| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 1941
|
||||
| 18 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | compaq (06-12-11), iqbal jehangir (20-12-11), کنعان (06-12-11), گوہر (07-12-11), گلز (01-01-12), پاکستانی (30-12-11), قاسمی (13-12-11), نبیل خان (07-12-11), مفتی (07-12-11), ملک اظہر (06-12-11), ملک زوالفقار (08-12-11), محمدمبشرعلی (07-12-11), مرزا عامر (06-12-11), ابوسعد (10-12-11), احمد نذیر (06-12-11), سحر (06-12-11), طارق راحیل (30-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,573
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ شعبان بھائی آپ نے اچھا موضوع شروع کیا
حضرت علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ابدال کی خبر احادیث میں ہے اور ان کا وجود درجہ یقین تک پہنچا ہے۔ اسی طرح علامہ سخاوی رحمہ اللہ نےلکھا ہے کہ سب سے واضح روایت ابدال کے بارے میں ہے جو کہ امام احمد ابن عباد نے شریخ ابن عبید سے روایت کی ہے : حضرت علی کرم وجہہ اللہ سے مروی ہے کہ اہل شام پر لعنت نہ کرو کیونکہ ان میں چالیس ابدال رہتے ہیں۔ ان کی برکت سے بارش ہوتی ہے اور ان سے دین کو مدد ملتی ہے۔ امام سیوطی نے لکھا ہے کہ حضرت علی کرم وجہہ اللہ کی روایت جو امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند دس طرقوں سے زیادی ملتی ہے۔ علامہ خطیب نے کتاب التاریخ البغداد سے نقل کی ہے کہ نقباء 100 ہوتے ہی اور نجباء 70، ابدال 40 اور 7 اوتاد ہوتے ہیں، قطب زمین میں تین اور قطب الاقطاب یا غوث ایک ہوتا ہے۔ غوث ان سب کا سردار ہوتا ہے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا باطنی جانشین یا خلیفہ ہوتا ہے۔ حضرت ابو نعیم نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ روئے زمین پر اللہ کے ایسے خاص بندے ہوتے ہیں جن کی دعا و برکت سے اللہ تعالیٰ لوگوں پر رحم فرماتا ہے، آسمان سے بارش اور زمین سے فصل وغیرہ انکی دعا سے اگتی ہے۔ یہ لوگ دنیا کے لیے باعث امن ہیں۔ امام احمد ابن عباد صامت سے روایت کرتے ہیں کہ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں قیامت تک چالیس آدمی ایسے رہیں گے جن کی وجہ سے زمین و آسمان کا نظام قائم رہے گا۔
__________________
یکے آنکہ در خویش خود بیں مباش دوم آنکہ در غیر بد بیں مباش |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے ملک اظہر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (06-12-11), گلز (01-01-12), نبیل خان (07-12-11), مفتی (07-12-11), محمدمبشرعلی (07-12-11), مرزا عامر (22-12-11), احمد نذیر (06-12-11), شعبان نظامی (06-12-11) |
|
|
#3 | |||
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اقتباس:
|
|||
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | محمد عاصم (14-12-11), ابوسعد (10-12-11), شعبان نظامی (09-02-12), طارق راحیل (30-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() |
|
|
|
|
| 10 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا | abrarhussain_73 (10-12-11), فیصل ناصر (06-12-11), ھارون اعظم (10-12-11), نبیل خان (07-12-11), محمد عاصم (14-12-11), مرزا عامر (06-12-11), ابوسعد (10-12-11), شکاری (07-12-11), شعبان نظامی (25-02-12), عبداللہ آدم (06-12-11) |
|
|
#5 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,569
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
![]() حدیث قدسی ( کنت سمعہ الذی یسمعہ بہ وبصرہ ۔۔ الخ ) کا معنی سوال حدیث قدسی میں اللہ تعالی کے فرمان واذا احببتہ کنت سمعہ الذی یسمعہ بہ وبصرہ الذی یبصربہ ، ویدہ التي یبطش بھا ، ورجلہ التی یمشی علیھا ( اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کا کان ہوتا ہوں جس سے وہ سنت ہے اور آنکھ ہوتا ہوں جس سے دیکھتا ہے ، اور اس کا ہاتھ جس کے ساتھ وہ پکڑتا ہے ، اور اس کی ٹانگیں جس پروہ چلتا ہے ) کا کیا معنی ہے ؟ جواب الحمد للہ جب مسلمان اللہ تعالی کے فرض کرد فرائض ادا کرنے کے بعد نوافل اور اطاعت کے ساتھ اللہ تعالی کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا اور پھر حتی الوسعہ اسے مستقل طور پر کرتا ہے تو اللہ تعالی اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہے ، تو جو کچھ بھی وہ کرتا یا چھوڑتا ہے اس میں اللہ تعالی کی مدد شامل ہوتی ہے ۔ تو جب وہ سنتا ہے تو سننے میں اللہ تعالی کی طرف سے مدد شامل حال ہوتی ہے جس کی بنا پر وہ خیر اور بھلائ کے علاوہ کچھ سنتا ہی نہیں ، اور حق کے علاوہ کسی چيز کو قبول ہی نہیں کرتا ، اور اللہ تعالی کی مدد اور توفیق سے باطل اس سے دور کر دیا جاتا ہے ، تو وہ حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھتا ہے۔ اور جب کسی چيز کو پکڑتا ہے تو اللہ تعالی کی طرف سے قوت سے پکڑتا ہے تو اس کی یہ پکڑ اس تعالی کی پکڑ سے حق کی مدد ونصرت ہوتی ہے ، اور جب چلتا ہے تو اس کا چلنا اللہ تعالی کی اطاعت اور طلب علم اور اللہ تعالی کے کلمہ کو بلند کرنے کے لیے جھاد فی سبیل اللہ کی طرف ہوتا ہے ، اجمالی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کے ظاہری اور باطنی اعضاء کے ساتھ جو بھی عمل ہوتا ہے وہ اللہ تعالی کی راہنمائ اور ھدایت اور اللہ تعالی کی قوت کے ساتھ ہيں ۔ تو اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا کہ اس حدیث میں وحدۃ الوجود یا حلول کا عقیدہ نہیں کہ اللہ تعالی اپنی مخلوق میں حلول کر جاتا یا پھر مخلوق میں کسی ایک سے متحد ہو جاتا ہے ۔ اس کی راہنمائ حدیث کے آخری حصہ میں موجود ہے جس میں اللہ تعالی کا فرمان ہے ( اوراگر وہ مجھ سے طلب کرتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں ، اور اگر وہ میرے ساتھ پناہ طلب کرتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں ) ۔ اور بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ : ( تو وہ میرے ساتھ سنتا اور میرے ساتھ دیکھتا ہے ۔۔۔۔ الخ ) تو اس میں حدیث کے ابتدائی حصہ کی مراد کی طرف راہنمائ ملتی ہے ، اور سائل اور مسئول اور اسی طرح پناہ دینے والے اور طلب کرنے والی کی تصریح بھی ہے ۔ تو یہ حدیث اس دوسری حدیث قدسی کی طرح ہی جس میں اللہ تعالی فرماتا ہے : ( اے میرے بندے میں بیمار ہوا تو تو نے میری عیادت نہیں کی ۔۔ الخ ) تو ان میں سے ہر ایک حدیث کا آخری حصہ پہلے حصے کی شرح کرتا ہے ، لیکن خواہشات کے پیچھے چلنے والے متشابہ نصوص کی پیچھے چلتے اور محکم نصوص سے اعراض کرتے ہیں تو اس بنا پر وہ سیدھی راہ سے گمراہ ہوۓ ۔ . مستقل فتوی کمیٹی کا فتوی دیکھیں کتاب : فتاوی الاسلامیۃ ( 1 / 35 ) ح
__________________
|
|
|
|
|
| 15 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (11-12-11), فیصل ناصر (06-12-11), ھارون اعظم (10-12-11), نبیل خان (07-12-11), مفتی (07-12-11), ملک اظہر (06-12-11), محمدمبشرعلی (07-12-11), مرزا عامر (06-12-11), اویسی (27-12-11), ابوسعد (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11), سحر (06-12-11), شعبان نظامی (09-02-12), عبداللہ آدم (06-12-11), عبداللہ حیدر (06-12-11) |
|
|
#6 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 266
کمائي: 5,514
شکریہ: 189
211 مراسلہ میں 501 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
کیا ابدال صرف شام میں ہی ہوں گے ؟ باقی دنیا کے ممالک کو ان ابدال بھائیوں کی ضرورت نہیں ہے کیا ؟ ابدال بھائیوں کی دعا سے اگر بارش برستی ہے اور زمین کی فصل اگتی ہے تو ہم لوگ پھر بارش اور فصل اگنے کی دعا کیوں مانگتے ہیں ؟؟ جبکہ کہ بقول اقتباس بارش اور فصل کا اگنا ابدال بھائیوں کی دعا سے ہی ہے ۔ ہم نے تو سنا ہے کہ زمین و آسمان کا نظام اللہ تعالیٰ چلا رہاہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے اور اللہ کی نوری مخلوق فرشتے دنیا کے مختلف کاموں پر مامور ہیں جو اللہ کہ حکم دنیا کا نظام چلا رہے ہیں لیکن اقتباس سے تو یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ فرشتوں کی جگہ ابدال لے چکے ہیں کیا ایسا ہی ہے ؟ کیا ہم کسی ابدال کو دیکھ سکتے ہیں کیا اس کے لیے ہمیں شام کا سفر کرنا پڑے گا ؟ یا کہ ابدال بھائی ہمیں فرشتوں کی طرح نظر نہیں آ سکتے ؟ |
|
|
|
|
| 7 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (06-12-11), گلز (01-01-12), محمد عاصم (14-12-11), مرزا عامر (14-12-11), ابوسعد (10-12-11), شعبان نظامی (09-02-12), عبداللہ آدم (06-12-11) |
|
|
#7 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
حضور کی احادیث کی اس طرح تضحیک کرنا اور صرف اپنی عقل اور رائے سے بات کرنا کیا یہ مسلمانی ہے؟؟؟؟؟ بخاری شریف والی حدیث کا حوالہ درج کر رہا ہوں: “من عادی لی ولیا فقد اٰذنتہ بالحرب وما تقرب الی عبدی بشیئ احب الی مما افترضت علیہ، وما یزال عبدی یتقرب الی بالنوافل حتی احبہ، فاذا احببتہ: کنت سمعہ الذی یسمع بہ، وبصرہ الذی یبصربہ، ویدہ التی یبطش بھا، ورجلہ التی یمشی بھا، وان سالنی لاعطینہ، ولانستعاذنی لاعیذنہ، وما ترددت عن شیئ انا فاعلہ ترددی عن النفس المومن یکرہ الموت وانا اکرہ مساءتہ۔ او کما قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بخاری فی الصحیح، کتاب : الرقائق، باب، التواضع، ۔۲۳۸۴،۵ ،بیروت، لبنان،دار القلم،۱۹۸۶ رہی بات قطب اور ابدال والی تو اس کی مختلف اسناد میں بیان کر دیتا ہے۔ ملک اظہر صاحب نے بھی امام سیوطی کے حوالے سے لکھا ہے کہ حضرت علی کرم وجہہ اللہ کی روایت جو امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند دس طرقوں سے زیادی ملتی ہے۔ یہ اسناد بھی درج کر دوں گا۔ اخر میں پھر کہوں گا کہ میں نے حدیث نبوی درج کی کوئی قصہ کہانی نہیں جو آپ اس کے بارے میں اتنے بے باک ہو کر رائے زنی کریں۔ Last edited by شعبان نظامی; 06-12-11 at 11:52 AM. |
|
|
|
|
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
قصہ کہانیوں کو حدیث رسول کہنا اس سے بھی بڑی بےباکی ہے بلکہ گستاخی رسول ہے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (18-12-11), مرزا عامر (17-12-11), ابوسعد (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11), شعبان نظامی (09-02-12) |
|
|
#9 |
|
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مقام: sialkot
عمر: 23
مراسلات: 55
کمائي: 1,422
شکریہ: 67
44 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فیصل بھائی شاید آپ کو شعبان صاحب کی بات کی مکمل تفہیم نہیں ہوئی وہ یہی تو اجمل بھائی سے کہہ رہے ہیں کہ یہ حدیث رسول ہے ۔اوراگرچہ شعبان بھائی نے اپنی پوسٹ میں حوالہ بھی دے دیا ہے ۔اب تو جھوٹ کا امکان صرف اسی صورت میں ہو گا کہ اگر کوئی صاحب علم اس حدیث کی جرح تعدیل کرے اور یہ ثابت کرے کہ یہ حدیث جھوٹی ہے یا ضعیف ہے۔
|
|
|
|
| سائل کا شکریہ ادا کیا گیا | گلز (01-01-12) |
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
نظامی صاحب کی پہلی پوسٹ میں ہی ایک منکر حدیث موجود ہے
جس کی بنیاد پر یہ پورا موضوع (قطب اور ابدال کا ) ہے |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | rana ammar mazhar (13-12-11), محمد عاصم (14-12-11), مرزا عامر (17-12-11), سائل (06-12-11), شعبان نظامی (09-02-12), عبداللہ آدم (06-12-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
میرا خیال ہے آپ لوگ علم اصول حدیث سے واقف نہیں یا جان بوجھ کر انجان بن رہے ہیں!
میں نے جو حدیث درج کی وہ ضعیف تو ہو سکتی ہے مگر موضوع نہیں۔ سائل صاحب بھی اپنی تصحیح فرما لیںکہ حدیث ضعیف اور اور موضوع میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دراصل حدیث موضوع حضور بنی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہوتی ہی نہیں وہ حضور کی طرف جھوٹ منسوب ہو تا ہے جس کے بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ فی النار آپ میں سے جو شخص اصول حدیث کو جانتا ہے میں اس سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ منکر حدیث کے بارے میں یہ ثابت کر دے کہ وہ حدیث رسول سرے سے ہوتی ہی نہیں تو میں اس پر مزید کسی قسم کی بحث نہیں کروں گا۔ آپ اصول حدیث کی کسی متقدم عالم کی کتاب اٹھا لیں اور اس میں آپ کو حدیث اقسام ملیںگی: صحیح حسن ضعیف منکر حدیث، حدیثِ ضعیف کی ایک قسم ہے۔ اور حدیث ضعیف بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے مگر اس میں راوی کی وجہ سے ضعف آ جاتا ہے۔ مگر کلیتا اسے حدیث رسول کی کٹگیری سے خارج نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام کے بہت سے احکام ضعیف احادیث سے مستنبط ہیں ان پر تو کبھی کسی نے اعتراض نہیں کیا مگر جب فضائل کی بات آتی ہے تو آپ ضعیف ضعیف کی رٹ لگا دیتے ہیں؟؟؟؟ آپ نے اگر اس حدیث پر جرح کرنی ہے کیجئے ! لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ منکر حدیث بھی حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی ہے۔ میں اس موضوع کی مزید احادیث مختلف طرق سے درج کروں گا تاکہ بات مزید پختہ ہو سکے۔ ان شاء اللہ والسلام علی من اتبع الھدی |
|
|
|
|
|
#12 | |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#13 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() |
یہ بات درست ہے کہ نظامی صاحب نے ایک حدیث پیش کی ہے اوور اب وہ اس کے جمیع طرق پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اس سلسلے میں اسی کو بات کرنی چاہیت جسے علم حدیث سے کوئی درک ہے، پھر ہی اس حدیث کی حیثیت کا تعین ہو سکے گا. ہو سکتا ہے کہ یہ حدیث اس سند سے منکر ہو لیکن اس کی اور کوئی صحیح سند موجود ہو، اس لیے بھائی پہلے انہیں پیش کرنے دیں. . .جلدی نہ کریں.
ایک سند کے بارے میں تو امام احمد کا فیصلہ عبداللہ بھائی نے پیش فرما دیا ہے، مزید جو بحث ہو، جب تک وہ اس فن سے متعلق رہے اس میں اصحاب فن ہی بات کریں تو بہتر ہے. بعد ازاں ہم متن پر بھی بات کر لیں گے. والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد : "وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة، أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة" |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 266
کمائي: 5,514
شکریہ: 189
211 مراسلہ میں 501 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ میرے کسی سوال سے ایسا ہوا ہے تو میں توبہ کرتا ہوں جہاں تک میرا ناقص علم ہے مجھے نہیں لگتا کہ دین کو جاننے اور اس کو سمجھنے میں اگر کوئی پریشانی ہو تو اس کا سوالیہ طرز میں زکر کرنا بھی گستاخی یا حدیث کی تضحیک کا بائث ہو سکتا ہے بہتر تو یہ ہی تھا کہ جو سوالات میں نے کیے تھے ان کے جوابات دیے جاتے تا کہ مجھے اگر کل کوئی اس قسم کے سوالات پوچھتا تو میں اسے یہ نا کہتا کہ یہ تمہاری مسلمانی ہے کہ تم کو اس کا بھی نہیں پتہ اور اس کا بھی نہیں پتہ اور تمہارا طرح اس سوال کرنے سے حدیث کی تضحیک کا بائث بناہے بلکہ میں اس کے حدیث سے متلعقہ پیدا شدہ سوالات کا جواب دیتا ۔ پوسٹ نمبر 6 Last edited by اجمل; 06-12-11 at 05:17 PM. |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے اجمل کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (06-12-11), محمد عاصم (14-12-11), ابوسعد (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11), شعبان نظامی (25-02-12), عبداللہ آدم (06-12-11) |
|
|
#15 | |
|
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
مجھے حیرانی ہے کہ یہاں اتنے سارے صاحبان فکر و دانش بیٹھے ہیں اور اتنی فنی ابحاث میںجا رہے ہیں مگر کسی ایک نے بھی آپ کے اس جملے کو حوصلہ شکنی نہیں کی؟؟؟؟؟ لیجئے! دو مختلف طرق درج کر رہا ہوں اور بھی درج کروں گا لیکن فی الحال اتنا وقت میسر تھا۔ میں نے پہلے بھی یہ بات درج کی لیکن عبد اللہ حیدر صاحب، فیصل ناصر صاحب اور عبد اللہ اٰدم صاحب نے اس بات کو توجہ نہیں دی اور میری پہلی درج شدہ حدیث کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی اور صرف اسے منکر کہہ کر ٹال دیامیں یہ بات پھر درج کرتا ہوں اور جواب کا منتظر رہوں گا: "آپ میں سے جو شخص اصول حدیث کو جانتا ہے میں اس سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ منکر حدیث کے بارے میں یہ ثابت کر دے کہ وہ حدیث رسول سرے سے ہوتی ہی نہیں اور اسے موضوع قرار دے دےتو میں اس پر مزید کسی قسم کی بحث نہیں کروں گا۔ آپ اصول حدیث کی کسی متقدم عالم کی کتاب اٹھا لیں اور اس میں آپ کو حدیث اقسام ملیںگی: صحیح حسن ضعیف منکر حدیث، حدیثِ ضعیف کی ایک قسم ہے۔ اور حدیث ضعیف بھی حدیث رسول ہی ہوتی ہے مگر اس میں راوی کے عیب کی وجہ سے ضعف آ جاتا ہے۔ آپ کلیتا اسے حدیث رسول کی کٹگیری سے خارج نہیں کر سکتے" عن عبد اللہ بن زریر الغافقی: انہ سمع علی بن ابی طالب ؓ یقول: لا تسبوا اھل الشام و سبوا ظلمتھم، فان فیھم الابدال ۔ رواہ الحاکم، قال الحاکم: ھذا حدیث صحیح الاسناد۔(اخرجہ الحاکم فی المستدرک، 4/478 ، الرقم: ۸۳۲۸، وابن ابی شیبۃ فی المصنف، ۷ؕ/ ۴۶۰ ) عبد اللہ بن زریر غافقی سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب ؓ کو فرماتے سنا کہ تمام اہل شام کو گالیاں نہ دو اور ان میں سے جو ظالم (اور برے لوگ) ہیں صرف انہیں برا بھلا کہو کیونکہ ان (اہل شام) میں ابدال ہیں۔" اسے امام حاکم نے روایت کیا ہے، نیز امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔ عن ابن مسعود، قال: قال رسول اللہ ﷺ : لا یزال اربعون رجلا من امتی قلوبھم علی قلب ابراھیم یدفع اللہ بھم عن اھل الارض، یقال لھم الابدال قال رسول اللہ ﷺ: انھم لم یدرکوھا بصلاۃ ولا بصوم ولا بصدقۃ، قالوا: یا رسول اللہ، فبم ادرکوھا؟ قال:بالسخاء و النصیحۃ للمسلمین۔ رواہ الطبرانی و ابو نعیم۔ (اخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر،۱۰ؕ/ ۱۸۱ ، وابو نعیم فی حلیۃ الاولیاء، ۴ / ۱۷۳ ، و الھیثمی فی مجمع الزوائد،۱۰ / ۶۳ ) حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری امت میں چالیس آدمی (ابدال)ہمیشہ رہیں گے جن کے دل، قلب ابراھیمی کی مانند ہوں گے ان کے صدقے اللہ تعالی اہل زمین سے عذاب ٹالے گا، انہیں ابدال کہا جائے گا۔ پھر حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: انہوں نے یہ (ابدالیت والا) رتبہ کثرت صوم و صلاۃ اور صدقہ کے ذریعے نہیں پایا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا : یا رسول اللہ! پھر کس چیز کے ذریعے انہوں نے یہ رتبہ پایا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سخاوت اور مسلمانوں کے لیے خیر خواہی کے ذریعے۔ اسے امام طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ درج بالا حدیث سے اجمل صاحب کو جواب مل گیا ہو گا۔ کہ یہ قطب اور ابدال صرف شام ہی ہیں یا پوری دنیا میںبھی ہیں۔ یہاں میری امت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس لیے اس میں پوری دنیا کے مسلمان بھی شامل ہو گئے ہیں۔ Last edited by شعبان نظامی; 06-12-11 at 10:55 PM. |
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا | کنعان (07-12-11), گلز (01-01-12), قاسمی (13-12-11), ملک اظہر (07-12-11), احمد نذیر (07-12-11), حیدر Rehan (10-12-11), سائل (08-12-11), عبداللہ آدم (06-12-11) |
![]() |
| Tags |
| پہلے, وضاحت, لوگ, مگر, محبت, مسائل, آتی, آدمی, ایمان, اللہ, امیر, اسلام, حل, حدیث, خود, دنیا, شام, طلب, علی, عادی, عبید, عذاب, عراق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|