واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


دھرتی تو ہے " ماں" کے جیسی::: افشاں نوید

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-08-11, 03:00 PM   #1
دھرتی تو ہے " ماں" کے جیسی::: افشاں نوید
JISOUTH JISOUTH آف لائن ہے 14-08-11, 03:00 PM

آج 64 برس گزرنے کے بعد بھی اس لمحے کی یاد ہوا کے اس معطر جھونکے کی مانند ہی تو ہے نا، جب رمضان کی ستائیسویں شب کو اللہ تعالٰی کی رحمت بے پایاں جوش میں تھی عرش تا فرش خشکی اور تری می لا الہ الااللہ کے نغمے کی جاں فزا گونج تھی لاکھوں انسان خالی پیٹ ایک سر مستی کے عالم میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر آگ اور خون کے دریا سے گزر رہے تھے وہ لٹے پٹے قافلے جن کے گھر اجڑ گئے املاک چھن گئیں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتیں‌ان کی آنکھوں کے سامنے تار تار ہویئں اس کے باوجود وہ شہید، وہ غازی وہ مجاہد وہ صف شکن جنکی جبیں پر سب کچہ لٹا کر بھی کوئی شکن نہ تھی مسلسل اپنی خوابوں کی سر زمین کی جانب رواں دواں تھے
-------آج جب تم میری سالگرہ کا 64 واں جشن مناتے ہوئے درو دیوار کو برقی قمقموں اور سبز ہلالی پرچم سے سجا رہے ہو تو اپنی ماں کی دبی دبی سسکیاں ضرور سننے کی کوشش کرنا میرے بچوں کہ تمہاری ماں کو دوا کی ضرورت ہے اسوقت تمہاری ماں علاج کی منتظر ہے مجھے ملی نغموں اور اس بے نام جشن کی ضرورت نہیں مجھے ضرورت ہے کہ تم میری نبض پر ہاتھ رکھو میرے مرض کو جانو اسکی تشخیص اور علاج کی سنجیدہ کوشش کرو---
اب کہ پھر 14 اگست کا یوم احتساب اس عظیم ماہ احتساب میں آیا ہے اور تم ہی جانو جوں جوں یہ دن قریب آتے ہیں میرا زخم زخم وجود ہولے ہولے کانپنے لگتا ہے -- تم میں سے اکثریت نے میری کوکھ میں جنم لیا ہے --وہ تو اب تھوڑے ہیں اور آہستہ آہستہ رخصت ہو رہے ہیں ---جو ہجرت کر کے سب کچھ لٹا کر میرے وجود کا حصہ بنے تھے اور سچ پوچھو تو وہ اپنے حصہ کا قرض بھی ادا کر گئے ہیں ----
14 اگست کے 1947 کے مقابلے میں آج میں کتنی ٹھٹھری؛ کتنی خوفزدہ ، کتنی سہمی ہو ئی ہوں " سب سے پہلے پاکستان " کا نعرہ بلند کرنے والوں نے ایٹمی پاکستان کو اقبال کے خوابوں کی سر زمیں کو غیروں کے ہاتھوں گروی رکھ دیا جو یہ چاہتے ہیں کہ قائد اعظم کا پاکستان دنیا کے نقشے سے مٹا دیںامریکی جنگ میں فرنٹڑ لائن اسٹیٹ بن کر مجھے اپنی دھرتی کو آگ اور خون کے حوالے کر دیا میں کس سے پوچھوں کہ یہ مفاد اس دھرتی کا تھا یا امریکا کا!!!!
میں دنیا کی واحد ایٹمی مسلم قوت جو پوری دنیا کے مسلمانوں کی امیدوں کا مرکز اور دلوں کی دھڑکن تھی آہستہ آہستہ مجھے‌ بد امنی اور اور انتشار کا شکار کر کے امریکی غلامی میں دھکیل دیا --- امریکی سفارت خانوں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے---وہاں جنگجو میریں تعینات کی جا رہی ہیں ان ناپاک فوجی بوٹوں کی چاپ اپنے سینے پر محسوس کر کے میرا وجود لہو لہو وجود ہوا جاتا ہے ---
مجھے بیگانوں سے شکوہ بھی نہیں قلق تو اسکا ہے کہ میرے اپنے بھی ان سازشوں کا حصہ ہیں ---میں نہ رہی تو اپنی شناخت کیسے کراؤگے ؟؟؟؟کہاں جاؤگے؟؟ کبھی سوچا تم نے-----!!!!!
تمہیں صمُ بکُم بنا کر تو نہیں‌ اتار گیا تھا نا! گھروں سے بلند ہوتی چیخ و پکار کی مسلسل صدائیں جن مین روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے--یہ بیواؤں کی آہیں ، یہ یتیموں کی آہیں،یہ بوری بند لاشیں یہ ٹار گٹ کلنگ یہ میری مٹی میں روز جذب ہوتا درجنوں بے گناہوں کا لہو ، یہ موت کا سا سناٹا !!!! اپنے شہروں اللہ کے قہر اور اس کے غضب کے حوالت کیوں کر رہے ہو ---- صرف ایک شہر کراچی میں ایک برس کے دوراں ڈیڑھ ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے --یہ اعداد و شمار تو جنگی ہلاکتوں کے ہوا کرتے تھے -----
لیکن پسماندہ اور غربت زدہ علاقوں میں کون کس کی جنگ لڑ رہا ہے ؟؟؟؟ کون کس کے مفاد کا پشتبان ہے ؟؟؟؟اور کتنی سہاگنیں بیوگی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں ؟؟؟؟کتنے جگر گوشے یتیمی کا داغ پیشانی پر سجا لیتے ہیں انکی آہ و بکا ان تک پہنچے نہ پہنچے جو اونچی اونچی دیواروں ، سیکیورٹی گارڈز اور پر تعیش قیام گاہوں میں محفوظ ہیں لیکن وہ آہ و بکا عرش پر ہر آن پہنچ رہی ہے اور وہاں سے جواب لے کر پلٹ رہی ہے---- موت کے اتنے نوحے ہیں لٹنے کی اتنی داستانیں ہیں کہ سمع خراشی کی تاب تم میں نہیں ---قزاقوں ،چوروں ، لٹیروں اور قاتلوں کے سب گروہ محفوظ ہیں کیونکہ ان کے سر پرست اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں ------
اے جشن طرب منانے والو! لا الہ کے وارثوں ! تم یہ کیو ں بھول گئے اور بہت جلدی بھول گئے کہ اجتماعی گناہوں کا کفارہ اجتماعی عذابوں کی صورت میں بھگتنا ہوگا ---تم ضرور تماشائی ہو کہ یہ آگ ، خوں ،لاشیں ، نوحے تمہارا روز کا معمول بن گئے ہیں جو اب تمہارا راستہ بھی نہیں روکتے تمہیں فکر معاش سے غافل بھی نہیں کرتے مضطرب بھی نہیں کرتے ---لیکن! وہ آسمانوں پر محض‌ تماشائی تو نہیں ؟؟ تم نے گزری ہوئی قوموں سے کوئی سبق نہیں لیا کہ وفائے عہد کرنیوالی ، نعمتوں کی نا شکری کرنے والی پوری کی پوری قومیں صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہیں ---جب خلقت تمہاری طرح بے بس ہو جائے اور تماشائی بن جائے تو پھر آسمان والے کے غضب اور ناراضگی کے فیصلے صادر ہو نے سے کون روک سکتا ہے؟؟؟؟؟
تمہاری فکر نارسا میرے وجود کو گھائل کئے دے رہی ہے --تمہاری بے حسی ، بے شعوری اور غفلت اسوقت میرا" اصل مرض" ہے میرے سسکتے ہوئے وجود کو جو سب سے بڑا دکھ ہتے وہ یہی ہے کہ اب تم سب کا مجھ سے رشتہ بس اپنی "غرض" تک محدود ہے --اپنے جس گھر اور خاندان کی خوشحالی تمہاری نظروں کا حجاب بن گئی ہے سوچو تو سہی کہ تمہارا گھر بھی دھرتی ماں کے وجود سے ہے اور تمہارا خاندان بھی----دشمن میری شہ رگ سے قریب تر ہو رہا ہے ---مجھے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے کتنے منصوبے وکی لیکس نے آشکار کئے خدا کو گواہ بنا کر کہو کیا میری اتنی بھی فکر ہے جتنی اپنے بخار زدہ بچے کی ؟؟؟؟؟بلیک واٹر کی صورت میں میری رگوں پر تیشے چل رہے ہیں ---ایبٹ آباد کا سانحہ ہو یا مہران ائیر بیس کا---سوال تو یہ ہے کہ تمہارے توانا بازوؤں کی موجودگی میں کیسے میرے سر کی ردا کی جانب کوئی ہاتھ بڑھا اور کسی نے میلی آنکھ سے میری سمت دیکھا ----ماں کی عزت اور عصمت کی حفاظت کیا تمہارے لہو پر یہ قرض نہیں تھا میرا ---- آخر یہ تمہارا تندو مند وجود میرے ہی لہو سے تو سینچا ہوا ہے
سنو میرے بیٹے حشرات الارض کی طرح مر رہے ہیں ---دہشت گردی کے خلاف یہ نام نہاد جنگ جسمیں امریکی مفاد کی خاطر مجھے جھونک دیا گیا 28 کھرب سے زیادہ کا نقصان میں برداشت کر چکی ہوں کل ہی 25 بے گناہ روزہ داروں کی جان ایک ڈرون حملے میں لے کر ان سب پر " عسکریت پسندی " کا لیبل لگا دیا گیا ہمیشہ کی طرح !!!!!معصوم عورتیں اور بچے جنکا لہو روز اس لا الہ کی سر زمین میں جذب ہو رہا ہے کوئی محمد بن قاسم نہیں جو امریکی رعونت کو للکارے ------ مجھے دکھ ہے تو اس قیادت کے فکری افلاسکا جو اس جنگ کو اپنی جنگ بنانے پر تلی ہوئی ہے کبھی دنیا نے یہ تماشہ نہ دیکھا کہ 38 لاکھ افراد کو اپنے ہی وطن میں بے گھر کر دیا گیا ہو اور "ڈومور " کی تشنگی ہے کہ کسی نقصان کسی لہو سے سیراب ہونت کا نام ہی نہیں لیتی ---اور قیدیوں کے شور مچانے پر زنجیریں بدل دی جاتی ہیں !!!!گو اب اس کے سوا کیا چارہ ہے میرے لخت جگرو !کہ اپنی حقیقی آزادی اور تہذیبی تشخص‌کے لئے کمر بستہ ہو جاؤایک جمہوری قوت کا بھر پور اظہار ہی تمہیں گیروں کی غلامی سے نجات دلا سکتا ہے تمہیں اپنے مستقبل کا سفر اپنی امنگوں کی روشنی میں کرنا ہوگا ورنہ "آئین " میں آزادی لکھ دینے سے کوئی آزاد نہیں ہو جاتا جبکہ اسکی امنگیں بھی گروی رکھی جا چکی ہوں !!!!

کوئی مرنے پہ راضی نہیں
زندگی چاہے ذلت کے مارے بسر ہو
جنوں تابکے پا بہ جولاں رہے
مگر اب سپاہ ستم
میرے شہر کا ہے مقدر
جب ایسا سمے ہو
زباں‌ کاٹ لیں خود مکیں خوف سے
نگاہوں پہ اندھی جہالت کے پردے پڑے ہوں
خموشی کی روئی ٹھسی ہو ہر اک کان میں‌
نہ سوچنے کی ہو کسی کو بھی فرصت
اور آبادیاں بے ضمیری کے سایوں میں لپٹی ہوئی ہوں
فقط خوش ہوں اس بات پر سب مکیں
کہ" آئیں" میں انکو" آزاد" لکھا گیا ہے !!!! --
plz visit
http://http://www.qalamkarwan.com/20...an-k-jesi.html

JISOUTH
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 66
شکریہ: 16
53 مراسلہ میں 142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 81
Reply With Quote
جواب

Tags
کمر, کراچی, پاکستان, موت, ماں, آج, اللہ, انسان, بچوں, جواب, حقیقی آزادی, خون, خلاف, خدا, روزہ, رمضان, راستہ, سفر, سالگرہ, شور, شناخت, عہد, عالم, عزت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فرنٹ پیج میں "اوپن ویب" تبدیل کیا جاسکتاہے ؟؟ عبیداللہ عبید مائیکروسوفٹ فرنٹ پیج 14 04-03-11 01:00 PM
"ہرتیسری عورت اور پانچویں مرد کی ہڈیاں کھوکھلی" جاویداسد خبریں 0 14-11-10 12:48 PM
"کوئی" "کسی" سفارت خانے سے وزیر اعظم ہاوس کی جاسوسی کر رہا تھا حیدر خبریں 6 11-10-10 04:49 PM
پاکستان میں ہجڑوں کی قانونی جیت اور نعرہ "وصولی تک ڈیرے ڈال رکھیں گے" گوہر گپ شپ 11 25-12-09 02:08 PM
مستقبل کی سلیکشن پالیسی طے کر لے گئی ،زمبابوے سے سیر یز میں شعیب اختر وکامران کو " آرام" دینے کا فیصلہ خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 17-12-07 02:51 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger