|
ریا کے دور میں سچ بول تو رہے ہو مگر...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان

26-09-11, 12:18 PM
الطاف حسین صاحب کی تقریباً ساڑھے تین گھنٹے کی گولہ باری کے اثرات سے سنبھل نہ پایا تھا کہ پھر اس سے مہلک مناظر کراچی اور لاہورمیں بارش نے دکھا دیئے۔ خدا جانے اس ملک پر کیوں مصیبتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عام روایت ہے کہ اگر حکمراں ظالم اور گنہگار ہوں تو ملک اور عوام پر عتاب نازل ہوتا ہے۔ میں نے پہلے بھی مشہور فارسی شاعر انوری کا شعر بیان کیا تھا جو اس نے اپنے اوپر مصیبتوں کی مسلسل یلغار سے پریشان ہوکر کہا تھا:۔
ہَر بلائے کز آسمان اُفتَد
خانہ اَنوری را می پُرسَد
یعنی جو بلا یا مصیبت آسمان سے نازل ہوتی ہے وہ انوری کے گھر کا پتہ پوچھتی ہے۔ یہی حال بے چارے پاکستان کا ہے۔ پہلے ہولناک زلزلہ، پھر تباہ کن سیلاب اور اب پھر نیا سیلاب اور اب ڈینگی بخار۔ پچھلے زلزلے اور سیلاب کے متاثرہ لوگ ابھی تک بے یارومددگار اور بھوکے اور ننگے مارے مارے پھر رہے ہیں، کھلے آسمان کے نیچے پڑے ہیں اور جھوٹے وعدوں پر زندہ ہیں۔ لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے، لاتعداد مویشی تباہ ہوگئے اور اَربوں ڈالر کا نقصان ہوا، غیرممالک سے اربوں ڈالر کی امداد ملی اور وہ داستانِ امیر حمزہ کے مشہور کردار عَمرو عیار کی زنبیل کی طرح اس کو ہضم کرگئی۔دیکھئے آج میں پھر چند کڑوی باتیں کہنا چاہتا ہوں اور دماغ میں بار بار مرتضیٰ بر لاس کا یہ شعر گونجتا ہے۔
ریا کے دور میں سچ بول تو رہے ہو مگر
یہ وَصف ہی نہ کہیں احتساب میں آئے
مگر سچ کو چھپانا یا سچ بات نہ کرنا ایک بڑی منافقت ہے اور میں تو سچ کہنا اپنا فرض سمجھتا ہوں۔
قبل اس کے کہ میں اپنے خاص و اہم موضوع پر تبصرہ کروں، الطاف حسین کے خطاب کے بارہ میں مختصراً کچھ کہونگا۔ پورے پاکستان نے اور غالباً غیر ممالک میں بھی لاتعداد پاکستانیوں نے ان کا یہ خطاب سُنا۔ پہلی خاص بات یہ تھی کہ یہ سات روز سخت بیمار رہ کر باہر آئے تھے مگر اس کی کہیں جھلک نظر نہیں آئی۔ ان کے خطاب پر ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے دل کھول کر تبصرے کئے اور تنقید بھی کی۔ میں صرف یہ کہونگا کہ ملک کی اتنی بڑی اور اہم پارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے یہ خطاب نہایت ہی نامناسب تھا اور ان کو اس قسم کی ایکٹنگ زیب نہیں دیتی۔
دوسری بات زلزلہ وسیلابوں سے متاثرہ لوگوں کی تکالیف و کسمپرسی کے بارہ میں ہے۔ آپ روز ٹی وی پر سندھ میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی حالت زار دیکھ رہے ہیں، صدر صاحب چند جیالوں کے ساتھ پانی میں دو سو گزچلے ،تصاویر بن گئیں ، معاملہ ختم۔ وزیر اعظم صاحب نے ارب روپوں کی امداد کا اعلان کیا وہ کہاں سے آئے اور جائیگی خدا جانے۔ زلزلے اور پچھلے سیلابوں کے متاثرین کا واقعہ تو ابھی حال کا ہے یہاں ابھی تک تربیلہ اور منگلہ کے متاثرین مارے مارے پھر رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کہیں ایسے بے حس حکمران ہونگے۔
تیسری بات ۱۱ ستمبر کا امریکہ میں دہشتگری کا واقعہ ہے یہ نہایت شرمناک، قابل مذمت اور قابل لعنت عمل تھا نہ ہی مسلمانوں کا مذہب اور نہ ہی اخلاقی قدریں ایسے جارحانہ عمل کی اجازت دیتے ہیں۔ اس میں تین ہزار بیگناہ لوگوں کو ہلاک کیا گیا تھا مگر یہ کام اگرمذہبی دہشت گردوں نے کیا تھا تو اس کے جواب میں جو تہذیب یافتہ اقوام نے کیا وہ بھی اتنا ہی قابل ملامت و قابل لعنت ہے۔ اُنھوں نے تین ہزار اموات کے بدلے تقریباًبارہ لاکھ افراد ہلاک کردیئے اور ان میں سے بھی نوّے فیصد یقینا بے گناہ تھے اور یہ قتل عام اب بھی جاری ہے۔ صدر اُوباما بار بار نعرہ لگاتے ہیں کہ وہ اسلام کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے ہیں، ممکن ہے یہ ٹھیک ہو مگر مسلمانوں کا قتل عام جو وہ جاری رکھے ہیں غالباً وہ اس کو اسلام سے غیر متعلق سمجھتے ہیں۔ یہ ظلم صرف مسلمانوں پر ہی کیوں جاری ہے؟
اَب میں اپنے خاص، اہم موضوع کی جانب رُجوع کرتا ہوں۔ پوری قوم اس وقت موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے بھگت رہی ہے۔ بیروزگاری، مہنگائی، لوڈشیڈنگ، قتل و غارتگری نے اس ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔ دو وجوہات ہیں ایک تو حکمرانوں کی تعلیمی استعداد اور دوسرا خاندانی پس منظر۔ ان چیزوں کے علاوہ سب سے اہم چیز اس پورے نظام کی غیر قانونی حیثیت ہے۔ 2008 میں جو الیکشن ہوئے تھے وہ مکمل فراڈ اور جعلسازی تھی۔ آپ ذرا الیکشن کمیشن کے 2008 کے الیکشن سے متعلق اعداد شمار دیکھئے آپ کی آنکھیں کھل جائینگی۔ اس وقت رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد 80133991 یعنی آٹھ کروڑ سے کچھ زیادہ تھی۔ جن لوگوں نے الیکشن میں حصہ لیا ان کی تعداد34980069 یعنی تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھی ان میں سے جو ووٹ صحیح مانے گئے ان کی تعداد 34113398 یعنی تقریباً آٹھ لاکھ کم۔ اس وقت جو ووٹ ڈالے گئے ان کی شرح 43 فیصد تھی اور مسترد ہونے والے ووٹوں کی شرح 2.69 فی صد تھی ۔ اب دوسری حقیقت کی جانب آئیے۔ چند ماہ پیشتر عمران خان نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دی تھی کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تیار کردہ اور جاری کردہ ووٹروں کی لسٹ میں ساڑھے تین کروڑ جعلی ووٹروں کے نام لکھے ہوئے ہیں۔ کافی چھان بین کے بعد الیکشن کمیشن نے تصدیق کی کہ تقریباً ساڑھے تین کروڑ جعلی ووٹ رجسٹرڈ تھے اور پھر کافی محنت و تفتیش کے بعد یہ جعلی ووٹ منسوخ کردیئے گئے لیکن جو کام ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔ جو قومی اور صوبائی اسمبلیاں اس الیکشن اور ضمنی الیکشن کے ذریعہ وجود میں آئیں وہ مکمل فراڈ اور جعلسازی کا نتیجہ ہیں، اسی طرح صدر، وزیر اعظم اور تمام گورنر اور وزیر اعلیٰ غیر قانونی طریقہ سے ایوانات اقتدار میں جا بیٹھے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جونہی اس جعلسازی اور فراڈ کی تصدیق ہوگئی تھی تمام قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کردی جاتیں، کیئر ٹیکر انتظامیہ انتظام سنبھال لیتی اور تین ماہ کے اندر نئے الیکشن کرائے جاتے۔ اگر یہ کام ہوجاتا تو ملک بہت سے جعلی ووٹوں اور جعلی ڈگریوں سے ایوانات اقتدار آنے والے نااہل حکمرانوں سے بچ جاتی۔ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں ہمارے یہاں عموماً عوام میں ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد اور دلچسپی بہت کم ہوتی ہے اس کے برخلاف جو جعلی ووٹ بنائے گئے تھے وہ نہایت تندہی سے ڈالے گئے اور اس طرح جو موجودہ نام نہاد جمہوری نظام وجود میں آیا وہ بالکل جعلی اور غیر قانونی ہے اور آپ جو لوٹ مار اور رشوت خوری دیکھ رہے ہیں وہ اس وجہ سے ہے کہ ان جعلسازوں کو پکا یقین ہے کہ یہ آئندہ الیکشن میں منتخب نہیں ہونگے۔
اس وقت ایک اور عتاب جو عوام پر نازل ہوا ہے و ہ سیلاب ہے۔ روز آپ کو نہ صرف اندرون سندھ سمندر نما مناظر دکھائے جارہے ہیں بلکہ جو حالات لاہور اور کراچی میں دکھائے جارہے ہیں اور عوام کو جن تکالیف کا سامنا ہے اس نے پچھلے بلدیاتی نظام کی پول کھول دی ہے اور ”بین الاقوامی شہرت یافتہ“ ناظموں کی نااہلیت طشت ازبام کردی ہے۔ اربوں روپے خرچ کئے (اور کھا گئے) دکھاوے کے فلائی اوور، پُل، موٹر وے بنائے گئے اور لاکھوں روپے اشتہار بازی پر خرچ کئے گئے مگر ان ”عقلمندوں اور ماہرین“ کو یہ نہ سوجھی کہ ڈرینج سسٹم بھی موثر بنا دیتے۔ کسی سڑک کے پاس آپ کو نالیاں نظر نہیں آئینگی۔ چھوٹے چھوٹے سے گٹر کے سوراخ بنا دیے گئے جو بارش کے زیادہ پانی کی نکاسی کے لئے قطعی ناکافی ہیں اور اکثر یہ مین ہول کچرے کوڑے اور پلاسٹک کی تھیلیوں سے بند بھی ہو جاتے ہیں۔ اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔
پانی کی نکاسی کے بارہ میں آپ کو بھوپال کی مشہور نواب قدسیہ بیگم کا واقعہ بتلاتا ہوں۔ آج سے تقریباً دو سوسال پیشتر اُنھوں نے تقریباً بیس لاکھ پونڈ کی رقم ایک انگریز کمپنی کو دی تھی اور اس کے ذریعہ بھوپال شہر میں پانی کی فراہمی اور بارش کے پانی کے نکاس کا نظام لگوایا تھا۔ بھوپال میں موسم گرما اور موسم سرما میں تقریباً تین تین ماہ سخت بارشیں ہوتی ہیں اور ہفتہ ہفتہ بھر بِلا رُکے بارش ہوتی رہتی ہے۔ بارش کے بعد آپ باہر نکل کر دیکھئے آج بھی آپ کو وہاں کہیں پانی نظر نہ آئے گا۔
تمام سڑکوں اور شاہراہوں کے دونوں جانب تین تین فٹ گہری اور دو دو فٹ چوڑی نالیاں تھیں اور پانی کا بہاؤتالابوں اور دریاؤں کی طرف تھا۔ پورے شہر میں آدھے آدھے کلو میٹر پر پانی کے نل لگے ہوئے تھے اور ان میں دن رات صاف ستھرا پینے کا پانی آتا رہتا تھا۔ پورے شہر میں سڑکوں پر بجلی کے کھمبے تھے ، میں نے وہاں کبھی ایک گھنٹے کی بھی لوڈ شیڈنگ نہیں دیکھی۔ اسی ذی فہم حکمراں نے اپنی جیب خاص سے تقریباً ساٹھ لاکھ پونڈ انگریزوں کو دے کر ریلوے لائن کو بھوپال سے گزروادیاتھا اور بھوپال مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب جانے والی ٹرینوں کا اہم جنکشن بن گیا تھا۔ اس موجودہ ترقی یافتہ دور میں ہمارے خود ساختہ عقلِ کُل یہ معمولی سے کام بھی نہیں کرسکتے۔
ایک اور بات جس کا ذکر بہت عرصہ سے کرنا چاہ رہا ہوں وہ ہماری سیاسی پارٹیوں اور سیاسی رہنماؤں کی ملک سے احسان فراموشی اور نمک حرامی ہے جہاں جلسے کرتے ہیں اور وہاں اپنے بونے لیڈروں کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں کرتے ہیں ان احسان فراموش کو کبھی یہ خیال نہیں آتاکہ جس شخص نے ان کو یہ ملک دیا ان کو عزّت سے رہنے (اور یہ لوٹ مار کرنے) کی سہولت بخشی نہ ہی اس کا نام لیا جاتا ہے اور نہ ہی اسکی تصویر کہیں نظر آتی ہے۔ ان کی نگاہ میں قائد اعظم محمد علی جناح کا وجود نہ تھا اورنہ ہے اور یہ سب کچھ انکے باپ دادا نے انکی گود میں ڈالا ہے۔ احسان فراموشوں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے اور برا انجام ہوتا ہے۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
|
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|