واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ریٹا اور میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-04-09, 12:04 AM   #1
ریٹا اور میں
سد ید مسعو د سد ید مسعو د آف لائن ہے 07-04-09, 12:04 AM

وہ میرے ساتھہ والے کمرے میں رھتی تھی پچیس چھبیس سال کی گوری چٹی انگریز زاد لڑکی میں ان دنوں رات کو ایک سکیورٹی کمپنی میں کام کرتا تھا اور میری شفٹ رات آٹھہ بجے سے شروع ھوتی تھی اکثر میں ڈیوٹی پر جارھا ھوتا تو وہ آتی اور اپنا دنر تیار کرنے میں مصروف ھوتی اور میں اپنا دیسی ناشتہ جس ہاسٹل میں میں رھتا تھا وہاں کچن کامن تھا اس لئے اکثر کچن میں ملاقات ھو جاتی مگر ھائے ھیلو سے آگے نہیں۔ ویسے بھی گوروں کے ملکوں میں زندگی بڑی انفرادی ھوتی ھے آپ کسی کی پرائویسی میں بغیر اسکی اجازت کے دخل نہیں دے سکتے یہاں تک کہ ماں باپ بھائی بہں ہر کوئی اپنے خول کے اندر رھتا ھے اور دوسرے کے کاموں میں دخل دینا گناہ سمجھتا ھے اور بعض اوقات یہ گناہ بڑا مہنگا پڑتا ھے اور پولیس تک نوبت چلی جاتی ھے اور آپکو فائن بھی ھو سکتا اس لئے میں بڑا محتاط تھا۔
ایک رات دو بجے میں اپنی معمول کی ڈیوٹی پر تھا کہ میری گاڑی کو ایک لڑکی نے ھاتھہ دیا وہ( بلاک ہاؤس بے) کا قدرے ویران علاقہ تھا میں گاڑی نہیں روکنی چاھتا تھا کونکہ اکثر رات کو شراب کے نشے میں دھت لڑکیاں گھر تک لفٹ مانگتی ھیں اور باعث عذاب بنتی ھیں کیوں کہ نشے کی حالت میں وہ اکثر گاڑی میں سو جاتی ھیں اور پھر آپکو پولیس اسٹیشن جانا پڑتا ھے تاکہ پولیس انکے گھر کا پتہ لگا کر انہیں بحفا ظت گھر پہنچا سکے مگر جب میں اسکے پاس سے گزرا تو مجھے حیرت ھوئی کہ یہ تو وہی لڑکی ھے جو میرے ساتھہ والے کمرے میں رھتی ھے۔ وہ شراب کے نشے میں چور نیم برھنہ حالت میں تھی وہ مسلسل رو رھی تھی اور غصے میں کسی کو گا لیاں دے رھی تھی وہ مجھے بھی پہچاننے سے قاصر تھی اور اجنبی سمجھہ کر ماؤنٹ ایڈن روڈ تک لفٹ مانگنے لگی خیر میں نے اپنا تعارف کروایا تو وہ مزید زور سے رونے لگی۔ راستے میں میں نے اس سے پوچھا کیا کسی سے لڑائی ہوئی ھے تو کوئی جواب نہ ملا بس وہی رونا اور گالیاں ایسی صورت حال میں گورے ایک آخری سوال پوچھہ کر بات ختم کر دیتے ھیں " کیا میں تمہاری کوئی مدد کر سکتا ھوں" نو تھینک یو بس مجھے گھر پہنچا دو، میں نے اسے اسکے کمرے میں چھوڑا وہ گاڑی سے اتر کر چلنے کے قابل نہ تھی میں تقریبا اسے اٹھا کر لے کر گیا اسکا جسم سخت سردی میں بھی بہت گرم تھا اور کانپ رھا تھا۔ میں اسکے کمرے کا دروازہ بند کرکے واپس کام پر چلا گیا اس معاشرے میں ایسے واقعات روز کا معمول تھے اس لئے بات آئی گئی ھو گئی ۔ دو یا تین دن بعد شام چھہ بجے کے قریب میرے دروازے پر دستک ھوئی میں سو رھا تھا میں نے دروازہ کھولا تو وہ لڑکی پھر میرے سامنے تھی پھر وھی شراب کی بو اور نیم برھنہ جسم وہ مجھہ سے کافی مانگ رھی تھی میں نے ھاتھ سے ڈبہ کی طرف اشارہ کیا تو وہ ڈبہ اٹھا کر لڑ کھڑاتی ھوئی با ھر چلی گئی میں دوبارہ سونے کی کوشش کرنے لگا کہ اچانک مجھے کچن میں کسی کے گرنے اور برتن ٹوٹنے کی ڈرا دینے والی آواز آئی میں نے نکل کر دیکھا تو وہی لڑکی زمین پر گری پڑی تھی اور اسکے ھاتھ پر شدید چوٹ آئی تھی شور سن کر اور بھی لوگ اکٹھے ھو گئے میں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور واپس کمرے تک اسکی مدد کی، کمرے میں شراب کی خالی اور کھلی بوتلیں پڑی تھیں کچھ دوائیاں اور فوٹوز زمین پر بکھرے ھوئے تھے اس نے مجھے بڑی بے بسی سے بتایا کہ وہ پچھلے تین دن سے سو نہیں سکی ھے اور ڈاکٹر کی دی ھوئی نیند کی دوائی کے باوجود اسے نیند نہیں آئی میں نے وجہ پوچھی تو بولی کیا تم نے کبھی محبت کی ھے کسی کے ساتھ میں نے کہا ھاں مگر پہلے تمہارے ھاتھ کی چوٹ کا کچھ کرنا ھو گا کہنے لگی یہ کچھ نہیں ھے میرے دل پر چوٹ ھے ، دماغ پر چوٹ ھے، جذبات پر چوٹ ھے کیا تمہارے پاس اسکا کوئی حل ھے میں نے کہا شائد ھو اگر میں تمہاری مشکل سمجھ سکوں تو؟ بولی تمہارے پاس وقت ھے میری بات سننے کا میں نے گھڑی کی طرف دیکھ کر کہا ھا ں میرے پاس ایک گھنٹہ ھے تمہارا ساتھ دینے کو اس نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور شراب کی ایک بوتل سے دو گلاسوں میں شراب ڈالی اور ایک گلاس مجھے پیش کیا میں نے شراب بینے سے انکار کیا تو اس نے حیرت سے پوچھا کیوں نہیں؟ میں نے کہا مجھے جس سے محبت ھے وہ یہ بینے سے منع کرتا ھے کہنے لگی تو پھر وہ یقینا نیوزی لینڈ میں نہیں رھتا ھوگا میں ھنس پڑا ۔ پھر اس نے مجھے اپنی نا کام محبت کی کہانی سنائی کہ کس طرح اسکا بوائے فرینڈ اس سے مطلب نکال کر اسے چھوڑ گیا ھے۔ میں نے افسوس ظاھر کیا۔ پھر وہ کہنے لگی کہ تم جس سے محبت کر تے ھو کیا وہ تم کو دکھ دیتا ھے؟ میں نے کہا نہیں وہ تو میرا بہت خیال رکھتا ھے، اور وہ تو ھر ایک کا خیال رکھتا ھے اور ھر کوئی اس سے محبت کر سکتا ھے وہ میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی میں نے کہا وہ میرا اللہ ھے اور تمہارا بھی تو تمہارا مطلب ھے گاڈ میں نے کہا ھاں وہ ھسننے لگی زور سے شراب کے نشے میں تو تم ایک مذھبی بیوقوف ھو میں نے کہا ھاں اور تم ایک غیر مذھبی ۔ کیا تمہارے خدا کے پاس میری مشکل کا کوئی حل ھے۔ میں نےکہا تم مجھے ایک بات بتاؤ تمہں نیند نہیں آتی اگر میرا خدا تمہیں سلا دے سکون کی نیند تو پھر مان لو گی کہنے لگی وعدہ مگر مھجے کم از کم سات گھنٹے گہری نیند آئے میں نے کہا انشااللہ آئے گی۔ مجھے جب نیند نہیں آتی تھی تو میری ماں وضو کرکے قرآن پاک کی ایک سورہ میری پیشانی پر ھاتھ رکھ کر مسلسل پڑھتی رھتی تھی یہاں تک کہ میں سو جاتا آج پردیس میں ماں بھی یاد آئی اور اسکا ٹوٹکا بھی میں نے وضو کیا اور قرآن لیکر اس کے کمرے میں آ گیا اور اسی انداز میں اسکی پیشانی پر ھاتھ رکھ کر میں نے مذکورہ سورہ کی تلاوت شروع کر دی وہ بستر پر لیٹی میری جانب دیکھتی جا رھی تھی اور میں دل ھی دل میں رب سے دعا بھی مانگ رھا تھا کہ آج میری عزت تیرے ھاتھ ھے مولا آخر آدھے گھنٹے بعد وہ گہری نیند میں چلی گئی اور میں نے رب کا شکر ادا کیا۔ پھر تو یہ معمول ھی بن گیا وہ ھر روز مجھ سے التجا کرتی کہ مجھے وہ جادو سناؤ میں تمہارے رب کو نہیں مانتی مگر اس جادو سے مجھے سکون ملتا ھے اور نیند آ جاتی ھے۔ میں نے کلمہ پاک بڑے حروف میں لکھ کر اسکے کمرے میں لگا دیا کہ اگر کسی دن تم میرے رب پر ایمان لانا چا ھو تو اسکو پڑھ لینا انگریزی میں اسکی ادائگی بھی لکھ دی۔ میں نے دیکھا کہ اس کی ذھنی حالت خراب ھوتی جا رھی ھے اور وہ محبت کی ناکامی کے شاک سے با ھر نہیں آ پا رھی اسکا رنگ سیاہ ھوتا جا رھا تھا چہرہ مرجھائی کلی کی طرح ماند پڑتا جا رھا تھا اور وہ برسوں کی بیمار لگتی تھی۔ ایک رات میں جلدی میں تھا اور اسے سلائے بغیر ڈیوٹی پر چلا گیا اس نے مجھے دو تین مرتبہ فون کیا لیکن میں مصروف تھا۔
جب میں صبح واپس آیا تو میرے کمرے میں ایک رقعہ پڑا تھا اور ساتھ کچھ رقم تھی جب میں نے پڑا تو میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی لکھا تھا ؛ میں تم سے بہت دور جا رھی ھوں تم میری قبر پر آکر اس جادو کی تلاوت ضرور کرنا ، مرنے سے پہلے میں اپنا وعدہ پورا کر رھی ھوں اور دیوار پر لکھا ھوا کلمہ تین دفعہ پڑھ رھی ھوں مجھے امید ھے کہ تمہیں یہ سن کر خوشی ھو گی ۔ تمہاری دوست ریٹا

سد ید مسعو د
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 245
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (19-06-11), منتظمین (07-04-09), مسافر (07-04-09), ام غزل (07-04-09)
پرانا 07-04-09, 02:06 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں اور ایک اچھی کہانی لکھنے پرمبارکباد بھی قبول کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (19-06-11), ام غزل (07-04-09), سد ید مسعو د (07-04-09)
پرانا 07-04-09, 03:03 AM   #3
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی خوبصورت تحریر !
آج مغربی عورت تحفظ کی تلاش میں اسلام کی طرف کثرت سے رجوع کرتی نظر آتی ہے ، یہ تحریر اپنے فورم پر پچھلے دنوں ہی پڑھی تھی اور آج اس بات کا تحریری ثبوت سامنے ہے ، اور رہی بات ایمان کی تو پختہ ناؤ اپنے ساتھ بہت سی ڈوبتی کشتیوں کو بھی بہا کر کنارے لگا دیتی ہے۔
آپ کا بہت بہت شکریہ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-04-09, 03:06 AM   #4
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE=سد ید مسعو د;155875]وہ میرے ساتھہ والے کمرے میں رھتی تھی پچیس چھبیس سال کی گوری چٹی انگریز زاد لڑکی میں ان دنوں رات کو ایک سکیورٹی کمپنی میں کام کرتا تھا اور میری شفٹ رات آٹھہ بجے سے شروع ھوتی تھی اکثر میں ڈیوٹی پر جارھا ھوتا تو وہ آتی اور اپنا دنر تیار کرنے میں مصروف ھوتی اور میں اپنا دیسی ناشتہ جس ہاسٹل میں میں رھتا تھا وہاں کچن کامن تھا

میری طرف سے بہترین تحریر پر 100 پوائنٹس آپ کے لئے۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-04-09, 01:07 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ام غزل و منتظمین، سچی کہانی ھے اور کوشش کی ھے کہ سادہ لفظوں میں بیان کروں اور خود ھیرو بننے کی کوشش نہ کروں سارا جادو قرآن کے لفظوں کا ھے میرا کوئی کمال نہیں۔ آپ نے پسند کیا میں آپکا بہت مشکور ھوں ۔

سدید مسعود
سد ید مسعو د آف لائن ہے   Reply With Quote
سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا
ام غزل (07-04-09)
پرانا 07-04-09, 01:14 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک سچی تحریر پر میری جانب سے مبارکباد قبول کریں۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ام غزل (07-04-09), سد ید مسعو د (07-04-09)
جواب

Tags
فورم, پولیس, پاک, واقعات, قرآن, لوگ, لڑکی, نیند, چور, نظر, ماں, آج, ایمان, اجنبی, اسلام, بہترین, تلاش, تحریر, تحریری, خدا, دوست, دعا, رات, سال, عورت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بیٹا زندہ نہیں تو لاش ہی مجھے لا دی جائے کنعان خبریں 15 08-12-10 05:41 PM
باپ بیٹا کہیں جارہے تھے۔۔۔۔۔ The Great قہقہے ہی قہقے 0 16-09-09 03:56 PM
300 کلومیٹر 90 منٹ میں ماسٹر مقسود دلچسپ اور عجیب 4 18-06-09 02:56 AM
مستونگ :بیکری میں بم دھماکا، دکان کا مالک اوربیٹا زخمی ابو کاشان خبریں 0 14-01-08 12:06 PM
::: چین نے زلزلہ کی پیشنگوئی کیلئے ٥ ہزار میٹر گہرے کنوئیں کی کھدائی کا کام مکمل کر لیا ::: ابو کاشان خبریں 0 18-12-07 11:41 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger