واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ذلت و رسوائی ہمارا ہی مقدر کیوں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-04-09, 07:13 PM   #1
ذلت و رسوائی ہمارا ہی مقدر کیوں
راشد احمد راشد احمد آن لائن ہے 26-04-09, 07:13 PM

قیام پاکستان سے اب تک نہ تو ہم نے کچھ سیکھا اور نہ ہی ہماری قیادت نے۔ وہی ماضی کی غلطیاں، ماضی کے شورشرابے، تصادم، وہی قیادت جو کبھی ماضی میں ایک دوسرے کے دست وگریبان ہوا کرتی تھی۔ کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے ہم نے ماضی میں جو غلطیاں کی تھیں۔ اب بھی وہی کررہے ہیں بہتر ہوگا کہ اگر کہا جائے کہ پہلے سے بھی زیادہ خطرناک غلطیاں۔۔۔ کوئی ہماری رائے کے خلاف جائے تو ہم اسے اپنا دشمن گردانتے ہیں۔

ہم ماضی میں زندہ رہنے والی قوم ہیں۔ اپنے اسلاف کے کارنامے بڑے فخرسے سناتے ہیں لیکن ان سے سیکھتے کچھ نہیں۔ ہماری حالت اسی کنگال شخص کی سی ہے جو ماضی میں کافی مالدار ہوا کرتا تھا، جو اپنے ماضی کے بنک بیلنس، جائیداد اور عیاشیوں کے بارے میں دوسروں کو بتاتاپھرتا ہے۔ لیکن خود اپنا ماضی واپس لانے کی کوشش نہیں کرتا۔

ایک خاموشی ہے جو ٹوٹتی نہیں، زبان ہے کہ کچھ بولنے سے گھبراتی ہے، دماغ ہے کہ سوائے دوجمع دو چارروٹیاں کے علاوہ کچھ نہیں سوچتا، دل ہے کہ بس حالات پر کڑھتا ہی رہتا ہے، آنکھیں ہیں کہ بند ہیں کہ ہم سچ نہیں دیکھنا چاہتے۔ جسم ہے لیکن بے سدھ۔ قدم ہیں کہ کچھ کرنے سے پہلے ہی ڈگمگاجاتے ہیں۔ پریشانی، ملامت، غصہ، عدم برداشت، بے حسی اور نہ جانے کیا کیا ہم میں ہے۔

ذات پات، مسلک، صوبائی عصبیت، بے حسی سے نکلنے کو تیار نہیں، ہر شخص کا اپنا نعرہ ہے، ایک شخص دوسرے شخص سے خفا ہے، کسی پہ اعتبار نہیں، انتظار کررہے ہیں کہ کوئی اچھا رہنما ملے اور ہمیں اس حصار سے نکالے، لیکن اپنی رہنمائی نہیں کرتے، سچ سننے، بولنے کی سکت ہم میں نہیں رہی اور نہ ہی سچ سننا چاہتے ہیں۔ کوئی سچ بولےتو برداشت کرنے کوتیار نہیں، چوروں کو ہم اپنا رہبر بنائے بیٹھے ہیں۔ دشمنوں کو دوست بنائے بیٹھے ہیں۔ حالات پردل ہی دل میں کڑھ رہے ہیں، حکومت پر تنقید کررہے ہیں لیکن کوئی عملی قدم نہیں، بس وہی نان ونفقہ، بنیادی ضروریات. آٹا، گھی، پٹرول، چینی، سبزیاں روپے مہنگا ہوجائے تو بس میں سفر کرتے ہوئے حکومت کو کوس رہے ہوتے ہیں. لیکن کوئی احتجاج نہیں بس لوگوں کو سنایا اور چپ اور دوسرے بھی آپ کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں اور آپ مطمئن. ہماری سوچ آٹا، گھی، دالیں، چینی اور دیگر بنیادی ضروریات سے آگے نہیں بڑھتی.

حکومت کو فری ہینڈ دے دیتے ہیں کہ جو مرضی آئے، بجلی بندکرنی ہے تو کرے، پٹرول، سی این جی، آٹا، گھی جو بھی آپ نے مہنگا کرنا ہے کرلیں ہم صرف کڑھیں گے اور کچھ نہیں کریں گے. کوئی غریب ہمارے محلہ میں چوری کرے تو مارمار کر آدھ موہ کردیتے ہیں اور تھانے کی سیر کروانے بھیج دیتے ہیں لیکن حکمران ہمیشہ چوروں کو منتخب کرتے ہیں. ایک ہی شخص کو بار بار آزماتے ہیں کہ شاید اب یہ سیدھا ہوجائے لیکن چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے کے مصداق چوروں کے کام پہلے سے بھی نرالے.

ایک ماں اپنے بچوں کے بارے میں لوگوں کو ہمیشہ کہتی تھی کہ اس کے بچے بڑے نالائق ہیں، نافرمان ہیں، بدتمیز ہیں، آوارہ گرد ہیں. حالانکہ وہ ایسے نہیں تھے لیکن لوگ انہیں چوروں کی نظر سے دیکھنے لگے، رشتہ دار اس پورے گھرسے متنفرہوگئے اور ان کا داخلہ بندکردیا، محلہ میں کوئی چوری ہوتی تو پہلا الزام ان پر لگتا کیا ہمارا یہ حال نہیں. ہمارا وقار، ہماری شان وشوکت سب مٹی مین ملادیا ہمارے منتخب کردہ نمائندوں نے لیکن ہم نے اف تک نہیں کی. جیسے وہ بالکل درست فرمارہے ہوں.

آج جو بھی ہورہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے، ڈاکٹر قدیر پر ہم فخر کرتے رہے جب انہیں نظربند کیا لیکن اف تک نہیں کی، ڈاکٹر عبدالسلام جیسے اعلٰی تعلیم یافتہ اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو قادیانی قراردے دیا اور ان کی خدمات کو شان کے خلاف سمجھ بیٹھے. نتیجہ کیا ہوا کہ وہ شخص پاکستان کو خیر باد کہہ کر امریکہ چلا گیا اور امریکہ کے لئے خدمات انجام دینا شروع کردیں. کیا حب الوطنی کا معیار صرف مسلمان ہونا ہے. ہم یہ کیوں بھول بیٹھے کہ جسٹس رانا بھگوان داس بھی غیرمسلم تھے جو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی شان میں نعتیں لکھتے تھے اور عدلیہ کا وقار اونچا کیا. ہم کیوں ایک عیسائی جسٹس کارنیلس کو بھول بیٹھے جس نے عدلیہ کا وقار ٹوٹنے سے بچالیا.

ہر شخص کی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد ہے، ہر شخص صوبائی عصبیت کا نعرہ لگارہا ہے، ہماری حب الوطنی چیچہ وطنی تک محدود ہوگئی ہے. ہر شخص اپنا حق مانگ رہا ہے لیکن اپنا حق ادا نہیں کرنا چاہتا. صوبائی عصبیت کے نعرے جاگیردار، بدعنوان سیاستدان اور سردار بلند کرتے ہیں اور ہم سوچے سمجھے ان نعروں کا جواب دینا شروع کردیتے ہں. انسان گروہوں کی شکل میں بٹ گئے ہیں کوئی سنی ہے تو کوئی شیعہ کسی کو پنجابی ہونے پر فخر ہے تو کسی کو سندھی ہونے پر، کوئی بلوچیوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو سندھیوں کے لیکن پاکستان کے حقوق کی بات کرنے کو اور پاکستانی بننے کو کوئی تیار نہیں. ایک غریب عورت کے ساتھ زیادتی ہو تو ہمارے حکمران وہاں پہنچ جاتے ہیں لیکن باقی کو نظرانداز کردیتے ہیں جیسے ہم نے باقیوں کا ٹھیکہ نہیں لے رکھا.

اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ہم دیواریں اونچی کردیتے ہیں. دیواروں پر شیشہ لگادیتے ہیں تاکہ چوروں اور ڈاکووں سے محفوظ رہیں لیکن ہمارے جذبات، ہمارے ارمان، ہماری خودمختاری، ہمارے وقار پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو اپنے اوپر مسلط کردیتے ہیں. وہ جب ائیرکنڈیشنڈ بنگلوں اور گاڑیوں میں گھوم رہے ہوں تو آپ اس وقت گرمی کا مزہ لے رہے ہوتے ہیں. وہ جب مرغن غذائیں کھارہے ہوں تو ہم بھوکے پیاسے سورہے ہوتے ہیں. وہ ایک این آر او سے دوبارہ نیک بن جاتے ہیں تو آپ ایک ناکردہ جرم کی سزا پارہے ہوتے ہیں. ہمارا احتساب وہ کررہے ہوتے ہیں لیکن انہیں احتساب سے بری الذمہ قرار دیتے ہیں. ہمدردی ہمارا وطیرہ ہے وہ بھی صرف سیاہ ستدانوں کے لئے.

راشد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 386
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-05-09), فیصل ناصر (27-04-09), منتظمین (01-05-09), سحر (30-04-09)
پرانا 27-04-09, 06:26 AM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تحریر اچھی ہے کاش اس کو پڑھنے والے میسر آئیں

سرورق کے لئے تجویز کرتا ہوں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 01-05-09, 12:10 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک بہت ہی عمدہ اور متوازن تحریر ہے۔ اپ میں‌ایک اچھے لکھاری ہونے کی تمام تر صلاحیتیں‌موجود ہیں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (01-05-09), راشد احمد (01-05-09)
پرانا 01-05-09, 12:26 PM   #4
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,429
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راشد احمد مراسلہ دیکھیں
ڈاکٹر عبدالسلام جیسے اعلٰی تعلیم یافتہ اور نوبل انعام یافتہ سائنسدان کو قادیانی قراردے دیا اور ان کی خدمات کو شان کے خلاف سمجھ بیٹھے. نتیجہ کیا ہوا کہ وہ شخص پاکستان کو خیر باد کہہ کر امریکہ چلا گیا اور امریکہ کے لئے خدمات انجام دینا شروع کردیں.
َبہت اچھا لکھا آپ نے۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ البتہ یاد رکھنا چاہیے کہ عبدالسلام قادیانیوں کو کافر قرار دیئے جانے کے خلاف احتجاج کے طور پر پاکستان چھوڑ کر گیا تھا۔ کسی نے اسے قادیانی قرار نہیں‌دیا تھا یہ بدبختی اس نے خود اختیار کی تھی۔
آج روزنامہ جنگ میں‌ ارشاد احمد حقانی نے معاشرے کی بے حسی پر ایک قاریہ کی نظم شائع کی ہے:
کچھ نہ پوچھو کہ یہ شہر گونگوں کا ہے
لوگ سن کر بھی یاں کچھ نہیں بولتے
دیکھتے ہیں مگر لب نہیں کھولتے
ان کو ڈر ہے یہی، وہ جو بولے کبھی
ان کی آواز بھی
ان صداؤں میں شامل کہی جائے گی
ہم نے گر کچھ کہا (ان کو ڈر ہے یہی)
نام ان کے تبھی
ان گواہوں کی فہرست میں خودبخود
لکھ لئے جائیں گے
جو کہ حق کی گواہی میں مارے گئے
اس لئے لوگ یاں سچ نہیں بولتے
دیکھ کر بھی زبانیں نہیں کھولتے
ہم کہ اس شہر میں … زہر امروز پی کر
اگر چپ رہے
کل ہماری نسوں میں یہی زہر
آگ بن کر اتر جائے گا
پھر یہ آتش فشاں … خامشی کے نشاں
کون جانے کہ کب پھٹ پڑیں
کون لیکن سنے ہم اگر کچھ کہیں
اس لئے چپ رہیں
کچھ نہ بولیں کہ یہ شہر بہروں کا ہے
کچھ نہ پوچھیں کہ یہ شہر گونگوں کا ہے
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (01-05-09), راشد احمد (01-05-09)
پرانا 02-05-09, 07:07 AM   #5
Senior Member
 
monee3s's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Muzaffarabad
عمر: 22
مراسلات: 989
کمائي: 20,309
شکریہ: 143
577 مراسلہ میں 1,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
monee3s کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں monee3s کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی ہے۔
monee3s آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-05-09, 02:35 AM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راشد احمد آپ کی تحریر پر سب سے پہلے ریمارکس دیئے تھے وہ نظر نہیں‌آ رہے ناجانے کیا مسئلہ ہے؟
آپ کی تحریر میں‌بہت خوب صورت ربط ہے جو اس فورم کے اکثر ساتھیوں‌ کی تحاریر میں نہیں پایا جاتا۔
میری جانب سے اپ کی اس خاصیت کی وجہ سے شکریہ اور انعام میں پوائنٹس قبول ہوں۔

Last edited by shafresha; 03-05-09 at 02:41 AM.
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-05-09, 08:47 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت شکریہ shafresha
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
راشد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (04-05-09)
جواب

Tags
color, فورم, فری, کارنامے, پاکستان, پاکستانی, ڈاکٹر قدیر, قدم, نظر, ماں, مسجد, اللہ, الزام, انعام, امریکہ, احتجاج, بچوں, تحریر, تعلیم, جرم, خلاف, دوست, شہر, شخص, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
سور کا گوشت کھانا حرام کیوں ہے؟ عرفان حیدر مذہبی مسائل اور ان کا حل 32 28-07-10 08:37 AM
سوال یہ ھے سوال کیوں ھے The Great شعر و شاعری 0 26-08-09 11:29 AM
کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے نوائے ادب شعر و شاعری 0 15-05-09 02:29 AM
سوات: لڑکیوں کا سکول نذرِ آتش محمدعدنان خبریں 0 04-05-08 04:05 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:25 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger