واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سب کرتے ہیں بھائی !

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 13-05-11, 11:26 AM   #1
سب کرتے ہیں بھائی !
Student Student آف لائن ہے 13-05-11, 11:26 AM

ریاستی اقتدارِ اعلی، قومی خودمختاری، بین القوامی ضابطے، پرامن بقائے باہمی، انفرادی و اجتماعی حقوق مقدس اور اچھے ہیں لیکن ان سے بھی بڑھ کر ایک اور حق ہے یعنی حقِ تحفظِ مفادات۔
یہ حق بظاہر کسی ملک یا ادارے کے آئین میں نہیں ملے گا۔لیکن جب یہ حرکت میں آتا ہے تو باقی حقوق اور ضابطے دھرے رہ جاتے ہیں۔تمام ریاستیں یہ حق استعمال کرتی ہیں صرف ڈگری کا فرق ہے جتنا جس کا جہاں بس چل جائے۔
مثلاً اسرائیلی ایجنٹ سنہ انیس سو ساٹھ میں رسوائے زمانہ جرمن نازی قاتل ایڈولف آئخ مین کو بیونس آئرس سے اغوا کرکے یروشلم لے گئے۔ارجنٹینا نے اقوامِ متحدہ میں جا کر اپنے اقتدارِ اعلیٰ کی پامالی کی دہائی دی۔سلامتی کونسل نے قرار داد نمبر ایک سو اڑتیس کے ذریعے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ارجنٹینا کی شکایت کا ازالہ کرے اور مقدمہ ارجنٹینا میں چلایا جائے۔ تین ماہ بعد ارجنٹینا نے اپنی شکایت واپس لے لی۔آئخ مین پر یروشلم میں ہی مقدمہ چلا اور اسے پھانسی دے دی گئی۔
فلسطینی تنظیم بلیک ستمبر نے ستمبر انیس سو بہتر میں میونخ اولمپکس کے دوران گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو قتل کردیا۔وزیرِاعظم گولڈہ مائیر نے خفیہ ایجنسی موساد اور ملٹری انٹیلی جینس شن بیت کی ڈیوٹی لگائی کہ جو قاتل جہاں جہاں بھی ملے ٹھکانے لگا دو۔چنانچہ ایہود براک ( بعد میں وزیرِ اعظم بنے) کی قیادت میں اسرائیلی ایجنٹوں نے بیروت میں گھس کر بلیک ستمبر کے سربراہ ابو یوسف اور ان کے دو معاونین کمال عدوان اور کمال ناصر کو قتل کیا۔
ناروے کے قصبے للی ہیمر میں موساد کی ٹیم نے فلسطینی مفرور علی حسن سلامے کے شبہے میں ایک بے گناہ مراکشی باشندے کو مار دیا۔نارویجن پولیس نے ایک خاتون سمیت موساد کے تین ایجنٹوں کو پکڑ لیا۔عدالت نے سزا سنا دی لیکن چند ماہ بعد تینوں کو اسرائیل کے حوالے کر دیا گیا۔علی حسن سلامے کو بعد میں بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں ماردیا گیا۔جبکہ پی ایل او کی انٹیلی جنس کے سربراہ عاطف بسوسو کو پیرس میں گولی ماری گئی۔میونخ کے قاتلوں میں جمال الغاشی واحد شخص ہے جو آج بھی زندہ ہے اور شمالی افریقہ میں کہیں روپوش بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح اسرائیلی چھاپہ ماروں نے اپریل چھیاسی میں الفتح کے ایک بانی اور یاسر عرفات کے دستِ راست خلیل ال وزیر عرف ابو جہاد کو تیونس میں جا کر قتل کیا۔اس آپریشن کی نگرانی بھی ایہود براک نے تیونس کے سمندر میں ایک میزائل کشتی میں بیٹھ کر کی۔تیونس والوں نے بھی اقوامِ متحدہ کے سامنے اپنے اقتدارِ اعلیٰ کی پامالی کا رونا رویا۔ان کی تشفی کے لیے بھی سلامتی کونسل نے ایک قرار دادِ مذمت منظور کرلی۔
اسی طرح سنہ دو ہزار دس میں گیارہ اسرائیلی ایجنٹوں نے آئرلینڈ، برطانیہ، فرانس اور جرمن پاسپورٹوں پر دبئی میں گھس کر حماس کے القاسم بریگیڈ کے بانی محمود المبوح کو ہوٹل کے کمرے میں منہ پر تکیہ دے کر مار ڈالا اور پھر گیارہ کے گیارہ آرام سے فرار ہوگئے۔متحدہ عرب امارات اور جن ممالک کے پاسپورٹس غیر قانونی طور پر استعمال ہوئے ان سب نے اسرائیل کی مذمت کی۔اسرائیل نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ بہرا ہو!
امریکہ نے سنہ انیس سو نواسی میں پناما پر حملہ کیا۔بمباری سے سینکڑوں شہری مارے گئے۔امریکہ وہاں کے صدر اور سی آئی اے کے سابق دوست جنرل مینوئل نوریاگا کو پکڑ کر لے گیا اور منشیات کی سمگلنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کے الزام میں میامی کی جیل میں ڈال دیا۔سولہ برس قید کاٹنے کے بعد جنرل نوریاگا کو فرانس کے حوالے کردیا گیا جہاں انہیں مزید قید ہوگئی۔کسی نے بھی اقوامِ متحدہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔
فروری دو ہزار چار میں روس کی سیکرٹ سروس کے تین ایجنٹوں نے قطر میں چیچنیا کے جلاوطن سابق صدر زیلم خان یاندرابایوف کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہلاک کردیا۔حکومتِ قطر نے ایک روسی ایجنٹ کو سفارتی استشنیٰ کے سبب ملک بدر کردیا اور دو ایجنٹوں کو قید کی سزا سنا دی۔لیکن نو ماہ بعد ان ایجنٹوں کو بھی روس بھیج دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لیبیا کی قذافی حکومت نے انیس سو اسی سے ستاسی تک کے عرصے میں دنیا کے مختلف ممالک میں پچیس حکومت مخالفین کو ڈیتھ سکواڈز بھیج کر قتل کروایا۔
ترک سیکرٹ سروس نے انیس سو ننانوے میں کردستان ورکرز پارٹی کے مفرور سربراہ عبداللہ اوجلان کو امریکی سی آئی اے کی مدد سے نیروبی سے اغوا کیا اور ایک خصوصی عدالت کے زریعے اوجلان کو بغاوت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔سنہ دو ہزار دو میں ترکی میں سزائے موت ساقط کردی گئی۔اوجلان اس وقت امرالی کے جزیرے پر عمرقید کاٹ رہے ہیں۔
ایرانی حکومت کے ڈیتھ سکواڈز نے گذشتہ تیس برس میں ایک سابق وزیرِ اعظم شاہ پور بختیار سمیت مختلف ممالک میں ستر سے زائد مخالفین کو قتل کیا۔سات کارروائیاں صرف پاکستان میں ہوئیں۔جولائی سن ستاسی میں ایرانی خفیہ کے ایجنٹوں نے کراچی اور کوئٹہ میں بیک وقت کارروائی کر کے دو مخالفین کو ہلاک اور تئیس کو زخمی کردیا۔پاکستان نے اس ناطے نہ تو اقتدارِ اعلیٰ کی پامالی کا سوال اٹھایا اور نہ ہی کبھی برسرِ عام ایران سے احتجاج کیا محض تنبیہ سے کام لیا۔بلکہ پاکستان کی جانب سے اطلاع کی بنیاد پر سنہ دو ہزار سات میں ایرانی خفیہ کے ایجنٹوں نے دبئی سے کرغستان جانے والی کرغز ایئرلائن کی پرواز جبراً اپنی حدود میں اتار لی اور اس میں سے جنداللہ تنظیم کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو برآمد کر کے پھانسی دے دی ۔
خود پاکستانی ریاست بھی اپنے مفرور شہریوں کو اغواء کرنے میں ملوث رہی ہے۔مثلاً دسمبر انیس سو بیاسی میں ضیاء حکومت کو اطلاع ملی کہ پی آئی اے طیارے کی ہائی جیکنگ میں ملوث سلام اللہ ٹیپو اور ان کے پانچ ساتھی لیبیا سے براستہ دبئی کابل جا رہے ہیں۔ٹیپو تو ایتھنز میں اترگیا جبکہ مسرور احسن اور ان کے تین ساتھی دبئی پہنچ گئے جہاں سے بریگیڈیئر طارق محمود ( بریگیڈیر ٹی ایم) کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم نے انہیں ایک خصوصی طیارے میں سوار کرکے راولپنڈی پہنچا دیا اور پھر بغاوت کے مقدمے میں شاہی قلعے اور پھر کوٹ لکھپت جیل کی کال کوٹھڑی میں بھیج دیا گیا۔حلانکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس وقت تحویلِ مجرمین کا معاہدہ بھی نہیں تھا۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر ریاست ہر کام کرتی ہے۔اب جس کا جتنا بڑا داؤ لگ جائے۔جس کی جتنی بساط اور پہنچ ہو۔۔۔۔شیر ذرا زیادہ بڑا شکار کرلیتا ہے۔۔۔بھیڑیا اًس سے کم اور کتا اًس سے کم اور گدھ اًس سے کم۔۔۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
__________________

http://newsreportingroom.com/
http://mobileinfoandupdate.blogspot.com/

 
Student's Avatar
Student
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
شکریہ: 401
230 مراسلہ میں 538 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 108
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے Student کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-05-11), حیدر (13-05-11)
پرانا 13-05-11, 11:36 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,357
کمائي: 95,360
شکریہ: 52,441
11,145 مراسلہ میں 35,179 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
کہ ہر ریاست ہر کام کرتی ہے۔اب جس کا جتنا بڑا داؤ لگ جائے۔جس کی جتنی بساط اور پہنچ ہو۔۔۔۔شیر ذرا زیادہ بڑا شکار کرلیتا ہے۔۔۔بھیڑیا اًس سے کم اور کتا اًس سے کم اور گدھ اًس سے کم۔۔۔
ان میں سے ہم کون ہیں؟؟؟؟؟
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (14-05-11)
پرانا 13-05-11, 12:14 PM   #3
Senior Member
 
عصمت's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
کمائي: 7,813
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
عصمت کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عصمت کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default چوروں کا آپس ميں مال بانٹنا

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Student مراسلہ دیکھیں
ریاستی اقتدارِ اعلی، قومی خودمختاری، بین القوامی ضابطے، پرامن بقائے باہمی، انفرادی و اجتماعی حقوق مقدس اور اچھے ہیں لیکن ان سے بھی بڑھ کر ایک اور حق ہے یعنی حقِ تحفظِ مفادات۔
یہ حق بظاہر کسی ملک یا ادارے کے آئین میں نہیں ملے گا۔لیکن جب یہ حرکت میں آتا ہے تو باقی حقوق اور ضابطے دھرے رہ جاتے ہیں۔تمام ریاستیں یہ حق استعمال کرتی ہیں صرف ڈگری کا فرق ہے جتنا جس کا جہاں بس چل جائے۔
مثلاً اسرائیلی ایجنٹ سنہ انیس سو ساٹھ میں رسوائے زمانہ جرمن نازی قاتل ایڈولف آئخ مین کو بیونس آئرس سے اغوا کرکے یروشلم لے گئے۔ارجنٹینا نے اقوامِ متحدہ میں جا کر اپنے اقتدارِ اعلیٰ کی پامالی کی دہائی دی۔سلامتی کونسل نے قرار داد نمبر ایک سو اڑتیس کے ذریعے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ ارجنٹینا کی شکایت کا ازالہ کرے اور مقدمہ ارجنٹینا میں چلایا جائے۔ تین ماہ بعد ارجنٹینا نے اپنی شکایت واپس لے لی۔آئخ مین پر یروشلم میں ہی مقدمہ چلا اور اسے پھانسی دے دی گئی۔
فلسطینی تنظیم بلیک ستمبر نے ستمبر انیس سو بہتر میں میونخ اولمپکس کے دوران گیارہ اسرائیلی کھلاڑیوں کو قتل کردیا۔وزیرِاعظم گولڈہ مائیر نے خفیہ ایجنسی موساد اور ملٹری انٹیلی جینس شن بیت کی ڈیوٹی لگائی کہ جو قاتل جہاں جہاں بھی ملے ٹھکانے لگا دو۔چنانچہ ایہود براک ( بعد میں وزیرِ اعظم بنے) کی قیادت میں اسرائیلی ایجنٹوں نے بیروت میں گھس کر بلیک ستمبر کے سربراہ ابو یوسف اور ان کے دو معاونین کمال عدوان اور کمال ناصر کو قتل کیا۔
ناروے کے قصبے للی ہیمر میں موساد کی ٹیم نے فلسطینی مفرور علی حسن سلامے کے شبہے میں ایک بے گناہ مراکشی باشندے کو مار دیا۔نارویجن پولیس نے ایک خاتون سمیت موساد کے تین ایجنٹوں کو پکڑ لیا۔عدالت نے سزا سنا دی لیکن چند ماہ بعد تینوں کو اسرائیل کے حوالے کر دیا گیا۔علی حسن سلامے کو بعد میں بیروت میں ایک کار بم دھماکے میں ماردیا گیا۔جبکہ پی ایل او کی انٹیلی جنس کے سربراہ عاطف بسوسو کو پیرس میں گولی ماری گئی۔میونخ کے قاتلوں میں جمال الغاشی واحد شخص ہے جو آج بھی زندہ ہے اور شمالی افریقہ میں کہیں روپوش بتایا جاتا ہے۔
اسی طرح اسرائیلی چھاپہ ماروں نے اپریل چھیاسی میں الفتح کے ایک بانی اور یاسر عرفات کے دستِ راست خلیل ال وزیر عرف ابو جہاد کو تیونس میں جا کر قتل کیا۔اس آپریشن کی نگرانی بھی ایہود براک نے تیونس کے سمندر میں ایک میزائل کشتی میں بیٹھ کر کی۔تیونس والوں نے بھی اقوامِ متحدہ کے سامنے اپنے اقتدارِ اعلیٰ کی پامالی کا رونا رویا۔ان کی تشفی کے لیے بھی سلامتی کونسل نے ایک قرار دادِ مذمت منظور کرلی۔
اسی طرح سنہ دو ہزار دس میں گیارہ اسرائیلی ایجنٹوں نے آئرلینڈ، برطانیہ، فرانس اور جرمن پاسپورٹوں پر دبئی میں گھس کر حماس کے القاسم بریگیڈ کے بانی محمود المبوح کو ہوٹل کے کمرے میں منہ پر تکیہ دے کر مار ڈالا اور پھر گیارہ کے گیارہ آرام سے فرار ہوگئے۔متحدہ عرب امارات اور جن ممالک کے پاسپورٹس غیر قانونی طور پر استعمال ہوئے ان سب نے اسرائیل کی مذمت کی۔اسرائیل نے یوں ظاہر کیا جیسے وہ بہرا ہو!
امریکہ نے سنہ انیس سو نواسی میں پناما پر حملہ کیا۔بمباری سے سینکڑوں شہری مارے گئے۔امریکہ وہاں کے صدر اور سی آئی اے کے سابق دوست جنرل مینوئل نوریاگا کو پکڑ کر لے گیا اور منشیات کی سمگلنگ اور کالے دھن کو سفید کرنے کے الزام میں میامی کی جیل میں ڈال دیا۔سولہ برس قید کاٹنے کے بعد جنرل نوریاگا کو فرانس کے حوالے کردیا گیا جہاں انہیں مزید قید ہوگئی۔کسی نے بھی اقوامِ متحدہ کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔
فروری دو ہزار چار میں روس کی سیکرٹ سروس کے تین ایجنٹوں نے قطر میں چیچنیا کے جلاوطن سابق صدر زیلم خان یاندرابایوف کو ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے ہلاک کردیا۔حکومتِ قطر نے ایک روسی ایجنٹ کو سفارتی استشنیٰ کے سبب ملک بدر کردیا اور دو ایجنٹوں کو قید کی سزا سنا دی۔لیکن نو ماہ بعد ان ایجنٹوں کو بھی روس بھیج دیا گیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لیبیا کی قذافی حکومت نے انیس سو اسی سے ستاسی تک کے عرصے میں دنیا کے مختلف ممالک میں پچیس حکومت مخالفین کو ڈیتھ سکواڈز بھیج کر قتل کروایا۔
ترک سیکرٹ سروس نے انیس سو ننانوے میں کردستان ورکرز پارٹی کے مفرور سربراہ عبداللہ اوجلان کو امریکی سی آئی اے کی مدد سے نیروبی سے اغوا کیا اور ایک خصوصی عدالت کے زریعے اوجلان کو بغاوت کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔سنہ دو ہزار دو میں ترکی میں سزائے موت ساقط کردی گئی۔اوجلان اس وقت امرالی کے جزیرے پر عمرقید کاٹ رہے ہیں۔
ایرانی حکومت کے ڈیتھ سکواڈز نے گذشتہ تیس برس میں ایک سابق وزیرِ اعظم شاہ پور بختیار سمیت مختلف ممالک میں ستر سے زائد مخالفین کو قتل کیا۔سات کارروائیاں صرف پاکستان میں ہوئیں۔جولائی سن ستاسی میں ایرانی خفیہ کے ایجنٹوں نے کراچی اور کوئٹہ میں بیک وقت کارروائی کر کے دو مخالفین کو ہلاک اور تئیس کو زخمی کردیا۔پاکستان نے اس ناطے نہ تو اقتدارِ اعلیٰ کی پامالی کا سوال اٹھایا اور نہ ہی کبھی برسرِ عام ایران سے احتجاج کیا محض تنبیہ سے کام لیا۔بلکہ پاکستان کی جانب سے اطلاع کی بنیاد پر سنہ دو ہزار سات میں ایرانی خفیہ کے ایجنٹوں نے دبئی سے کرغستان جانے والی کرغز ایئرلائن کی پرواز جبراً اپنی حدود میں اتار لی اور اس میں سے جنداللہ تنظیم کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو برآمد کر کے پھانسی دے دی ۔
خود پاکستانی ریاست بھی اپنے مفرور شہریوں کو اغواء کرنے میں ملوث رہی ہے۔مثلاً دسمبر انیس سو بیاسی میں ضیاء حکومت کو اطلاع ملی کہ پی آئی اے طیارے کی ہائی جیکنگ میں ملوث سلام اللہ ٹیپو اور ان کے پانچ ساتھی لیبیا سے براستہ دبئی کابل جا رہے ہیں۔ٹیپو تو ایتھنز میں اترگیا جبکہ مسرور احسن اور ان کے تین ساتھی دبئی پہنچ گئے جہاں سے بریگیڈیئر طارق محمود ( بریگیڈیر ٹی ایم) کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم نے انہیں ایک خصوصی طیارے میں سوار کرکے راولپنڈی پہنچا دیا اور پھر بغاوت کے مقدمے میں شاہی قلعے اور پھر کوٹ لکھپت جیل کی کال کوٹھڑی میں بھیج دیا گیا۔حلانکہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس وقت تحویلِ مجرمین کا معاہدہ بھی نہیں تھا۔

تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر ریاست ہر کام کرتی ہے۔اب جس کا جتنا بڑا داؤ لگ جائے۔جس کی جتنی بساط اور پہنچ ہو۔۔۔۔شیر ذرا زیادہ بڑا شکار کرلیتا ہے۔۔۔بھیڑیا اًس سے کم اور کتا اًس سے کم اور گدھ اًس سے کم۔۔۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

يہ حساب کا بڑا ضروري قاعدہ ہے، سب سے زيادہ جھگڑے اسي پر ہوتے ہيں۔

تقسيم کا مطلب بے بانٹنا

اندھوں کا آپس ميں ريوڑياں بانٹنا

بندر کا بليوں ميں روٹي بانٹنا

چوروں کا آپس ميں مال بانٹنا

اہلکاروں کا آپس ميں رشوت بانٹنا

مل بانٹ کر کھانا اچھا ہوتا ہے

دال تک جوتوں بانٹ کر کھاني چاھئيے

ورنہ قبض کرتي ہے

تقسيم کا طريقہ کچھ مشکل نہيں ہے

حقوق اپنے پاس رکھئيے

فرائض دوسروں ميں بانٹ ديجئے

روپيہ پيسہ اپنے کھیسے ميں ڈالئيے

قناعت کي تلقين دوسروں کو کيجئے

آپ کو مکمل پہاڑہ مع گر ياد ہو

تو کسي کو تقسيم کي کانوں کان خبر نہيں ہوسکتي، آخر کو 12 کروڑ کي دولت کو 22 خاندانوں نے آپس ميں تقسيم کيا ہي ہے؟

کسي کو پتہ چلا؟

تفريق کے قاعدے سے دودھ ميں سے مکھي نکالو۔

آدمي ضرب مسلسل کي تاب کہاں تک لا سکتا ہے؟

جو اندھے نہيں وہ بھي ريوڑياں اپنوں ہي ميں کيوں بانٹتے ہيں؟
،،،،،،،،
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
-
عصمت آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-05-11), مرزا عامر (13-05-11)
کمائي نے عصمت کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
14-05-11 shafresha تفريق کے قاعدے سے دودھ ميں سے مکھي نکالو 5
جواب

Tags
کوئٹہ, کمال, کراچی, پولیس, پاکستان, پاکستانی, ڈاٹ, قید, موت, آپریشن, آج, الزام, احتجاج, اردو, اعلیٰ, اغوا, بھائی, جیل, حماس, حسن, خان, دوست, دبئی, زمانہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:41 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger