واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


رمضان میں معرکے،چھٹی اور مائک مولن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-11, 02:22 PM   #1
رمضان میں معرکے،چھٹی اور مائک مولن
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 23-08-11, 02:22 PM

روس کیخلاف جہاد کے دوران امریکی خفیہ تنظیم سی آئی اے نے پاکستان سے اپنے ہیڈ کوارٹرز خفیہ رپورٹ بھیجی پاکستانی عہدیداران جب عمر میں سے پچاس کا ہندسہ عبور کر جاتے ہیں تو پھر انہیں آخرت کی فکر بے حد دامن گیر ہو جاتی ہے اور تب یہ اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے اور نہ ہی ہمارے قابو میں آتے ہیں۔ نہیں معلوم افغان جہاد کی یہ خفیہ رپورٹ حالیہ امریکی فوجی سربراہ جناب مائیک مولن نے پڑھی تھی کہ نہیں، مگر ان کی قسمت دیکھئے کہ انہوں نے امریکا کے لئے ایک ایسے نادان دوست کا کردار ادا کر ڈالا کہ دنیا کے ہر لٹریچر میں جس سے بہرصورت عقلمند دشمن بہتر قرار دیا جاتا ہے، خیال آتا ہے کہ مائیک مولن اتنے سادہ تو ہرگز نہ ہوں گے کہ انہیں اپنے مفاد و عناد کا پتا نہ چل سکے، ہاں مگر یہ ضرور ہے کہ شاید اب کے امریکا کو مار ہی افغانیوں نے وہ ماری ہے کہ جسم کے ساتھ ساتھ دماغ تک کی چولیں ہل کے رہ گئی ہیں۔بہرحال وجہ جو بھی ہو، نتیجہ وہی نکلا ہے جو ہمارے اردو کے شاعر کو بھگتنا پڑا تھا، وہی جس کی ”دعا“ خود اس کے خلاف ”دغا“ ہو گئی تھی اور جو بعد میں ہر ایک کو اپنی داستانِ غم کچھ یوں سناتا پھرتا تھا....
میں نے پھولوں کی آرزو کی تھی
میری آنکھ میں موتیا اتر آیا
یادش بخیر، ابھی پچھلے ہی ہفتے دنیا کی سب سے جدید فوج کے سربراہ مائیک مولن نے ایک امید اور ایک آرزو کا اظہار کیا تھاکہ ”امید ہے طالبان رمضان المبارک میں چھٹی پر جائیں گے“ دراصل ان دنوں امریکا پر وہ تابناک دن طلوع ہوا ہے کہ جس کی روشنی میں امریکا کے اندھیرے بہت واضح دکھائی دینے لگے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ سخت جان افغانیوں کی مار نے اس عہد کی ایک اور سپرپاور کو قبرستان تک یوں پہنچا دیا ہے کہ ایک طرف اب وہاں کے مرد فوج سے بالکل ویسے ہی توبہ تائب ہو چکے ہیں جیسے محلے کا کوئی شریر اپنی شرارت کے بعد اہل محلہ کی جوتیاں کھا کر ناک سے لکیریں تک نکال دیتا ہے، چنانچہ اب امریکا کی سوچ یہ ہے کہ امریکی فوج میں ہم جنس پرستوں کی بھرتی پر جو پابندی عائد تھی وہ اٹھا دی جائے اور دوسری طرف معیشت کا دیوالیہ یوں نکلا ہے کہ فوجیوں کو دینے کو تنخواہیں نہیں اور ملک چلانے کو جیب میں پھوٹی کوڑی نہیں، ادھار لے لیا گیا ہے مگر یہ سودی مہاجنوں سے لیا گیا ادھار امریکی خستگی میں سوائے تیزی لانے کے اور کوئی سہارا نہ دے سکے گا۔ چنانچہ دنیا کی معیشت میں جو ریٹنگ امریکا کی تھی اب وہ ٹرپل اے سے ڈبل اے پلس ہو کر ایک درجہ نیچے آ گئی ہے اور یہ امریکی تاریخ میں پہلی دفعہ ہوا ہے، یہ تو پہلی دفعہ ہوا ہے مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ آگے ایسا بار بار ہونے جا رہا ہے۔
ہمارے ہاں مقرر خطاب سے پہلے مائیک پر زور سے انگلی مار کر چیک کرتے ہیں کہ آیا مائیک آن بھی ہے یا نہیں، جس طرح کی امیدوں کا اظہار موصوف کر رہے ہیں، اس بناءپر مائیک مولن کو بھی چیک کیا جانا چاہئے، مجھے تو وہ آن نہیں لگتے۔ دراصل مائیک صاحب نہیں جانتے کہ مسلمانوں اور دیگر قوموں کی چھٹی میں کیا فرق ہے؟ دوسری دنیا اپنے دنیاوی مسائل کو اہم جبکہ ہم اخروی معاملات کو اہم تر سمجھتے ہیں۔ ان کے ہاں چھٹی کا تصور یہ ہے کہ ملازمت سے جان چھڑاﺅ اور عیش و طرب میں ڈوب کر یوں موج مستی کرو کہ انسانیت بھی شرما جائے جبکہ ادھر جسم سے روح کا رشتہ قائم رکھنے جتنا کما کر باقی حیات مستعار، اگلی زندگی سنوارنے اور سجانے میں کھپانے کی کوشش کی جاتی ہے اور مسلمانوں سے بڑھ کر یہ کون جانتا ہے کہ جنت کی طرف شارٹ کٹ ترین اگر کوئی راستہ ہے جسے موٹروے کہنا چاہئے تو وہ جہاد ہے۔ جہاں تک بات رمضان کی ہے تو بھولے عیار مائیک کو کیا پتا یہاں تو رمضان میں دوسرے سب کاموں سے چھٹیاں لے کر عبادت گاہیں آباد کی جاتی ہیں۔ رمضان تو وہ عہد بہار ہے کہ جب مساجد معمور، گھر پرنور اور ہمارے سارے شیڈول خلاف دستور ہو جاتے ہیں۔ مسلمان اس ماہِ مقدس میں بھلا چھٹی پر کیسے چلے جائیں کہ اس مہینے تو چھٹی کرنا مائیک صاحب کے گرو شیطان کا کام ہے۔ پھر مسلمانوں کی چھٹی کا اگر مائیک کو پتا ہوتا تو وہ جانتے، یہاں تو جتنی بڑی چھٹی ہو اتنی عبادات زیادہ ہونے لگتی ہیں۔ بھلا عید سے بڑھ کر کیا کوئی چھٹی کا دن ہو گا مگر ہمیں تو اس دن چھٹی کی ”پاداش“ میں ایک اضافی نماز پڑھنا ہوتی ہے۔
مائیک ہی کو نہیں ان کے لاﺅڈ سپیکروں تک کو خبر ہونی چاہئے کہ رمضان مسلمانوں کی عسکری اور جہادی زندگی میں کیا حیثیت رکھتا ہے۔ بخدا یہ وہ واحد موقع تھا کہ اگر مسلمانوں نے عسکریت سے چھٹی پہ جانا ہوتا تو ضرور چلے جاتے، کہ جب خشک کھجوروں سے سحروافطار کے بعد پورا دن بھوکے پیاسے معرکوں میں استقامت دکھانا، شہ رگ کٹوانا اور خون بہانا آسان نہیں ہوتا، قطعاً آسان نہیں ہوتا۔
مگر اسلامی تاریخ کا پہلا معرکہ ”بدر“ جسے قرآن نے فرقان کہا، اور جس کی نظیر تاریخ انسانی دینے سے قاصر ہے، وہ اسی رمضان کی 17تاریخ کو لڑا گیا، جب بے بس و بے مایہ، مفلس و بے اماں لوگ وقت کے فرعونوں سے جا ٹکرائے تھے، وہ اہل ایمان کہ جو کچھ گھوڑے، چند تلواریں اور کھجور کی ٹہنیاں لئے ایک غرقِ آہن فوج سے یوں ٹکرائے تھے کہ پھر میدان دشمن کے ستر سرداروں کے لاشوں سے اٹا پڑا گواہی دیتا تھا کہ مسلمانوں کی رمضان میں چھٹی کیا معنی و مفہوم رکھتی ہے اور مسلمان تو اس سے بھی پہلے 1ہجری میں پرچم اٹھائے سر یہ حمزہ کے لئے تیس سواریوں پر سوار سیف البحر تک رمضان ہی میں نکلے تھے، مگر ٹاکرا نہ ہو سکا تھا۔
پھر یہ 5ہجری کا رمضان تھا کہ جس میں غزوہ بنو مصطلق ہوا اور 8ہجری کے رمضان میں تو وہ ہوا جس نے اسلام کی طرف لوگوں کا دیوانہ وار رخ موڑ دیا، وہی فتح مکہ کہ جس پر قرآن نے گواہی دی، جب اللہ کی اعانت و فتح آ پہنچی تو آپ نے ملاحظہ کر لیا کہ لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔ جی ہاں، یہ رمضان ہی کا واقعہ ہے، بیسویں رمضان المبارک کا! جب ابو سفیان بھی مسلمان ہوا، بے شمار قیادتِ کفر مشرف بہ اسلام ہوئی اور جب رب کا دھرتی پہ پہلا گھر بیت اللہ بتوں سے پاک کیا گیا!!
پھر یہ وہی ماہِ مبارک ہے جس میں مجاہد اسلام، خلیفہ چہارم اور دامادِ رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ بدبخت عبدالرحمن بن ملجم حمیری کے ہاتھوں کوفہ میں منصبِ شہادت پر فائز ہوئے۔ حملہ 19رمضان کو ہوا، شہادت اکیسویں رمضان کو ہوئی اور آنجناب کی عمر مبارک تب 63برس تھی۔
اور پھر یہ ”رمضانی تاریخ“ تھمی نہیں، بلکہ 92ہجری کے رمضان میں ہم نے یورپ کے دروازوں پہ دستک دی اور اندلس فتح کر لیا۔ 114ہجری کا رمضان تو ہمیں کبھی نہ بھولے گا کہ عبدالرحمن غافقی کی قیادت میں، اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے عہد میں فرانس کے خلاف ہم نے اتنی شہادتیں پیش کیں کہ معرکے کا نام ہی بلاط الشہداءپڑ گیا۔ 222ہجری کا رمضان آیا، معتصم کی قیادت میں ایرانی باغی ”بابک“ کا قلع قمع کر دیا گیا۔
تاریخ کو 223ہجری کا رمضان کیسے بھول سکتا ہے کہ جب عموریہ (سلطنت روم) کے غیر مسلم علاقے سے ایک خاتون نے وقت کے عباسی خلیفہ معتصم کو ”وامعتصما!“ کہتے ہوئے مظلومانہ پکارا تھا۔ صد شکر کہ معتصم کان رکھتا تھا، چنانچہ میلوں دور سے اس نے پکار سنی، لشکر تیار کیا، اسلحہ تھاما، گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور طاقت کے دیو روم سے جا ٹکرایا اوریوں ٹھیک 6رمضان کو عموریہ پر اسلامی پرچم اپنی تابناکی کے جلوے بکھیر رہا تھا۔ 479ھ کے رمضان میں ہم اندلس کے میدانوں میں معرکہ زلاقہ لڑ رہے تھے اور تب ہمارا ہیرو یوسف بن تاشقین معتمد بن عباد اشبیلیہ کے بادشاہ کی اعانت کرتے ہوئے صلیبیوں کے ساتھ نبردآزما تھا۔ 559ہجری کا رمضان آیا تھا اس کی میزبانی کے لئے اب کے نورالدین زندگی پابہ رکاب اور سربہ کف تھا، چنانچہ شام کے شہر حارم میں 9رمضان المبارک کو معرکہ لڑا گیا۔
570ہجری میں وہ نام بروئے کار آیا، جو آج بھی یورپ کے دل میں کسی کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ وہ پاکباز، راستباز، صلح جو مگر بلا کا شمشیر باز سلطان صلاح الدین ایوبی رحمة اللہ علیہ! رمضان کی 14تاریخ کو انہوں نے شام کے شہر بعلبک کو صلیبی قبضے سے چھڑا کر آزادی سے ہمکنار کر دیا۔ 584ہجری کے رمضان میں ”کرک اور صفد“ کے شہر آزاد کروائے گئے۔ 658ہجری کے رمضان میں اہل اسلام نے معرکہ عین جالوت لڑا، تب مسلمان مصر کے سلطان قطز کی قیادت میں ہلاکو کے تاتاریوں سے جہادی تگ و تاز میں اپنا نرم گرم اور تازہ لہو پیش کر رہے تھے۔ 666ہجری کے رمضان المبارک میں سلطان ملک الظاہر بیبرس نے صلیبیوں سے ٹکرا کر ”انطاکیہ“ آزاد کروایا اور 1393کے رمضان میں مصریوں اور شامیوں نے دس رمضان کو اسرائیلیوں سے جولان اور سینا کے لئے معرکہ کار زار گرم کیا۔
جناب مولن صاحب! کچھ خبر ہوئی ہماری رمضان کی چھٹیوں کی؟ تو یہ ہے ہمارا رمضان کا Life Style! جن دنوں ابن تیمیہ تاتاریوں سے نبردآزما تھے، وہ رمضان ہی کا مہینا تھا، حکمران منگولوں کے اس بڑھتے ہوئے طوفان اور اٹھتی ہوئی آندھی سے گھبرا کر ملک چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ تاہم قلم و قرطاس اور منبر و محراب کے وارث ابن تیمیہ نے جہادی اور رمضانی تاریخ کو مایوس نہیں کیا، وہ جبہ و دستار اتار کے اور زرہ و خود پہن کے نکلے اور چونکہ رمضان میں میدانِ معرکہ میں روزہ نہ رکھنے کی گنجائش و اجازت ہے سو ابن تیمیہ گھوڑے پر سوار اپنے لشکر میں مسلسل گردش میں رہتے تھے اور مجاہدوںکے سامنے کچھ نہ کچھ کھا رہے ہوتے تھے تاکہ اہل لشکر کو معلوم ہو کہ رمضان میں جہاد کی خاطر روزہ نہ رکھنے کا حکم موجود ہے اور اس پر ابن تیمیہ خود عمل کررہے ہیں۔
بے خبر، غافل اور حواس باختہ مائیک مولن کو نہیں پتا تھا کہ یہ ”رمضان اور چھٹی“ کے حوالے دینا اسے چنداں فائدہ نہ دے سکے گا۔ چنانچہ وہی ہوا جو افغانستان میں آج تک کی امریکی جنگی تاریخ میں نہ ہو سکا تھا، افغانیوں نے رمضان کی چھٹی منائی اور امریکی چینوک مار گرایا۔ امریکا کے بقول اسامہ کی شہادت میں بروئے کارلائے جانے والے دستے کے 25سیلز کمانڈوز سمیت 31امریکی اس میں ہلاک ہو گئے۔ یہ طالبان کا پہلا رمضانی راکٹ تھا جو پورے امریکا کو سوگ میں ڈبو گیا۔ دس سالہ افغان جنگ میں امریکیوں کا کسی ایک واقعہ میں یہ سب سے بڑا جانی نقصان ثابت ہوا ہے۔ میرا خیال ہے اب یا تو مائیک مولن صاف خود ہی سمجھ جائیں گے اور آئندہ سے طالبان کو ”رمضان اور چھٹی“ کے نام یاد نہیں کروائیں گے اور یا پھر عین ممکن ہے کہ اسے صدر اوباما کی طرف سے ہی حکم آ جائے کہ خبردار جو تو نے آئندہ طالبان کے روبرو رمضان یا چھٹی کے لفظ دہرائے، کمبخت تجھے نہیں پتا کہ یہ مسلمان 50کے پیٹے میں ہونے کے بعد رب سے پتا نہیں ڈرتے ہیں یا نہیں مگر رمضان میں تو یہ کسی اور ہی جوبن پر ہوتے ہیں اور بلا کے معرکے کرتے ہیں۔ قارئین! امریکہ ڈوب چکا اب آپ اس وقت کا انتظار کیجئے جب فوجی بھرتی کے لئے امریکی اخبارات میں کچھ اس طرح کے اشتہارات شائع ہوں گے:
O آپ انسان ہیں یا جانور امریکی فوج میں بھرتی ہو جایئے۔
O دو وقت کی روٹی، آنے جانے کا کرایہ اور مرنے پر تابوت مفت دیا جائے گا۔
جی ہاں! وقت قریب ہے امریکا میں مرنے پر تابوت ملنا بھی خوش نصیبی سمجھا جائے گا۔ اللہ یہ دن جلد دکھائے اور مسلمانوں کو رمضان میں ”صحیح چھٹی“ منانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین





بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
___
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 186
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (23-08-11), احمد نذیر (23-08-11)
پرانا 23-08-11, 05:33 PM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تو گویا امریکی شنوک کے حادثے اور اُس کے نتیجے میں‌ہلاک ہونے والے خاص امریکی اہلکاروں کو موت کو طالبان اپنا کارنامہ قرار دیتے ہیں؟؟؟؟؟
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-08-11, 06:09 PM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Dubal . . Posat
///,,,.//

Last edited by ALI-OAD; 23-08-11 at 06:16 PM.
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-08-11, 06:12 PM   #4
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Janab is hadsae k koch din bad us armi na media pr os taliban comander ko shaheed karnae ka dava b kia ha
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, قرآن, لوگ, نماز, مفت, مکہ, ممکن, مسائل, معلوم, آج, ایمان, اللہ, امریکہ, اردو, اسلامی, اسلامی تاریخ, خون, دوست, روزہ, رمضان, راستہ, طالبان, علی, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شہباز بھٹی قتل کیس کی تحقیقات جاری ہیں زارا خبریں 4 31-03-11 11:22 PM
شہباز بھٹی کے قتل کا محرک مذہبی نہیں سیاسی ہے گلاب خان خبریں 8 17-03-11 10:12 PM
شہباز بھٹی فائرنگ میں ہلاک ابن آدم خبریں 34 08-03-11 03:37 PM
چٹ پٹی خبریں wajee قہقہے ہی قہقے 0 01-05-10 11:00 AM
ناجائز اثاثے بنانے کے الزام میں ڈی آئی جی سندھ الطاف حسین بھٹی گرفتار خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:31 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger