واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دوراستے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-05-11, 07:43 PM   #1
دوراستے
ابن جمال ابن جمال آف لائن ہے 30-05-11, 07:43 PM

ایک شخص کو طویل سفر درپیش ہے ۔اس کے سامنے دوراستے ہیں !
ایک راستہ ویران اوراجاڑ ہے۔راستہ ناہموار ہے ۔کبھی چڑھائی ہے کبھی پستی ہے۔کبھی راستہ اس قدر تنگ ہے کہ وہاں سےجان سلامت لے جانامشکل ہے اسی کے ساتھ راستہ سرسزی اوردرختوں کی چھاؤں سے بھی خالی ہے کہ وہ کہیں پر آرام کرسکے ،سستاسکے۔اتنے پر ہی بس نہیں۔ موذی جانوروں کابھی خطرہ ہے۔سانپ بچھو بھی ہیں جو ڈس سکتے ہیں کاٹ سکتے ہیں

دوسراراستہ ہرابھراہے۔ چاروں طرف تاحد نظرسبزہ ہی سبزہ ہے۔ راستہ کے دونوں طرف درخت لگے ہوئے ہیں۔جس کی چھاؤں میں مسافرآرام کرسکتاہے۔درخت پھلدار ہیں اگرجی چاہے تولذیذ پھل تور کربھی کھالیں۔جگہ جگہ میٹھے پانی کے چشمے جاری ہیں۔ پیاس بجھائی جاسکتی ہے۔ راہ میں جگہ جگہ میلہ اورموج مستی کا بھی سامان ہے۔

سفر کیلئے کون ساراستہ چنیں گے؟کس راستے کو منتخب کریں گے؟آپ کی عقل،ذہن،نفس سب دوسرے راستہ سے چلنے کیلئے آپ کو آمادہ کررہاہوگا۔ آپ کا رجحان اورمیلان بھی اسی جانب ہوگا۔
اسی وقت آپ کا ایک معلوم خیرخواہ ،ناصح اورہمدردآکر کہتاہے اوردونوں راستوں کے بارے میں اپنی واقفیت سے آپ کو آگاہ کرتاہے ۔وہ کہتاہے ۔

پہلا راستہ بھلے ہی پرمشقت ہے۔ مصیبتوں کا خطرہ ہے۔جان جوکھم میں ڈالنے والی بات ہے ہروقت ایک دھرکہ اورہرلمحہ ایک خطرہ ہے لیکن اگر اس راہ کوکامیابی سے پار کرلیا،مصیبتوں سے نہ گھبرائے ،مشقتوں سے ہارنہ مانی اورراہ کی دشواریوں کو کامرانی سے طے کرلیاتوپھر اس کے بعد فکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ منزل پر اتنی انواع واقسام کی نعمتیں ملیں گی کہ راہ کی کلفتیں پلک جھپکتے کافور ہوجائیں گی۔

دوسرا راستہ اگرچہ بہت آرام دہ ہے۔ پورے راستے میں سیروتفریح اورعیش وعشرت کے وسائل موجود ہیں لیکن جہاں راہ ختم ہوگی وہاں سے ایسی تکلیف اورمصیبت شروع ہوگی کہ یہ لذت کی چند گھڑیاں،عیش وعشرت کے چند لمحے ہمیشہ کیلئے پھچتاوے اوندامت کے لمحات میں تبدیل ہوجائیں گے اورپھر اس کے بعد بربادی ہی بربادی اورہلاکت ہی ہلاکت ہوگی۔

آپ نے سمجھامثال کیاہے ؟ہماری یہ چھوٹی مختصر اورمحدود زندگی دراصل ایک سفر ہے ایک منزل کی جانب ۔اس کی جانب اشارہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں ملتاہے جوآنحضرت نے حضرت انس کے مونڈھے پکڑ کر بڑے پیار اورشفقت سے ان سے فرمایاتھا۔
"کن فی الدنیا کانک غریب اورعابرسبیل "دنیا میں ایسے رہو جیساکہ تم پردیسی ہو یاپھر راہ گزرنے والے ہو۔
یہ دوراستے کون سے ہیں۔یہ خیر اورشر کاراستہ ہے ۔اللہ تبارک وتعالیٰ کاارشاد ہے۔وَهَدَيۡنَـٰهُ ٱلنَّجۡدَيۡنِ (سورہ البلد،١٠)اور (پھر) ہم نے اس کو دونوں رستے (خیر و شر کے) بتلا دیے۔
راستوں کے ساتھ منزل کی بھی تعین کردی گئی وہ منزل کیاہے ۔ایک منزل یہ ہے
لَهُمۡ جَنَّـٰتٌ۬ تَجۡرِى مِن تَحۡتِہَا ٱلۡأَنۡہَـٰرُ‌ۚ ذَٲلِكَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡكَبِيرُ(١١سورہ البروج)ان کے لیے (بہشت کے) باغ ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور) یہ بڑ ی کامیابی ہے۔
دوسری منزل یہ ہے
فَلَهُمۡ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمۡ عَذَابُ ٱلۡحَرِيقِ۔(سورہ بروج 10) ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور (جہنم میں بالخصوص) ان کے لیے جلنے کا عذاب ہے۔
ایک دوسرے مقام پر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک ہی آیت میں بتادیاہے کہ حقیقی کامیابی اورحقیقی خسران اورگھاٹاہے کیاہے ارشاد باری تعالیٰ ہے
فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز(سورہ آل عمران)جس کو جہنم سے ہٹالیا اورجنت میں داخل کیاگیا تو وہ فلاح وکامیاب ہوگیا۔اپنے مقصد اور مراد کو پہنچ گیااوراپنی منزل کو پاگیا۔ اورجس کے ساتھ ایسانہ ہو اسے جہنم سے دورنہ کیاگیااسے جنت میں داخلہ کا پروانہ نہیں ملا تو وہ ناکام رہا۔ گھاٹے میں رہاٹوٹے میں رہا۔
اوپر جو تمثیل بیان کی گئی ہرے بھرے راستہ اورپرمشقت راستوں کی تویہ کوئی ہوائی بات نہیں بلکہ آنحضرت کا ارشاد ہے۔حضرت انس بن مالک رضی اللہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں
حفت الجنۃ بالمکارہ وحفت النار بالشہوات (صحیح مسلم)
جنت کو ناگوار چیزوں سے ڈھانپ دیاگیاہے اورجنہم کو خواہشات اورلذتوں سے ڈھانپ دیاگیاہے۔
علماء اس کی شرح وتفسیر میں یہی لکھتے ہیں کہ جنت کا حصول سوائے اس کے ممکن نہیں کہ اس کیلئے اپنے نفس کے خلاف لڑناپڑے۔ طبیعت جن کاموں کو نہیں چاہتی ان کو کرناپڑے۔ ٹھنڈی ہویاگرمی موسم کیسابھی ہو، آپ صحت مند ہو یابیمار پانچ وقت خدا کے سامنے سرسجدے میں جھکاناپڑے(نماز)جس معاملہ میں جان کا خطرہ ہو(جہاد) اپنے خون پسینہ کی کمائی غریبوں پر خرچ کرنی پڑے(زکوۃ)پورے پورے دن بھوکے پیاسے رہناپڑے(روزہ)اپنے وطن سے دور کفن کی طرح ایک چادر اورلنگی اوڑھ کرایک بیابان وادی میں چکر لگانے پڑیں(حج)
جب کہ جہنم خواہشات پر چلنے کا ہی بدل ہے جو من میں آئے کیجئے۔ جیسادل چاہے وہی کیجئے ۔گناہوں اورلذات میں منہمک رہئے ۔
اسی کی تشریح ایک دوسری حدیث میں مل جاتی ہے ۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں۔
جب اللہ نے جنت اورجہنم کو پیداکیاتوحضرت جبرئیل کو بھیجااورکہاکہ جنت کو اوراس میں آنے والوں کیلئے جوکچھ نعمتیں رکھی گئی ہیں اس کو دیکھو۔حضرت جبرئیل نے جب دیکھاتوباری تعالیٰ کی جناب میں عرض کیاکہ آپ کے عزت اورجلال کی قسم جواس کے بارے میں سنے گا وہ بغیر داخل ہوئے نہیں رہے گا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جنت کو مکروہات اورطبعیت اورنفس کی ناگوارباتوں سے ڈھانک دیا اورپھر دوبارہ جبرئیل سے کہاکہ جاکر دیکھو ۔حضرت جبرئیل نے اس بار جب جنت کو دیکھاتوباری تعالیٰ کی جناب میں عرض گزار ہوئے ۔یابارالہااب توشاید ہی کوئی اس میں داخل ہوپائے۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے جبرئیل کو حکم دیاکہ جاؤجنہم کو جاکر دیکھواوریہ بھی کہاکہ جہنمیوں کیلئے کیسے کیسے خوفناک عذاب ہیں ۔حضرت جبرئیل نے جہنم کو دیکھاتواس میں ایک حصہ دوسرے حصہ کوکھارہاتھا۔
حضرت جبرئیل نے جہنم کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے عرض کیا اے اللہ اس کے بارے میں جوکوئی سن لے گا ہرگز اس میں داخل نہیں ہوگا۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے حکم دیااورجہنم کو مرغوبات نفس اورانسانی خواہشات کی مطابق چیزوں سے ڈھانپ دیاگیا۔اب اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو جہنم دیکھنے کا حکم دیا۔اس بار حضرت جبرئیل باری تعالیٰ نے عرض گزار ہوئے کہ اے اللہ اب توشاید ہی کوئی اس میں داخل ہونے سے بچ پائے گا۔
(نوٹ:حدیث ترمذی کی ہے اورترمذی نے اس حدیث کو حسن صحیح کہاہے۔)
یہ حدیث کسی حاشیہ اورکسی شرح کی محتاج نہیں ہے ۔

وہ ہمدرد اورخیرخواہ جس کا ذکر کیاگیاتھااب تک آپ کو معلم ہوہی چکاہوگاکہ وہ انسانیت کانجات دہندہ فداہ ابی وامی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ قرآن پاک میں آپ کے بارے میں کہاگیاہے .
قَدۡ جَآءَڪُمۡ رَسُولٌ۬ مِّنۡ أَنفُسِڪُمۡ عَزِيزٌ عَلَيۡهِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِيصٌ عَلَيۡڪُم بِٱلۡمُؤۡمِنِينَ رَءُوفٌ۬ رَّحِيمٌ۬ (١٢٨سورۃ التوبۃ)
اے لوگو تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہارری جنس (بشر) سے ہیں جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے جو تمہارے منفعت کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں (یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے بالخصوص) ایمانداروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق (اور) مہربان ہیں۔
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی تشیبہ ایسے شخص سے دی ہے جوایک آگ سے بھرے ہوئے کنارے پر کھڑا ہے اورلوگوں کی کمر پکڑ پکڑ کر ان کو آگ میں جانے سے باز رکھ رہاہے۔ آپ سے زیادہ ہمدر د اورخیرخواہ ہماراکون ہوسکتاہے اوراگرہماری کم عقلی کسی کو آپ سے زیادہ خیرخواہ سمجھتی ہے تو پھر ہم سے زیادہ نادان کون ہوگا؟

تواب ہمیں کس راستے پر چلناہے ؟وہ راستہ جو بظاہر پرمشقت ہے ،خطرناک ہے لیکن منزل بہت حسین اورخوبصورت ہے یاوہ راستہ جو بظاہر سرسبزی سے بھراہے جس میں نفس کی تسکین کے بہت سامان ہیں لیکن جس کا انجام ہمیشہ کی تباہی اورہمیشہ کا عذاب ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ (٣٧) وَءَاثَرَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا (٣٨) فَإِنَّ ٱلۡجَحِيمَ هِىَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (٣٩) وَأَمَّا مَنۡ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفۡسَ عَنِ ٱلۡهَوَىٰ (٤٠) فَإِنَّ ٱلۡجَنَّةَ هِىَ ٱلۡمَأۡوَىٰ (٤١)
(تو اس روز یہ حالت ہو گی کہ) جس شخص نے (حق سے) سرکشی کی ہوگی۔ (۳۷) اور (آخرت کا منکر ہو کر) دنیوی زندگی کو ترجیح دی ہوگی۔ (۳۸) سو دوزخ (اس کا) ٹھکانا ہوگا۔ (۳۹) اور جو شخص (دنیا میں) اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہو گا اور نفس کو حرام خواہش سے روکا ہوگا۔ (۴۰) سو جنت اس کا ٹھکانہ ہوگا۔ (۴۱)
اللہ ہم سب کواپنے دین پر چلنے کی اورعمل کرنے کی توفیق دے ۔قارئین سے دعا کی درخواست ہے۔


 
ابن جمال's Avatar
ابن جمال
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 165
شکریہ: 266
149 مراسلہ میں 489 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 133
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ابن جمال کا شکریہ ادا کیا
skjatala (30-05-11), منتظمین (30-05-11), سام (30-05-11), سحر بٹ (01-06-11)
پرانا 30-05-11, 08:02 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 278,002
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم
جزاک اللہ خیر۔

سرورق کیلئے تجویز کرتی ہوں۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
ابن جمال (30-05-11)
جواب

Tags
color, unicode, کمر, پاک, نماز, ممکن, معلوم, اللہ, جنت ،جہنم, حکم, حدیث, حسن, خون, خلاف, خدا, درخواست, دعا, روزہ, راستہ, زندگی, سفر, شخص, عمران, عزت, صحیح, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ عادل سہیل اسلامی عقیدہ 1 23-06-10 05:13 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں وجدان عمومی بحث 2 04-07-08 03:00 PM
شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد پاکستانی خبریں 1 09-09-07 09:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger