مجر م کون؟
پاکستان کے موجودہ حالات کے بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ یہ اچانک کس طرف پلٹا کھا جائیں۔وطن عزیز میں خود کش حملے اور بم دھماکے روز کا معمول بن چکے ہیں؛جن میں اب تک سینکڑوں بے گناہ مارے جا چکے ہیںاور ان کا الزام شمالی علاقہ جات کے طالبان پر لگایا جاتا ہے۔ساتھ ہی حکومت طالبان کے راہنماوں سے رابطہ کرکے ان کے جرائم کی تصدیق کرتی ہے اور براہ راست میڈیا پر دکھایا جاتاہے ۔
کیایہ سب حقیقت ہے۔ ۔ ۔ ؟کیاسب کچھ ایساہی ہے جیسا کے میڈیا پر دکھایا جاتا ہے۔ ۔؟یہ کسی حفیہ ہاتھ کی کارستانی تو نہیں۔ ۔ ۔ ؟جو اپنے نامعلوم مقاصد کی تکمیل کے لیے یہ سب کچھ کرتا ہے۔ آیئے آج تھوڑا سا غور کرتے ہیں۔
ْنائن الیون کے بعدحالات میں جس تیزی سے تبدیلی رونما ہوئی ،ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔مشرف کی ناقص اور جاہلانہ پالیسیوں اور امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بن کرغیروں کی جنگ اپنے گھر(پاکستان)مین لڑنے کا یہ صلہ ملاہے کہ مشرف نے پاکستان کا سب کچھ داوپر لگاکر بھی امریکی دشمنی مول لی ہے۔اور پاکستان کا شمار آج دنیا کے دشت گرد ملکوں میں ہوتا ہے۔مشرّف نے یاری ،وفاداریاورلالچ کے اندھے پن میں مبتلا ہوکر اپنے ہی مسلمان بھایئوں،بہنوں،ماوںاور بچوں پر بم برسائے،قرآن پڑھتے بچوں ،بچیوں کو فاسفورس بموں کے ذریعے جلایا گیا،اور قرآن مقدس کے اور پاکیزہ اوراق اسلام آباد کے نالوں میں بہتے رہے۔سینکڑوں بھائیوں ،بہنوں کو ڈالروں کے بدلے امریکہ کو سونپ دیا گیا۔(آج اگر ہمیں کوئی یہ طعنہ دیتا ہے کہ پاکستانی ڈالر کے بدلے اپنی ماوئں کو بھی بیچ دیتا ہے تو ہمیں غصہ نہیں کرنا چاہیے۔)
پرویز مشرّف کی جاہلانہ پالیسیوںاور احمقانہ خیالاتاور آقاکے بے جاحکموں کی تکمیل نے عوام اور پاکستانی افواج میں دوریوں کے وہ پہاڑ حائل کردیے ہیں جن کی تلافی ناممکن نہیں تو مسلک ترین ضرور ہے۔
اپنے ملک کے سینکڑوں نوجوانوں کو ان تاریک کوٹھڑیوں میں پھینک دیا گیا ہےجن میں نہ روشنی کی کرن پہنچ پاتی ہے اور نہ ان کی آوازباہر کسی کے کانوں تک پہنچتی ہے۔اسی بات پر عدالت عظمی نے جب ایکشن لیا تو عدلیہ کے وقار کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے فرعون ثانی نے افتخار محمد چوہدری اور ان کے رفقاء کو عضوء معتل بنا دیا گیا جس کی وجہ سے ملک سنگین بحران سے دوچار ہو گیا۔وکلاء کے جلوسوں پر لاٹھی چارج ،آنسو گیس اور پتھرائو کیا گیاجس میں سینکڑوں افراد ذخمی ہوئے۔
اقتصادی لحاظ سے ملک کو شدید ترین بحران سے دوچار کیا گیابعد میں بجلی کا بحران بھی اس میں آشامل ہوا،پٹرول ،گیس،اور بجلی کے دام آسمانوںسے باتیں کرنے لگے ،زندگی کی روز مرہ ضروریات نے غریب عوام کی کمر توڑتے ہوئے مشرّف کا کہا ہوا سچ کر دکھایا کہ ملک میں کوئی غریب باقی نہیں رہے گا۔
%افر تفری کے اس دور میں افغانستان کے کٹھ پتلی صدرحامد کرزئی نے بھی آقا کی حواہش پر آنکھیں دکھانا شروع کر دیںاور افغانستان میں اتحادی افواج نے الزام لگانے شروع کردیئے پاکستان کے قبایلی علاقوں سے ہم پر حملے کیے جا رہے ہیں۔؛پرو پیگنڈہ؛ خبروں کو اس پلان شدہ طریقے سے مسلسل میڈیا پر نشر کیا جاتا رہا،اور مقررہ وقت پر پاکستانی فوج کے ہمراہ امریکی فوج نے قبائیلی علاقوں پر بمباری شروع کر دی،کہ وہاں طالبان راہنما ملامحمد عمراور القاعدہ کے راہنماء شیخ اسامہ بن لادن اور ان کے دست راست ایمن الظاہری ،اور غیرملکی دشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔
قبایلی علاقوں پر کیے گے حملوں میں سینکڑوں بے گناہ قبایلی مارے گے اور تین لاکھ سے زائد قبایلی ہجرت کرنے پر مجبور ہو گے۔جو پاکستان کے طول وعرض میں پھیل چکے ہیں اور ناکردہ گناہوں کی سزا کی وجہ سے حکومت پاکستان کے خلاف ہو چکے ہیں اور خطرناک واقعات کے مرتکب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے حکومتی پالیسیوں اور اداروں کو نقصان پہنچتا ہے،اور اس دران سینکڑوں بے گناہ بھی مارے جاتے ہیں۔
دوسری طرف حکومت پاکستان فوراَ اس کا الزام پاکستانی طالبان پر ڈال دیتی ہے۔آج کے اس زمانے میں دشمنوں کے خلاف ایک موثر ہتھیار ،میڈیا،ہے جو اس وقت یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ہماری حکومت امریکہ کی اتحادی ہے اس لیے وہ امریکہ کی ہر ممکن اور ناممکن مدد میں ہمہ وقت تیار رہتی ہے اس لیے جونہی کویی بم دھماکہ یا خود کش حملہ ہوتا ہے اس کا الزام بغیر تحقیق و تفتیش کے پاکستانی طالبان پر عائد کیا جاتا ہے۔اور اس مین ملکی وغیر ملکی میڈیا بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے۔اور تیار شدہ بیانات میڈیا پر چلائے جاتے ہیں ،حکومت حملے کے فوری بعد طالبان راہنماوں سے تصدیقی رابطہ کرتی ہے اور طالبان راہنماوں کے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے پر مبینہ تصدیقی بیان میڈیا کر چلایا جاتا ہے۔حالانکہ سوچنے کی بات یہ ہے،حکومت مواصلاتی رابطے کے وقت ان راہنماوں کے مقام کا پتا چلا سکتی ہے جہان سے وہ بات کر رہے ہوتے ہیں ،جس کی مثال طالبان راہنما ء ملا نیک محمد کی ہے جنہیں ٹیلی مواصلات رابطے کے دوران ٹریس کرتے ہوئے گایئڈڈ مزائل کا نشانہ بنایا گیا تھا۔حکومت اب بھی اسی طریقہ کار کو اپناتے ہوئے طالبان راہنماوں کو ختم کیوں نہیں کر دیتی۔ ۔ ۔ ؟یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو طالبان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے اور عوام کو دھوکے میں رکھ کر کچھ کا کچھ دکھایا جا رہا ہے۔کیا طالبان اتنے فارغ ہیں کہ ہر دھماکے پر حکومت کے رابطے پر میسر ہوتے ہیں اور ذمہ داریاں قبول کرتے ہیں ۔حالانکہ انہیں بھی پتا ہے کہ یہ بیانات میڈیا پر دکھائے جایئں گے ،جس کی وجہ سے عوام ان کے خلاف مشتعل ہوں گے،ایسا کوئی مرزا قادیانی جیسا نادان اور احمق تو کر سکتا ہے لیکن امریکی افوج کو ناکوں چنے چبوانے والوں سے کیا ایسی امید رکھی جا سکتی ہے۔۔ ۔ ؟میڈیا پر جو کچھ دکھایا جاتا ہے، ٹیکنالوجی کے اس دور میں وہ بنانا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ۔ ۔ کسے معلوم ہے مولوی عمر (طالبان راہنمائ)کی تصویر کے پیچھے کون بولتا ہے۔ ۔ ۔ ؟یا جو ویڈیو بی بی سی ، سی این این، اور دوسرے چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں وہ ،ہالی وڈ فلموں کی طرح کے شاہکار نہیں ہوتے۔ ۔ ۔ ۔ ؟
عوام ایسے مسلسل ،پروپیگنڈہ، کو سن سن کر لاشعوری طور پر ،ہپناٹایئزڈ، ہو چکے ہیں اور اپنی صالاحیتوں اور وسائل سے حقیقت تک پہنچنے کا سوچتے ہی نہیں ۔
امریکہ صرف بلند بانگ دعوے ہی کر سکتا ہے ۔اگر وہ آسمان پر بیٹھ کر زمین سے سوئی تلاش کر سکتا ہے تواس جناتی قوت سے ، ملامحمد عمر اور شیح اسامہ کو کیوں نہیں ڈھونڈ سکتا۔ ۔ ۔ ؟ کیا وہ سوئی سے بھی باریک ہیں کہ نظر نہیں آتے۔ ۔ ۔ ؟اگر اس کے پاس کوئی ایسی ٹکنالوجی ہے تو افغانستان میں سات آٹھ سال میں پتھروں پے سر کیوں پھوڑ رہا ہے۔ ۔ ۔ ۔؟نام نہاد دشت گردوں کو ختم کیوں نہیں کر دیتا۔ ۔ ۔ ۔ ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ دعوے بازیاں ہالی وڈ فلموں میں تو جچ سکتی ہیں ۔ حقیقی طور پر ان کا وجود کوئی نہیں ہے۔یہ صرف کھوکھلے دعوے ہیں ۔اگر ان پر تھوڑا سا غور کیا جائے تو حقیقت چھپی نہیں رہ سکتی۔یہ ہالی وڈ کے قصے ہیں جن سے مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ خیال راسخ کیا جاتا ہے کہ امریکی ناقابل شکست ہیں ،حالانکہ عراق و افغانستان میں اصلیت کھل کر سامنے آ چکی ہے،جہاں سے روزانہ درجنوں تابوت اتحادی ملکوں میں ارسال کیے جاتے ہیں ۔
حربی فنون کے ماہر جانتے ہیں کہ ،پروپیگنڈہ، جنگی حکمت عملی میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔جس کا استعمال آج مجاہدین کے خلاف کیا جا رہا ہے،یہودیوں کا یہی ہتھیار آج سب سے موثر جا رہا ہے،وہ جب چاہیں جہاں چاہیں اور جس وقت چاہیں اس کا استعمال اپنے مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں ۔مزا تو تب ہے کہ مجاہدین کو بھی ،میڈیا میسر ہو تاکہ وہ دنیا پر اپنا موقف واضع کر سکیں ۔یہی تو یہودیوں ،نصرانیوں کی کامیابی کا راز ہے کہ میڈیا کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں وہی ڈالا جاتا ہے جن میں ان کے مفاد پوشیدہ ہوں ۔
ایسے حالات میں پاکستان دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھی پاکستان میں پوری طرح متحرک ہو چکی ہیں جن میں سرفہرست امریکی ،سی آئی اے ،اسرایئلی ایجنسی ، موساد، اور بھارتی خفیہ ایجنسی ،را، ہیں ۔اور ان تمام ایجنسیون کا اپنے مقاصد کے لیے گٹھ جوڑ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
چند دن پہلے قبایلی علاقوں سے جو ہندو پکڑے گئے ہیں آپ ان کو کس تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ۔ ۔؟یقیناّوہ ،را، کے شکاری تھے جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ،شکار کی تلاش میں تھے۔
پاکستان کے موجودہ حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ عوام اب اپنی آنکھیں کھول لیں ۔ورنہ یہ وقت بھی آ سکتا ہے۔
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے پاکستا ں والو
تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں
عوام کو ایسے حکمرانوں کی آس چھوڑ دینی چاہیے جو انہیں خود ان کے گھروں میں آ کر جگایئں گے ۔بلکہ اقتدار کی کرسی تک جو بھی پہنچے گا عوام کی اجتماعی بے حسی آنے والے کی ناجائز حواہشات کی تکمیل کے راستے کھول دے گی۔
عوام کو چاہیے کہ ،غیروں ،کے پھیلائے جانے والے ،پروپیگنڈہ،کو آنکھیں بند کر کے تسلیم کرنے کی بجائے،اپنی صالاحیتوں اور وسائل کو بروکار لا کر حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ سمجھنے والوں کے لیے تو ،محترمہ ایون ریڈلی(اسلامی نام،مریم) اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے واقعات ہی آنکھیں کھولنے کے لیے کا فی ہیں۔