واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


خونی لکیر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-08-07, 08:51 PM   #1
خونی لکیر
جاوید جاوید آف لائن ہے 03-08-07, 08:51 PM

خونی لکیر
’’ٹونی اسنو‘‘ وائٹ ہائوس کے ترجمان ہیں ۔ وہ روزانہ دنیا کے میڈیا کو وائٹ ہائوس اور بش کی تازہ ترین پالیسیوں کے بارے میں بریفنگ دیتے ہیں ۔ 19جولائی2007ء کی شام بھی ٹونی سنو نے عالمی میڈیا کو صدر بش کی پالیسیوں کے بارے میں بریفینگ میں ایک سوال کے جواب میں ٹونی سنو نے دعویٰ کیا تھا ’’پاکستان کے کسی علاقے میں امریکی فوج کی کاروائی خارج از امکان نہیں۔ ‘‘ٹونی سنو کا کہنا تھا کہ ’’پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیوں میں اضافہ ہو چکا ہے اور پاکستانی فوج ان دہشت گردوں کا راستہ روکنے میں ناکام ہو چکی ہے لہذا اب وائٹ ہائوس اس بارے میں غور کر رہا ہے‘‘ ٹونی اسنو کا کہنا تھا ’’امریکا نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ایا ہم لوگ پاکستان کے جنوبی علاقوں میں کاروئی سے پہلے حکومت پاکستان سے اجازت لیں گے یا نہیں ۔‘‘ ٹونی سنو کی یہ گفتگو انتہائی الارمنگ تھی ۔ میں نے جب اخبارات میں ٹونی سنو کے خیالات پڑھے تو یقین کیجیے میں گھبرا مجھے محسوس ہوا امریکا بڑی تیزی سے پاکستان کو عراق اور افغانستان کی جانب لے جا رہا ہے ۔ میں پچھلے کئی برسوں سے ان صفحات پر پاکستان کے بارے میں امریکی منصوبوں کا آشکار کرتا چلا آ رہا ہوں ۔ میں کہتا ہوں پاکستان امریکا کی ہٹ لسٹ میں شامل ہے ۔ پچھلے ماہ تک میرا خیال تھا کہ امریکا عراق اور افغانستا ن کی طرح پاکستان پر برائے راست حملہ کرے گا لیکن جب سے پاکستان کی سیاسی صورت حال میں تبدیلی آئی ہے مجھے محسوس ہو رہا ہے امریکا نے اس بار اپنے دشمن سے نمٹنے کے لئے نئی تکنیکس استعمال کی ہیں ۔اس نے پاکستان کی دو بڑی طاقتوں کی آپس میں لڑا کر وہ فوائد حاصل کر لئے ہیں ۔ جو وہ پاکستان پر برائے راست حملے سے نہیں لے سکتا تھا۔ پاکستان کی دو بڑی طاقتیں پاک فوج اور دینی طبقہ تھا ۔ افواج پاکستان ملک کا سب سے بڑا منظم اور اعلیٰ تربیت یافتہ ادارہ تھا ۔ 2005میں پاکستانی فوج کو دنیا کی پانچ بڑی افواج میں شامل کیا گیا تھا ۔ ہمارے فوجی جرات ،بہادری اور تربیت میں انتہائی بہترین افواج سے آگے تھے۔ صحرا ہوں یا کارگل کے پہاڑ ۔۔۔۔۔ پاک فوج کے جوان ہر قسم موسمی حالات اور ہر قسم کی صورت حال میں یکساں بہادری اور جرات سے لڑتے تھے ۔ ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ ہمارے فوجیوں کا اثاثہ ہوتا تھا ۔ مجھے بھارت کے ایک جرنیل کا ایک مضمون پڑھنے کا اتفاق ہوا تھا اور اس مضمون میں اس کا کہنا تھا ۔ ’’ اگر دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم کرنا چاہتی ہے تو اُسے چاہے کہ وہ پاکستانی فوج کے ’’اللہ اکبر ‘‘ کا نعرہ لگانے پر پابندی لگا دے ۔ اس جرنیل کا کہنا تھا : ’’جس دن پاکستانی فوج کو اللہ اکبر کا نعرہ لگانے سے روک دیا گیا اس دن اس کی بہادری ختم ہو جائے گی۔ ‘‘ پاکستانی فوج اور پاکستانی معاشرے میں پوری طرح رچ بس چکی تھی ۔ایک سروے کے مطابق کہ پاکستان کے ہر تیسرے گھرانے کا کوئی نہ کوئی فرد کسی نہ کسی حوالے پاک فوج کا حصہ تھا۔ ہم اگر سب اپنے اپنے خاندان پر نظر دوڑائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہمارے خاندان میں کوئی نہ کوئی فرد افواج پاکستان میں ضرور شامل ہو گا لہذا پاکستانی فوج اپنی قوت ، تربیت اور خاندانی رابطوں کے حوالے سے ملک کا مظبوط ترین ادارہ تھا۔ پاکستانی معاشرے کی دوسری طاقت اسلام پسند طبقہ تھا ۔ پاکستان میں کوئی ایسا شہر ، کوئی ایسا محلہ اور کوئی ایسی گلی میں جس میں مسجد موجود نہ ہو ۔ اس مسجدمیں پانچ وقت نماز نہ ہوتی ہو۔ اللہ کا ذکر نہ ہوتا ہو اور اُس مسجد میں مختلف عمر کے بچے قرآن مجید پڑھتے سیکھتے نہ ہوں ۔ اس وقت دنیا میں اوسطًاسب سے زیادہ حجاج کرام پاکستان میں موجود ہیں ۔ پاکستان سے ہر سال 42لاکھ لوگ عمرے کے لئے جاتے ہیں جن میں سے صرف رمضان المبارک کے مہینے اڑھائی سے چار لاکھ پاکستانی عمرے کے لئے حجاز مقدس جاتے ہیں ۔ پاکستان کے تمام کے تما م خاندان کسی نہ کسی شکل میں کسی مدرسے یا مسجد کی خدمت کر رہے ہیں۔ اسلام پاکستان کی وہ سچائی تھا جو پاکستان سے ہر شہری تک پہنچتی تھی ۔ یہ ملک اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اور بانی پاکستان نے اس ملک اسلامی قانون کے نفاذ کا وعدہ فرمایا تھا۔ مغربی طاقتوں کا خیال تھا کہ کہ جب تک افواج پاکستان اور اسلام پسند طبقہ یک جان اور دو قالب ہیں اس وقت تک اس ملک پر قبضہ ممکن نہیں ہوگا۔ ہمارے دشنموں کا خیال تھا کہ جب بھی اس ملک پر کڑا وقت آئے گا افواج پاکستان تنہا نہیں ہو گی۔ پاکستان کا ہر شہری جس کی زبان کلمہ اترتا ہے اور جو دل سے اللہ کا نام لیتا ہے وہ پاک فوج کے ساتھ میدان میں کھڑا ہو گا ۔ پاکستانی فوج اور اسلام پسندوں کا یہ اشتراک پاکستان کے ہر سیاسی دور میں موجود رہا ۔ آپ صدر ایوب سے لے کر جنرل ضیا ء الحق تک تمام فوجی آمروں کے دور کا تجزیہ کر لیں ۔ ایوب خان کے دور میں جب عوام نے ان کی حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا تو عوام کا احتجاج صرف ایوب خان کے خلاف تھا اور ان تحریکوں میں فوج کے خلاف ایک نعرہ بھی نہیں لگایا تھا۔ یہی صورت حال یحییٰ خان اور ضیاء الحق کے ادوار میں تھی ۔ جنرل یحییٰ خان کے دور میں جنرل کے خلاف بڑے خوفناک نعرے لگائے گئے تھے ۔ لیکن پاکستان کے کسی شخص نے فوج پر اُنگلی نہیں اُٹھائی تھی۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں پاکستانی عوام اور اسلام پسند قوتیں فوج کے ساتھ رہی تھیں ۔ جنرل ضیاع الحق کا دور فوج اور مدرسوں کے درمیان محبت کا عظیم دور تھا ۔ لیکن صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں یہ ساری صورت حال کی اس تبدیلی پر غور کریں اور سنجیدگی سے اس کا جائزہ لیں تو ہمیں محسوس ہو گا کہ اب کی بار کوئی ایسی طاقت موجود ہے جس نے پاکستان کی 60سالہ تاریخ میں پہلی بار اسلام پسند طاقتوں اور افواج پاکستان کے درمیان شدید اختلاف پیدا کر دیے ۔ اگر ہم ان حالات کا جائزہ لیں تو ہمیں اس کی بے شمار وجوہات ملیں گی۔ مثلاً پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سویلین شعبوں میں بڑی تعداد میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی افسران تعینات کیے گئے اور ان افسروں نے سول محکموں کو فوجی ڈھنگ سے چلانے کی کوشش کی جو بری طرح ناکام ہو گئی ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کو توڑا اور ان کارکنوں کی بنیاد پر مسلم لیگ (ق) بنائی جسے لوگ عرف عام میں قبضہ گروپ کہتے ہیں ۔ اس مسلم لیگ ق کا نام فوج سے منسوب ہو گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے پہلی بار افغان پالیسی سے یو ٹرن لیا اور اس کے بعد پاکستان نے اپنے علاقوں میں بسنے والے عوام پر گولہ باری شروع کر دی ۔ اس گولہ باری کے نتیجے میں ہزاروں لوگ شہید ہو گئے ۔ اور یہ شہادتیں سیدھی سیدھی پاکستانی فو ج کے ذمے لگ گئیں ۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو جلا وطن کر دیا اور پاکستان میں اسلامی معاشرے کو ’’روشن خیال اور اعتدال پسند ‘‘بنانے کے لئے وہ سارے کھیل کھیلنا شروع کر دیے جو کل تک صرف یورپ اور امریکا تک محدود تھے ۔ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں مساجد اور مدارس کی عمارتیں گرائی جانے لگیں ۔ کلب اور شراب خانے بننا شروع ہو گئے اور پاکستان میں این جی اوز کے رول میں اضافہ ہو گیا۔ صدر پرویز مشرف کی ’’ روشن خیالی اور اعتدال پسندی‘‘ بڑھتے ہوئے بڑھتے لال مسجد تک پہنچ گئی ۔ جولائی 2007ء میں لال مسجد پر حملہ ہوا اس حملے میں ایک ہزار سے پندرہ سو تک حفاظ اور عالم بچے بچیاں شہید ہوئے۔ یہ وہ سارے واقعات اور حالات تھے جن کی وجہ سے پاکستان میں اسلام پسند طبقات اور فوج کے درمیان اختلافات پیدا ہونا شروع ہو گئے ۔ اگر ہم افواج پاکستان پر حملوں کی تفصیل میں جائیں تو ہمیں یہ جان کر حیرت ہو گی کہ چار جولائی کو میران شاہ سے بنوں آنے والے فوجی قافلے پر خود کش حمل ہوا۔ اس حملے میں چھ سیکورٹی اہلکاروں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے۔ چھ جولائی کو مالا کنڈ ایجنسی میں خود کش حملے میں چار سیکورٹی اہلکاروں کو زندگی سے ہاتھ دھونا پڑے ۔ اسی طرح 12جولائی کو مینگورہ میں خود کش میں تین پولیس اہلکار جاں بحق ہو گئے اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ یہاں تک کہ 15جولائی کو سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان میں گیارہ سیکورٹی اہلکاروں سمیت 40سے زائد افراد خود کش دھماکوں کا شکار ہو گئے۔ 17جولائی کو شمالی وزیرستان میں سیکورٹی چیک پوسٹ پر خود کش بم دھماکے میں دو سیکورٹی افسروں سمیت پانچ لوگ جاں بحق جبکہ 18جولائی کو میران شاہ ،مد خیل ، میر علی میں خود کش دھماکے میں 20سیکورٹی اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ 19جولائی کو حب میں چینی قافلے پر حملے میں 8سیکورٹی افسروں سمیت 30سے زائد لوگ ، کوہاٹ کی ایک مسجد میں بم دھماکے سے 11فوجیوں سمیت 15افراد اور ہنگو میں پولیس ٹریننگ کالج کے گیٹ پر حملے میں ایک پولیس اہلکار سمیت 8افراد جاں بحق ہو ئے۔ ان حملوں کے دوران اب تک فوج کے 66سے زائد جوان جاں بحق ہو چکے ہیں ۔جبکہ فوج اور اسلام پسند قوتوں کی یہ لڑائی آنے والے دنوں میں اس قدر اگے چلی گئی کہ پاکستان میں فوج کے حامی بھی غیر محفوظ ہیں۔ خدا جانے اس تالاب میں بننے دائرے اب کس کس کو اپنے حصار میں لیں گے۔ تالاب میں پتھر مارنا تو اپنے اختیار میں ہوتا ہے مگر بعد میں بننے والے دائرے روکنے کی کوشش دیوانگی کہلاتی ہے ۔ اس طرح ہم دیکھیں تو پولیس بھی خود کش حملوں اور دھماکوں کا ٹارگٹ بنتی چلی جا رہی ہے۔ اگر ہم ان دھماکوں کا تجزیہ کریں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ خود کش حملہ آور فوج کے ہر ساتھی محکمے کو اپنا ٹارگٹ بنا رہے ہیں ۔ شاید یہ اسی پالیسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت نے پاکستان میں سبز نمبر پلیٹوں پر پابندی لگا دی ہے۔ اور تمام محکموں کو اپنی اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کو سول کلر میں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے موٹروے پولیس کے افسروں اور کارکنوں پر بھی پابندی لگا دی ہے کہ وہ یونیفارم پہن کر باہر نہ نکلیں ۔ پاکستان کے تمام تھانوں کی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے۔ اور تمام سرکاری عمارتوں کا خصوصی بندوبست کیا جا رہا ہے۔ یہ ساری صورت حال ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کی دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو چکی ہیں ۔ لہذا پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی بیرونی حملہ آور کی ضرورت نہیں۔ امریکا وہ مقصد جو اس حملے کے ذریعے حاصل ہو سکتا تھا۔ اب بغیر لشکر کشی کے حاصل کر رہا ہے ۔ صدر پرویز مشرف اور افواج پاکستان اسلام پسند قوتوں کو اپنا دشمن بنا کر اس بری طرح پھنس چکے ہیں کہ اگر آج پاکستان خدانخواستہ امریکا فاٹا اور جنوبی وزیرستان پر حملہ کرتا ہے تو جنرل پرویز مشرف کے پاس امریکا کے اس حملے کی حمایت کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ پرویز مشرف کے پاس امریکا کے اس حملے کی حمایت کرنا پڑے گی۔ جس کے رد عمل میں خاکمبدہن یہ ملک افرا تفری ، قتل و غارت گری ، اور بحران کا شکار ہو جائے گا۔ امریکا اپنے سولہ اداروں کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق پاکستان اس دور میں داخل ہو چکا ہے جس میں اسے عراق اور افغانستان اور بیروت بننے میں دیر نہیں لگے گی۔ کاش پاکستان میں ایسے ادارے ہوتے جو اس صورت حال کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے اور قوم کی رہنمائی کر سکتے ۔ کاش پاکستان میں ایسے دانشور ہوتے جو اس نازک وقت میں قوم دشمن کے عزائم کی خبر دے سکتے ۔ کاش ہم سمجھدار ہوتے ۔ ہم اپنے دشمنوں کی سازشوں کو پیدا ہوتے ہی فوری کچل دیتے ۔ میں جب اس صورت حال کا جائزہ لیتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان بھی عراق کی صورت حال کے دھانے پر کھڑا ہے۔ اور بد قسمتی سے اسے اس گڑھے میں گرنے سے بچانے والا کوئی شخص دکھائی نہیں دیتا۔

جاوید
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مراسلات: 184
شکریہ: 0
23 مراسلہ میں 42 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 271
Reply With Quote
پرانا 03-08-07, 09:04 PM   #2
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,174
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: خونی لکیر

ماشااللہ جاوید بھائی بہت اچھا لکھا آپ نے، اللہ آپ کے قلم کو خوب طاقت دے اور آپ ہمیشہ حق اور سچ لکھتے رہو۔

اور ہمیں اور ہمارے پیارے پاکستان کو دشمنوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں عقل دے۔ آمین
__________________
----------
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کارگل, پیارے, پولیس, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, لوگ, نماز, نظر, ممکن, مجید, محبت, مسجد, معلوم, احتجاج, اسلام, بھائی, جواب, خدا, رمضان, راستہ, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger