واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دو قومی نظریہ، میڈیا اور ہم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-07-11, 10:54 PM   #1
دو قومی نظریہ، میڈیا اور ہم
محمد یاسرعلی محمد یاسرعلی آف لائن ہے 31-07-11, 10:54 PM

دو قومی نظریہ کیا تھا میرے خیال میں سب ہی اس کے بارے میں جانتے ہوں گے اس لیے اس کی تفصیل میں جانےکی ضرورت نہیں ہے مختصر الفاظ میں دو قومی نظریہ کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے :۔

"برصغیر میں دو قومیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان آباد ہیں جن کی تہذیب و ثقافت اور رہن سہن قعطی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ جس کی وجہ سے یہ دونوں ایک جگہ اکٹھی نہیں رہ سکتیں"

اسی نظریہ کو بنیاد بنا کے پاکستان حاصل کیا گیا مگر پاکستان بننے کے بعد شاید ہم نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ ہم نے دو قومی نظریے کے ساتھ اب کیا کرنا ہے ، اس لیے ہم نے اس کو صرف درسی کتابوں کی زینت بنا دیا ،اگر پاکستان بننے کے بعد بھی اس کوعملی زندگی کا حصہ بنایا گیا ہوتا تو آج پاکستان میں ایک مسلمان یا پاکستانی قوم آباد ہوتی مگر صد افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بحثیت قوم مسلمانوں نے پاکستان تو حاصل کر لیا مگر پاکستان بننےکے بعد مسلمان بھی تقسیم ہوگئے کوئی دیو بندی ، کوئی بریلوی ، کوئی سنی ، کوئی وہابی ، کوئی اھل ِ تشیع اور کوئی اھلِ حدیث ہو گیا بات یہاں ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ پاکستان میں پاکستانی بھی بہت کم ہی ہیں یہاں تو سندھی ، بلوچی ، پنجابی ، پٹھان ، مہاجر ، سرائیکی ، کوہستانی ، پوٹھواری اور پتا نہیں کون کون سی قومیں آباد ہیں ۔


دو قومی نظریے کی بنیاد تہذیب و تمدن اور رسم و رواج کا فرق تھا مگر آج اگر ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں اور معاشرے کے رسم ورواج کا بغور مطالعہ کریں تو ہم پہ یہ تلخ حقیقت آشکار ہو گئی کہ ہمارے اکثر رسم و رواج تو ہندو تہذیب سے لیے گئے ہیں جن میں تھوڑی بہت کمی بیشی کرکے اور نام وغیرہ تبدیل کر کے بڑے فخر سے ہم منا رہے ہوتے ہیں مثال کے لیے کہیں زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اپنے گھر یا گلی ،محلے میں ہونے والی کسی خوشی یا غمی کے موقعہ پہ ہونے والے رسم و رواج کا بغور مطالعہ کر لیں اور جو تھوڑا بہت فرق ہے اس کو میڈیا والے اور کیبل والے مٹانے کے چکر میں لگے ہوئے ہیں ۔

بھارتی چینل جو کچھ دیکھا رہے اس پہ ہم اعتراض نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تواپنا کلچرپیش کر رہے ہوتے ہیں مگر آج کل کسی بھی پاکستانی ٹی وی چینل(پی ٹی وی کے علاوہ ) کو دیکھ لیں کہ یہ کیسے انڈین کلچر ، گانے ، ڈرامے اور فلمیں بڑے فخر سے پیش کر رہے ہیں اور افسوس تو اس وقت اور زیادہ ہوتا ہےجب نیوز چینل پہ بھی بے ہودہ ڈانس اور سین چلاے جاتے ہیں اب تو یہی لگتا ہے کہ پاکستانی خبریں بھی شاید انڈین فنکاروں کی خبروں کے بغیر نہیں چلائی جا سکتی چاہے اس کے لیے ہفتہ دو ہفتہ پرانی خبر ہی کیوں نہ چلانی پڑے ۔
Name:  images-(35)gf.gif
Views: 83
Size:  41.6 KB
اب بات کریں اگر کیبل کی تو ہر کیبل آپریٹر پانچ چھ سی ڈی چینل تو ضرور چلارہا ہے اور اب تو باقاعدہ ان کے مونو گرام بھی لگا لیے ہیں مثال کے طور پہ ہمارے علاقہ میں جو کیبل آپریٹر ہیں ان کے دو چینل انڈین فلموں کے ، ایک انگلش فلم کا ، ایک فحاش گوسٹیج ڈراموں کا ، دو گانوں کے چینل ہیں یہ میں صرف سی ڈی چینل کی بات کر رہا ہوں ۔اس کے علاوہ سنا تھا( خبر پکی نہیں) کہ پمرا نے انڈین چینل پہ پابندی لگا دی ہے مگر وہ چینل چل رہے ہیں صر ف فرق یہ پڑا کے ان کے مونو گرام کے اوپر کیبل والوں نے اپنے مونو گرام لگا دیئے ہیں ۔

انڈین و پاکستانی میڈیا اور کیبل آپریٹرز مل کے دو قومی نظریے کا جنارہ نکالنے میں لگے ہوئے ہیں اس کا اثر اگلے چند سالوں میں بہت واضح ہو گا ۔ ابھی بھی اگر آپ اپنے اردگرد نظریں دوڑائیں تو پتا نہیں کتنے لوگ ہوں گے جو ہندووں کے مذہبی گیت بڑی خوشی کے ساتھ گنگنا رہے ہوتے ہیں ،اس بات سے بے خبر کے جو وہ گا رہے ہیں اس کا مطلب کیا ہے ۔ایک واقعہ ذہین میں آرہا ہے ، الخیر یونیورسٹی کے ہیڈ آفس میں ہمارے ساتھ ایک سی ڈی اے سے ریٹائرڈ سپرنٹنڈنٹ ہوتے تھے وہ اکثر ایک واقعہ سنا یا کرتے تھے کہ ان کے ایک دوست ایک دفعہ کسی نکاح کی تقریب پہ گے، ان کا پوتا جو چھ سات سال کا ہوگا ساتھ تھا ،جب نکاح ہو چکا ، کھانا کھاچکے تو وہ لوگ واپس آنے لگے تو بچہ ضد کرنے لگا کے اس نے شادی دیکھ کے جانا ہے تو انہوں نے کہا کہ بیٹا شادی ہو چکی ہے پتا ہے کہ بچے نے کیا کہا "بابا ابھی انہوں نے ایک دوسرے کو ہار بھی نہیں پہنائے اور پھرے بھی نہیں لیے پھر کیسے شادی ہوگی ہے "آپ نے بھی ایسے کہیں واقعات دیکھے یا سنے ہوں گے تو شاید آپ نے بھی سوچا ہو کے کیسے انڈین میڈیا بلکہ اب تو پاکستانی میڈیا بھی معصوم ذہنوں میں ہندوانہ رسم و رواج کا بیچ بو رہا ہے مگر ان سب کا ذمہ وار اکیلا میڈیا نہیں بلکہ والدین بھی ہیں ،آپ نے اکثر دیکھا ہو گا کہ اگر کسی کا بچہ یا بچی ڈانس کرے یا کسی کی نقل اتار رہا ہو تو والدین بہت خوش ہوتے، یا اگر بچہ مستی کر رہا ہو یا کوئی شرارت کر رہا ہو تو اس سے کہتے ہیں کہ ٹی وی لگا لو آرام سے ٹی وی دیکھو ، جس سےبچہ سمجھتا ہے کہ ٹی وی کوئی اچھی چیز ہے اس لیے یہاں جو دیکھتا ہے اس کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔

آج معاشرے میں جتنی بھی برائیاں ہیں ان میں سے زیادہ تر کی وجہ ہماری مذہب سے دوری اور مسلم کلچر ( ہندووں کے کلچر کی ملاوٹ سے پاک) سے دوری کا نتیجہ ہے ۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک قوم کی حثیت سے اکٹھا ہو کے دو قومی نظریے کو بچائیں کیونکہ ہندووں کا مقصد نہ صرف پاکستان کو برباد کرنا بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ہے کہ ہندووں اور پاکستان کے مسلمانوں کی تہذیب میں کوئی فرق نہیں اس کے لیے وہ میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے لانگ ٹرم پالیسی پہ عمل کر رہے ہیں اور آہستہ آہستہ پاکستانیوں میں اپنے رسم و رواج کو فروغ دینے میں لگے ہوئے ہیں ان کاکوئی بھی ڈرامہ دیکھ لیں کس طرح وہ اپنے رسموں رواجوں کو تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔

حکومت کی ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ بے شک وہ انڈین میڈیا کو کنٹرول نہیں کر سکتی مگر یہاں کے میڈیا اور کیبل آپریٹرز کے لیے تو ضابطہ اخلاق بنایا جا سکتا ہے اورغیر اخلاقی ، ہندو رسم و راوج کے ترجمان پروگرامز اور غیر قانونی طور پہ چلنے والے چیینلز کو تو بند کیا جا سکتا ہے میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اگر ان کا کھانا انڈین ڈراموں اور فلمیں دیکھے بغیر ہضم نہیں ہوتا تو خدارا اپنے بچوں کو تو اس سے دور رکھیں کیوں کے بچوں تو جو دیکھیں گے وہی سیکھیں گئے، یاد رکھیں اگر آج دو قومی نظریہ کے دفاع کے لیے کچھ نہ کیا گیا اور یہ صرف درسی کتابوں تک محدود رہا تو آنے والی نسلیں ہمارے آباواجداد کا مذاق اڑایا کریں گی کہ وہ ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان کون سی ثقافت اور تہذیب و تمدن کے فرق کی بات کرتے تھے ۔
از " محمد یاسر علی "
نوٹ: اگر میں اپنی کم علمی کی بنا پہ کوئی غلط بات لکھ گیا تو اس کے لیے معذرت اور برائے مہربانی میری تصیح بھی کر دیں ۔شکریہ 'محمد یاسر علی '

__________________
فیس بک پہ پاک نیٹ کا حلقہ احباب
https://www.facebook.com/groups/pak.net

دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے شائع کردہ موضوع کو یہاں بھی شئیر کردیا کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاک نیٹ کی فیملی کا حصہ بنایا جاسکے۔

 
محمد یاسرعلی's Avatar
محمد یاسرعلی
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 343
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
compaq (04-03-12), ھارون اعظم (31-07-11), نیلم خان (01-08-11), ننھا بچہ (01-08-11), احمد نذیر (01-08-11), راجہ اکرام (01-08-11), رضی (01-08-11), زبیرافتحار (02-08-11)
پرانا 01-08-11, 07:58 AM   #2
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھی کاوش ہے مبارکباد قبول فرمائیں
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
compaq (04-03-12)
پرانا 01-08-11, 09:12 AM   #3
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,658
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت بہت بہت شکریہ نیلم بہن
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (02-08-11)
پرانا 01-08-11, 12:05 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,565
کمائي: 315,052
شکریہ: 25,210
16,386 مراسلہ میں 41,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
یاسر بھائی بہت اچھے انداز سے آپ نے ایک اہم موضوع کی طرف توجہ دلائی ہے
ہمارا بنیادی المیہ ہی یہ ہے کہ ہم اپنے ابتدائی نظریات سے ہی دور ہوتے چلے جا رہے، اس لیے نہ گھر کے اور نہ باہر کے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 01-08-11, 07:36 PM   #5
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,658
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لیکن پیر جی لگتا ہے کے کسی کو پسند نہیں آئی نہ تو بلاگ پہ کسی نے پڑھا اور یہاں‌بھی ۔۔۔۔۔
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد یاسرعلی کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (01-08-11), نیلم خان (02-08-11)
پرانا 02-08-11, 01:19 AM   #6
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
بہت بہت بہت شکریہ نیلم بہن
خوش رہیں بھیا ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 02-08-11, 01:19 AM   #7
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمد یاسرعلی مراسلہ دیکھیں
لیکن پیر جی لگتا ہے کے کسی کو پسند نہیں آئی نہ تو بلاگ پہ کسی نے پڑھا اور یہاں‌بھی ۔۔۔۔۔
کیوں جی میں نے تو پڑھا ہے ۔
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نیلم خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 02-08-11, 03:48 PM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,883
شکریہ: 23,988
4,981 مراسلہ میں 14,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

میڈیا ہمارا نہیں غیروں کا ہے................. یہ ایک دن بھی ہمارا نہیں تھا نہ ہے اور نہ ہو گا...........

اور یہ تو دین کو پسند کرنے والے لوگوں کی زمہ داری ہے کہ وہ اس محاذ پر اپنے سپاہی بھی تیار کر کے کھڑے کریں........... ظاہر ہے جب حق اتا ہے تبھی باطل مٹتا ہے نا.......... تو جب حق ہی ابھی خانقاہوں سے نکلنے کو امادہ نہ ہو تا باطل کو تو یہ ایڈوانٹج پہلے ہی حاصل ہے کہ وہ نفس کی خواہشات کے ساتھ ایک دم " سنکرونائز" فریکوئنسی رکھتا ہے............ !!!

حق کے لیے زمین ہموار کرنی پڑتی ہے بیج ڈال کر سینچنا پڑتا ہے تو پھر نتیجہ سامنے اتا ہے............. حد یہ ہے کہ ابھی تک لوگ یکسو ہوئے ہی نہیں نہ ہی ایسا کوئی پروگرام مستقبل قریب میں نظر اتا ہے........ ان کی بلا سے ان کا مسلک ٹھیک جا رہا ہے اور مریدین کی تعداد میں اضافہ وہ رہا ہے تو کسی پڑی ہے کہ وہ لوگوں کو وپنے سے دور کرے ایسی کڑوی کسیلی اور سخت باتوں سے اور مشکلات والے کاموں سے........ جب کہ وہ ہوں بھی غیر منافع بخش...........

قصور ہمارا اپنا ہے............ مانیں یا نا مانیں:: رمضان کی مناسبت سے ایک اقتباس دینا مناسب ،معلوم ہوتا ہے::

""روزہ اگر عادت نہیں بلکہ عبادت ہے تو اس سے اور نیکیاں ضروری پھوٹنی چاہئیں ۔ برائی ختم ہونی چاہیے۔ انسان کی اپنی ذات میں بھی اور معاشرے میں بھی۔ روزہ اگر روزہ ہے تو اس سے تقویٰ برآمد ہونا چاہیے ورنہ یہ روزہ بانجھ ہے۔ اس روزے کواولاد نہیں ہوتی! کبھی آپ نے غور فرمایا یہاں روزہ دارکتنے ہیں، نمازی بھی اللہ کے فضل سے شمار سے باہر ہیں ۔مگر برائی ہے جو معاشرے میں گھٹنے کی بجائے روز بروزبڑھتی ہی جارہی ہے۔ آئے سال بے حیائی اور کفر کی نمائش میں کچھ اور ہی اضافہ ہوجاتا ہے۔ آپ ریڈیو بند کرتے ہیں وہ اخباروں اور میگزینوں سے نکل آتی ہے۔ ویڈیو سے جان چھڑاتے ہیں تو وہ آپ کے بچے کے بستے سے نکل آتی ہے۔آپ اپنی نگاہ نیچی کرلیتے ہیں مگر وہ برابر گلیوں اور بازاروں ، کالجو ں اور یونیورسٹیوں میں ہر جگہ ناچتی ہے۔ دندناتی ہے ۔ بھائیو نظر نیچی رکھنا یقینا تقویٰ ہے مگر تقویٰ یہ بھی ہے کہ آگے بڑھ کر اس برائی اور بے حیائی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے۔

کبھی آپ نے سوچا یہ برائی اور خباثت کوہوا دینے اور تحفظ فراہم کرنے کاکام اس ملک میں کون کرتا ہے!؟ گھر سے ٹی وی نکال دینا ، ٹھیک ہے مگر اکثر دیندار توگویا یہ سمجھتے ہیں کہ ناچنے اور گانے والیاں شاید ٹی وی نام کے ایک ڈبے میں بندہوتی ہیں اس لئے اگر اس ڈبے کو توڑ دیا جائے تو اس کے اندر کے سارے شیطان اس کے اندر ہی دم گھٹ کر مرجائیں گے اور خباثت کا قلع قمع ہوجائے گا! بس اسی سے وہ ادائے فرض سے خود کو سبکدوش جانتے ہیں۔ زیادہ ہوا تو دوسروں کو یہی مشورہ دیتے ہیں! اس سوچ کا منطقی نتیجہ شاید یہی ہے کہ دنیا میں اگر ٹی وی نہ رہیں تو ٹی وی اسٹیشن بیچارہ پھر اکیلا کر ہی کیا سکے گا!

حقیقت یہ ہے کہ ایسی پسماندگی اور حقائق سے آنکھیں چرانے کا دور نمازیوں اور روزے داروں پرکبھی نہیں آیا۔ شیاطین تو ٹی وی سیٹ میں نہیں ٹی وی اسٹیشن کے پیچھے کارفرما ہیں۔ یہی تو اصل شیطان ہے۔ اس شیطان کو توڑنے کی بات یہاں کتنے روزے دار کرتے ہیں۔؟اسکی فکر کرتے ہوئے آپ نے کتنے نمازیوں کو دیکھا ہے؟کتنی مسجدوں میں آپ نے معاشرتی فساد کے خلاف تیاری ہوتی دیکھی ہے؟ کیا مساجد اورعیدگاہوں میں بلند ہونے والی تکبیرات اور تسبیحات کا کبھی کسی نے یہ مطلب بھی لیا ہے کہ اب یہاں برائی کی خیر نہیں؟ بھائیو! ہماری نمازوں اور روزوں میں آخر کیوں کوئی پیغام نہیں؟

بھائیو اور بہنو ! ہوسکے تو روزوں کے درمیان کچھ وقت نکا ل کر اس پر بھی ذرا سوچیئے گا!""

رمضان ۔ایک عبادت، ایک پیغام

والسلام
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (02-08-11), راجہ اکرام (06-08-11), رضی (05-01-12)
پرانا 06-08-11, 08:36 PM   #9
Senior Member
 
محمد یاسرعلی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: راولپنڈی
عمر: 28
مراسلات: 4,031
کمائي: 54,658
شکریہ: 7,881
2,881 مراسلہ میں 7,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد یاسرعلی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد یاسرعلی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب بھائی جو بات میں ٹھیک سے بیان نہیں کرسکا اس کو آپ نے بہت واضح کر کے بیان کر دیا ہے
محمد یاسرعلی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہندو, کوشش, کنٹرول, کتابوں, گانے, پاکستان, پاکستانی, واقعات, لوگ, نیوز, چینل, معذرت, آج, انگلش, بچوں, حدیث, دیکھو, دوست, زندگی, علی, علمی, علاقہ, غلط, غمی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اُف یہ بیویاں محمدعمر مزاحیہ ادب 33 18-12-09 05:35 PM
چار بیویاں چاچا کمال مزاحیہ شاعری 1 10-12-09 09:30 PM
میڈیا کوریج میاں شاہد گپ شپ 2 21-05-08 04:09 PM
جیو کی بندش اورمیڈیا پر پابندیوں کیخلاف لندن ، ٹیکساس ، نیویارک ، ٹورنٹو، بارسلونا،برمنگھم اور پاکستان کے مختلف شہروں میں مظاہرے عبدالقدوس خبریں 0 19-11-07 05:34 PM
پرنٹ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ،کچھ مشکلات الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے ہیں،طارق عظیم خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:03 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger