتے ہوئے مسجد کو بند کرنے کا فتوی جاری کرے۔ ایسا شخص اصلاح کی بجائے صرف فساد کا ہی محرک ہے۔ |
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے ملک زوالفقار کا شکریہ ادا کیا | gazali (05-12-11), مفتی (07-12-11), محمد یاسرعلی (05-12-11), آبی ٹوکول (06-12-11), ابوسعد (05-12-11), احمد نذیر (05-12-11), رضی (05-12-11), شعبان نظامی (05-12-11), عبیداللہ عبید (05-12-11) |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
السلام علیکم::
دیکھین حضرات نبی علیہ السلام نےایمان اور اسلام کے بعد احسان کا ذکر فرمایا بھی ہے اور اسے لاگو کر کے بھی دکھایا ہے،جس کا مطلب یہ بیان کیا کہ ""تو ایسے عبادت کرے گویا تو اللہ کو دیکھ رہا ہے اور یہ میسر نہیں تو پھر ایسے کر گویا وہ تجھے دیکھ رہا ہے"" اگر اسی کی حد تک کوئی عمل کرتا ہے اور اسے بھلے تصوف کا نام دیتا ہے یا کچھ اور تو یہ تو عین اسلام ہے۔ لیکن اگر کوئی اس کے علاوہ نئے نظریات یا طریقوں کو اپنے مریدین یا اسحاب پو لازم کرتا ہے تو یہیں پر ان صحابہ کرام کا واقعہ یاد کر لینا چاہیے کہ ایک نے کہا کہ میں ساری عمر روزے رکھوں گا، دوسرے نے شادی نہ کرنے کی بات کی اور تیسرے نے ہر رات قیام کرنے کی، تو ان کا یہ عمل نبی سے اگے برھنے کی کوشش قرار دی اور ان سے منع فرمایا۔ سو جتنا دے دیا گیا ہے اس پر اکتفا کرنا چاہیے اور جو بعد میں شامل کیا گیا اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصوف میں اس کی مثال عقائد میں وحدۃ الوجود، خود ساختہ ابدال اور قطب اور غوث کو امور کائنات میں دخیل ماننا اور اعمال میں ترک دنیا اور خود کو جسمانی مشقت اور اذیت دینا ، بلاوجہ بھوکے پیاسے رہنا اور اسے زہد کا نام دینا ہیں۔ والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
عابد بھائی کی پوسٹ شاید میری طرح اور وں نے بھی پوری نہیں پڑھی،اور جوابات دینا شروع کردیا ۔اگر اس مضمون کو پورا پڑھا جائے تو شاید سوال و جواب کی ضرورت ہی نہ ہو
__________________
ہم نے خود پیدا کئے ہیں زندگی میں مسئلے
ورنہ سچی بات یہ ہے مسئلہ کوئی نہیں |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے ابوسعد کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#14 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے کہ اگر اقبال کا مذکورہ بالا خط بھی غور سے پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہوں نے تصوف تنقید نہیں کی بلکہ غلو فی الزھد اور مسئلہ وجود پر تنقید کر رہے ہیں۔ اگر وہ تصوف کو سرے سے مانتے ہی نہ ہوتے تو اپنی بیعت سلسلہ عالیہ قادریہ میں اس کا ذکر بھی نہ کرتے۔
جو لوگ تصوف کو افیون قرار دے رہے ہیں میرا خیال ہے ان کو تصوف کی الف بے کا بھی نہیں پتا۔ مہتاب صاحب اور بلال صاحب سے گزارش ہے کہ وہ تصوف کو افیون قرار دینے وجہ لکھ دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔ بہرحال ہمیں تو یہی تعلیم دی گئی ہے کہ تصوف ایمان کی اصل ہے جو شخص تصوف کے مبادیات سے بے بہرہ ہے اس نے حلاوت ایمان چکھی ہی نہیں۔ کیا منکرین تصوف نے اس آیت پر غور نہیں کیا! یتلو علیھم آیتہ و یزکیھم ویعلمھم الکتاب والحکمۃ اس آیت مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے4 فرائض منصبی کا ذکر کا گیا ہے ان میں سے ایک تزکیہ نفوس بھی ہے۔ اسی طرح حدیث جبریل میں اسی علم کو احسان کا نام دیا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جبرائیل علیہ السلام نے پوچھا اخبرنی عن الاحسان (مجھے احسان کے بارے میں بتائیں؟ تو آپ نے فرمایا: ان تعبد اللہ کانک تراہ، فان لم تکن تراہ فانہ یراک "کہ تو اللہ کی اس طرح عبادت کرے جیسے تو اسے دیکھ رہا ہے پس اگر تو اسے نہ دیکھ سکے تو وہ تجھے یقینا دیکھ رہا ہے۔" "سو جتنا دے دیا گیا ہے اس پر اکتفا کرنا چاہیے اور جو بعد میں شامل کیا گیا اس کو چھوڑ دینا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تصوف میں اس کی مثال عقائد میں وحدۃ الوجود، خود ساختہ ابدال اور قطب اور غوث کو امور کائنات میں دخیل ماننا اور اعمال میں ترک دنیا اور خود کو جسمانی مشقت اور اذیت دینا ، بلاوجہ بھوکے پیاسے رہنا اور اسے زہد کا نام دینا ہیں۔" باقی عبد اللہ آدم صاحب نے غوث و قطب اور ابدال کے حوالے سے بات کی ، جہاںتک خود ساختہ کا سوال ہے تو ایسے لوگ تو مداری ہوتے ہیں۔ اولیاء و صوفیاء ان کے اعمال کے ذمہ دار نہیں۔لیکن قطب و ابدال وغیرہ کا ذکر احادیث میں موجود ہے۔ ان کے اختیارات بھی ہیں اور وہ مختلف امور کو سر انجام بھی دیتے ہے۔ اگر کہیں تو احادیث کا ذکر بھی کر دوں!!!!!! |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| فن, کمال, پاک, پسندیدہ, قرآن, نماز, مکمل, موجودہ, مسائل, مسجد, مسجد نبوی, معلوم, آج, آدمی, اللہ, اسلامی, تلاش, جاہل, خواجہ حسن بصری, خدا, دوست, راستہ, عقل, عبادت, صحابہ |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|