واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دس سال بیت گئے !۔۔۔ عرفان صدیقی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-09-11, 09:50 AM   #1
دس سال بیت گئے !۔۔۔ عرفان صدیقی
محمد یاسرعلی محمد یاسرعلی آف لائن ہے 12-09-11, 09:50 AM

دس سال بیت گئے!…
South Asian News Agency (SANA) ⋅ September 11, 2011 ⋅
عرفان صدیقی

نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دو میناروں کو دو طیاروں کا ہدف بنے دس سال ہوگئے۔ میں نے 2002ء میں زمین کے اس ٹکڑے کو دیکھا تھا جو اب خالی پڑا تھا اور جس کے چار سو بلند وبالا عمارتوں کا حصار تھا۔ مین ہٹن کا یہ علاقہ رونقوں اور رعنائیوں کا مرکز ہے جہاں زندگی کبھی تھکتی نہیں۔ مجھے بس میں سفر کے دوران اس بڑھیا کے آنسو بھی نہیں بھولتے جس نے معدوم ہوجانے والے جڑواں میناروں والے مقام کی طرف اشارا کرتے ہوئے کہا تھا۔ ”یہاں سے وہ نظر آیا کرتے تھے“۔ پھر اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں اور اس نے اپنے چھوٹے سے پرس سے ایک خوشبو بھرا ٹشو پیپر نکال کر آنکھیں پونچھتے ہوئے خود کلامی کے انداز میں کہا تھا۔ ”کتنے خوبصورت لگتے تھے، تم“۔ کوئی تین ہزار کے لگ بھگ افراد 11/ستمبر کے حملوں کی نذر ہوگئے تھے۔ امریکی نہ اپنے پیاروں کو بھولے ہیں نہ میناروں کو۔ وہ آج بھی وہاں جمع ہوں گے، پھول چڑھائیں گے، موم بتیاں روشن کریں گے، دعائیں مانگیں گے، ماتمی گیت گائیں گے۔ یہ دن وہاں ریاستی سطح پر منایا جاتا ہے۔ صدر اوباما اور نیویارک کے میئر ان اجتماعات میں شریک ہوں گے۔ گزر جانے والے دس برسوں کو یاد کریں گے۔ اس امریکی عزم کو تازہ کریں گے کہ دنیا کو دہشت گردی سے پاک کردیا جائے گا۔
امریکہ دس سال سے اپنے مشن میں مصروف ہے۔ دنیا کو دہشت گردی سے پاک کرنے کی جدوجہد کا پرچم اٹھائے نگری نگری گھوم رہا ہے۔ اس شام جارج ڈبلیو بش نے ساری دنیا کو للکار کے کہا تھا۔ ”فیصلہ کرلو۔ تم ہمارے ساتھ ہو یا نہیں“۔ ایسی ہی دھمکی اس نے پاکستان کے جری کمانڈو، کارگل کے ہیرو اور فاتح پاکستان کو دی تھی۔ وہ کوئی معمولی شخص نہیں تھا۔ اس کے توانا بازوؤں میں اتنا حوصلہ تھا کہ اس نے ایک آئینی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ وزیر اعظم کو زنجیریں ڈال کر کسی کوٹھڑی میں پھینک دیا تھا۔ صدر کو گھر بھیج دیا تھا۔ آئین کا تیاپانچہ کر دیا تھا۔ گستاخ ججوں کو فارغ کر دیا تھا۔ لیکن شہنشاہ عالم پناہ کا فون آیا تو وہ گرم پانی میں بتاشے کی طرح گھل گیا۔ اس نے کہا … ”ہاں ہم افغانوں کے خلاف تمہارا ساتھ دیں گے“۔
آج وہ خودسر زمین پاکستان پر قدم نہیں رکھ سکتا لیکن یہاں قدم قدم پر امریکیوں کے ڈیرے ڈال گیا۔ پوری کہانی کسی نہ کسی روز لکھی جائے گی کہ پرویز مشرف نامی شخص، ہمیں کس چتا میں جھونک گیا۔ لیکن سامنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان وہ نہیں رہا جو دس سال پہلے تھا۔ اور اسے پھر سے وہی پاکستان بننے کے لئے جانے کتنے برس مزید سفر کرنا ہوگا۔ پوچھا جاتا ہے کہ مشرف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا کرتا؟ یہ ایک مفروضہ ہے۔ اتنی بات واضح رہنی چاہئے کہ کوئی اور ہوتا تو پارلیمینٹ بھی ہوتی، اس کے سر پر ایک صدر بھی بیٹھا ہوتا۔ اسے نکیل ڈالی فوج بھی ہوتی۔ اس کی ایک سیاسی جماعت بھی ہوتی۔ اسے پتہ ہوتا کہ میں نے فیصلہ کرنے کے بعد عوام میں بھی جانا ہے۔ ان سب بندھنوں میں جکڑا وہ شخص کبھی ایک فون کال پر پورا پاکستان طشتری میں سجاکر امریکہ کے قدموں میں نہ ڈال دیتا۔ اور اگر وہ امریکہ سے مشروط تعاون کرتا بھی تو شاید اتنی قیمت ضرور وصول کرلیتا کہ پاکستان کی تقدیر بدل جاتی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ کسی صورت بھی ”قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند“ کا مظاہرہ نہ کرتا۔
”نائن الیون“ کے بارے میں اب بھی بیسیوں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہ سوالات خود امریکیوں کے ذہنوں میں کلبلا رہے ہیں۔ امریکہ انیس ہائی جیکروں کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے نزدیک یہ ہولناک حملہ افغانستان میں بیٹھے ایک شخص اسامہ بن لادن نے پلان کیا۔ ابھی تک اس کا کوئی واضح، دو ٹوک اور ناقابل تردید ثبوت پیش نہیں کیا جاسکا۔ پانچ سو صفحات پر مشتمل ”نائن الیون کمیشن رپورٹ“ بھی الف لیلوی داستان کے سوا کچھ نہیں۔ ان انیس ہائی جیکروں میں سے بھی کسی کا تعلق افغانستان سے تھا نہ عراق سے۔ لیکن جارج بش نے پہلے اسامہ کو مجرم قرار دیا۔ پھر سارا ملبہ افغانستان کے سر ڈال دیا کہ وہ اسامہ کا میزبان ہے۔ واقفان حال جانتے ہیں کہ ملا محمد عمر نے انتہائی متوازن رویہ اختیار کرتے ہوئے ایک بیچ کا راستہ تجویز کیا تھا۔ لیکن اصل اہداف و مقاصد کا تعین تو شاید نائن الیون سے پہلے ہی ہوچکا تھا۔ سو امریکہ نے اقوام متحدہ نامی اپنی خادمہ سے ایک پرچی لی اور پچاس کے لگ بھگ ممالک کو ساتھ ملاکر افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ پاکستان اس کا ہراول دستہ بن گیا۔
دس برس سے امریکہ افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں سے سر پھوڑ رہا ہے۔ اسے اتنی کامیابی ضرور ہوئی کہ اس نے ملا محمد عمر کو کابل سے بے دخل کرکے اپنے لے پالک مسخرے کو وہاں کا حکمران بنادیا۔ لیکن دس برس کے دوران وہ افغانستان کو فتح نہیں کرسکا۔ پیہم حملوں کے باوجود آج بھی ملا محمد عمر کی حکمرانی کا دائرہ۔ کرزئی کے دائرے سے بہت وسیع ہے۔ اسامہ بن لادن شہادت سے ہم کنار ہوگیا لیکن اس کی موج خوں ایک چمن ایجاد کرگئی۔ وہ امریکی رعونت پر کاری ضرب لگانے اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کی بھرپور مزاحمت کرنے والے مرد جری کے طور پر بہت دیر تک زندہ رہے گا۔ ملا محمد عمر، دس سال سے مزاحمت کی تاریخ رقم کررہا ہے۔ دنیا میں کوئی چھوٹا بڑا ملک غیرملکی جارحیت اور سامراجی تسلط کا نشانہ بنے تو اس کے سامنے سینہ تان کر کھڑے ہوجانے والے، ہیرو کہلاتے ہیں۔ لیکن افغانستان پر امریکی قبضے کے خلاف اپنے فراخ سینوں پہ گولیاں کھانے اور اپنے سروں کی فصل بونے والے اس اعزاز سے محروم ہیں۔ اس لئے کہ مارنے والا امریکہ ہے اور مرنے والا مسلمان۔ مزید ستم یہ کہ اس کے چہرے پر گھنی داڑھی ہے اور سر پہ بھاری پگڑی۔ امریکہ مانے یا نہ مانے لیکن گھنی داڑھیوں، بھاری پگڑیوں، لمبی عباؤں والی مخلوق نے اسے وہ سبق سکھا دیا ہے جو ان کے بڑوں نے انگریزوں اور روسیوں کو سکھایا تھا۔ آج یا کل، امریکی سپاہ افغانستان سے رخصت ہوجائے گی لیکن اس کے کسی سپاہی کے سینے پر فتح کا تمغہ نہ ہوگا۔ سب کی پیشانیاں شکستوں اور رسوائیوں کے داغوں سے پر ہوں گی۔
نائن الیون ہی کی کوکھ سے جارج ڈبلیو بش نے عراق پر حملے کی راہ نکالی۔ میں ایک کالم میں بتا چکا ہوں کہ امریکہ کی براؤن یونیورسٹی کے واٹسن انسٹی ٹیوٹ کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق امریکہ دونوں بے ثمر جنگوں پر چوالیس کھرب ڈالر پھونک چکا ہے۔ یہ ساری رقم ادھار کی ہے۔ شوق مہم جوئی میں اس پر قرضوں کا بوجھ تقریباً 145کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 96فی صد ہے۔ ماہرین کا خیال ہے بہت جلد قرضوں کی شرح، قومی پیداوار کا سو فی صد ہوجائے گی۔ اسے ہر سال 430ارب ڈالر سود کی شکل میں ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ ہر شہری اوسطاً پچاس ہزار ڈالر کا مقروض ہوچکا ہے۔ اس کی معیشت شدید بحران سے دوچار ہے۔ تعلیم، صحت، تعمیر و ترقی کے منصوبے اور سماجی شعبہ بری طرح متاثر ہورہا ہے۔
امریکہ بظاہر اپنی بالادستی کے لئے دوسرے ممالک سے برسرپیکار ہے لیکن دراصل وہ اپنے خلاف جنگ آزما ہے۔ افغانوں کا کچھ نہیں بگڑنا کہ وہ سخت جان ہیں اور ان کے ایمان و یقین کے قلعوں کے لئے ابھی کوئی ہتھیار ایجاد نہیں ہوا۔ لیکن امریکہ نہ صرف اپنے آپ کو کھوکھلا کررہا ہے بلکہ ساری دنیا میں اپنا چہرہ بھی مسخ کرنے میں مصروف ہے۔ جارج بش نے نائن الیون کے فوراً بعد پوچھا تھا۔ ”نہ جانے دنیا ہم سے نفرت کیوں کرتی ہے“۔ پوری امریکی تاریخ نہ سہی، صرف ان گزرے ہوئے دس سالوں پہ نظر ڈال لی جائے تو بوڑھے ہوتے بش کو بڑا واضح جواب مل جائے گا۔
__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔

Last edited by محمد یاسرعلی; 12-09-11 at 10:50 PM..

 
محمد یاسرعلی's Avatar
محمد یاسرعلی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 207
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (12-09-11), نبیل خان (12-09-11), احمد نذیر (12-09-11), حیدر (12-09-11), سیفی خان (12-09-11), عبداللہ آدم (13-09-11), عروج (12-09-11)
پرانا 12-09-11, 11:02 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,461
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,505 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
امریکہ بظاہر اپنی بالادستی کے لئے دوسرے ممالک سے برسرپیکار ہے لیکن دراصل وہ اپنے خلاف جنگ آزما ہے۔ افغانوں کا کچھ نہیں بگڑنا کہ وہ سخت جان ہیں اور ان کے ایمان و یقین کے قلعوں کے لئے ابھی کوئی ہتھیار ایجاد نہیں ہوا۔ لیکن امریکہ نہ صرف اپنے آپ کو کھوکھلا کررہا ہے بلکہ ساری دنیا میں اپنا چہرہ بھی مسخ کرنے میں مصروف ہے۔ جارج بش نے نائن الیون کے فوراً بعد پوچھا تھا۔ ”نہ جانے دنیا ہم سے نفرت کیوں کرتی ہے“۔ پوری امریکی تاریخ نہ سہی، صرف ان گزرے ہوئے دس سالوں پہ نظر ڈال لی جائے تو بوڑھے ہوتے بش کو بڑا واضح جواب مل جائے گا۔
سچ لکھا ہے صدیقی صاحب آپ نے
اب تو امریکہ سورج کی تیز دھوپ میں بھی افغانستان سے بھاگنے کے خواب دیکھتا ہے
ادھر طالبان بھی ان کے ساتھ : بھاگتے چور کی لنگوٹی سہی : والا معاملہ کر رہے ہیں
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (12-09-11), محمد یاسرعلی (12-09-11), حیدر (12-09-11), سیفی خان (12-09-11), عبداللہ آدم (13-09-11), عروج (12-09-11)
پرانا 12-09-11, 03:15 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,353
شکریہ: 52,431
11,145 مراسلہ میں 35,178 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
پوچھا جاتا ہے کہ مشرف کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا کرتا؟ یہ ایک مفروضہ ہے۔ اتنی بات واضح رہنی چاہئے کہ کوئی اور ہوتا تو پارلیمینٹ بھی ہوتی، اس کے سر پر ایک صدر بھی بیٹھا ہوتا۔ اسے نکیل ڈالی فوج بھی ہوتی۔ اس کی ایک سیاسی جماعت بھی ہوتی۔ اسے پتہ ہوتا کہ میں نے فیصلہ کرنے کے بعد عوام میں بھی جانا ہے۔ ان سب بندھنوں میں جکڑا وہ شخص کبھی ایک فون کال پر پورا پاکستان طشتری میں سجاکر امریکہ کے قدموں میں نہ ڈال دیتا
کراچی کا حال دیکھنے کے بعد بھی ہم اگر یہ توقع رکھیں کہ "یہ سیاست دان" پاکستان سے کُچھ مخلص ہیں ۔۔۔۔تو شرمندہ ہی ہوا جا سکتا ہے۔ جن سیاست دانوں کو اپنے ہی شہری مارنے کا کوئی غم نہیں، انہوں نے افغانستان کی باری کیا ٹینشن لینی تھی۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (12-09-11), نبیل خان (17-09-11), محمد یاسرعلی (12-09-11), سیفی خان (12-09-11), عروج (12-09-11)
پرانا 12-09-11, 03:51 PM   #4
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت اعلیٰ شئیرنگ

ایک اچھی تحریر کی شئیرنگ پر مبارکباد
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-09-11), محمد یاسرعلی (12-09-11)
پرانا 12-09-11, 03:51 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہت اعلیٰ شئیرنگ

ایک اچھی تحریر کی شئیرنگ پر مبارکباد
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 12-09-11, 05:26 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تدوین کرکے دوبارہ سبمٹ ھو جانے والی تحریرحذف کر دیں شکریہ۔ یہ ایک گہری چال تھی جو کہ مسلمانوں کے خلاف ایک تحریک چلانے کا بہانہ تھی ا ور وقت نے میرے خدشے کو ثابت بھی کیا۔اور آج پاکستان میں فرقہ واریت کا پرچار، لسانی فسادات یا صوبائیت کی جنگ انہیں منصوبوں کے مختلف درجے ھیں۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-09-11), محمد یاسرعلی (12-09-11), سیفی خان (12-09-11)
کمائي نے عروج کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
12-09-11 محمد یاسرعلی غلطی کی نشان دہی کا شکریہ 50
پرانا 12-09-11, 06:01 PM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
امریکہ مانے یا نہ مانے لیکن گھنی داڑھیوں، بھاری پگڑیوں، لمبی عباؤں والی مخلوق نے اسے وہ سبق سکھا دیا ہے جو ان کے بڑوں نے انگریزوں اور روسیوں کو سکھایا تھا۔
بلکل درست کہا ۔ ۔ ۔ ۔
اقتباس:
آج یا کل، امریکی سپاہ افغانستان سے رخصت ہوجائے گی لیکن اس کے کسی سپاہی کے سینے پر فتح کا تمغہ نہ ہوگا۔ سب کی پیشانیاں شکستوں اور رسوائیوں کے داغوں سے پر ہوں گی۔
ان شاء اللہ ایسا ہی ہو گا
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-09-11), محمد یاسرعلی (12-09-11), عروج (14-09-11)
جواب

Tags
کارگل, پھول, پیاروں, پاک, پاکستان, وزیر, قدم, نفرت, نظر, میناروں, موم, آج, ایمان, اقوام متحدہ, جواب, جلد, حال, خلاف, داڑھی, دعائیں, راستہ, زندگی, سفر, شخص, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
مولانا فضل الرحمان، نصیربھٹہ اور کشمالہ طارق سمیت 148ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل جاویداسد خبریں 15 22-10-10 12:49 PM
عیسائیت کی تبلیغ کا الزام 6امریکیوں سمیت 10 افراد ہلاک جاویداسد خبریں 1 08-08-10 09:46 PM
آئین میں اٹھارہویں ترمیم۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کے چہرے پر آمریت کا ایک اور بد نماداغ Zullu230 سیاست 6 29-06-10 12:18 AM
جمہوریت کی بحالی کیلئے یورپی یونین کا کردار نہایت اہم ہے،نواز شریف عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 11:19 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:16 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger