واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ریشماں کا نوحہ” اسے آزاد رہنا پسند تھا “,,,,فاطمہ بھٹو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-07, 08:21 AM   #1
ریشماں کا نوحہ” اسے آزاد رہنا پسند تھا “,,,,فاطمہ بھٹو
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 19-12-07, 08:21 AM

ریشماں کا نوحہ” اسے آزاد رہنا پسند تھا “,,,,فاطمہ بھٹو



ریشماں سے میری پہلی ملاقات گزشتہ سال اپریل میں ہوئی تھی۔ میں ان دنوں لاڑکانہ میں تھی اور اپنی والدہ کے ہمراہ کسی فنکشن میں شریک ہونے کے لئے جا رہی تھی کہ اسی دوران مقامی اسپتال سے ٹیلی فون آیا ” فوراً یہاں پہنچیں۔ ایک واقعہ ایسا ہو گیا ہے کہ آپ کی موجودگی ضروری ہے۔ فوراً آ جائیں “۔ چنانچہ ہم ٹیلی فون کال کے عین مطابق اسپتال پہنچ گئے۔ یہ ایک سرکاری اسپتال تھا، جہاں راہداریوں اور صحن میں مریضوں نے بستر بچھا رکھے تھے۔ ہمیں ایک چھوٹے سے کمرے میں لے جایا گیا جسے ایک پردہ ڈال کر الگ کر دیا گیا تھا۔ ریشماں اسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔ وہ خون میں نہائی ہوتی تھی۔ اس کے پیروں پر زخم پڑ گئے تھے اور وہ درد اور تکلیف کی شدّت سے چلا رہی تھی، نیچے فرش پر خون آلود پٹیاں پڑی تھیں۔ ریشماں کے ساتھ ایک ایسے شخص نے زیادتی کی تھی جو اپنی غنڈہ گردی کے لئے علاقے بھر میں بدنام تھا، ایک برس تک اپنا یرغمال بنائے رکھا تھا اور اس تمام عرصے کے دوران وہ ریشماں کو زیادتی کا نشانہ بناتا رہا تھا۔ کبھی کبھی تو وہ بے چاری ریشماں کو بستر سے زنجیروں کے ساتھ باندھ دیا کرتا تھا۔ اس دن یعنی پانچ اپریل کو ریشماں نہ جانے کس طرح اپنی جان بچا کر اسپتال پہنچنے میں کامیاب ہو گئی تھی۔ جب وہ اپنی بپتا ہمیں سنا رہی تھی تو اس کی ماں اس کے بستر سے لگی چپ چاپ آنسو بہانے میں مصروف تھی۔ ریشماں نے گڑگڑا کر ہم لوگوں سے مدد طلب کی۔ پولیس نے اس کی جانب سے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ مجرم شہر کا ایک با اثر شخص تھا لہٰذا پولیس نے غیر قانونی طور پر ریشماں کی شکایت درج کرنے سے صریحاً انکار کر دیا۔ پولیس کی منظوری کے بنا زیادتی کی شکار خاتون کا میڈیکل ٹیسٹ بھی نہیں ہو سکتا۔ پاکستان میں جہاں قوت اور طاقت کا اتنے بڑے پیمانے پر ارتکاز ہے وہاں آپ کو پولیس کی اجازت درکار ہوتی ہے تاکہ مظلوم عورت کا میڈیکل ٹیسٹ ممکن ہو سکے، جو فقط دس منٹ میں لیا جا سکتا ہے۔ میری والدہ نے پولیس افسر کو طلب کیا جو ریشماں کے کمرے کے باہر گارڈ کی ڈیوٹی انجام دے رہا تھا۔ اس نے بالآخر ایک ایسے پولیس افسر سے رابطہ کرا دیا جس نے سندھی زبان میں ریشماں کی جانب سے ایف آر درج کر لی لیکن اب ایک اور مسئلہ آن کھڑا ہوا۔ اس دن اسپتال میں سب ہی مرد ڈاکٹر تھے۔ لیڈی ڈاکٹر کوئی بھی اپنی ڈیوٹی پر موجود نہ تھی۔ پاکستان میں صرف ایک لیڈی ڈاکٹر ہی زیادتی کے کیس میں نشانہ بننے والی خاتون کا طبی معائنہ کرنے کی اہل ہوتی ہے ( مرد ڈاکٹروں کو اس کی اجازت نہیں )۔ یہاں میں ذرا ہٹ کر آپ کو ریشماں کی بابت کچھ بتاتی چلوں۔ ریشماں لاڑکانہ شہر کی رہنے والی ہے جو میرا آبائی شہر بھی ہے۔ اس کی عمر تیس برس ہے۔ اس نے کوئی تعلیم وغیرہ حاصل نہیں کی اس لئے وہ بالکل ہی ناخواندہ ہے۔ اس کا ماضی بھی خاصا پیچیدہ رہ چکا ہے۔ بہت ہی کم عمر میں اس کی شادی کر دی گئی تھی اور اب وہ ایک بالغ لڑکی کی ماں تھی۔ ریشماں کی پہلی شادی خاصے پراسرار حالات میں ختم ہو گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ اغواء ہو جانے کے بعد اس کے شوہر نے اسے بچانے کے بجائے لا تعلقی اختیار کر لی اور اسے اپنی بیوی تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا کیوں کہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ ریشماں نے ظلم و جبر سے مجبور ہو کر اس بدمعاش غنڈے سے شادی کر لی ہے چنانچہ اس نے قسم کھا لی کہ اب وہ زندگی بھر ریشماں کے بچوں کا منہ بھی نہیں دیکھے گا۔ جب اسے اسپتال سے فارغ کیا جانے لگا تو اس نے ہم لوگوں سے کہا کہ اسے چھوڑ کر ہر گز نہ جائیں۔ حکومت کے زیر انتظام بے سہارا خواتین کے لئے چلائے جانے والے ادارے میں ایک بار پھر واپس جانا اس کے لئے نا ممکن تھا۔ وہ پہلے بھی وہاں رہ چکی تھی اور اب دوبارہ وہاں قید نہیں ہونا چاہتی تھی۔ ریشماں نے ہمیں بتایا کہ وہاں میں جو حالات ہیں وہ نہایت قابل رحم اور اذیت ناک ہیں۔ اس کے مقابلے میں وہ جیل جانا زیادہ پسند کرے گی۔ وہ نوجوان ہے اور آزادی کے ساتھ زندگی بسر کرنا چاہتی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم اس کراچی کے فلاحی ادارے میں داخل کرا دیں جو نسبتاً ایک محفوظ جگہ ہے۔بے سہارا خواتین کا یہ ادارہ 2001ء میں قائم ہوا تھا ۔ یہ ادارہ ایسی خواتین کو پناہ دیتا ہے جو گھریلو تشدد یا ازدواجی پریشانیوں کا شکار ہوتی ہیں۔ جنسی اور نفسیاتی تشدد کا شکار بننے والی خواتین کو بلا معاوضہ قانونی امداد، قانونی دفاع، طبی سہولتیں، علاج معالجہ، مشورے اور نفسیاتی علاج مہیا کیا جاتا ہے۔اس شام ہم ریشماں کو بذریعہ ہوائی جہاز کراچی لے آئے۔ اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور سر پر ایک بڑی سفید چادر لے رکھی تھی، جونہی ہوائی جہاز نے اڑان بھری تو خلاف توقع وہ بجائے خوفزدہ ہونے کے شرمیلی مسکراہٹ ہونٹوں پر لئے ہم سے ہمارا نام پوچھنے لگی کیونکہ اسپتال میں ایسی باتیں پوچھنے کا وقت بالکل بھی نہیں تھا۔ اس کے چہرے سے امید کی روشن کرنیں پھوٹ رہی تھیں کیونکہ اسے نئی زندگی مل چکی تھی۔ تاہم وہ مذکورہ ادارے میں بھی زیادہ دن تک نہ رہ سکی۔ وہ آزاد رہنا چاہتی تھی۔ وہ ابھی جوان تھی اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کی خواہشمند تھی، اس سال 5/ اپریل اور ماہ اگست کے دوران ریشماں کو تین بارادارے میں داخل کروایا گیا۔ اس نے مجموعی طور پر اس ادارے میں صرف ستائیس دن گزارے۔ یہاں اس کی تمام ضروریات کا خیال رکھا جاتا تھا۔ اسے دیگر تمام خواتین کے برعکس زیادہ توجہ، دیکھ بھال اور آرام میسر تھا، لیکن ریشماں ایک آزاد اور مضطرب روح کی مالک تھی وہ ہر قیمت پر اور ہر صورت میں بالکل آزاد رہنا چاہتی تھی۔

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 263
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پولیس, پاکستان, پسند, قید, لڑکی, ممکن, معلوم, بچوں, تعلیم, جیل, خون, خواتین, خلاف, زندگی, سال, شہر, شام, شخص, عورت, علاج, صاف, صحن, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میرے اپنے پسندیدہ تھریڈز shafresha گپ شپ 22 04-04-11 09:08 PM
’بینظیر بھٹو کو بتایا تھا یہ وہ پاکستان نہیں جسے وہ چھوڑ کر گئی تھیں‘ وجدان خبریں 0 04-01-08 10:48 AM
بینظیر بھٹو کا قتل،بریگیڈیئر چیمہ نے اپنی طرف سے کچھ نہیں کہا تھا،ڈاکٹروں کی رپورٹ پیش کی،وزیر داخلہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:20 AM
جنگجو سرداروں کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہوسکتا،حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث انتہا پسند پیدا ہوئے،بینظیر بھٹو خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:41 AM
جنگجو سرداروں کی موجودگی میں امن قائم نہیں ہوسکتا،حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث انتہا پسند پیدا ہوئے،بینظیر بھٹو عبدالقدوس خبریں 0 29-10-07 09:38 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:34 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger