واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


خانہ کعبہ کا غلاف

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 26-11-09, 10:56 AM   #1
خانہ کعبہ کا غلاف
گوندل گوندل آن لائن ہے 26-11-09, 10:56 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

غلاف کعبہ
خانہ کعبہ کو ہر سال ایام حج کے دوران 9 ذوالحجۃکو نئے غلاف سے مزین کیا جاتا ہے۔ دستکاری کے ماہر کاریگر خانہ کعبہ کے غلاف پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآن پاک کی آیات تحریر کرتے ہیں۔ مقامی زبان میں اسے کسوۃ کہتے ہیں۔ یہ غلاف تقریباً 670 کلوگرام خالص سفید ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر بعدازاں کالارنگ چڑھایا جاتا ہے۔ غلاف پر 150 کلوگرام سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔اس کی تیاری مکہ مکرمہ کے مضافات میں واقع کسوہ فیکٹری میں ہوتی ہے، جو کہ خاص طور پر غلاف کعبہ تیار کرنے کیلئے بنائی گئی ہے۔
خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے کے 47 ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ٹکڑے کی لمبائی 14 میٹر اور چوڑائی 101 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ حضور اکرم کے زمانے میں خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے سے تیار کیا جاتا تھا۔ ایک سال میں رمضان المبارک اور حج کے دوران خانہ کعبہ کا غلاف دومرتبہ تبدیل کیا جاتا تھا۔
کعبہ پر غلاف چڑھانے کی ابتدا کب ہوئی اور آج تک اس کی تاریخ کیا ہے ۔ اس بارے میں تاریخ کا کوئی مؤرخ اس کا قدیم ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ لیکن جو روایات علماءاسلام تک پہنچی ہیں ان کے مطابق کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے کعبۃ اللہ پر غلاف حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا ۔
اس کے بعد صدیوں تک تاریخ خاموش ہے پھر یہ ذکر ملتا ہے کہ عدنان نے کعبہ پر غلاف چڑھایا اس کے بعد پھر عرصہ بعید تک تاریخ خاموش ہے ۔ پھر یمن کے بادشاہ اسد ( نبوت سے دو سو 200برس قبل (کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ اس نے سرخ رنگ کےا دھاری دار یمنی کپڑےکا مکمل غلاف چڑھایا ۔ قریش کے انتظام سنبھالنے سے غلاف کعبہ کی مکمل تاریخ ملتی ہے ۔اس قبیلہ کی روایات زمانہ اسلام تک محفوظ ہیں ۔
بنی مخزوم کے ایک سردار بنو ربیعہ نے قریش سے یہ بات طے کی کہ ایک سال بنی مخزوم اور ایک سال قریش غلاف چڑھائیں گے ۔ اس کے علاوہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اور ان کے سردار جب بھی زیارت کے لیے آتے تو اپنے ساتھ قسم قسم کے پردے لاتے ۔ جتنے لٹکائے جا سکتے وہ لٹکا دئیے جاتے باقی کعبۃ اللہ کے خزانے میں جمع کر دئیے جاتے ۔ جب کوئی پردہ بوسیدہ ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا پردہ لٹکا دیا جاتا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی نے اپنے ایک صاحبزادے کے گم ہونے پر نذر مانی کہ اگر وہ مل جائے تو کعبہ پر ریشمی غلاف چڑھائیں گی ۔ جب وہ مل گئے تو انہوں نے نذر پوری کرتے ہوئے سفید رنگ کا ریشمی غلاف چڑھایا ۔

زمانہ نبوت سے قبل کی قریش کی تعمیر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنفسِ نفیس شریک تھے ،مکمل ہونے کے بعد اہل مکہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ کعبہ پر غلاف چڑھایا ۔

اس زمانے کا ایک یہ واقعہ بھی ملتا ہے کہ ایک عورت کعبہ میں خوشبو کی دھونی دے رہی تھی کہ ایک چنگاری اڑ کر ان غلافوں پر گری اور زمانہ جاہلیت کے تمام غلاف جل گئے ۔ تو مسلمانوں نے کعبۃ اللہ پر غلاف چڑھایا یہ دورِ اسلام کا پہلا غلاف ہے ۔ ( فتح الباری بروایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے زمانہ میں کعبہ پر یمنی کپڑے کا دھاری دار غلاف چڑھایا ۔ جب مصر فتح ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اعلیٰ مصری کپڑے کا غلاف بنوا کر چڑھایا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں غلاف کعبہ کے بارے میں کوئی روایت نہیں ملتی۔ زمانہ قدیم میں یہ دستور تھا کہ جب حجاج کرام دس محرم تک اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جاتے تو تب کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا ۔
اسی طریقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاءکے زمانے میں عمل ہوتا رہا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دس محرم کے علاوہ ایک اور غلاف عیدالفطر کے دن بھی چڑھایا پھر اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور یزیدنے اپنے اپنے دور میں یہ عمل کیا ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں یہی مستقل طریقہ بن گیا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگ اپنی اپنی طرف سے یہ عمل کرتے تھے لیکن اسلامی دور میں غلاف چڑھانا حکومت کی ذمہ داری قرار پایا ۔
مسند عبدالرزاق کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، کیا ہم کعبہ پر غلاف چڑھائیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اب تمہاری طرف سے اس خدمت کو حکمرانوں نے سنبھال لیا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے :
کسوۃ البیت علی الامراء
” بیت اللہ کا غلاف حکمرانوں کے ذمے ہے ۔ “
عباسی خلافت کے زوال تک غلاف کی تیاری مرکزی حکومت کے زیراہتمام ہوتی تھی ۔ جب مرکزی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو مختلف علاقوں کے حکمران اپنی اپنی طرف سے غلاف بنوا کر بھیجتے رہے اور بسا اوقات ایک وقت میں کئی کئی غلاف چڑھائے جاتے ۔
اس سلسلہ میں ایک مرتبہ 466ھ میں ہندوستان سے غلاف بنوا کر بھیجا گیا ۔مصر کے فرماں روا الملک الصالح اسمٰعیل بن ناصر نے 750ھ میں غلاف کعبہ تیار کرانا اپنے ذمے لے لیا ۔ اور اس غرض سے تین گاؤں وقف کر دئیے ۔ مصر پر ترکوں کے قبضے کے بعد سلطان سلیمان اعظم نے ملک الصالح کے وقف میں سات گاؤں کا اور اضافہ کر دیا ۔ اس عظیم وقف کی آمدنی سے ہر سال کعبہ کا غلاف مصر سے بن کر آنے لگا ۔ اس کے علاوہ خانہ کعبہ کے اندر کے پردے بھی وقتاً فوقتاً اسی وقف سے بنا کر بھیجے جاتے رہے ۔ اس زمانہ میں اس وقف شدہ زمین کی کل آمدنی جو موجودہ زمانہ میں ایک لاکھ پچاس ہزار درہم مصری تھے ۔

جب مصر کے وائسرائے محمد علی پاشا نے ترکی سلطنت سے بغاوت کر کے خودمختاری حاصل کر لی تو اس نے یہ وقف منسوخ کر دیا اور غلاف کعبہ صرف حکومت مصر کے خرچ پر بنوا کر بھیجنا شروع کر دیا ۔
پہلے غلاف مختلف رنگوں کے ہوتے تھے ۔ خلیفہ مامون الرشید کے دور میں سفید رنگ کا غلاف چڑھایا گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے زرد رنگ کا غلاف چڑھایا ۔
خلیفہ ناصر عباسی نے 575ھ تا 622ھ کی ابتدا میں سبز اور پھر سیاہ ریشم کا غلاف بنوا کر بھیجا ۔ تب سے آج تک سیاہ غلاف ہی چڑھایا جا رہا ہے ۔ غلاف کعبہ کے چاروں طرف زری کے کام کی پٹی بنانے اور اس پر کعبۃ اللہ کے متعلق قرآن مجید کی آیات لکھوانے کا یہ سلسلہ سب سے پہلے 761ھ میں مصر کے سلطان حسن نے شروع کیا اس کے بعد سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے ۔
غلاف کےایک طرف یہ آیت لکھی جاتی ہے :
" ان اول بيت وضع للناس للذي ببکۃ مبرکا وہدي للعلمين ۔ فيہ ايت بينت مقام ابرہيم ومن دخلہ کان امنا وللہ علي الناس حج البيت من استطاع اليہ سبيلا ومن کفر فان اللہ غني عن العلمين ( آل عمران :96,97 )
اور دوسری طرف سورہ مائدہ کی یہ آیت رقم کی جاتی ہے۔
جعل اللہ الکعبۃ البيت الحرام قيما للناس والشہر الحرام والہدي والقلآئد ذلک لتعلموا ان اللہ يعلم ما في السموت وما في الارض وان اللہ بکل شيئ عليم( المائدہ : 97 )
تیسری طرف سورۃ البقرہ کی درج ذیل آیات درج کی جاتی ہیں :
(( واذ يرفع ابراہیم القواعد من البيت واسمعيل ربنا تقبل منا انک انت السميع العليمo ربنا واجعلنا مسلمين لک ومن ذريتنآ ا مۃمسلمۃ لک ، وارنا مناسکنا وتب علينا انک انت التواب الرحيم )) ( سورۃ البقرہ : 127, 128 )

اسی طرح چوتھی جانب اس فرماں روا کا نام لکھا جاتا ہے جس کی طرف سے غلاف بنا کر بھیجا گیا ہو۔ گزشتہ صدی کے آغاز تک غلاف کعبہ دنیا کے سیاسی حالات سے محفوظ رہا ۔ جنگیں ہوتی رہیں سلطنتوں کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ، مگر خانہ کعبہ کے لیے غلاف جہاں سے آیا کرتا تھا وہیں سے آتا رہا ۔ لیکن گزشتہ صدی کے آغاز میں دنیا کے سیاسی حالات اس پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ جنگ عظیم اول میں جب ترکی سلطنت جرمنی کے ساتھ شریک جنگ ہوئی تو اسے اندیشہ ہوا کہ مصر سے غلاف کے آنے میں انگریز رکاوٹ بنے گا ۔ ایسے میں ترکی نے ایک شاندار غلاف استنبول سے تیار کرا کے حجاز ریلوے کے ذریعے مدینۃ منورہ بھیج دیا ۔
عین وقت پر مصر سے بھی غلاف پہنچ گیا ۔ تو ترکی سے آیا ہوا غلاف مدینۃ منورہ میں محفوظ کر دیا گیا ۔
1923ءمیں شریف حسین اور مصر کے حالات آپس میں خراب ہو گئے اور مصری حکومت نے عین حج کے موقع پر جدہ پہنچے ہوئے غلاف کو واپس منگوالیا ۔ خوش قسمتی سے اس وقت جنگ کے زمانہ میں بھیجا ہوا ترکی غلاف کام آ گیا اسے فوری طور پر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچایا گیا ۔
1925ءمیں سلطان ابن سعود اور شریف حسین کی لڑائی کے زمانے میں مصر سے پھر غلاف نہ آیا ۔ ابن سعود نے عراق کا بنا ہوا ایک غلاف چڑھا دیا جو شریف حسین نے بنوا کر رکھا ہوا تھا ۔
1927ءمیں ٹھیک یکم ذوالحجہ کو حکومت مصر نے غلاف بھیجنے سے پھر انکار کر دیا اور ابن سعود کو فوراً مکہ مکرمہ سے ایک غلاف بنوانا پڑا ۔
1928ءمیں مصر سے غلاف نہ آیا اور امرتسر سے مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ اور مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمہ اللہ کے زیراہتمام غلاف بنو اکر بھیجا گیا ۔
ان تلخ تجربات کی بنا پر مکہ مکرمہ میں ایک دارالکسوۃ قائم کر دیا گیا تا کہ مصر سے آئے دن غلاف نہ آنے کی مصیبت کا مستقل حل کر دیا جائے ۔ اس کارخانے میں مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی مدد سے ہندوستان کے بہت سے کاریگر فراہم کئے گئے ۔
1972ءمیں اس کارخانے کو جدید ترین بنانے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید کارخانہ کی بنیاد خادم الحرمین الشریفین ( شاہ فہد ) نے رکھی جو اس وقت وزیر داخلہ اور مجلس وزرا کے نائب تھے ۔
1975ءبمطابق 1395ھ میں اس جدید کارخانے کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین جو اس وقت ولی عہد تھے نے اپنے ہاتھ سے کیا ۔ اب یہ کارخانہ بنائی اور رنگائی کے جدید ترین آلات سے مزین ہے ۔ لیکن اس کام کو مشین کی بجائے ہاتھ سے ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ہاتھ کی کاریگری انسانی کمال کا فنی ورثہ تصور کیا جاتا ہے ۔
غلاف کی لمبائی 14میٹر اور اس کے اوپر والے ایک تہائی حصہ میں غلاف کو باندھنے والی ڈوری ہوتی ہے جس کی چوڑائی سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور اس پر چاندی اور سونے کی پالش شدہ ڈوری سے قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔ اس ڈوری کی لمبائی 47میٹر کے قریب ہوتی ہے جو 16ٹکڑوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ ڈوری والے حصے سے تھوڑا نیچے اسلامی آرٹ ( خطاطی ) میں سورہ الاخلاص اور درج بالاچھ قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔
بیچ والے حصہ میں چند آیات درج ہوتی ہیں یہ آیتیں خط ثلث میں لکھی جاتی ہیں جو عربی کا سب سے خوبصورت خط ہے ۔ کعبے کے دروازے کا غلاف جسے برقعہ کہتے ہیں جو عمدہ اور نفیس کالے ریشم سے بنایاجاتا ہے ۔ جبکہ باقی غلاف بھی اسی رنگ کا ہوتا ہے لیکن اس کی عمدہ اور جاذبِ نظر ترتیب و کتابت اس کو دوسرے حصے سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ ان آیات کے نیچے اسی خط اور انداز میں یہ عبارتیں درج ہوتی ہیں کہ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار ہوا اور خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسے خانہ کعبہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔
تازہ ترین غلاف کی تیاری پر دو کروڑ سعودی ریال خرچ ہوئے ہیں۔(ماخوذ ازعالمی اخبار)
__________________
عابد

Last edited by گوندل; 26-11-09 at 11:02 AM..

 
گوندل's Avatar
گوندل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 503
Reply With Quote
18 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
Ajmal Anjum (23-05-10), shafresha (23-05-10), فیاض انصاری (12-03-12), فاروق سرورخان (12-03-12), فرحان دانش (26-11-09), ھارون اعظم (22-05-10), ن ع ی م (27-11-09), محمدعمر (27-11-09), ایس اے نقوی (26-11-09), ابونعیم (12-03-12), احمدنواز (26-11-09), ارشد کمبوہ (15-11-10), بزم خیال (26-11-09), حیدر Rehan (22-05-10), رانا امر (01-12-09), رضی (11-11-11), سائرہ علی (27-11-09), عارف اقبال (23-05-10)
پرانا 26-11-09, 11:40 AM   #2
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سرورق کےلئے پیش کیا جائے شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-05-10), منتظمین (26-11-09), رانا امر (01-12-09), سائرہ علی (27-11-09)
پرانا 26-11-09, 12:01 PM   #3
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ، اور ڈیڑھ سو پوائنٹس نقد سکہ رائج الپاک ڈاٹ نیٹ کا بھی شکریہ
گوندل آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-05-10), ایس اے نقوی (26-11-09), سائرہ علی (27-11-09)
پرانا 27-11-09, 09:15 AM   #4
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

گوندل صاحب کچھ عرصہ قبل پاک نیٹ کے صفحات پر پیش کی گئی تحریر آپ کی پوسٹ کے مطابق ایک پھر پیش کی جاتی ہے
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
گوندل (27-11-09)
پرانا 27-11-09, 12:41 PM   #5
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مراسلات: 9
کمائي: 26
شکریہ: 2
4 مراسلہ میں 4 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی کاوش ہے۔اللہ آپ کو اجر دے۔آمین
ن ع ی م آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-11-09, 12:51 PM   #6
Senior Member
 
سائرہ علی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: خوابوں کی سرزمین
مراسلات: 262
کمائي: 6,400
شکریہ: 366
216 مراسلہ میں 640 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھی تحریر ہے بھائی
سائرہ علی آف لائن ہے   Reply With Quote
سائرہ علی کا شکریہ ادا کیا گیا
گوندل (27-11-09)
پرانا 27-11-09, 03:55 PM   #7
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نقوی بھائی شکریہ! یہ عالمی اخبار سے ماخوذ ہے،میں نے اس میں کچھ تبدیلیاں اور درستی کی ہے۔بعض اعداد و شمار اور نام درست کیے ہیں۔ٍآخر میں حوالہ بھی دے دیا ہے۔
گوندل آن لائن ہے   Reply With Quote
گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 27-11-09, 05:48 PM   #8
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Karachi
عمر: 36
مراسلات: 8
کمائي: 393
شکریہ: 56
4 مراسلہ میں 6 بارشکریہ ادا کیا گیا
شاہ بھائی کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں شاہ بھائی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں شاہ بھائی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشا اللہ، سبحان اللہ، جزاک اللہ
شاہ بھائی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-05-10, 05:04 PM   #9
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,151
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک ویڈیو شامل کی ہے
خانہ کعبہ شریف کی ۔ ۔۔ ۔(شامل ہوئی یا نہی پتہ نہی)

Last edited by حیدر Rehan; 22-05-10 at 05:11 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-05-10, 07:03 PM   #10
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,101
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہاں وڈیو نظر نہیں آ رہی ، اس کا مطلب یہی ہے کہ شامل نہیں ہوئی۔ پھر کوشش کریں۔ شکریہ
گوندل آن لائن ہے   Reply With Quote
گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (23-05-10)
پرانا 23-05-10, 01:09 AM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,151
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوندل مراسلہ دیکھیں
یہاں وڈیو نظر نہیں آ رہی ، اس کا مطلب یہی ہے کہ شامل نہیں ہوئی۔ پھر کوشش کریں۔ شکریہ
اسلام و علیکم ۔۔
دراصل میں نے دو تین بار کوشش کی ۔۔۔ویڈیو شامل نہی ہوسکی ۔۔۔مجھے سہی آتا بھی تو نہی ۔۔
ویسے میں چاہ رہا تھا کہ ایک ویڈیو ہے خانہ کعبہ شریف کے اندورنی طرف کی
وہ بھی اس میں شامل ہوجاتی تو مراسلہ اور اگے بڑھتا ۔ ۔ ۔
شکریہ
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
عارف اقبال (23-05-10)
پرانا 23-05-10, 05:16 PM   #12
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,197
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : گوندل مراسلہ دیکھیں
غلاف کعبہ
خانہ کعبہ کو ہر سال ایام حج کے دوران 9 ذوالحجۃکو نئے غلاف سے مزین کیا جاتا ہے۔ دستکاری کے ماہر کاریگر خانہ کعبہ کے غلاف پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے قرآن پاک کی آیات تحریر کرتے ہیں۔ مقامی زبان میں اسے کسوۃ کہتے ہیں۔ یہ غلاف تقریباً 670 کلوگرام خالص سفید ریشم سے تیار کیا جاتا ہے جس پر بعدازاں کالارنگ چڑھایا جاتا ہے۔ غلاف پر 150 کلوگرام سونے اور چاندی کے دھاگوں سے کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔اس کی تیاری مکہ مکرمہ کے مضافات میں واقع کسوہ فیکٹری میں ہوتی ہے، جو کہ خاص طور پر غلاف کعبہ تیار کرنے کیلئے بنائی گئی ہے۔
خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے کے 47 ٹکڑوں پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر ٹکڑے کی لمبائی 14 میٹر اور چوڑائی 101 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ حضور اکرم کے زمانے میں خانہ کعبہ کا غلاف کپڑے سے تیار کیا جاتا تھا۔ ایک سال میں رمضان المبارک اور حج کے دوران خانہ کعبہ کا غلاف دومرتبہ تبدیل کیا جاتا تھا۔
کعبہ پر غلاف چڑھانے کی ابتدا کب ہوئی اور آج تک اس کی تاریخ کیا ہے ۔ اس بارے میں تاریخ کا کوئی مؤرخ اس کا قدیم ریکارڈ پیش کرنے سے قاصر ہے ۔ لیکن جو روایات علماءاسلام تک پہنچی ہیں ان کے مطابق کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے کعبۃ اللہ پر غلاف حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے چڑھایا تھا ۔
اس کے بعد صدیوں تک تاریخ خاموش ہے پھر یہ ذکر ملتا ہے کہ عدنان نے کعبہ پر غلاف چڑھایا اس کے بعد پھر عرصہ بعید تک تاریخ خاموش ہے ۔ پھر یمن کے بادشاہ اسد ( نبوت سے دو سو 200برس قبل (کے متعلق ذکر ملتا ہے کہ اس نے سرخ رنگ کےا دھاری دار یمنی کپڑےکا مکمل غلاف چڑھایا ۔ قریش کے انتظام سنبھالنے سے غلاف کعبہ کی مکمل تاریخ ملتی ہے ۔اس قبیلہ کی روایات زمانہ اسلام تک محفوظ ہیں ۔
بنی مخزوم کے ایک سردار بنو ربیعہ نے قریش سے یہ بات طے کی کہ ایک سال بنی مخزوم اور ایک سال قریش غلاف چڑھائیں گے ۔ اس کے علاوہ زمانہ جاہلیت میں یہ دستور تھا کہ عرب کے مختلف قبیلے اور ان کے سردار جب بھی زیارت کے لیے آتے تو اپنے ساتھ قسم قسم کے پردے لاتے ۔ جتنے لٹکائے جا سکتے وہ لٹکا دئیے جاتے باقی کعبۃ اللہ کے خزانے میں جمع کر دئیے جاتے ۔ جب کوئی پردہ بوسیدہ ہو جاتا تو اس کی جگہ دوسرا پردہ لٹکا دیا جاتا ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بچپن کا ایک واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دادی نے اپنے ایک صاحبزادے کے گم ہونے پر نذر مانی کہ اگر وہ مل جائے تو کعبہ پر ریشمی غلاف چڑھائیں گی ۔ جب وہ مل گئے تو انہوں نے نذر پوری کرتے ہوئے سفید رنگ کا ریشمی غلاف چڑھایا ۔

زمانہ نبوت سے قبل کی قریش کی تعمیر جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بنفسِ نفیس شریک تھے ،مکمل ہونے کے بعد اہل مکہ نے بڑے اہتمام کے ساتھ کعبہ پر غلاف چڑھایا ۔

اس زمانے کا ایک یہ واقعہ بھی ملتا ہے کہ ایک عورت کعبہ میں خوشبو کی دھونی دے رہی تھی کہ ایک چنگاری اڑ کر ان غلافوں پر گری اور زمانہ جاہلیت کے تمام غلاف جل گئے ۔ تو مسلمانوں نے کعبۃ اللہ پر غلاف چڑھایا یہ دورِ اسلام کا پہلا غلاف ہے ۔ ( فتح الباری بروایت سعید بن مسیب رحمہ اللہ )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے زمانہ میں کعبہ پر یمنی کپڑے کا دھاری دار غلاف چڑھایا ۔ جب مصر فتح ہو گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے اپنے دور خلافت میں اعلیٰ مصری کپڑے کا غلاف بنوا کر چڑھایا ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں غلاف کعبہ کے بارے میں کوئی روایت نہیں ملتی۔ زمانہ قدیم میں یہ دستور تھا کہ جب حجاج کرام دس محرم تک اپنے اپنے علاقوں کو واپس چلے جاتے تو تب کعبہ پر غلاف چڑھایا جاتا ۔
اسی طریقے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاءکے زمانے میں عمل ہوتا رہا ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں دس محرم کے علاوہ ایک اور غلاف عیدالفطر کے دن بھی چڑھایا پھر اسی طرح عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور یزیدنے اپنے اپنے دور میں یہ عمل کیا ۔ خلیفہ عبدالملک بن مروان کے عہد میں یہی مستقل طریقہ بن گیا ۔ جو آج تک جاری ہے ۔زمانہ جاہلیت میں مختلف لوگ اپنی اپنی طرف سے یہ عمل کرتے تھے لیکن اسلامی دور میں غلاف چڑھانا حکومت کی ذمہ داری قرار پایا ۔
مسند عبدالرزاق کی روایت کے مطابق ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا ، کیا ہم کعبہ پر غلاف چڑھائیں ؟ انہوں نے فرمایا : کہ اب تمہاری طرف سے اس خدمت کو حکمرانوں نے سنبھال لیا ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے :
کسوۃ البیت علی الامراء
” بیت اللہ کا غلاف حکمرانوں کے ذمے ہے ۔ “
عباسی خلافت کے زوال تک غلاف کی تیاری مرکزی حکومت کے زیراہتمام ہوتی تھی ۔ جب مرکزی حکومت کا خاتمہ ہو گیا تو مختلف علاقوں کے حکمران اپنی اپنی طرف سے غلاف بنوا کر بھیجتے رہے اور بسا اوقات ایک وقت میں کئی کئی غلاف چڑھائے جاتے ۔
اس سلسلہ میں ایک مرتبہ 466ھ میں ہندوستان سے غلاف بنوا کر بھیجا گیا ۔مصر کے فرماں روا الملک الصالح اسمٰعیل بن ناصر نے 750ھ میں غلاف کعبہ تیار کرانا اپنے ذمے لے لیا ۔ اور اس غرض سے تین گاؤں وقف کر دئیے ۔ مصر پر ترکوں کے قبضے کے بعد سلطان سلیمان اعظم نے ملک الصالح کے وقف میں سات گاؤں کا اور اضافہ کر دیا ۔ اس عظیم وقف کی آمدنی سے ہر سال کعبہ کا غلاف مصر سے بن کر آنے لگا ۔ اس کے علاوہ خانہ کعبہ کے اندر کے پردے بھی وقتاً فوقتاً اسی وقف سے بنا کر بھیجے جاتے رہے ۔ اس زمانہ میں اس وقف شدہ زمین کی کل آمدنی جو موجودہ زمانہ میں ایک لاکھ پچاس ہزار درہم مصری تھے ۔

جب مصر کے وائسرائے محمد علی پاشا نے ترکی سلطنت سے بغاوت کر کے خودمختاری حاصل کر لی تو اس نے یہ وقف منسوخ کر دیا اور غلاف کعبہ صرف حکومت مصر کے خرچ پر بنوا کر بھیجنا شروع کر دیا ۔
پہلے غلاف مختلف رنگوں کے ہوتے تھے ۔ خلیفہ مامون الرشید کے دور میں سفید رنگ کا غلاف چڑھایا گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے زرد رنگ کا غلاف چڑھایا ۔
خلیفہ ناصر عباسی نے 575ھ تا 622ھ کی ابتدا میں سبز اور پھر سیاہ ریشم کا غلاف بنوا کر بھیجا ۔ تب سے آج تک سیاہ غلاف ہی چڑھایا جا رہا ہے ۔ غلاف کعبہ کے چاروں طرف زری کے کام کی پٹی بنانے اور اس پر کعبۃ اللہ کے متعلق قرآن مجید کی آیات لکھوانے کا یہ سلسلہ سب سے پہلے 761ھ میں مصر کے سلطان حسن نے شروع کیا اس کے بعد سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے ۔
غلاف کےایک طرف یہ آیت لکھی جاتی ہے :
" ان اول بيت وضع للناس للذي ببکۃ مبرکا وہدي للعلمين ۔ فيہ ايت بينت مقام ابرہيم ومن دخلہ کان امنا وللہ علي الناس حج البيت من استطاع اليہ سبيلا ومن کفر فان اللہ غني عن العلمين ( آل عمران :96,97 )
اور دوسری طرف سورہ مائدہ کی یہ آیت رقم کی جاتی ہے۔
جعل اللہ الکعبۃ البيت الحرام قيما للناس والشہر الحرام والہدي والقلآئد ذلک لتعلموا ان اللہ يعلم ما في السموت وما في الارض وان اللہ بکل شيئ عليم( المائدہ : 97 )
تیسری طرف سورۃ البقرہ کی درج ذیل آیات درج کی جاتی ہیں :
(( واذ يرفع ابراہیم القواعد من البيت واسمعيل ربنا تقبل منا انک انت السميع العليمo ربنا واجعلنا مسلمين لک ومن ذريتنآ ا مۃمسلمۃ لک ، وارنا مناسکنا وتب علينا انک انت التواب الرحيم )) ( سورۃ البقرہ : 127, 128 )

اسی طرح چوتھی جانب اس فرماں روا کا نام لکھا جاتا ہے جس کی طرف سے غلاف بنا کر بھیجا گیا ہو۔ گزشتہ صدی کے آغاز تک غلاف کعبہ دنیا کے سیاسی حالات سے محفوظ رہا ۔ جنگیں ہوتی رہیں سلطنتوں کے تعلقات بنتے اور بگڑتے رہے ، مگر خانہ کعبہ کے لیے غلاف جہاں سے آیا کرتا تھا وہیں سے آتا رہا ۔ لیکن گزشتہ صدی کے آغاز میں دنیا کے سیاسی حالات اس پر بھی اثر انداز ہوئے ۔ جنگ عظیم اول میں جب ترکی سلطنت جرمنی کے ساتھ شریک جنگ ہوئی تو اسے اندیشہ ہوا کہ مصر سے غلاف کے آنے میں انگریز رکاوٹ بنے گا ۔ ایسے میں ترکی نے ایک شاندار غلاف استنبول سے تیار کرا کے حجاز ریلوے کے ذریعے مدینۃ منورہ بھیج دیا ۔
عین وقت پر مصر سے بھی غلاف پہنچ گیا ۔ تو ترکی سے آیا ہوا غلاف مدینۃ منورہ میں محفوظ کر دیا گیا ۔
1923ءمیں شریف حسین اور مصر کے حالات آپس میں خراب ہو گئے اور مصری حکومت نے عین حج کے موقع پر جدہ پہنچے ہوئے غلاف کو واپس منگوالیا ۔ خوش قسمتی سے اس وقت جنگ کے زمانہ میں بھیجا ہوا ترکی غلاف کام آ گیا اسے فوری طور پر مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ پہنچایا گیا ۔
1925ءمیں سلطان ابن سعود اور شریف حسین کی لڑائی کے زمانے میں مصر سے پھر غلاف نہ آیا ۔ ابن سعود نے عراق کا بنا ہوا ایک غلاف چڑھا دیا جو شریف حسین نے بنوا کر رکھا ہوا تھا ۔
1927ءمیں ٹھیک یکم ذوالحجہ کو حکومت مصر نے غلاف بھیجنے سے پھر انکار کر دیا اور ابن سعود کو فوراً مکہ مکرمہ سے ایک غلاف بنوانا پڑا ۔
1928ءمیں مصر سے غلاف نہ آیا اور امرتسر سے مولانا سید داؤد غزنوی رحمہ اللہ اور مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمہ اللہ کے زیراہتمام غلاف بنو اکر بھیجا گیا ۔
ان تلخ تجربات کی بنا پر مکہ مکرمہ میں ایک دارالکسوۃ قائم کر دیا گیا تا کہ مصر سے آئے دن غلاف نہ آنے کی مصیبت کا مستقل حل کر دیا جائے ۔ اس کارخانے میں مولانا اسمٰعیل غزنوی رحمۃ اللہ علیہ کی مدد سے ہندوستان کے بہت سے کاریگر فراہم کئے گئے ۔
1972ءمیں اس کارخانے کو جدید ترین بنانے اور اس کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک جدید کارخانہ کی بنیاد خادم الحرمین الشریفین ( شاہ فہد ) نے رکھی جو اس وقت وزیر داخلہ اور مجلس وزرا کے نائب تھے ۔
1975ءبمطابق 1395ھ میں اس جدید کارخانے کا افتتاح خادم الحرمین الشریفین جو اس وقت ولی عہد تھے نے اپنے ہاتھ سے کیا ۔ اب یہ کارخانہ بنائی اور رنگائی کے جدید ترین آلات سے مزین ہے ۔ لیکن اس کام کو مشین کی بجائے ہاتھ سے ہی انجام دیا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ ہاتھ کی کاریگری انسانی کمال کا فنی ورثہ تصور کیا جاتا ہے ۔
غلاف کی لمبائی 14میٹر اور اس کے اوپر والے ایک تہائی حصہ میں غلاف کو باندھنے والی ڈوری ہوتی ہے جس کی چوڑائی سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور اس پر چاندی اور سونے کی پالش شدہ ڈوری سے قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔ اس ڈوری کی لمبائی 47میٹر کے قریب ہوتی ہے جو 16ٹکڑوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔ ڈوری والے حصے سے تھوڑا نیچے اسلامی آرٹ ( خطاطی ) میں سورہ الاخلاص اور درج بالاچھ قرآنی آیات لکھی جاتی ہیں ۔
بیچ والے حصہ میں چند آیات درج ہوتی ہیں یہ آیتیں خط ثلث میں لکھی جاتی ہیں جو عربی کا سب سے خوبصورت خط ہے ۔ کعبے کے دروازے کا غلاف جسے برقعہ کہتے ہیں جو عمدہ اور نفیس کالے ریشم سے بنایاجاتا ہے ۔ جبکہ باقی غلاف بھی اسی رنگ کا ہوتا ہے لیکن اس کی عمدہ اور جاذبِ نظر ترتیب و کتابت اس کو دوسرے حصے سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ ان آیات کے نیچے اسی خط اور انداز میں یہ عبارتیں درج ہوتی ہیں کہ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں تیار ہوا اور خادم الحرمین الشریفین کی طرف سے اسے خانہ کعبہ کو بطور تحفہ پیش کیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے ۔
تازہ ترین غلاف کی تیاری پر دو کروڑ سعودی ریال خرچ ہوئے ہیں۔(ماخوذ ازعالمی اخبار)


بہت بہت شکریہ بھائی
عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-05-10, 11:33 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مراسلات: 525
کمائي: 32,844
شکریہ: 321
427 مراسلہ میں 1,230 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام ُ علیکم جناب
ما شا اللہ بہت معلومات افزا پوسٹ ہے ۔۔۔۔۔ غلاف کعبہ شریف کی تاریخ آپ نے 1928 ء تک تو بہت تفصیل سے لکھی ہے لیکن 1928 ء سے 1975 ء تک یہ سعادت کس کس ملک کے حصے میں آئی اس ضمن میں کچھ تشنگی کا احساس ہوتا ہے ۔ کیونکہ مصر میں جمال عبدالناصر کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد سعودی حکومت نے ازخود مصر سے غلافِ کعبہ قبول کرنے سے معذرت کر لی تھی ۔
یہ بھی یاد دلا دیں کہ 1963 ء میں ( ایوب خان کے دورِ حکومت میں ) یہ سعادت مملکتِ خدا داد پاکستان کے حصے میں آئی تھی اور پاکستانی ہنر مندوں نے کمال ِ عقیدت اور ہنر مندی کے ساتھ غلافِ کعبہ تیار کیا تھا جسے سعودی عرب روانہ کرنے سے پہلے ملک بھر میں بذریعہ ٹرین اسکی نمائش کی گئی تھی اور لاکھوں مسلمانوں نے کئی کئی میل پیدل چل کر قریبی ریلوے سٹیشن پر پہنچ کر اسکی زیارت کی تھی جن میں یہ خاکسار ( ساتویں جماعت کا طالبعلم ) بھی شامل تھا
Ajmal Anjum آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Ajmal Anjum کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (15-11-10), حیدر Rehan (24-05-10)
پرانا 24-05-10, 12:09 AM   #14
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے ساتھیوں کے لیئے مندرجہ ذیل تھریڈ بھی دلچسپی کا باعث ہوگا!
تبدیلی غلاف کعبہ کی تصاویر!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (15-11-10), حیدر Rehan (24-05-10)
پرانا 24-05-10, 10:35 AM   #15
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,151
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سیاہ‌رنگ ۔۔۔
پہلے غلاف مختلف رنگوں کے ہوتے تھے ۔ خلیفہ مامون الرشید کے دور میں سفید رنگ کا غلاف چڑھایا گیا ۔ سلطان محمود غزنوی نے زرد رنگ کا غلاف چڑھایا ۔
خلیفہ ناصر عباسی نے 575ھ تا 622ھ کی ابتدا میں سبز اور پھر سیاہ ریشم کا غلاف بنوا کر بھیجا ۔ تب سے آج تک سیاہ غلاف ہی چڑھایا جا رہا ہے ۔

قرآنی آیات۔۔۔
قرآن مجید کی آیات لکھوانے کا یہ سلسلہ سب سے پہلے 761ھ میں مصر کے سلطان حسن نے شروع کیا اس کے بعد سے آج تک یہ طریقہ جاری ہے

کیا یہ سہی ہے ؟؟
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (24-05-10)
جواب

Tags
فنی, کمال, پاک, وزیر, قرآن, قرآنی, نظر, مکہ, مکمل, موجودہ, مجید, آج, اللہ, امیر, اسلامی, اعلیٰ, بچپن, حل, حسن, خطاطی, دستور, رمضان, زمانہ, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger