| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 419
|
||||
| 8 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا | shafresha (26-08-11), فاروق سرورخان (27-08-11), فرحان دانش (26-08-11), یاسر عمران مرزا (28-08-11), ابوسعد (28-08-11), احمد بلال (26-08-11), حیدر (29-08-11), شمشاد احمد (27-08-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
کمائي: 11,084
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ایک شو میں ابرارالحق اور ایک گلوکار جاوید تھا
دونوں ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے کہ اس نے فنڈز سے رقم کھائی.جاوید نے ابرارالحق پر 90 لاکھ کا الزام لگیا. مگر جو بھی ہو ان کے دل تو بے دین ہے. ہم کس طرح کہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے پیسوں کے اچھے مصرف ہے. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا | shafresha (26-08-11), فاروق سرورخان (27-08-11), یاسر عمران مرزا (28-08-11), ابوسعد (28-08-11), احمد بلال (26-08-11), حیدر (29-08-11), سیفی خان (26-08-11), شمشاد احمد (27-08-11) |
|
|
#3 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
اس قسم کے اداروں کو حیلہ کے زریعے زکوۃ دی جاسکتی ہے!!!
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-08-11), ابوسعد (28-08-11), احمد بلال (26-08-11), حیدر (29-08-11), شمشاد احمد (27-08-11) |
|
|
#4 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زکواتہ بڑی توند والے ملوں کو ہی دی جانی چاہیے وہی جائز ہے۔۔۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,689
کمائي: 31,853
شکریہ: 10,596
1,219 مراسلہ میں 3,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ملوں کو نہ کنجروں کو۔۔۔ اپنے غریب رشتہ دار سب سے پہلے۔ ہم پوری دنیا کے لئے آسانی پیدا کر دیں گے لیکن رشتہ داروں کا نام آتے ہیں ہماری سخاوت کم ہونے لگتی ہے۔
ہم اس سال اپنی زکواتہ کے پیسوں سے اپنے محلے میں ایک غریب فیملی کو واش روم بنا کے دینے کا ارادہ رکھتے ہیں انہیں بہت تنگی ہوتی ہے اس مسئلے کی وجہ سے۔کسی سے کہتے ہوئے بھی شرماتے ہیں۔اللہ انکی تنگی دور فرمائے اور ہمارا دینا قبول فرمائے۔ گلی محلے میں مدرسے کے نام پہ مانگنے والوں کے زکوات دینے کے حق میں نہیں ہوں میں۔ یہ پیسے مدرسے تک بہت کم پہنچتے ہیں۔ مدرسے کو پیسے دینے ہیں تو با اعتماد ادارے کو خود دے کے آئیں پیسے۔ نوٹ: اسے ایک مسٹر/مولوی کا فتوی ہرگز نہ سمجھا جائے۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-08-11), فرحان دانش (26-08-11), ھارون اعظم (27-08-11), محمد یاسرعلی (27-08-11), ابوسعد (28-08-11), حیدر (29-08-11) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: پاکستان
عمر: 28
مراسلات: 2,782
کمائي: 41,156
شکریہ: 2,659
1,639 مراسلہ میں 3,768 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
زکوٰۃ کیلئے پہلی ترجیح مستحق لوگ کو دینی چاہیے۔ اس کے بعد کسی فلاحی ادارے یا مدرسے کو دینی چاہیئے۔
__________________
http://farhandanish.blogspot.com
http://farhandanish.tk |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے فرحان دانش کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
زکوٰۃ صرف ان اداروں یا مدارس کو دینی چاہیئے جن کے بارے میں آپ کو یقین ہو کہ وہ اس کو صحیح جگہ خرچ کریں گے ۔ ۔ ۔ اس کے باوجود اگر کوئی گھپلا کر جائے تو اس کا ذمہ دار وہ ہو گا نہ کہ زکٰو ۃ دینے والا ۔ ۔ ۔ واللہ اعلم
__________________
![]() میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
ہائے رے مولوي تيرا ككھ نہ روے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر جگہ تو ہي برا ہے۔۔۔
سيدھي سي بات ہے سجنو۔۔۔ سجنو جس طرح نماز عبادت ہے اسي طرح زكوة بھي عبادت ہے۔ نماز كي ادائيگي كے لئے كچھ شرائط ہيں اسي طرح زكوة كي ادائيگي كي بھي كچھ شرائط ہيں۔ اگر نماز كي ادائيگي كي ان شرائط كا خيال ركھا جائے گا تو نماز درست ہو گي۔ اگر ان كا خيال نہيں ركھا جائے گا تو وہ نماز بيت اللہ كے اندر ہو يا روضہ رسول كے سامنے۔۔ وہ نماز درست نہيں ہو گي۔۔۔ اسي طرح اگر زكوة كي ادائيگي كے حوالے سے مقرر كردہ شرائط اور حدود كو پورا كيا گيا ہے تو وہ زكوة دينا درست ہے چاہے وہ زكوة كسي اين جي او كو ديں يا كلو كار و فنكار كے ادارے كو ديں۔ اور اگر ان شرائط اور حدود كا خيال نہيں ركھا جاتا تو آپ كي زكوة ادا نہيں ہو گي۔۔۔ چاہے آپ نے زكوة خود دي، يا كسي حضرت يا قبلہ جي كي ادارے كو دي۔۔۔ يہاں مسئلہ يہ نہيں كہ زكوة مسٹر كو ديني ہے يا بڑي توند يا چھوٹي توند والے كو ديني ہے۔۔۔۔ اصل مسئلہ يہ ہے كہ زكوة نہ مسٹر كي عبادت ہے يا بڑي يا چھوٹي توند والے مولوي كي عبادت ہے۔۔۔ زكوة آپ كي عبادت ہے۔۔۔ اور اس كو درست طريقے سے ادا كرنا آپ كا فريضہ ہے مسٹر فنكار يا بڑي چھوٹي توند والے كي ذمہ داري نہيں ہے۔۔۔ اب يہ تحقيق آپ نے كرني ہے كہ آپ جس كو زكوة دے رہے ہيں كيا وہ زكوة كو اس كے قواعد و ضوابط شرائط كے مطابق استعمال كررہا ہے يا نہيں۔۔۔۔ اگر زكوة كا استعمال اس كے مصارف ميں ہوا تو آپ كي زكوة ادا ہو گي ورنہ نہيں ہو گي۔۔۔ لہذا نا ايشو كو ايشو بنا كر نفس مسئلہ كو كسي كي بڑي يا چھوٹي توند كے يا پينٹ كے نيچے دبانا كوئي عقل مندي نہيں۔۔ اور نہ ہي ايسا ماحول پيدا كرنا كوئي علمي خدمت ہے۔۔۔ شكريہ
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | ھارون اعظم (27-08-11), یاسر عمران مرزا (28-08-11), محمد یاسرعلی (27-08-11), آبی ٹوکول (28-08-11), ابوسعد (28-08-11), احمد نذیر (28-08-11), حیدر (29-08-11), سیفی خان (27-08-11) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
اگر یہ شخص زکواۃ کا نوے لاکھ روپیہ کھا گیا ۔۔۔ تو جب یہ نہیںکھاتا تھا تو کس ملاء کو یہ نوے لاکھ جاتا تھا؟
لوگ زکواۃ ، فطرۃ ، صدقات اور خیرات اور جزیہ کی بات کرتے ہیں تو اس کو عین اسلامی قرآر دیتے ہیں۔۔ کیا اسلام میںٹیکس بھی ہوتا ہے ؟
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (29-08-11) |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
تو اگر نفس مسلہ ایسا ہے تو پھر بڑی توند والے پانچ مدرسوں نے اس معاملے میں فتوی کیوں دیا ؟ مسلہ تو صرف اپنی روزی روٹی چلانے کا ہے۔ بڑی توند اپنا کوئی کام تو کرتے نہیں ہیں اس لیے بھی یہ زکواتہ کے مستحق ہی ہیں۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو! |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-08-11), حیدر (29-08-11) |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
منتظمين بھائي۔۔ غصہ اور مولوي كي مخالفت كو تھوڑي دير كے ليے ايك سائيڈ پر ركھ كر چند معروضات پر غور كريں۔
(1)۔۔۔ زكوة ايك مالي عبادت ہے جو ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس كو درست طريقے سے ادا كرنے كا طريقہ قرآن و سنت ميں تفصيل سے موجود ہے۔ (2)۔۔۔ اب اس درست طريقے كے مطابق جو شخص زكوة كي ادائيگي كرے گا۔ اس كي زكوة ادا ہو گي۔۔ اور جو اس طريقے كے مطابق ادا نہيں كرے گا اس كي زكوة ادا نہيں ہو گي۔ اور زكوة كي ادائيگي كے ليے بنيادي ہے اس كے مصارف ميں خرچ كرنا۔ (3)۔۔۔ اگر كوئي شخص زكوة خود ادا نہيں كرتا بلكہ كسي دوسرے كو وكيل بنا كر اپني زكوة اس كے حوالے كر ديتا ہے كہ تو ميري زكوة كو زكوة كے مصارف ميں خرچ كر۔۔ تو اگر وہ وكيل زكوة كو اس كے صحيح مصارف ميں خرچ كرتا ہے تو زكوة دينے والے كي زكوة ادا ہو گي اور اگر صحيح مصارف پر خرچ نہيں كرتا تو زكوة ادا نہيں ہو گي۔۔۔۔ چاہے وكيل كوئي بھي ہو۔۔۔ موٹي توند والا يا پتلي كمر والا۔ يا پتلي كمر والي۔۔ (4)۔۔۔ زكوة كو اس كے صحيح مصارف پر خرچ كرنے كے ليے سب سے پہلے خوف خدا نيك نيتي كے ساتھ ساتھ زكوة اور اس كے مصارف كا علم اور بنيادي مسائل سے آگاہي كاہونا بہت ضروري ہے۔۔۔ نيك نيتي اور خوف خدا اب موٹي تونڈ والے كے پاس ہے يا پتلي كمر والے كے پاس اس كا حقيقي علم تو اللہ ہي جانتا ہے۔۔۔ ليكن ہم ظاہري طور پر اس كے كام كو ديكھ كر اطمينان كر سكتے ہيں كہ آيا وہ ہماري زكوة كي رقم صحيح مصرف پر لگا رہا ہے يا نہيں۔۔ (5)۔۔ يہاں كسي ايسے فتوي كي نقل پيش نہيں كي گئي۔ بس ايك بغير حوالے كے خبر سي ہے۔ فتوي ميں سوال كيا تھا اور اور اس كا جواب كيا ہے يہ بہت اہم ہے بات كو سمجھنے اور سجھانے ميں۔ جو خير سے يہاں مفقود ہے۔ اب آتے ہيں آپ كے سوال كي طرف كہ موٹي توند والے پانچ مدرسوں نے فتوي كيوں ديا؟ بھائي مدارس ميں مفتي حضرات كا كام ہي فتوي دينا ہے۔ جب كوئي سائل پوچھے گا تو وہ مفتي فتوي ہي دے گا۔۔۔ جہاں تك ميں سمجھ پايا ہوں آپ كو مفتي حضرات كے فتوي دينے پر اعتراض نہيں بلكہ آپ كو اعتراض يہ كہ انھوں نے يہ فتوي كيوں ديا ہے كہ كسي اداكار يا گلو كار كے ادارے كو زكوة دينا جائز نہيں۔۔ اصحاب افتاء كا عموما اصول يہي ہوتا ہے كہ وہ كسي مخصوص فرد يا ادارے كے بارے ميں فتوي نہيں ديتے۔۔ اگر ديتے ہيں تو اس بارے ميں قدرے ضروري تحقيق بھي كرتے ہيں۔۔۔ اس ليے اس مخصوص فتوي پر مزيد تعمير بحث كے ليے ضروري ہے كہ وہ فتوي يہاں پيش كيا جائے۔۔۔۔ باقي ميري اوپر كي معروضات كو اگر آپ ٹھنڈے دل و دماغ سے پڑھ چكے ہيں تو انشاء اللہ آپ ضرور اس نتيجہ پر پہنچ گئے ہوں گے كہ اس فتوي كا تعلق بھي صرف اسي بات سے ہے كہ ايسے حضرات عموما زكوة كے مسائل نہ جاننے كي وجہ سے زكوة كي رقم كو مصارف زكوة پر نہيں لگاتے۔۔ اور ايسا صرف ان گلوكاروں يا اداكاروں كے ساتھ ہي خاص نہيں ہے اگر آپ كو كسي بڑي يا چھوٹي توند والے مولوي كے مدرسے يا ادارے كے بارے ميں تحقيق ہے كہ وہ بھي زكوة كے پيسے مصارف پر استعمال نہيں كرتے تو ان كے بارے ميں بھي پانچ نہيں پانچ سو مدارس كا فتوي لے ليں سب يہي كہيں گے كہ اگر واقعي وہ مصارف زكوة كا خيال نہيں ركھتے تو اس مولوي صاحب كو زكوة نہ دي جائے۔۔۔ اميد ہے اظہار ما في الضمير كر پايا ہوں گا۔۔ شكريہ۔ |
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-08-11), کنعان (27-08-11), محمد یاسرعلی (27-08-11), آبی ٹوکول (28-08-11), احمد نذیر (28-08-11), حیدر (29-08-11) |
|
|
#12 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,569
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,690 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
اپنے قریبی جگہوں کے علاوہ میری نظر میں زکوۃ کا حق دینی مدارس کا زیادہ ھے کیونکہ وہاں پر بہت سے بچے بچیاں جو زیر تعلیم ہوتے ہیں ان اداروں کو حکومت کی کوئی سپورٹ نہیں حاصل ہوتی اور وہ اپنی مدد آپ کے تحت چلتے ہیں، ان بچے و بچیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ 3 وقت کی روٹی بھی فراہم کی جاتی ھے، یہاں پر وہ زیادہ تر وہ بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں جن کے والدین انہیں پال پوس نہیں سکتے اور وہ انہیں دینی مدارس میں چھوڑ آتے ہیں کہ دینی تعلیم بھی حاصل کر لیں گے اور زندہ رہنے کے لئے کھانا بھی انہیں ملتا رہے گا۔ انگلینڈ میں پاکستان کے گلوکار، رمضان میں آتے ہیں اور یہاں پر بڑی بڑی شخصیات کو مل کر ہسپتال کے نام سے زکوۃ اکٹھی کرتے ہیں اور ٹی۔وی چینلز پر بھی آنلائن کال پر زکوۃ، فطرانہ و دیگر چندہ اکٹھا کرتے ہیں اس میں ایک بات کنفرم ھے کہ ٹی۔وی چینلز والوں کے ساتھ چندہ 50/50 ہوتا ھے۔ کیونکہ وہ نشریات چلا رہے ہوتے ہیں۔ ان کو چندہ دینا مشکوک ھے۔ ایک کرکٹر کو دیکھ کر ہر کوئی اسی لائن پر چل پڑا ھے، میری ذاتی رائے ھے کہ ان کو زکوۃ دینا درست نہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (27-08-11), یاسر عمران مرزا (28-08-11), محمد یاسرعلی (27-08-11), احمد نذیر (28-08-11), احمد بلال (28-08-11), حیدر (29-08-11), سیفی خان (28-08-11), شمشاد احمد (27-08-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
زکواۃ، صدقات اور خیرات صرف اور صرف حکومت وقت کا حق ہے۔
کیا آپ کو حکومت وقت نظر نہیں آتی؟؟؟ کہ سب سے زیادہ اسکول کس نے کھولے ہیں ؟ کون سب سے زیادہ مساکین کو ملازم رکھتا ہے ؟ کون صفائی ستھرائی فراہم کرتا ہے ۔ کون تعمیری پراجیکٹ آرگنائز کرتا ہے ؟ |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (29-08-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() |
سب مل کر مجھے زکواۃ دے دیں
میرے محلے میں ایک بندہ ہے جس کو کینسر ہے اس کے پاس علاج کے لیے کچھ نہیں بس بیوی اور 3 بچے ہیں۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟ |
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا | فاروق سرورخان (28-08-11), حیدر (29-08-11) |
![]() |
| Tags |
| ہیں،, ہوتے, کوئی, کوشش, لوگ, چاہیے۔, موقع, مقصد, ملک, مطابق, ابرار, اداکار, اسلام, استعمال, اضافہ, بے, خان, دی, دینا, رمضان, شروع, ضرورت, عمران, عمران خان, صحت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|