واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


رمضان المبارک کے حوالے سے خصوصی تحریر:: رمضان اور قرآن ::از:ڈاکٹر رخسانہ جبین

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-08-11, 11:51 AM   #1
رمضان المبارک کے حوالے سے خصوصی تحریر:: رمضان اور قرآن ::از:ڈاکٹر رخسانہ جبین
JISOUTH JISOUTH آف لائن ہے 18-08-11, 11:51 AM

رو زے کا مقصد تقویٰ کی صفت پیدا کرنا ہے اوریہ تقویٰ قر آن پا ک سے ہدا یت حاصل کر نے کے لیے بھی ضروری ہے اللہ ر ب ِ کر یم و رحیم سے زیادہ کو ن اس ضرورت سے واقف ہے ۔اس نے اتنا پیار ا بندو بست کیاکہ ر مضان اور قر آن کو ایک اہم رشتے میں پرو دیا ۔جس رات قر آن نا زل کیا اس رات کا حا مل مہینہ ہی رو زوں کی مشق کے لیے مخصو ص کر دیا یہ کہہ کر کہ
شھر رمضان الذی انزل فیہ القر آن ھدی للناس و بینٰت من الھدی والفرقان فمن شھد منکم الشھر فلیصمہ ط
’’ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیاجو انسانوںکے لیے سرا سر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جو راہ راست
دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے ۔لہذا اب سے جو شحض اس مہینے کو پائے ،اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھی‘‘(سورۃ البقر ہ: 185)
قر آن رہتی دنیا تک اللہ کا واحد محفو ظ اور مکمل کلام ہے اور امت مسلمہ اس کی امین ہے اور اس پر یہ بھاری ذمہ داری اللہ نے ڈا لی ہے کہ اس نے محض خو د ہی اس پرعمل نہیں کر نا بلکہ پوری دنیا کے انسانوں تک اس کو پہنچا نا ہے ۔
اس شہادت علیٰ النا س کے فر یضے کو ادا کر نے کے لیے کس قسم کا کر دار ،کیسی مضبو ط شخصیت اور کیسا تقویٰ مطلو ب ہے رو زہ اور قرآن دو نوں کو ایک ما ہ میں یکجا کر کے اللہ رب العزت اس شخصیت و کردار کی تعمیر کر نا چا ہتا ہے ۔رو زہ کے ذریعے تقویٰ پیدا ہو ۔ اس کے ذریعے قرآن کو سمجھنے کی استعداد پیدا ہو اور بندہ مو من اس کو لے کر اٹھ کھڑا ہو ۔لہذا اس نے دن اور رات کے معمولا ت ایسے مقررکیے کہ دن کو رو زہ ر کھیں اور رات کو قیام الیل کریں، قر آن پڑ ھیں ،سنیں اور اپنے رب کے احکامات جا نیں اور عمل میں ڈھا لنے کی مشق کر یں ۔اتنا خو بصورت، مکمل ،حکمت سے بھر پور طر یقہ تر بیت اللہ ر ب العا لمین کے علا وہ کو ئی اور ہستی بناہی نہیں سکتی ۔ اور لا کھوں کروڑوں درودو سلام نبی رحمت ؐ پر جنہوں نے اس خا کے میں عملی ر نگ بھرے اور اپنی عملی را ہنمائی سے امت مسلمہ کے لیے وہ مثا لی نمو نہ فرا ہم کیا۔جس نے عر ب کے بدو ئوں کو ان صحا بہ کرام ؓ میں ڈھال دیا جو رہتی دنیا تک رو شنی کے مینار ہیں ۔تقویٰ ،صداقت ،امانت ،صبر و تحمل ،احسا س ذمہ داری ،خشیت الہی ،فکر آخرت اور اعلیٰ انسا نی و اخلا قی اقدار کی وہ مثا لیں قائم کیں جن کا نمو نہ ان کے بعد کو ئی نہ بن سکا ۔ان بہتر ین پیشوائوں نے بہتر ین طریقے سے قر آن کا نظام دنیا میں نا فذ کیا۔ اور دنیا نے عدل اور امن کی بہار دیکھی ۔خو شحالی اور مالی فر وا نی کا دوردورہ دیکھا ،با ہمی محبت ،امن و بھا ئی چارہ کے اعلیٰ نمو نے دیکھے ۔یہی تو اتما م تھا اسلام کے نظام تر بیت کا ،یہی تو مطلو ب و مقصود تھا کہ نما ز ،رو زے ، حج ،عمرے ،زکو ۃ کی عبادات کے ذریعے ۔وہ انسان دنیامیں ابھر یں جو اللہ کی زمین پر اللہ کا بنا یا ہو امثا لی نظام قا ئم کر یں اور بندوں کو بندوں کے ہا تھوں پہنچے ہو ئے دکھوں سے نجات دلائیں ۔
صفحہ نمبر
رمضا ن قر آن اور آج کا انسا ن :۔
آج کا انسان دکھوں کا ستا یا ہوا ہے بے سکونی ،بد امنی ،ڈپر یشن اور طر ح طر ح کے ذہنی امرا ض میں گھرا ہوا ہے انسا نیت نے ر با نی چشمہ ہدا یت سے منہ مو ڑ کر دنیا کو نفسا نیت کی بھینٹ چڑ ھا دیا ہے ۔ما دیت پر ستی ،مفا دات اور شہرت و دو لت کی بھو ک نے اعلیٰ اقدار تباہ کر دی ہیں (الھٰکم التکا ثر ) انسان ،انسا ن کا دشمن بن گیا ہے ۔حسد اور شر نے سکون بر باد کر دیا ہے قو میں ،قوموں پر چڑھ دوڑ ی ہیں ۔خو نی جنگیں جا ری ہیں ۔آج نفسا نیت اور خو د غر ضی کے ان پجا ریوں کو پہلے سے کہیں زیا دہ اسلام کے اس نظام تر بیت کی ضرورت ہی۔ آج انسا نیت پیا سی بھی ہے اور ضرورت مند بھی کہ یہ آب حیات لے کر کوئی اس کے پا س جا ئے ۔اندھیروں میں بھٹکتے ہو ئے اللہ کے بندوں تک اللہ نورالسموت و الارض کا نورا نی کلام اور پا کیزہ احکام پہنچائے ۔رمضان ایک مثا لی مہینہ بن سکتا ہے اگر امت مسلمہ اس مہینے کو اس شان و شو کت اور آب و تا ب کے ساتھ گزارے کہ یہ شہادت حق کا نمو نہ بن جائے ۔دیکھنے والے سر کی آنکھوں سے دیکھیں کہ ایک ماہ کی تربیت پا کر کیسی آب وتاب وا لا نسا ن اٹھ کھڑا ہوا۔
دیکھنے والے یہ دیکھیں کہ مشرق وسطیٰ سے لر کر ایشیا ،افر یقہ اور امر یکہ و یورپ تک ایک پا کیزہ فضا ہے ہر طرف نورانیت ہے ،محبت ہے ،ذکر ہیں ،دعائیں ہیں ،قر آن پڑ ھا جا رہا ہے ،سچائی ہے ،اما نت و دیا نت ہے ،قتل و غارت ،چوری چکاری ،لڑا ئی مار کٹا ئی ،گالم گلو چ ،شہوت و بے حیائی سب کچھ یکسر بند ہو گیا ہے ۔امن کا دور دورہ ہے ۔پا کیزہ فضا ئیں ہیں ،معطر ہو ائیں ہیں ۔انسا نی ہمدردی اور اخوت کی اعلیٰ مثا لیں ہیں ،افطاریا ں کرا ئی جا رہی ہیں ،کوئی بھوکا نہیں ،کوئی مجبور نہیں فطرا نہ دیا جا ر ہا ہے ،کپڑے اور راشن تقسیم ہو رہے ہیں ،محبتیں با نٹی جا رہی ہیں کیا رمضان ہے ! کیا اس کی رو ح ہے ۔کیا اعلیٰ تصور ہے کا ش ہم یہ عملی مثا لیں قا ئم کر سکیں ۔
فر مان نبی رحمت ؐ ہے کہ ’’جس نے رمضان کے رو زے رکھے ایمان اور احتساب کے ساتھ رکھے تو اس کے وہ سب گنا ہ معاف کر دیے جائیں گے جو اس سے پہلے سر زد ہو ئے ہو نگے ۔اور جس شخص نے رمضان میں قیام کیا ایمان اور احتساب کے ساتھ تو معا ف کر دیے جائیں گے اس کے وہ قصور جو اس نے پہلے کیے ہو نگے ‘‘ ۔ (متفق علیہ )
یعنی روزہ اور قرآن شفاعت تو کر یں گے لیکن شر ائط کیا ہیں ’ایمان اور احتساب ‘ ایمان تو خیر کسی بھی عمل کے نا فع ہو نے کی بنیادی شرط ہے ور نہ تمام نیک اعمال بھی حیات و دنیا کے ساتھ ہی ختم ہو جا تے ہیں اور جتنا اجر ملنا ہو، جس بھی صورت میں، وہ اس دنیا میں ایک کا فر حا صل کر لیتا ہے آخرت میں کو ئی حصہ نہیں ہو تا کیو نکہ ایک کافر ایمان کو حیاتِ دنیا کے عو ض بیچ چکا ہو تا ہے جبکہ مومن اپنے جان مال، اللہ کی رضا اور خوشنودی کے عوض اس کے ہاتھ بیچ چکا ہوتا ہی۔
’’ ان اللہ اشتری من المؤمنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنۃ (التوبہ:11)
’’حقیقت یہ ہے کہ اﷲ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں‘‘
یہی اصل ایمان ہے کہ جو کچھ ہی، اے ربّ !تیرے لیے اور تیرا ہی۔جان ہو یا مال ۔ جو تیرا حکم ہے وہ سرآنکھوں پر، میری مرضی، میری
صفحہ نمبر
خواہش، سب کچھ تیری رضا پر قربان۔ احتساب کیا ہی؟‘ـ اپنا جائزہ، نیت کا کہ کتنی خالص ہی؟ عمل کتنا درست ہی؟ بھلاکتنے
انسان ہوں گی، جو روزہ رکھ کر اپنا احتساب بھی کرتے ہوں گی۔ جائزہ لیتے ہونگے کہ کتنے اعضا ء کا روزہ ہی؟ محض بھوک پیاس ہے یا واقعی آنکھوں، کانوں زبان، ہر عضو نے روزہ رکھاہی۔ کتنے لوگوں کو یہ حدیث یاد ہوگی کہ
’’ کتنے ہی روزہ دار ہیں جنہیں روزوں سے بھوک پیاس کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اور کتنے ہی قیام کرنے والے ہیں، جنہیں رت جگے کے سوا کچھ نہیں ملتا‘‘ (ابن ماجہ )
ایسے کون لوگ ہوتے ہیں،ذرا جائزہ تو لیں۔ روزہ رکھا ، جھوٹ نہ چھوڑاـ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر مال بیچا۔ رمضان آیا ۔ مال کی قیمت بڑھا دی۔ ناجائز منافع خوری شروع کر دی۔ عید آرہی ہی، خرچ بڑھ جائے گا۔ دودھ میں پانی ملا دیا۔ اچھا دکھا کر گلا سڑا پھل تھیلے میں ڈال کردے دیا۔ ملازمت کے اوقات میں ڈنڈی ماری۔ دیر سے آئی، جلدی گھر چلے گئے اور روزے رکھ کر خیانت کے مرتکب ہوگئی۔ ٹریفک کے ناکے زیادہ کر دئےیـ رشوت کے ریٹ بڑھا دئےی۔ رمضان میںتوعیدی بنانی ہی۔ یہ اور اس طرح کے سارے افعال جھوٹ کی قسمیں ہیں اور روزے کے اجر کو چاٹ جانے والی ہیں۔ سیر بھر اجر کمایا، من بھر گناہ کر لےی۔اس لیے روزے رکھ کر احتساب ضروری ہے کہ اجر حاصل ہو رہا یا ضائع ہو رہا ہی۔ اور یہ احتساب ہر طبقہ زندگی کے افراد کے لیے ضروری ہی۔ عورت ہے یا مرد، استاد ہوں یا علماء، تاجر ہوں یا ڈاکٹر، حکومتی اہلکار، عدلیہ، سیاستدان، کسان یا مزدورسب اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی دیانتداری پر نظر ڈالیں۔ اور جائزہ لیں کہ روزہ کتنا درست روزہ ہی۔ جس کے رو زے کے ساتھ جتنا احتساب اور محنت ہو گی ان شاء اللہ اتنا ہی وزنی رو زہ ہو گا میزان عمل کو بھاری کرے گا ۔قیام کے ساتھ بھی احتساب کی شر ط لگا ئی ۔
رمضان کا قیام الیل، سماع قر آن کے ساتھ مشر وط ہے رات کو تراویح پڑ ھی جا تی ہے اور اسمیں قر آن سناجا تا ہے قر آن اللہ تبارک و تعالیٰ کا پا ک کلام وہ رحمتوں اور برکتوں کا خزا نہ جو دنیا بھر کے خزانوں سے قیمتی ہے اور جس کے ملنے پر اللہ نے جشن منا نے کو کہا ۔
’’لو گو تھمارے پاس تمھارے رب کی طر ف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلو ں کے امراض کی شفا ہے جو اسے قبول کر لے ان کے لیے راہنمائی اور رحمت ہے اے نبی کہو کہ ایہ اللہ کا فضل اور اس کی مہر بانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی اس پر تو لو گو ں کو خو شی منا نی چا ہیی۔یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لو گ سمیٹ رہے ہیں ‘‘ (سورہ یونس 57 تا
اور رمضان کو تو خیر و بر کت کی سعادت بھی اس قر آن کی وجہ سے ملی کہ اللہ نے یہ پا ک کلام اس ماہ میں نا زل فر مایا ،اور پھر رب کر یم نے رمضان المبارک میں قرآن کی کم از کم ایک مر تبہ مکمل دھرا ئی کا انتظام کیا۔تر وایح کی صورت میں کہ اللہ کے بندے سال میں کم از کم ایک مر تبہ اپنے رب کے احکا مات سے پوری طر ح با خبر ہو جائیں، وہ ہدا یات دھرا لیں جو ان کے مالک نے زند گی گزارنے کے لیے دی ہیں ۔
اپنے اعمال کو اس کے مطا بق پر کھ لیں ۔اپنی غلطیاں درست کر لیں گو یا ر مضان المبار ک کی ہر رات پکا ر تی ہو ئی آتی ہے ۔کہ اللہ کے بندو آئو اپنے ر ب کی پکار سنو ! آئو دیکھو اور جا نو کہ فلا ح کا را ستہ کو نساہے ؟ آئو یہ سمجھو کہ رمضان تمھارے لیے تقویٰ کے حصول کا با عث کیسے بن سکتا
صفحہ نمبر
ہے ؟ رو زہ تمھارے کر دار کو جلا کیسے بخش سکتا ہے ؟
یہ قیام الیل بڑے جلیل مقا صد کا حا مل ہو تا ہے اگر احتساب کے ساتھ ہو، اگر مسلمانوں کو قر آن کی سمجھ آ ر ہی ہو ۔اگر وہ اسکی رو ح سے آشنا ہوں انہیں سمجھ آ رہی ہو کہ انکا رب کن با توں کا حکم دے رہا ہے کن کاموں سے منع کر رہا ہے ؟ کس میں اس کی رضا ہے اور کس میں نا راضگی ،کو نسا را ستہ جنت کو جا تا ہے اور جہنم میں لے جا نے والے اعمال کو ن سے ہیں اللہ کے پیارے بند ے جب را توں کو کھڑے ہو کر اپنے رب کا کلام پا ک سنتے ہیں تو انکی آنکھیں تر ہو جا تی ہیں انکا دل خشیت الہیٰ سے بھر جا تا ہی۔انما المو منون الذین اذا ذکر اللہ و جلت قلو بھم واذا تلیت علیھم ایتہ زادتہم ایما نا ً و علیٰ ربھم یتو کلون۔
’’سچے اہل ایمان تو وہ لو گ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرز جا تے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑ ھی جا تی ہیں تو ان کا ایمان
بڑھ جاتا ہے اور وہ اپنے رب پر اعتماد رکھتے ہیں ۔‘‘ (سور ۃ الا نفال: 2)
اسی کا نام تقویٰ ہے اور اسی کیفیت کے تحت وہ رمضان کے دن گزارتے ہیں ۔۔۔ قر آن کے ساتھ جڑ جا تے ہیں ۔دن بھر انہیں اللہ اور اس کے احکام یا د رہتے ہیں۔ وہ قد م قدم پر اپنا محا سبہ کر تے رہتے ہیں ۔۔۔۔ پھر اگلی را ت آجا تی ہے پھر قر آن سنتے ہیں اور ایمان بڑھتا چلا جا تا ہے اعمال نکھر تے چلے جا تے ہیں گناہ دھلتے چلے جا تے ہیں یہاں تک جب پہلا عشرہ رمضان گزرتا ہے تو رو زہ دار اللہ کی رحمت کو حا صل کر چکے ہو تے ہیں ۔۔۔ دن گزرتے جا تے ہیںشوق و محبت بڑھتا جا تا ہی۔ مو من کا تعلق اپنے رب اور قرآن سے مزید مضبو ط ہو تا چلا جا تا ہے اس کی دعائوں میں اور ذکر میں سوز آجا تا ہے تقویٰ کی اگلی منزلیں طے کر لیتا ہے اور دوسرا عشرہ گزرنے تک مغفرت کا حقدارہوجاتاہے ۔اور آخری عشرہ رمضان کے تو کیا کہنے بندے کی خشیت الہیٰ اور حب الہیٰ اتنی بڑھ جا تی ہے کہ وہ سب کچھ تر ک کر کے رب کے در پڑتا ہے وہ دس دن کے لیے ر ب کی چو کھٹ تھا م لیتا ہے اب وہ ہو تا ہے اس کا رب ،اس کا کلام پاک ،ذکر اور دعا ،آنسو اور آ ہیں اور نیکیوںں کی کثرت اور پھر اللہ تعالیٰ آتش دو زخ سے رہا ئی کا فیصلہ فر ما دیتا ہے ۔
لیکن افسوس !کتنے لو گ اس کیفیت اور جذبے سے قرآن پاک پڑ ھتے ہیں ؟کتنے اس احتساب کے ساتھ قیام الیل کر تے ہیں ؟ اکثر یت کا حال کیا ہے ؟ اس کا جا ئزہ لینا چا ہیے اور اپنی کیفیات کا بھی ۔پہلی بد نصیبی تو یہ ہے کہ اکثر یت کو قر آن کی سمجھ ہی نہیں آتی ۔نہ قرآن پاک تر جمہ سے پڑ ھا ،نہ سیکھا ،نہ اسکی کو شش کی ۔زند گی میں انگلش بھی ٹیو شن رکھ رکھ کر پڑ ھی ،فز کس ،کیمسٹری کے لیے اکیڈمیوں میں جاتے رہے ۔بچوں کے لیے کئی کئی ہزار کے خر چے کیے کہ کیر ئیر کا سوال ہی۔ ایسے کتنے خوش نصیب ہو نگے ہمارے معا شرے میں جو قر آن پا ک سمجھنے کی خاطر بھی اپنے لیے بھی اور بچوں کے لیے بھی ٹیوشن کا بندو بست کر تے ہو نگے کہ زند گی بھر کا نصاب ہے اس کو جان لیں ! آہ بد نصیبی انسان ان تمام کتابوں کے پڑ ھنے اور سیکھنے کا کتنا اہتمام کر تا ہے جو ہر کلاس کے ساتھ بدل جا تی ہیں کلاس اوّل سے لے کر کلاس دہم تک دس مر تبہ کتا بیں خر یدتے ہیں اور پڑ ھتے ہیں اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے تو کوئی حد ہی نہیں اعلیٰ سے اعلیٰ کتاب اور تو اور مقا بلے جا ری ر ہتے ہیں ! جبکہ خالق و مالک نے زند گی بھر کے لیے ’ایک اور صرف ایک ‘ کتاب نا زل کی ہے اور زند گی میں ڈھیروں کتا بیں رٹ لینے والے
صفحہ نمبر
انسا نو ں کا رو یہ اس کتا ب کے بارے میں کیا ہے ۔
اس کتاب سے بے اعتنائی! جو زند گی بخشنے والی ہے جو عرو ج کے زینوں پر چڑھا نے والی ہے ۔وہ کلام الہی،ٰ جس کی اقامت پر اوپر سے رزق بر سنے اور نیچے سے رزق لینے کی نو ید سنائی گئی ، مگر ان کے لیے جو اس کا حق ادا کرتے ہیں۔
’’ کا ش انھوں نے تو رات اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہو تا جو ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں ۔ایسا کر تے تو ان کے لیے اوپر سے رزق بر ستا اور نیچے سے اُبلتا ۔اگر چہ ان میں کچھ لو گ راست رو بھی ہیں لیکن ان کی اکثر یت سخت بد عمل ہے ‘‘۔(سورۃ المائد ہ: 66 )
ہاں کہیی! رمضان تو قر آن کا مہینہ ہے ۔ہم تراویح میں قر آن سنتے ہیں ۔آخری عشرے میں شبینے ہو تے ہیں ۔لیکن ہمارے اوپر بھوک اور غربت مسلط ہے ۔خشک سالی ہے اور مصائب ہیں
ہاں ہم رمضان میں تین بار قر آن پا ک ختم کر تے ہیں !اور شا ید اس سے زائد بھی ۔۔۔۔۔
دیکھنا یہ ہے کیسا سنتے ہیں اور کیسا پڑ ھتے ہیں اور اس وقت قرآن کے ساتھ ہمارا عملی رویہ کیا ہی۔
قرآن انقلاب کی کتاب تھی صرف ثواب کی کتاب بنا دیا
یہ اعمال کی کتاب تھی وظیفوں کی کتاب بنا دیا
سمجھنے کی کتاب تھی پڑ ھنے کی کتاب بنا دیا
زندوں کا دستور تھا مُردوں کا منشور بنا دیا
تسخیر کائنات کا درس دینے آئی تھی صرف مدرسوں کا نصاب بنا دیا ۔
مر دہ قوموں کو زندہ کر نے آئی تھی مُردوں کو بخشوا نے پر لگا دیا ۔
یہ ہم نے کیا کیا ؟
کیا رمضان میں اس رو یے میں تبد یلی آتی ہے ؟
عملاً کیا ہو تا ہے یہ دل کا ایک درد ہے جسے بیان کر تے ہوئے دل خون کے آنسو رو تا ہے
آخری عشرے میں مسا جد میں خو ب چر اغاں کیا جا تا ہے طا ق را توں میں شبینے ہو تے ہیں کسی مسجد میں پا نچ را تو ں میں قر آ ن ختم کیا جا تا ہے اور کسی میں دس راتوں میں ۔ہو سکتا ہے کہیں معیاری طر یقے سے قرآن پڑھا جا تا ہو لیکن عمو ما ً تو رو شنی کی رفتار سے پڑ ھتے ہوئے حفا ظ ہو تے ہیں اور او نگھتے ہو ئے مقتدی (الا ما شا ء اللہ )
سچ بتا ئیں یہ قر آن ہمارے حق میں حجت ہو گا یا ہمارے خلا ف ؟؟
وہ قرآن جو ساری بیماریوں کی شفا بن کر آیا ہی۔ جس نے عر بو ں کی زند گیوں میںانقلا ب بر پا کر دیا تھا ۔جس کے ذریعے وہ چند سال کے
صفحہ نمبر
اندر اندر دنیا کے حکمران بن گئے تھی، اسی قر آن کو ہم نے مذاق بنا دیا ! قیام الیل کا مفہوم ہی کھو دیا ! قیام تو رہ گیا رو ح نکل گئی ،جیسے مسجد میں دا خل ہو تے ہیں ،ویسے ہی کو رے کے کورے با ہر نکل آتے ہیں حا لا نکہ پو را پا رہ سنتے ہیں ! اور امید رکھتے ہیں کہ یہ سماعت قر آن ہماری شفاعت کرا ئے گی ہمارے گناہ معاف کرا ئے گی ؟
کہاں رہ گیا وہ ایمان اور احتساب ؟ نہ دل کی کیفیت بد لی نہ سو چ ۔نہ عمل ! کیا سنا ؟ کیا سمجھا ؟
دنیا میں ہی دیکھیں ، کیا حا لت ہے ! اتنا قر آن پڑھا جا رہا ہے پڑ ھا یا جا رہا ہے ،سنا جا رہا ہے ہر سال ،ہر رمضان میں ،لیکن ہم جیسے رمضان میں دا خل ہو تے ہیں ویسے ہی نکل آتے ہیں نہ قلبی کیفیت بد لتی ہے ،نہ اخلا ق ،نہ کردار ،نہ ذا تی زند گی میں تبد یلی ،نہ اقوام کی حا لت میں تغیر ۔قر آن پڑ ھ رہے ہیں حا مل قر آن ہیں لیکن کا فروں کے غلام ہیں ذلت و مسکنت دن بدن بڑ ھتی جا رہی ہے ۔اگر چہ ہم قر آن کا احترام کر تے ہیں ،چو متے ہیں ،اونچا رکھتے ہیں ! اسکی طرف پشت نہیں کر تی۔ لیکن عملی زند گی میں شا ید یہی واحد کتا ب ہے جسے پس پشت ڈال کر ہم ہدا یت Oxford اور Haward سے حا صل کر رہے ہیں ۔
آئیے عہد کر یں اس رمضان قر آن پا ک کو سمجھنے کی کو شش شروع کر دیں گے کم از کم اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں رات کو جو پارہ سننا ہے دن میں اس کے تر جمے پر ایک نظر ڈا ل لیں اور پھر ایسا منصو بہ بنائیں کہ اگلا رمضان آنے تک ہم نے اتنا تر جمہ قر آن تو ضرور سیکھ لیا ہو کہ ہمیں مفہو م سمجھ میں آنے لگے کم از کم تذکیری آیات کو آسانی سے سمجھ سکیںاگر ہم رو زانہ پانچ آیات پڑ ھیں تو ساڑھے تین سال میں تر جمہ مکمل طور پر سیکھ سکتے ہیں اور اس کا آغا ز اس رمضان سے لا زما ً کر دیں گے شاید کہ جنت کے دروازے ہمارے لیے بھی کھل جا ئیں ! شاید کہ ہماری زند گی کا رُخ بد ل جائے شاید کہ امت پرچھائی ذلت و مسکنت دور ہو جائے ۔

plz visit
رمضان المبارک کے حوالے سے خصوصی تحریر:: رمضان اور قرآن | قلم کارواں

JISOUTH
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 66
شکریہ: 16
53 مراسلہ میں 142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 107
Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, ٹریفک, پیارے, پاک, قدم, قرآن, نظر, مکمل, منشور, محبت, مسجد, آج, ایمان, اللہ, انگلش, اسلام, استاد, اعلیٰ, جھوٹ, حدیث, خون, دیکھو, روزہ, رمضان, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رمضان کی خصوصی عبادات و وظائف بنت آدم ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 40 08-09-11 09:47 PM
عبادت و بندگی - رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی تحریر گوہر عبادات 0 25-08-09 04:01 AM
عبادت و بندگی - رمضان المبارک کے موقع پر خصوصی تحریر گوہر عبادات 0 25-08-09 04:00 AM
علامہ اقبال ڈے خصوصی مقابلہ جات محمدعدنان خاص آفرز اور اعلانات 3 08-11-08 06:30 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger