واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


رمضان المبارک.....قرآن اور جہاد کا مہینہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-08-11, 06:14 AM   #1
رمضان المبارک.....قرآن اور جہاد کا مہینہ
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 05-08-11, 06:14 AM

رمضان المبارک.....قرآن اور جہاد کا مہینہ
عبدالہادی احمد


مسلم امت اس و قت جس قدر مصیبت میں مبتلاہے،دنیا کی کوئی اورقوم نہیں۔ذلت و خواری اورمحتاجی وغلامی کی وہ کون سی شکل ہے جو مسلمانوں پر مسلط نہیں۔ نہ صرف ساری دنیا ئے کفرمسلمانوں کو مٹانے پر تلی کھڑی ہے اور ان کے خلاف متحدہو چکی ہے،بلکہ نام نہاد مسلمان ممالک کی اکثریت بھی اپنی افواج اور اپنے وسائل کے ساتھ مسلمانوں کی تباہی اور بربادی کے لیے کفارکے لشکر میں شامل ہو گئی ہے۔وہ قوت و شوکت جو کبھی اسلام اورمسلمانوں کا خاصہ ہو کرتی تھی،ان سے چھین کرعالم کفر کے قدموں میں لا ڈالنے میںمسلمان ممالک کے صدور و سلاطین ،وزرائے اعظم اور سپہ سالار پیش پیش ہیں۔ایسا بھی نہیں کہ یہ امت غریب و مفلس ہو ،فلاکت کی ماری ہو،رونا تو یہ ہے کہ دنیا کے خزانوں پر متصرف ہے،دنیا بھر میں تیل کی دولت کے سب سے بڑے ذخائر مسلمانوں کے ہاتھ میں ہیں۔مسلمان ممالک کے سلاطین دنیا کے متمول ترین لوگوں میں شامل ہیں۔مسلمان تعداد میں بھی کم نہیں،انڈونیشیا سے مراکش تک امت کاٹھاٹھیں مارتا ہو سمندر موج زن ہے۔اتنی بڑی تعداد اور اتنے بڑے وسائل کے باوجود مسلمان عالمی اجتماعی قوت اور تاثیر سے خالی ہوگئے،اتنے بے بس ہو گئے کہ ذلت و مسکنت کی ماری ہوئی یہودی قوم ان پر غالب آگئی اور ہندوستان کے مشرک اور نجس ہندو انہیں انگلیوں پر نچا نے لگے۔ان کی پچاس سے زیادہ حکومتیں اتنی بے حقیقت ہیں کہ امریکا جیسی ناپاک صلیبی طاقت کی غلامی اور خوشہ چینی پر مجبورہیں۔مسلم امہ کی اس ذلت و خواری اورمحتاجی وغلامی کے اسباب پر غور کریں تو سب سے بڑا سب یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان قوم ترکِ جہاد کی بیماری میں مبتلا ہو گئی اور اس کے حکمران موت کے خو ف سے لرزنے لگے اور دنیا کے عیش وعشرت کے دل دادہ بن گئے ہیں۔
ظاہر ہے امت مسلمہ ترک جہاد کی جس الم ناک بیماری میں مبتلا ہوئی ہے اس کا علاج اس کے سوا کچھ نہیں کہ عالم کفر کی غلامی ترک کر کے فریضہ جہادقائم کیا جائے۔امت کے بدن سے بے عملی کا زنگ دور کرنے کے لیے روح جہاد زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔کیا عجب ہے کہ مسلمانوں پر مصیبتوں کی یلغار اسی لیے ہوئی ہو کہ ان کی سوئی ہوئی غیرت بیدار ہو۔مشیت الہٰی یہ ہو کہ مسلمان جس عظمت ورفعت سے اس ذلت اورپستی میں گرے ہیں ،دوبارہ اسے پانے کے لیے مستعد ہوں۔اگر ایسا ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کا احسانِ عظیم ہے کہ وہ ایک مردہ بدن قوم کے لیے زندگی کا سامان کر رہا ہے،امت کو جہاد وقتال کا وہ موقع پھر سے فراہم کر رہا ہے جس سے قومیں زندہ ہوتی ہیں۔جہاد یقیناً مشکلات اورجفا کشی کا راستہ ہے،لیکن اس کے بغیر عیش پرستی اور اور تن آسانی سے نجات پانا ممکن نہیں۔افغانوں،کشمیریوں،فسط ینیوں اور عراقی مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے گروہوں نے جدوجہد کا یہ راستہ اپنا کرعزت وشرف کا مقام اپنا لیا۔افغان قوم کا بچہ بچہ مجاہد فی سبیل اللہ بن گیا اور اس نے جہاد کے ذریعے پہلے روس کو شکست فاش دی اور اب امریکا اس کے ہاتھوں ناقابل یقین شکست کے دہانے پر پہنچ چکاہے۔تاہم جو کچھ ہو چکا ہے یا جو ہو رہا ہے اتنا ہی کافی نہیں،امت مسلمہ کی اجتماعی زندکی ترکِ جہاد سے برف کے بے جان تودے اور مردہ لاش کی مانند ہو چکی ہے۔ایک ٹھہرے ہوئے جوہڑ کو پاک وصاف کرنے کے لیے ایک ہمہ جہتی آپریشن درکار ہے۔اب ایسا عظیم الشان جہاد شروع کرنے کی ضرورت ہے جو مشرق ومغرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔جہاد کی زمینیں ساری امت کو پکار رہی ہیں۔کیا اب بھی ہم اس پکار پر لبیک نہ کہیں گے کہ جب کفر کی طاقتیں ہمارے بچوں،بوڑھوں اور عورتوں کوچیر پھاڑ رہی ہیں:
وَ مَا لَکُم لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَھلهَا وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیرًا۔(آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ! ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کر دے۔النساء:75)
ایل ایمان کو صاف صاف حکم دے دیا گیا ہے کہ جب شیطان حق پرستوں کے خلاف میدان میں آ جائے، تو اہل ایمان پر جہاد فرض ہو جاتا ہے:”جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ، پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔“شیطان جتنا زور اپنے شیطانی لشکروں کے متحد کرنے پر لگا رہاہے،اسی قدر قوت اور شدت سے مجاہدین جہاد کی زمینوں میں اٹھ رہے ہیں،انہیں طیاروں، میزائلوں اور ڈرونوں سے مارا اور کچلا جا رہا ہے،مگرکیا اس موت سے یہ مر رہے ہیں ختم ہو رہے ہیں؟ یہ موت تو انہیں اور بھی زندہ کر رہی ہے، انہیں حیاتِ جاودانی عطا کر رہی ہے۔ہر روز ان کے بڑی تعداد میں”ہلاک ہونے“ کی خبریں عام ہوتی ہیں،مگر اس کے باوجود وہ پوری قوت اور شان سے زندہ ہیں۔نہ صرف زندہ ہیں بلکہ دنیا کو زندہ رہنے کا قرینہ بھی سکھا رہے ہیں۔وہ تعداد میں نہایت کم ہیں،پھر بھی شیطان اور اس کے شیطانی لشکران سے خوف زدہ ہیں۔انہیں خوف ہے کہ اگرمجاہدین اسلام اسی طرح زندہ رہے اور امت کے مردوں کو قم باذن اللہ کہ کر زندہ کرتے رہے، توپوری دنیا میں اسلام کے احیائے نو کی ایک ایسی تحریک برپا ہو جائے گی جسے روکنا شیطان اور اس کے لشکروں کے بس میں نہ رہے گا۔
عالمِ اسلام میں رمضان کی پا ک ساعتیں ضو فگن ہو چکی ہیں،رمضان ویسے بھی قرآن کا مہینہ ہے۔اس مہینے اور اس میں نازل ہونے والے قرآن پاک میں پانچ سو کے قریب آیا ت ہیں جو جہاد کے بارے میں ہیں۔رمضان کا تقاضا ہے کہ اس مہینے میں آیات جہادکا پیغام دہرایا جائے اور اس پیغام کے تقاضوں پر عمل کیا جائے۔اس پیغام کا تقاضا یہ ہے کہ دنیا بھر میں مسلمانوں پرٹوٹنے والی مصیبتوں پر ہر مسلمان کا دل تڑپے۔اگرہم اپنے بھائی کی گردن کٹنے اور بہن کی عزت لٹنے کی خبر پر محض اظہار افسوس کر کے رہ جاتے ہیں اور قرآن پاک کی آیاتِ جہاد ہمیں جد جہد پر نہیں اکساتیں، تو ہمیں اپنے ایمان کا جائزہ لینا چاہیے اور یاد رکھنا چاہیے کہ وہ لوگ جو موت کے ڈر سے جہاد سے گریزاں ہیں،ا ن کوقرآن یوں ملامت کرتا ہے: اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُوْنَ يَفْقَهُوْنَ حَدِيْثًا۔’’رہی موت ، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔ اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے ، اور کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی یہ آپ کی بدولت ہے۔ کہو ، سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔“(النساء:7
جہادترک کرنے سے امت مغلوب ہے،جہاد شروع ہو گاتو حق غالب آئے گا اور باطل مغلوب ہو گا۔قرآن پاک نے جہاد کو اسی لیے لازم کیاہے تاکہ حق کا احقاق اور باطل کا ابطال ہو جائے۔لِيُحِقَّ الْحَقَّ وَ يُبْطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُجْرِمُوْنَۚ( تا کہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہو جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔الانفال:۸)
اہل ایمان کو جہاد کرنے کی صورت میں یقینی کامیابی کی نوید بھی دی گئی ہے بشرطیکہ وہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور اللہ تعالی کا ذکر کثرت سے کریں۔ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِيْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ(اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہو گی۔(انفال:45) سورئہ انفال میں ہی جنگ کی تیاری کے لیے یہ اہم آیت اتری:”اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے ان کے مقابلے کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دوسرے اعداءکو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہو گا۔“(الانفال:60) سورئہ توبہ میں وہ آیت آئی ہے جس میں جہاد کی محبت کو اللہ اور رسول کی محبت کے بعد تیسری فرض محبت قرار دیا گیا اورحکم فرمایا گیا ہے کہ اگر ان تین محبتوں پر دنیا کی آٹھ جائز محبتوں کو قربان کرنا پڑے تو دریغ نہ کرو۔جوان تین محبتوں(اللہ،رسول اورجہادکی محبت)پر دنیا کی مذکورہ آٹھ محبتوں کو ترجیح دے گا،اس کا شمار ایسے فساق میں ہو گا جن کو ہدایت نہیں ملا کرتی۔قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ ا۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِه وَ جِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِه فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِه وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ۔اے نبی ، کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ ، اور تمہارے بیٹے ، اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں ، اور تمہارے عزیز و اقارب ، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، اور تمہارے وہ کاروبار، جن کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔“(توبہ:24)
آج مسلمان جس حال میں ہیں یہ اس امت کے شایانِ شان نہیں۔اللہ کا دین غالب ہونے کے لیے آیا ہے،مغلوب ہونے کے لیے نہیں آیا۔قرآن پاک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کامقصد بتاتے ہوئے کہا ہے: هُوَ الَّذِيْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَه بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَه عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ۔’’وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ اس کو ہردین پر غالب کر دے خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو“یہ آیت قرآن کے تین سوروں (توبہ،الفتح اورالصف)میں ان ہی الفاظ کے ساتھ تین بار آئی ہے۔ہر مقام پر کہا گیا ہے کہ دین حق۔۔۔ اسلام کو ساری دنیا کے نظاموں پر غالب کرنا بعثت رسول کی غایت حقیقی ہے،یہ ہو کر رہے گاچاہے کافروں کو یہ کتنا ہی ناپسند ہو،چاہے مشرکوں کو یہ کتنا ہی برا لگے۔اب رسول اللہ اپنا فرضِ منصبی ادا کر کے دنیا سے تشریف لے گئے ہیں؛لہٰذا اسلام کو کل عالم کے نظاموں پر غالب کرنا پوری امت کا اجتماعی فرض ہے۔اس فرض کی ادائیگی ہر دور کی طرح آج کے مسلمانوں پر بھی لازم ہے۔جب تک اسلام اور مسلمان مغلوب رہیں گے، ساری امت عنداللہ گناہ گار شمارہو گی۔
اے اللہ تو ساری امت کو توفیق عطا فرما کہ وہ اس رمضان کوجو ماہ قرآن ہے،حقیقت میں قرآن کا مہینہ بنا دے۔۔۔۔اے اللہ ہمیں اس قابل بنا کہ ہم عظمت کی کھوئی ہوئی راہیں تلاش کریں۔قرآنِ عظیم الشان میں ان 480 کے قریب آیاتِ جہاد کی خصوصی جستجوکریں جن پر غور کر کے اور عمل پیرا ہو کر صحرائے عرب کے شتر بان دنیا کے امام بن گئے تھے۔اے اللہ تو ملت اسلامیہ پاکستان کو موجودہ بحران سے نکال اورسر بلندی و سرفرازی کاوہ راستہ عطا کر جسے ہم گم کر چکے ہیں۔

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 173
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (06-08-11), skjatala (06-08-11), ہادی (06-08-11), ھارون اعظم (06-08-11), راجہ اکرام (05-08-11), سیفی خان (07-08-11), سحر (05-08-11)
پرانا 05-08-11, 11:29 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,565
کمائي: 315,052
شکریہ: 25,210
16,386 مراسلہ میں 41,616 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
مکرمی عبدالہادی احمد صاحب۔ جزاک اللہ خیر
ایک اہم بات جو اس حوالے سے قابل ذکر ہے کہ اسلام میں پہلا غزوہ بھی اسی مبارک مہینے کی 17 یا 19 تاریخ کو پیش آیا۔ اور پھر اسی جہاد کے نتیجے میں دین اسلام عرب و عجم پر اپنا غلبہ اور تسلط قائم کرتا چلا گیا۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (06-08-11), ھارون اعظم (05-08-11), سحر (05-08-11)
پرانا 06-08-11, 08:30 AM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Jazak allah
. . . . . . . . . . . .
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کرتا, گیا۔, پیش, یا, قائم, قابل, نتیجے, مہینے, مبارک, آیا۔, اہم, اللہ, السلام, احمد, اسلام, تاریخ, تسلط, جہاد, حوالے, دین, ذکر, عرب, غلبہ, غزوہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:29 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger