واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دو ملاقاتوں کی کہانی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-05-11, 06:09 AM   #1
دو ملاقاتوں کی کہانی
کنعان کنعان آن لائن ہے 09-05-11, 06:09 AM

سینئر صحافی رحیم اللہ یوسفزئی کی یادیں


القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن سے ہوئی دو ملاقاتیں سال 1998ء کے دوران ہوئیں‘ جن سے اُن کی زندگی کے بارے میں کچھ جاننے کا موقع ملا۔

پہلی ملاقات افغانستان کے صوبہ خوست کے جنوب میں ’البدر تربیتی کیمپ‘ میں ہوئی‘ جو پاکستان کے قبائلی علاقہ شمالی وزیرستان سے متصل ہے۔ چھبیس مئی انیس سو اٹھانوے کو ذرائع ابلاغ کے دیگر نمائندوں کے ساتھ میں بھی اُس پریس کانفرنس میں شریک تھا جو القاعدہ کے سربراہ نے طلب کی تھی۔

سنہ2001ء میں افغانستان پر ہوئے امریکی حملے میں شیخ تاثیر عبداللہ مارا گیا تھا، جس کے بعد الظواہری نے اسامہ بن لادن کے نائب کا عہدہ سنبھال لیا اور انہیں القاعدہ تنظیم کا نظریاتی سربراہ بھی کہا جانے لگا۔ الظواہری اچھی انگلش بولتا تھا، اور اسامہ بن لادن سے ہوئی میری بات چیت کے دوران انہوں نے ہی مترجم کے فرائض بخوبی ادا کیے۔

خوست میں ہوئی پریس کانفرنس کے دوران اسامہ بن لادن نے’انٹرنیشنل اسلامک فرنٹ‘ کے قیام کا اعلان کیا‘ جس کا مقصد صیہونیت اور نصرانیت کے خلاف جہاد کرنا تھا۔ صیہونیت سے مراد اسرائیل جبکہ نصرانیت سے مراد امریکہ لیا جاتا ہے۔ اسامہ بن لادن نے نئی تنظیم کے قیام کے ساتھ القاعدہ کے اس میں ضم ہونے کا بھی اعلان کیا۔

جب پوچھا گیا کہ آپ کی تین بیویاں ہیں لیکن آپ کے بچوں کی کل تعداد کیا ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’(بچوں کی تعداد اتنی ہے کہ) میں گنتی بھول گیا ہوں‘۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ سعودی عرب میں آپ کے خاندان نے آپ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’خون پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے‘۔جب اُن سے مالی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُسامہ بن لادن نے اپنا دایاں ہاتھ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں دل سے غنی ہوں‘۔پریس کانفرنس کے دوران اسامہ بن لادن نے مسلم امہ کے بیشتر مصائب کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو قرار دیا۔ امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے مسئلہ فلسطین کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ امریکی مالی و دفاعی تعاون سے اسرائیل فلسطینوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔

اُنہوں نے اپنے آبائی وطن سعودی عرب میں اَمریکی فوجوں کی موجودگی پر بھی تنقید کی تھی۔ فلسطین پر اِسرائیل کے قبضے کا خاتمہ اور سعودی عرب سے غیر ملکی فوجوں کا انخلاء اُن کی جدوجہد کا مرکزی خیال تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے دیگر اسلامی عسکریت پسند تنظیموں کو یکجا کریں گے۔

خوست میں اسامہ بن لادن کی آمد پر اُن کا استقبال کرنے والوں نے ہوائی فائرنگ کی۔ اسامہ چار یا پانچ گاڑیوں کے قافلے میں وہاں پہنچے تھے جن کی حفاظت کرنے والوں کے پاس خودکار ہتھیاروں کے علاوہ (دستی) راکٹ لانچر بھی تھے۔ استقبالیہ مناظر کو دیکھنے والوں کو بعد میں معلوم ہوا کہ ہوائی فائرنگ کرنے والے القاعدہ تنظیم کے اراکین نہیں تھے بلکہ انہیں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو مرعوب کرنے کے لیے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

خاموش طبع اور شرمیلے اسامہ بن لادن نے پریس کانفرنس کے بعد میزبانی کے دوران پوچھے گئے سوالات کے مزاحیہ انداز میں جواب دیے۔ جب پوچھا گیا کہ آپ کی تین بیویاں ہیں لیکن آپ کے بچوں کی کل تعداد کیا ہے؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ ’(بچوں کی تعداد اتنی ہے کہ) میں گنتی بھول گیا ہوں‘۔ دوسرا سوال یہ تھا کہ سعودی عرب میں آپ کے خاندان نے آپ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ’خون پانی سے زیادہ ہلکا ہوتا ہے‘۔

وہ نرم لب و لہجے کے مالک تھے اور ان کی ظاہری چال ڈھال اس تاثر سے قطعی مختلف تھی اور ان سے ملاقات کرنے والا یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اسامہ بن لادن سیاسی وجوہات کی بناء پر خون خرابے کے جائز سمجھتے ہوں گے۔رحیم اللہ یوسفزئیاور جب اُن سے مالی حیثیت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو اُسامہ بن لادن نے اپنا دایاں ہاتھ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا کہ ’میں دل سے غنی ہوں‘۔

دسمبر انیس سو اٹھانوے میں افغانستان کے شہر ہلمند میں ہوئی ہماری ملاقات طویل تھی۔ یہ ملاقات ایک خیمے میں ہوئی‘ جس میں ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن کا صاحبزادہ محمد اور کم و بیش بیس دوسرے افراد موجود تھے۔ 23 دسمبر 1998ء کو قندھار کی ٹھٹھرتی رات میں چھ گھنٹے انتظار کے بعد کچھ لوگ مجھے دنیا کے انتہائی مطلوب شخص سے یادگار انٹرویو کے لیے لینے آئے‘ ان کے ہمراہ کچھ عرب (مجاہدین) بھی تھے۔

القاعدہ کا سربراہ اسامہ بن لادن انگریزی زبان سمجھتا تھا۔ جب بھی ان سے سوال کیا جاتا وہ مترجم ایمن الظواہری کے (انگلش سے عربی) ترجمے سے قبل ہی جواب دینا شروع کر دیتے تھے۔ انہوں نے کچھ الفاظ فارسی اور پشتو زبان کے بھی بولے تھے۔

انہوں نے بات چیت عربی زبان ہی میں کی جس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’میں عربی زبان میں اپنا مدعا زیادہ واضح طور پر بیان کر سکتا ہوں‘۔ وہ نرم لب و لہجے کے مالک تھے اور ان کی ظاہری چال ڈھال اس تاثر سے قطعی مختلف تھی اور ان سے ملاقات کرنے والا یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا تھا کہ اسامہ بن لادن سیاسی وجوہات کی بناء پر خون خرابے کے جائز سمجھتے ہوں گے۔

(بشکریہ دی نیوز۔ تحریر: رحیم اللہ یوسفزئی۔ تلخیص و ترجمہ: شبیر حسین اِمام)

ح
__________________



 
کنعان's Avatar
کنعان
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 186
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (09-05-11), مرزا عامر (09-05-11), حیدر (09-05-11), راجہ اکرام (09-05-11), عبداللہ آدم (09-05-11), صبیحہ (09-05-11)
پرانا 09-05-11, 01:05 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,565
کمائي: 315,052
شکریہ: 25,210
16,386 مراسلہ میں 41,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سامراج سے آزادی کا ایک استعارہ تھا
تاریک سیاہ رات میں چمکتا ستارہ تھا
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (09-05-11), مرزا عامر (09-05-11), سیفی خان (09-05-11), عبداللہ آدم (09-05-11)
جواب

Tags
pakistan, پاکستان, پسند, لوگ, موقع, مزاحیہ, معلوم, اللہ, انگلش, انگریزی زبان, امریکہ, اسلامی, بچوں, تحریر, جواب, خلاف, دل, دریافت, رات, زندگی, سال, شہر, شخص, صاحبزادہ, صحافی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لذت آشنائی- گذشتہ مکمل - زندگی کی پنہاں حقیقتوں اور لذتوں سےآشکار ہوں گوہر اپکے کالم 2 29-12-10 09:44 AM
نفرتوں کو محبتوں کے ذریعے ہی ختم کیا جا سکتا ہے، صابر بدر جعفری خرم شہزاد خرم فن و فنکار 1 19-10-10 08:15 AM
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کر کے احمدنواز شعر و شاعری 23 12-11-09 03:14 PM
::::::: عید اور نعمتوں کا شکر ::::::: اللہ کی نعمتوں پر شکر اس طرح تو نہیں کیا جاتا ::::::: عادل سہیل اسلام اور معاشرہ 1 15-09-09 11:16 AM
باتوں باتوں میں بچھڑنے کا اشارہ کرکے aliali شعر و شاعری 5 05-12-07 02:22 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger