واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سال کا آخری دن: ہمارا طرز عمل کیا ہو؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-12-09, 01:41 PM   #1
سال کا آخری دن: ہمارا طرز عمل کیا ہو؟
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 31-12-09, 01:41 PM

دنیا میںبسنے والی تمام ہی اقوام اور مذاہب کا یہ عام چلن ہے کہ سال کے کچھ ایام خصوصی اہتمام کے ساتھ مناتی ہیں۔بعض تو مذہبی تہوار ہوا کرتے ہیں جوتمام ہی مذاہب میں قدر مشترک کے طور پر منائے جاتے ہیں جیسے مسلمانوں کی عیدین، عسائیوں کی کرسمس اور ایسٹر کے تہوار، ہندوو¿ں کی ہولی اور دیوالی وغیرہ ۔

کچھ تہوارایسے ہیں جو تعلیمات کے اعتبار سے اگرچہ مذہبی تو نہیں بعض اقوام کے ساتھ خاص ہیں ۔ ان کے پیچھے ایک تاریخی ورثہ یا کوئی ایسا تاریخی واقعہ جنگی فتوحات یا حصول آزادی کی صورت میں ہوتا ہے جس کی یاد تازہ کرنے یا کسی تاریخی انسان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے یہ دن منائے جاتے ہیں۔ جس کی مثال پاکستان میں 23مارچ ، 14اگست، 6ستمبر یا پھر یوم قائد اور یوم اقبال کی صورت میں موجود ہے۔

ان مذہبی اور قومی تہواروں کے علاوہ کچھ دیگر ایام بھی ہیں جو اگرچہ نہ تو تعلیمات کے اعتبار سے مذہبی ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی ایسا تاریخی پس منظر ہے جوکسی خاص قوم ، قبیلے یا ملک کے ساتھ خاص ہو۔ نہ ان کے آغاز کی کوئی خاص وجہ ہوتی ہے اور نہ کسی اس کے پیچھے کوئی خاص طرز فکر، بلکہ معمول کی زندگی کا کوئی واقعہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اتنی اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ اسے بین الاقوامی شہرت حاصل ہو جاتی ہے ۔ اور دنیا اسے بلا تفریق رنگ و نسل، بلا امتیاز قوم و مذہب مشترکہ قدر کے طور پر مناتی ہے۔ نئے سال کی پر تعیش تقریبات، مدر ڈے، فادر ڈے ، ویلنٹائن ڈے ،بسنت وغیرہ اسی قسم کے تہواروں کی مثالیں ہیں۔

بظاہر یہ دن اگرچہ غیر مذہبی اور غیر قومی ہیں، تمام دنیا بلا امتیاز انہیں مناتی ہے لیکن اگر ان کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کو یہ شہرت دلانے اور پھر جس انداز سے یہ دن منائے جاتے ہیں اس میں ایک خاص تہذیب کا اثر صاف دکھائی دیتا ہے۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ابتدا میں تو یہ غیر جانبدار تہوار تھے لیکن بعد میں خصوصی منصوبہ بندی کے ساتھ بعض مذاہب اور تہذیبوں نے ان ایام کو ایسا رنگ دے دیا کہ اب ان کو نیوٹرل کہنا کسی طور مناسب نہیں۔ خاص طور پر اس کے لئے کی جانے والی تیاریاں، عیش و طرب کا سامان، شباب و کباب کی بہتات اور پھر اصراف اور فضول خرچی اس طرح کے مواقع کی ایسی خصوصیات لاینفک بن گئی ہیں کہ کم از کم اسلام ان کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتا۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ یہ ایام جدید عیسائی طرز زندگی کے آئینہ دار ہیں اور مشابہت اغیار سے اجتناب کی اسلامی تعلیمات کے پیش نظر ان میں کسی طور شامل ہونا ایک مسلمان کے لئے مناسب نہیں۔

غیر مذہبی و غیر قومی تہواروں کے علاوہ ایک خاص دن جو خصوصی اہتمام کے ساتھ دنیا بھر میں منایا جاتا ہے وہ ہے نیو ایر نائٹ New Year Night۔بیسویں صدی میں شروع ہونے والا یہ پروگرام وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ باقاعدہ تہوار کا درجہ حاصل کر گیا اور دنیا بھر میں بڑے زورو شور سے منایا جاتا ہے۔اس کا آغاز انیسویں صدی میںبرٹش رائل نیوی کے ایک جہاز سے ہوا اور خشکی میں سب سے پہلے 1910 میں ایک ساحلی شہر اینا ڈین میں منایا گیا۔پھر اسے جو مقبول عام حاصل ہوا اس سے سب آگاہ ہیں۔

1980تک تو یہ لعنت یورپ تک ہی محدود تھی لیکن اس کے بعد یہ مرض وبا کی طرح پھیلا اور پوری دنیا کوبشمول بر صغیر اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
وطن عزیز پاکستان میں پہلی بار 90کی دہائی میں اس تقریب کا آغاز ہوا ۔ کیوں کہ انگریز برصغیر سے چلا تو گیا لیکن جاتے جاتے ایسے انڈے بچے دے گیا جو اندھی تقلید میں اپنے اکابر سے بھی کئی ہاتھ آگے ہیں۔ پہلے پہل یہ صرف بڑے لوگوں کا شوق ہوا کر تا تھا لیکن اب سر عام اس رات کو منایا جاتا ہے۔ اربوں روپے کے جام چھلکائے جاتے ہیں۔ سیکڑوں خواتین اپنی چادر عصمت تارتار کرواتی ہیں ۔ کیوں کہ عموما ایسی پارٹیوں میں سنگلز کی انٹری ممنوع ہوتی ہے۔

اتفاق سے پچھلے سال کی طرح اس سال بھی نیو ایئر نائٹ محرم الحرام کے میں آگئی ہے۔ ویسے تو پورے محرم میں حکومت کے ٹی وی چینلز پر بھی موسیقی وغیر ہ پر کسی حد تک پابندی ہوتی ہے لیکن اس بڑی برائی کو روکنے کے لئے کسی سطح پر کوئی کوشش منظر عام پر نہیں آئی۔

بالخصوص اس سال تو حکومت کو اس قسم کی تمام تقریبات پر سختی سے پابندی لگا دینی چاہیئے۔ کیوں کہ ملک ویسے بھی دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔بجلی، آٹا ، گیس، چینی اور دیگر اشیائے صرف ناپید ہو چکی ہیں، اور اس ایک رات میں اربوں روپے صرف چند گھنٹوں کے تعش کی نذر کر دیئے جاتے ہیں ۔ اگر ان بے حیائی کے کاموں میں صرف ہونے والا پیسا بچا کر کسی مثبت کام میں صرف کیا جائے تو کئی لوگ اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
اسلامی تہذیب بذات خود ایک مکمل اور جامع تہذیب ہے۔ اس میں جہاں انسان کی دیگر فطری خواہشات و ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے وہیں خوشی کو منانے کے لئے ایسے تہوار بھی مقرر کر دئیے گئے ہیں جن میں انسان اپنی خوشی کا اظہار کر سکتا ہے۔ لیکن ایک خصوصیت جو صرف اسلام کی ہے وہ یہ ہے کہ آپ کسی بھی حالت میں ہوں، خوشی یا غمی، حد سے زیاتی کو برا جانا گیا ہے۔

اسلام خوشی منانے کے بالکل منافی نہیں ہے بلکہ صحت مند تفریخ کی حوصلہ افزائی کرتا ہے ۔ لیکن جس تفریح میں مال کے ساتھ ساتھ جان بھی ضائع ہوتی ہو ۔ معاشرے کی اخلاقی اقدار تباہ ہوتی ہوںوہاں اسلام حکومت کو پابند کرتا ہے کہ اس کام کو روکے اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دے۔ تاکہ معاشرہ بہتر انسانی اقدار کی روشنی میں ترقی کرتارہے۔

اس کے علاوہ ایک اور پہلو فکر آخرت کا ہے۔ ایک مسلمان اس حیات مستعار میں اپنی آخرت بہتر بنانے کے لئے کوشش کرتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ اصل زندگی آخرت کی ہے اور مجھے ایک ایک پل کا حساب دینا ہے۔ اس کا ہر لمحہ اسی فکر میں گزرتا ہے۔ جیسے ہی ایک سال مکمل ہوا تو اسے فکر لاحق ہوتی ہے کہ گزشتہ سال میں اپنے رب کو راضی کرنے، اپنے رسول کی اتباع کرنے اور دین اسلام کو مخلوق خدا تک پہنچانے کے لئے میں نے کتنی محنت کی؟ گناہوںسے بچنے میں کس حد تک کامیاب ہوا؟ غلبہ اسلام کے لئے میں نے کیا قربانی دی؟

ہر ذی شعور خود سوچ سکتا ہے کہ جس کے دل میں ذرا بھی فکر آخرت ہو وہ اس دن کسی تقریب کے اہتمام کا سوچ بھی سکتا ہے؟ کیا وہ کسی کو نئے سال کی مبارک باد دینے کا خیال بھی دل میں لا سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں
ہر مسلمان کو خود اس موضوع پر سوچنا چاہیئے کہ اس مختصر زندگی کیسے بہتر انداز میں گزار کر آخرت کی ابدی زندگی کو سنوارا جا سکتا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
شکریہ: 25,210
16,386 مراسلہ میں 41,617 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 170
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-12-09), فیصل ناصر (31-12-09), نیلم خان (11-01-10), ام طلحہ (31-12-09), ابو عمار (31-12-09), ابن جلال (31-12-09), حیدر (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 02:21 PM   #2
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

استغفر اللہ
اللہ ہمارے معاشرے کو ان غلاظتوں سے پاک کر دے۔ آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-12-09), حیدر (31-12-09), راجہ اکرام (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 02:58 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,356
کمائي: 95,358
شکریہ: 52,435
11,145 مراسلہ میں 35,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی اہم بات کی طرف توجہ دلائی آپ نے۔میتھمیٹکس میں ایک ٹرم ہوتی ہے correlationکی۔ اس میں ایک چیز پر دوسری چیز کا اثر دیکھا جاتا ہے۔ مجھے نہ جانے کیوں محسوس ہوتا ہے کہ آج جو کچھ ہمارے جدید تعلیمی اداروں میں سکھایا جا رہا ہے اس کا کوئی نہ کوئی براہ راست اثر ہمارے اخلاق و معیار پر بھی پڑ رہا ہے۔ یعنی ان دونوں میں correlationموجود ہے۔شاید اسی correlationکو اقبال نے شعر میں بیان کیاتھا کہ "ہم تو سمجھتے تھے کہ فراغت لائے گی تعلیم۔کسے خبر تھی چلا ائے گا الحاد بھی ساتھ"
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (31-12-09), فیصل ناصر (31-12-09), راجہ اکرام (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 03:08 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,058
شکریہ: 25,210
16,386 مراسلہ میں 41,617 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بدر بھائی آپ بالکل درست جانب توجہ دلاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
اثر پذیری کا عنصر ویسے ہم اثر اندازی کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ یہ میرا خیال ہے
اور اس کی وجہ جو مرعوبیت اور احساس کمتری کے سوا کچھ بھی نہیں، اور ہر وہ چیز جو corelate ہو اس کا اثر ہم اپنا سمجھ کر لیتے ہیں

کیا خیال ہے؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (31-12-09), حیدر (31-12-09)
جواب

Tags
کوشش, کباب, پاکستان, مکمل, منصوبہ, معاشرہ, آئینہ, انسان, اسلام, اسلامی, جام, خواتین, خدا, خصوصی, رات, زندگی, سال, شور, عزیز, عصمت, صاف, صحت, صدی, صرف, صغیر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شادی کس کی مرضی سے ہو؟ خرم شہزاد خرم گپ شپ 73 02-02-11 06:16 PM
اے نوجوان کس انقلاب کی بات کرتے ہو؟ گوہر سیاست 0 15-09-09 10:48 PM
زندگی سے ڈرتے ہو؟ چیتا چالباز شاعروں کی بیٹھک 4 29-12-08 12:25 AM
کیا ہوا سب کو؟ حسن مغل گپ شپ 33 11-12-08 04:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger