واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


رشتے اور فرشتے!بسلسلہ،میں نے کافرستان میں کیا دیکھا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 14-08-11, 09:45 AM   #1
رشتے اور فرشتے!بسلسلہ،میں نے کافرستان میں کیا دیکھا
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 14-08-11, 09:45 AM

کالم نگار،،،علی عمران شاہین

ایبٹ آباد سے حسن ابدال کے لئے روانہ ہوئے تو جس ڈرائیور کی ہمراہی ملی وہ نوشہرہ کا رہنے والا تھا۔ راستے میں دوران گپ شپ جب اسے پتہ چلا کہ ہم چترال جا رہے ہیں تو اس نے شندور کا خود ہی نام لے لیا۔ شندور تو ویسے ہی مشہور عالم نام و مقام ہے کیونکہ یہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گراﺅنڈ ہے جہاں ہر سال گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے درمیان 3دن تک پولو کے میچ ہوتے ہیں۔ گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلے جانے والے اس کھیل کو ”کھیلوں کا بادشاہ“ اور ”بادشاہوں کا کھیل“ کہا جاتا ہے۔ 12 ہزار 2 سو فٹ بلند، ایک وسیع جھیل کے کنارے اس گراﺅنڈ میں پولو ٹورنامنٹ کا آغاز 1936ءمیں انگریزوں نے کیا تھا۔ بہرحال ڈرائیور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا کہ شندور میں چونکہ پولو دیکھنے کے لئے ملک بھر بلکہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، اس لئے چترال کے مقامی لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنی لڑکیاں بیچنے کے لئے لاتے ہیں.... اور وہاں ایک جگہ ان کی الگ سے ”منڈی“ لگی ہوتی ہے، یااللہ.... یہ کیا کہہ رہا ہے....؟ ڈرائیور کی باتوں نے تو دماغ ہی چکرا دیا، پہلے تو ہم نے بارہا اور بے شمار جگہ سنا تھا کہ چترال میں لوگ اپنی لڑکیاں 40، 50 ہزار یا ایک لاکھ تک بیچ دیتے ہیں۔ اس سب پر یقین کریں تو کیسے کریں....؟ یہ تو ممکن نظر ہی نہیں آتا.... ایک بچی کی پیدائش کا عمل.... اس کی پرورش، اس کی جوانی تک کا کٹھن مرحلہ اور بیٹیاں.... وہ تو ماں باپ کے دل جگر کا ٹکڑا ہوتی ہیں۔ کیا انہیں نازو نعم سے پال پوس کر، جوان کر کے، کوئی چند ہزار میںبیچ سکتا ہے؟ نہ بھئی نہ، یہ تو دل نہیں مانتا اور وہ بھی یہ سب ایسے لوگ کریں کہ جو دنیا میں دینی غیرت و حمیت کے لئے مشہور و معروف ہیں، لیکن ان لوگوں کا کیا کریں جو یہ سب مشہور کئے بیٹھے ہیں۔
چترال سے شندور کا سفر 147 کلو میٹر ہے جن میں سے 74 کلو میٹر سڑک پختہ اور اچھی ہے جو چترال کی تحصیل بونی تک جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر ہماری گاڑی نے جواب دے دیا، سو ایک پہاڑی جیپ بک کروائی گئی اور اگلے 65 کلو میٹر کا سفر ہم نے ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ اس سے سفر کی دشواری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، شندور پہنچے تو ایک نیا جہان، ایک نیا شہر آباد تھا، پولو کا آخری میچ ہو رہا تھا۔ ہمارا پولو سے تو کچھ زیادہ لینا دینا نہیں تھا سو ہم نے لڑکیوں کی ”منڈی“ تلاش کرنا شروع کی لیکن منڈی تو کجا وہاں 15 ، 20 ہزار کے مجمع میں عورتیں بھی ”چند“ ہی نظر آئیں، کیونکہ یہاں تک ”صنف نازک“ کا سفر کر کے آنا آسان نہیں، سو تجسس میں اور اضافہ ہوا، پولو فیسٹیول ختم ہوا تو چترال کی تحصیل دروش ہمارا اگلا مسکن تھی جہاں ہمارا فری سرجیکل کیمپ تھا۔ یہاں پہنچ کر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں، فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی ٹیم کی آمد کی خبر پاکر سارے چترال میں خوشی کی لہر دوڑ چکی تھی کیونکہ ان لوگوں کے ہاں علاج معالجے کی اس سہولت کا محض سوچا ہی جا سکتا ہے جو انہیں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی ٹیم مہیا کرنے آئی تھی۔ اگلے روز کیمپ کا آغاز ہوا تو چترال سے سو اور ڈیڑھ سو کلو میٹر تک کا سفر کر کے آنے والے مریضوں اور معززین علاقہ کا ایک انبوہ کثیر تھا جو ہسپتال میں امڈ آیا تھا.... میرا تجسس اپنی جگہ قائم تھا لیکن متعدد مشاہدات سے سوال کا جواب ملتا جا رہا تھا، مثلاً.... چترال انتہائی دشوار گزار زمینی راستہ رکھنے والا دور دراز کا علاقہ ہے.... یہاں تقریباً سبھی لوگ انتہائی غریب اور پسماندہ ہیں، ضلع ہونے کے باوجود یہاں سے کوئی روزنامہ اخبار نہیں چھپتا اور ہفت روزہ کی شکل میں اکلوتا نام نہاد اخبار چھپتا ہے تو اسے بھی دیکھ کر شرمندگی ہی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ چترال کو ملک کے پڑھے لکھے ترین اضلاع میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے.... جب ہم نے کیمپ کا آغاز کیا تو وہاں آنے والی خواتین اپنے نام کی بجائے اپنے بیٹے یا اپنے شوہر، بھائی والد وغیرہ کی طرف نسبت کر کے نام لکھواتیں.... اس سے بھی مسئلہ پیدا ہوتا لیکن کیا کرتے....؟ ان لوگوں کی اپنی روایات جو ہیں۔ کئی لوگوں سے بات ہوئی کہ آپ لوگ بہت پکے سچے مسلمان ہیں اور یہ بھی آپ اسلام کی وجہ سے کرتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہے، اگر خواتین کے نام چھپانا اسلام یا شریعت کا حصہ ہوتا تو قرآن واحادیث میں خواتین کے نام نہ ہوتے اور اگر ایسا ہوتا تو ہم لوگ اپنی بچیوں کے نام کیسے رکھتے؟ لیکن ان روایات کو توختم ہونے میں وقت لگے گا۔
چترال میںکئی دن کے قیام اور وسیع علاقے گھومنے کے باوجود ہمیں کوئی ایک بھی بے پردہ خاتون نظر نہ آئی بازاروں میں تو خواتین کا ملنا ویسے بھی محال ہے اور ہاں یہاں آپ کو بھکاری بھی کبھی دیکھنے میں نہیں ملے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اس دوران مختلف لوگوں اور معززین علاقہ سے تبادلہ خیال کے دوران ہمارے تجسس کا عقدہ کھلتا چلا گیا۔
لڑکیاں بیچنے کی روایات کو آپ تقریباً ویسا ہی سمجھیں جیسا کہ ہمارے ہاں تقریباً ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی امریکہ، یورپ، یا کسی عرب ملک میں بیاہی جانی چاہئے تاکہ اس کی زندگی خوب عیش و آرام اور پیسے کی ریل پیل میں کھیل کر گزرے۔ اس کے لئے وہ اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ نہیں تو سالہا سال اپنے آپ سے جدا کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں.... آپ اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات پڑھ کر دیکھ لیں اس کا آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا، لیکن اگر ان لوگوں کو یہی کہا جائے کہ آپ کی بیٹی کسی کسی گاﺅں میں یا پھر کم ترقی یافتہ شہر میں ہی بیاہنا چاہتے ہیں تو شاید ہی کوئی ہو جو اسے پسند کرے۔ اس غلط سوچ کا آج نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کئی ملین لڑکیاں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو گئی ہیں لیکن اعلیٰ سٹیٹس، بیرون ملک رشتے کی خواہش اور تلاش اب بھی جاری ہے، خواہ اس میں موت ہی آ جائے۔
چترال کے لوگوں کے لئے ہمارا باقی ملک بھی امریکہ، یورپ یا عرب دنیا جیسا ہی ہے، وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں اس انتہائی پسماندہ، غربت اور افلاس کے مارے ماحول و علاقے سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں میں چلی جائیں تو کم از کم ان کی زندگی تو مشکلات کی دلدل سے نکل جائے گی اور دوسرا یہ لوگ غربت کے مارے ہوئے ہیں اور شادی کا خرچ بھی اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے سو وہ یہی کہتے اور کرتے ہیں کہ شادی کے موقع پر لڑکی کے گھر ہونے والے چند ہزار کے اخراجات بھی لڑکا برداشت کرے اور شادی کرا کر لڑکی لے جائے۔اسی بے بسی اور مجبوری نے ان عظیم لوگوں پر عجیب و غریب داغ لگا دیا ہے اور یہ روایتیں اب ملک بلکہ بیرونی دنیا تک زبان زد عام ہیں۔ بہت سے چترالی ان کہانیوں اور روایتوں سے نالاں بھی ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیاں بیاہ کر ان سے دور چلی جائیں لیکن چونکہ بھاری اکثریت تو مفلوک الحال ہے اس لئے وہ کر بھی کچھ نہیں سکتے۔ یہاں لوگوں کے بارے مشہور کہانیاں سننے اور اصل صورتحال دیکھنے سمجھنے کے بعد
میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
کے مشہور عالم شعر کا مطلب سمجھ میں آ گیا
لڑکیاں بیچنے کی بات تقریباً وہی ہے، جو سارے ملک اور تقریباً ہر گھر، ہر فرد میں پائی جاتی ہے لیکن بس تھوڑا سا انداز اپنا اپنا ہے ۔
ملک کے دیگر حصوں کے لوگوں کے لئے جہاں چترال کا حسن کشش رکھتا ہے وہیں یہاں کی اطاعت گزار، شریف النفس اور ادب و احترام کے جذبوں سے سرشار لڑکیاں بھی انہیں یہاں آنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ان لوگوں کی اس مفلوک الحالی کا فائدہ اٹھا کر آغا خان نے اس سارے علاقے میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کیا ہے۔ حکومتی ترقیاتی مصنوبے تو مشکل سے ہی نظر آئیں لیکن آغا خان کے ترقیاتی منصوبے جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ آج کل چترال کو دو اضلاع اپر اور لوئر چترال میں تقسیم کرنے کی مہم بھی چل رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اپر چترال بھاری آغا خانی ہونے کی وجہ سے مکمل آغا خانیت کے نرغے میں چلا جائے گا اور یہاں آغا خانی ریاست کے قیام کے خواب کی راہ ہموار ہو گی۔ آغا خان کی جانب سے جس میدان میں سب سے زیادہ کام کیا جاتا ہے، اس میں طبی سہولیات کی فراہمی سرفہرست ہے۔ تحصیل بونی جو آغا خانیوں کا مرکز ہے یہاں آغا خان فاﺅنڈیشن کا اتنا جدید ہسپتال قائم ہے کہ پنجاب کے شاید بڑے شہر بھی اس کا مقابلہ نہ کر پائیں جبکہ چترال شہر اور دوسری مسلم اکثریتی تحصیلوں میں ایسا کچھ نہیں ۔
فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے فری سرجیکل کیمپ پر آنے والے مریضوں کے حالات واقعات دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اگر یہاں سرجیکل کیمپ نہ لگتا تو یہ لوگ یقینا ان بیماریوں اور امراض کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر اتر جاتے کیونکہ ان میں سے کسی کی اتنی سکت نہیں تھی کہ ہ پشاور، راولپنڈی یا اسلام آباد جا سکے۔ ڈاکٹر محمد ایوب دن بھر سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کرتے۔ بے شمار کا الٹرا ساﺅنڈ کرتے اور پھر ساری رات بلکہ بعد نماز فجر بھی گردہ، ہرنیا، اپنڈکس، رسولی، بڑھی ہڈیوں اور نجانے کیسے کیسے امراض کے آپریشن کا سلسلہ جاری رہتا۔ اگلے روز تھوڑا آرام کرنے کے بعد ایک بار پھر خدمت خلق کے جذبے سے سرشار نوجوانوں محمد فاروق، محمد نعیم، محمد عبداللہ، عامر ندیم پرویز کی ٹیم کام میں جت جاتی، تین روزہ کیمپ 4دن جاری رہا، بلکہ یہاں تو دن رات کی تمیز تھی نہ صبح و شام کی.... کام، کام اور بس کام.... ایک ہی دھن تھی جو سب پر سوار تھی اور ڈاکٹر محمد ایوب، چوتھے دن بھی آخری مریض کو نمٹانے میں مصروف تھے کہ کوئی رہ نہ جائے۔ یہاں کا سرکاری ہسپتال 2سال بعدفلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی وجہ سے ہی ایک بار پھر اس قدر مریضوں سے کھچا کھچ بھراہوا تھا۔ لوگ فلاح انساینت فاﺅنڈیشن کے لئے یوں دعا گو نظر آتے تھے کہ جیسے فرشتوں کی کوئی ٹیم ان کے ہاں اتری ہوئی ہے۔ چترال کی اس تحصیل دروش میں 4 دن بجلی بند نہ ہوئی تو پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہاں چند دن پہلے تک بجلی کا نشان مشکل سے ملتا تھا۔ پھر سب لوگ، تنظیمیں اورطبقات متفق و متحد ہوئے، سڑکیں بند کیں، حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، عملی اقدام اٹھانے لگے تو بجلی بحال ہو گئی اوراب یہاں بجلی کبھی جاتی ہی نہیں۔ پھر یہاں کے چھوٹے چھوٹے علاقوں اور بہت سی بستیوں میں اپنی اپنی بجلی کی پیداوار کے یونٹ لگے ہوئے ہیں کیونکہ علاقہ پہاڑی اور پانی وافر ہے۔ سو لوگوں نے اپنے اپنے پاور ہاﺅس بنا کر ذاتی بجلی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ خصوصاً آغا خانی اکثریتی علاقوں میں آغا خان فاﺅنڈیشن کا اس حوالے سے کافی کام ہے۔
چترال میں کیمپ سمیٹنے کے بعد جب واپس لوٹ رہے تھے تو اس سے چند روز پیشتر آزاد کشمیر میں لگنے والے میڈیکل کیمپوں کا تذکرہ بھی شروع ہو گیا جہاں سو سے زائد ڈاکٹروں کی ٹیموں نے 3دن تک 26 ہزار سے زائد ایسے ہی مفلوک الحالوں کا گھر گھر جا کر علاج کیا تھا جن میں سے بہت سے ایسے تھے جنہوں نے شاید زندگی میں کبھی دوائی دیکھی تک نہیں تھی۔ یہ سب قافلے جب لوٹ رہے تھے تو ہر طرف سے ان کے لئے دعاﺅں کی برسات برس رہی تھی۔
اللہ کرے، یہ قافلے یوں ہی چلتے رہیں، یوں ہی دکھی انسانیت کی خدمت ہوتی رہے۔ کافروں کی سازشوں کے تاروپود بکھرتے رہیں، اسلام غالب آئے.... پاکستان زندہ و تابندہ رہے.... ہم سب بھی اس قافلہ حق کے راہی بن کر دامے، درمے، قدمے، سخنے اپنا اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔




بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput

اسی سے ماخوذ

لکشمن بی بی اور فاطمہ بی بی !بسلسلہ،میں نے کافرستان میں کیا دیکھا

میں نے کافرستان میں کیا دیکھا
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 205
Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-08-11), فخر بٹ (16-08-11), ابن آدم (16-08-11), احمد نذیر (16-08-11), اسراراحمد چوہدری (16-08-11), حیدر Rehan (16-08-11), سام (16-08-11), عروج (16-08-11), غلام خان (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 02:35 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واہ جی واہ۔ اپنی اپنی بجلی۔ ھمت ِ مرداں مدد ِخدا۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-08-11, 10:43 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جزاکم اللہ خیرا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ALI-OAD مراسلہ دیکھیں
کالم نگار،،،علی عمران شاہین

ایبٹ آباد سے حسن ابدال کے لئے روانہ ہوئے تو جس ڈرائیور کی ہمراہی ملی وہ نوشہرہ کا رہنے والا تھا۔ راستے میں دوران گپ شپ جب اسے پتہ چلا کہ ہم چترال جا رہے ہیں تو اس نے شندور کا خود ہی نام لے لیا۔ شندور تو ویسے ہی مشہور عالم نام و مقام ہے کیونکہ یہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گراﺅنڈ ہے جہاں ہر سال گلگت بلتستان اور چترال کی ٹیموں کے درمیان 3دن تک پولو کے میچ ہوتے ہیں۔ گھوڑوں پر بیٹھ کر کھیلے جانے والے اس کھیل کو ”کھیلوں کا بادشاہ“ اور ”بادشاہوں کا کھیل“ کہا جاتا ہے۔ 12 ہزار 2 سو فٹ بلند، ایک وسیع جھیل کے کنارے اس گراﺅنڈ میں پولو ٹورنامنٹ کا آغاز 1936ءمیں انگریزوں نے کیا تھا۔ بہرحال ڈرائیور بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بولا کہ شندور میں چونکہ پولو دیکھنے کے لئے ملک بھر بلکہ دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں، اس لئے چترال کے مقامی لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں اپنی لڑکیاں بیچنے کے لئے لاتے ہیں.... اور وہاں ایک جگہ ان کی الگ سے ”منڈی“ لگی ہوتی ہے، یااللہ.... یہ کیا کہہ رہا ہے....؟ ڈرائیور کی باتوں نے تو دماغ ہی چکرا دیا، پہلے تو ہم نے بارہا اور بے شمار جگہ سنا تھا کہ چترال میں لوگ اپنی لڑکیاں 40، 50 ہزار یا ایک لاکھ تک بیچ دیتے ہیں۔ اس سب پر یقین کریں تو کیسے کریں....؟ یہ تو ممکن نظر ہی نہیں آتا.... ایک بچی کی پیدائش کا عمل.... اس کی پرورش، اس کی جوانی تک کا کٹھن مرحلہ اور بیٹیاں.... وہ تو ماں باپ کے دل جگر کا ٹکڑا ہوتی ہیں۔ کیا انہیں نازو نعم سے پال پوس کر، جوان کر کے، کوئی چند ہزار میںبیچ سکتا ہے؟ نہ بھئی نہ، یہ تو دل نہیں مانتا اور وہ بھی یہ سب ایسے لوگ کریں کہ جو دنیا میں دینی غیرت و حمیت کے لئے مشہور و معروف ہیں، لیکن ان لوگوں کا کیا کریں جو یہ سب مشہور کئے بیٹھے ہیں۔
چترال سے شندور کا سفر 147 کلو میٹر ہے جن میں سے 74 کلو میٹر سڑک پختہ اور اچھی ہے جو چترال کی تحصیل بونی تک جاتی ہے۔ وہاں پہنچ کر ہماری گاڑی نے جواب دے دیا، سو ایک پہاڑی جیپ بک کروائی گئی اور اگلے 65 کلو میٹر کا سفر ہم نے ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ اس سے سفر کی دشواری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، شندور پہنچے تو ایک نیا جہان، ایک نیا شہر آباد تھا، پولو کا آخری میچ ہو رہا تھا۔ ہمارا پولو سے تو کچھ زیادہ لینا دینا نہیں تھا سو ہم نے لڑکیوں کی ”منڈی“ تلاش کرنا شروع کی لیکن منڈی تو کجا وہاں 15 ، 20 ہزار کے مجمع میں عورتیں بھی ”چند“ ہی نظر آئیں، کیونکہ یہاں تک ”صنف نازک“ کا سفر کر کے آنا آسان نہیں، سو تجسس میں اور اضافہ ہوا، پولو فیسٹیول ختم ہوا تو چترال کی تحصیل دروش ہمارا اگلا مسکن تھی جہاں ہمارا فری سرجیکل کیمپ تھا۔ یہاں پہنچ کر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں، فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی ٹیم کی آمد کی خبر پاکر سارے چترال میں خوشی کی لہر دوڑ چکی تھی کیونکہ ان لوگوں کے ہاں علاج معالجے کی اس سہولت کا محض سوچا ہی جا سکتا ہے جو انہیں فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی ٹیم مہیا کرنے آئی تھی۔ اگلے روز کیمپ کا آغاز ہوا تو چترال سے سو اور ڈیڑھ سو کلو میٹر تک کا سفر کر کے آنے والے مریضوں اور معززین علاقہ کا ایک انبوہ کثیر تھا جو ہسپتال میں امڈ آیا تھا.... میرا تجسس اپنی جگہ قائم تھا لیکن متعدد مشاہدات سے سوال کا جواب ملتا جا رہا تھا، مثلاً.... چترال انتہائی دشوار گزار زمینی راستہ رکھنے والا دور دراز کا علاقہ ہے.... یہاں تقریباً سبھی لوگ انتہائی غریب اور پسماندہ ہیں، ضلع ہونے کے باوجود یہاں سے کوئی روزنامہ اخبار نہیں چھپتا اور ہفت روزہ کی شکل میں اکلوتا نام نہاد اخبار چھپتا ہے تو اسے بھی دیکھ کر شرمندگی ہی محسوس ہوتی ہے، حالانکہ چترال کو ملک کے پڑھے لکھے ترین اضلاع میں سرفہرست سمجھا جاتا ہے.... جب ہم نے کیمپ کا آغاز کیا تو وہاں آنے والی خواتین اپنے نام کی بجائے اپنے بیٹے یا اپنے شوہر، بھائی والد وغیرہ کی طرف نسبت کر کے نام لکھواتیں.... اس سے بھی مسئلہ پیدا ہوتا لیکن کیا کرتے....؟ ان لوگوں کی اپنی روایات جو ہیں۔ کئی لوگوں سے بات ہوئی کہ آپ لوگ بہت پکے سچے مسلمان ہیں اور یہ بھی آپ اسلام کی وجہ سے کرتے ہیں حالانکہ یہ اسلام کی تعلیم نہیں ہے، اگر خواتین کے نام چھپانا اسلام یا شریعت کا حصہ ہوتا تو قرآن واحادیث میں خواتین کے نام نہ ہوتے اور اگر ایسا ہوتا تو ہم لوگ اپنی بچیوں کے نام کیسے رکھتے؟ لیکن ان روایات کو توختم ہونے میں وقت لگے گا۔
چترال میںکئی دن کے قیام اور وسیع علاقے گھومنے کے باوجود ہمیں کوئی ایک بھی بے پردہ خاتون نظر نہ آئی بازاروں میں تو خواتین کا ملنا ویسے بھی محال ہے اور ہاں یہاں آپ کو بھکاری بھی کبھی دیکھنے میں نہیں ملے گا۔ ساتھ ہی ساتھ اس دوران مختلف لوگوں اور معززین علاقہ سے تبادلہ خیال کے دوران ہمارے تجسس کا عقدہ کھلتا چلا گیا۔
لڑکیاں بیچنے کی روایات کو آپ تقریباً ویسا ہی سمجھیں جیسا کہ ہمارے ہاں تقریباً ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی امریکہ، یورپ، یا کسی عرب ملک میں بیاہی جانی چاہئے تاکہ اس کی زندگی خوب عیش و آرام اور پیسے کی ریل پیل میں کھیل کر گزرے۔ اس کے لئے وہ اپنی بیٹیوں کو ہمیشہ نہیں تو سالہا سال اپنے آپ سے جدا کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں.... آپ اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات پڑھ کر دیکھ لیں اس کا آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا، لیکن اگر ان لوگوں کو یہی کہا جائے کہ آپ کی بیٹی کسی کسی گاﺅں میں یا پھر کم ترقی یافتہ شہر میں ہی بیاہنا چاہتے ہیں تو شاید ہی کوئی ہو جو اسے پسند کرے۔ اس غلط سوچ کا آج نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں کئی ملین لڑکیاں گھروں میں بیٹھی بوڑھی ہو گئی ہیں لیکن اعلیٰ سٹیٹس، بیرون ملک رشتے کی خواہش اور تلاش اب بھی جاری ہے، خواہ اس میں موت ہی آ جائے۔
چترال کے لوگوں کے لئے ہمارا باقی ملک بھی امریکہ، یورپ یا عرب دنیا جیسا ہی ہے، وہ بھی یہی چاہتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں اس انتہائی پسماندہ، غربت اور افلاس کے مارے ماحول و علاقے سے نکل کر ملک کے دوسرے حصوں میں چلی جائیں تو کم از کم ان کی زندگی تو مشکلات کی دلدل سے نکل جائے گی اور دوسرا یہ لوگ غربت کے مارے ہوئے ہیں اور شادی کا خرچ بھی اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے سو وہ یہی کہتے اور کرتے ہیں کہ شادی کے موقع پر لڑکی کے گھر ہونے والے چند ہزار کے اخراجات بھی لڑکا برداشت کرے اور شادی کرا کر لڑکی لے جائے۔اسی بے بسی اور مجبوری نے ان عظیم لوگوں پر عجیب و غریب داغ لگا دیا ہے اور یہ روایتیں اب ملک بلکہ بیرونی دنیا تک زبان زد عام ہیں۔ بہت سے چترالی ان کہانیوں اور روایتوں سے نالاں بھی ہیں اور نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹیاں بیاہ کر ان سے دور چلی جائیں لیکن چونکہ بھاری اکثریت تو مفلوک الحال ہے اس لئے وہ کر بھی کچھ نہیں سکتے۔ یہاں لوگوں کے بارے مشہور کہانیاں سننے اور اصل صورتحال دیکھنے سمجھنے کے بعد
میری غربت نے اڑایا ہے میرے فن کا مذاق
تیری دولت نے تیرے عیب چھپا رکھے ہیں
کے مشہور عالم شعر کا مطلب سمجھ میں آ گیا
لڑکیاں بیچنے کی بات تقریباً وہی ہے، جو سارے ملک اور تقریباً ہر گھر، ہر فرد میں پائی جاتی ہے لیکن بس تھوڑا سا انداز اپنا اپنا ہے ۔
ملک کے دیگر حصوں کے لوگوں کے لئے جہاں چترال کا حسن کشش رکھتا ہے وہیں یہاں کی اطاعت گزار، شریف النفس اور ادب و احترام کے جذبوں سے سرشار لڑکیاں بھی انہیں یہاں آنے پر مجبور کرتی ہیں۔
ان لوگوں کی اس مفلوک الحالی کا فائدہ اٹھا کر آغا خان نے اس سارے علاقے میں اپنا نیٹ ورک مضبوط کیا ہے۔ حکومتی ترقیاتی مصنوبے تو مشکل سے ہی نظر آئیں لیکن آغا خان کے ترقیاتی منصوبے جگہ جگہ نظر آئیں گے۔ آج کل چترال کو دو اضلاع اپر اور لوئر چترال میں تقسیم کرنے کی مہم بھی چل رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اپر چترال بھاری آغا خانی ہونے کی وجہ سے مکمل آغا خانیت کے نرغے میں چلا جائے گا اور یہاں آغا خانی ریاست کے قیام کے خواب کی راہ ہموار ہو گی۔ آغا خان کی جانب سے جس میدان میں سب سے زیادہ کام کیا جاتا ہے، اس میں طبی سہولیات کی فراہمی سرفہرست ہے۔ تحصیل بونی جو آغا خانیوں کا مرکز ہے یہاں آغا خان فاﺅنڈیشن کا اتنا جدید ہسپتال قائم ہے کہ پنجاب کے شاید بڑے شہر بھی اس کا مقابلہ نہ کر پائیں جبکہ چترال شہر اور دوسری مسلم اکثریتی تحصیلوں میں ایسا کچھ نہیں ۔
فلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کے فری سرجیکل کیمپ پر آنے والے مریضوں کے حالات واقعات دیکھ کر اندازہ ہوتا تھا کہ اگر یہاں سرجیکل کیمپ نہ لگتا تو یہ لوگ یقینا ان بیماریوں اور امراض کو اپنے ساتھ قبر میں لے کر اتر جاتے کیونکہ ان میں سے کسی کی اتنی سکت نہیں تھی کہ ہ پشاور، راولپنڈی یا اسلام آباد جا سکے۔ ڈاکٹر محمد ایوب دن بھر سینکڑوں مریضوں کا معائنہ کرتے۔ بے شمار کا الٹرا ساﺅنڈ کرتے اور پھر ساری رات بلکہ بعد نماز فجر بھی گردہ، ہرنیا، اپنڈکس، رسولی، بڑھی ہڈیوں اور نجانے کیسے کیسے امراض کے آپریشن کا سلسلہ جاری رہتا۔ اگلے روز تھوڑا آرام کرنے کے بعد ایک بار پھر خدمت خلق کے جذبے سے سرشار نوجوانوں محمد فاروق، محمد نعیم، محمد عبداللہ، عامر ندیم پرویز کی ٹیم کام میں جت جاتی، تین روزہ کیمپ 4دن جاری رہا، بلکہ یہاں تو دن رات کی تمیز تھی نہ صبح و شام کی.... کام، کام اور بس کام.... ایک ہی دھن تھی جو سب پر سوار تھی اور ڈاکٹر محمد ایوب، چوتھے دن بھی آخری مریض کو نمٹانے میں مصروف تھے کہ کوئی رہ نہ جائے۔ یہاں کا سرکاری ہسپتال 2سال بعدفلاح انسانیت فاﺅنڈیشن کی وجہ سے ہی ایک بار پھر اس قدر مریضوں سے کھچا کھچ بھراہوا تھا۔ لوگ فلاح انساینت فاﺅنڈیشن کے لئے یوں دعا گو نظر آتے تھے کہ جیسے فرشتوں کی کوئی ٹیم ان کے ہاں اتری ہوئی ہے۔ چترال کی اس تحصیل دروش میں 4 دن بجلی بند نہ ہوئی تو پوچھنے پر پتہ چلا کہ یہاں چند دن پہلے تک بجلی کا نشان مشکل سے ملتا تھا۔ پھر سب لوگ، تنظیمیں اورطبقات متفق و متحد ہوئے، سڑکیں بند کیں، حکومت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، عملی اقدام اٹھانے لگے تو بجلی بحال ہو گئی اوراب یہاں بجلی کبھی جاتی ہی نہیں۔ پھر یہاں کے چھوٹے چھوٹے علاقوں اور بہت سی بستیوں میں اپنی اپنی بجلی کی پیداوار کے یونٹ لگے ہوئے ہیں کیونکہ علاقہ پہاڑی اور پانی وافر ہے۔ سو لوگوں نے اپنے اپنے پاور ہاﺅس بنا کر ذاتی بجلی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ خصوصاً آغا خانی اکثریتی علاقوں میں آغا خان فاﺅنڈیشن کا اس حوالے سے کافی کام ہے۔
چترال میں کیمپ سمیٹنے کے بعد جب واپس لوٹ رہے تھے تو اس سے چند روز پیشتر آزاد کشمیر میں لگنے والے میڈیکل کیمپوں کا تذکرہ بھی شروع ہو گیا جہاں سو سے زائد ڈاکٹروں کی ٹیموں نے 3دن تک 26 ہزار سے زائد ایسے ہی مفلوک الحالوں کا گھر گھر جا کر علاج کیا تھا جن میں سے بہت سے ایسے تھے جنہوں نے شاید زندگی میں کبھی دوائی دیکھی تک نہیں تھی۔ یہ سب قافلے جب لوٹ رہے تھے تو ہر طرف سے ان کے لئے دعاﺅں کی برسات برس رہی تھی۔
اللہ کرے، یہ قافلے یوں ہی چلتے رہیں، یوں ہی دکھی انسانیت کی خدمت ہوتی رہے۔ کافروں کی سازشوں کے تاروپود بکھرتے رہیں، اسلام غالب آئے.... پاکستان زندہ و تابندہ رہے.... ہم سب بھی اس قافلہ حق کے راہی بن کر دامے، درمے، قدمے، سخنے اپنا اپنا حصہ ڈالتے رہیں۔

بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput

اسی سے ماخوذ

لکشمن بی بی اور فاطمہ بی بی !بسلسلہ،میں نے کافرستان میں کیا دیکھا

میں نے کافرستان میں کیا دیکھا


بہت اچھے اللہ سے دعا گو ہیں کہ اللہ ان تمام اعمال حسنہ کو اپنے فضل وکرم سے قبول فرمائیں

اور فلاح انسانیت فاؤندیشن کو اللہ دن دگنی رات چکنی ترقی عطافرمائين
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
غلام خان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 11:41 AM   #4
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ایسا جذبہ سبکو عطا کرے آمین
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
حسن قادری کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (16-08-11)
پرانا 16-08-11, 12:24 PM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,151
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حسن قادری مراسلہ دیکھیں
اللہ ایسا جذبہ سبکو عطا کرے آمین
جب ہم یہ دعا کرتےہیں کہ اللہ ایسا جذبہ سبکو عطا کرئے تو اس سے مراد آغا خانی بھی ہیں ؟

ہر شخص اپنے مطلب کی ہی سوچتا ہے یہاں بھی کالم نگار نے ایک اچھا مراسلہ لکھا اور چترال اور گرد و نوا کی ایک تجسس اور بے پر کی اڑی ہوئی بات کو اچھے طریقے سے عام زہنوں تک پہچانے کی کوشش کی مگر وہ بھی اپنا مطلب ظاہر کرنے سے نہ رکے ۔ ۔ ۔ یعنی انھونے آغاخانیوں کو ہی پکڑ لیا ۔ ۔ ۔ ۔۔ جیسے اصل بات یہی ہو اور اسی وجہ سے اس وزٹ پر ہوں

اب اگر آغا خانی خدمت کررہے ہوں یا کوئی ہندو ، یا کوئی عیسائی اس میں کسی کا کرنا اچھا اور کسی کا کرنا برا کیسے ہوسکتا ہے ؟
خدمت خلق ، حقوق العباد میں داخل ہے۔ اور بہترین افعال میں شمار ہوتا ہے ۔ ۔ مشہور کہاوت ہے کہ احسان کرو اور غلام بنالو۔ ۔ اپ بھی لوگوں پر احسان کریں
کسی کا احسان کرنا نیک عمل اور کسی اور کا احسان کرنا عمل بد ہونے کا فیصلہ تو اللہ ہی کرئے گا ،
تعلیم اس بات کی دیں کہ اللہ اور اس کے رسول ص ، قران پر ، یوم اخرت پر ایمان باقی رہے تاکہ وہ کسی بھی صورت میں اپنا ایمان نا بیچیں ۔ ۔ ۔
اور یہ بھی بتائیں کہ اللہ نے والدین کی اطاعت لازم ہے مگر اس وقت تک جب تک والدین شرک کی حمایت نہ کریں ، ، یعنی ہر گناہ معاف ہے مگر شرک معاف نہی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے ۔ ۔

یہ کون سا انصاف ہے کہ کوئ خدمت خلق فانڈیشن اگر صرف تین دن ۔ ۔ ۔ صرف تین دن ان لاکھوں دنوں میں سے جن میں آغا خانی جیسی تنظیمیں کام کررتی رہی ہیں کچھ لوگ صرف تین دن کی شہرت تو سارے جہان میں کریں مگر ان کی خدمات کو برباد کردیں ۔۔۔

خدمات کسی کی بھی ہوں انسانیت کی فلاح کے لیے ہیں ہاں ساتھ ساتھ کچھ مطلبی لوگ اپنا مطلب نکالتے ہیں جیسے ، ، ، مسلمانوں کی نام نہاد تنطیمیں لوگوں سے چندہ جمع کرنے کے لیے اور گھومنے پھرنے کا طریقہ نکالتی ہیں اور بجٹ کو ادھر اودھر خرچ کرکے اپنا آڈٹ کرواڈالتی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔پیسہ ہضم ۔ ۔ ۔۔

یعنی ایک تیر سے کئی شکار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور مزا الگ ۔ ۔ ۔

Last edited by حیدر Rehan; 16-08-11 at 12:30 PM.
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
پرانا 17-08-11, 11:35 PM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لوگوں نے تو "عبد الستار ایدھی" کو بھی نہیں چھوڑا ہے۔ مزہب ایک ایسا آلہ ہے جسے ہر کوئی اپنے فن کے مطابق استعمال کرتا ہے۔ حقوق العباد، حقوق اللہ تو دور کی بات، یہاں حق اور فرض کا ہی پتا نہیں ہے۔ کون اسلام کے خلاف ہے اور کون نہیں کس کو معلوم ہے۔ سیاست کا یہ حال ہے کہ اس میں بھی جہاد شامل ہو گیا ہے، شہادتیں شامل ہو گئیں ہیں
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں

اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, فری, پاکستان, پسند, واقعات, قرآن, لوگ, نماز, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, ممکن, ماں, آپریشن, آج, اسلام, اعلیٰ, بھائی, تلاش, تعلیم, خواتین, دعا, روزہ, راستہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
برطانیہ میں 25فیصد بچے پاکستانی اور انڈین خاندانوں میں پیدا ہوتا ہیں جاویداسد دلچسپ اور عجیب 5 15-12-10 12:35 AM
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:28 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger