واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سقراط اور مذھب

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-04-09, 02:50 PM   #1
سقراط اور مذھب
سد ید مسعو د سد ید مسعو د آف لائن ہے 01-04-09, 02:50 PM

تخلیق انسان سے مذھب دو متوازی لا ئنوں پر چلا آ رھا ھے خدائے واحد کا تصور اور دیوی دیوتاؤں کی پوجا۔ ان دونوں تصورات میں ایک قدر مشرک ھے کہ دونوں کا یہ خیال ھے کہ انسان کو کسی مافوالفطرت ھستی نےعدم سے وجود میں لایا ھے، دونوں میں نیکی بدی کا تصور تقریبا ایک جیسا ھے دونوں میں چڑھاوے چڑھائے جاتے ھیں، تہوار منائے جاتے ھیں اور پوجا کی جاتی ھے۔ سقراط نے جس ماحول میں جنم لیا وہ دیوی دیوتاؤں کی پوجا کا زمانہ تھا اسکے زمانے کے مشہور دیوی دیوتا درج زیل تھے ۔
اتھنیا، سائی کلو پس، اوڈی سیس، پوزائیڈن، ایکروپولس اور اپالو وغیرہ وغیرہ ان دیوتاؤں کی عبادت کی جاتی اور دیگر مذھبی رسوم ادا کی جاتیں مثلا اتھنیا کے بڑے لکڑی کے بت کو ھر سال سمندر کے کنا رے لے جاتے اسے غسل دیتے، متبرک سانپ کے لئے مندر میں میٹھی ٹکیا کا چڑھاوا چڑھتا اور لوگ منتیں مانگتے۔

سقراط کے لئے مشکل یہ تھی کہ وہ دیوی دیوتا کا کوئی واضع تصور ذھن میں قائم نہیں کر سکتا تھا۔ اور نہ ھی کوئی معیار تھا جس پر وہ انکی تعلیمات کو پرکھہ سکتا محض روسومات کا مجموعہ تھا اسلیے وہ ان دیوتاؤں سے باغی سا ھوتا گیا ۔ کبھی کبھی سقراط پر ایک خاص کیفیت طاری ھوتی اور یہ اسے کسی کا م کے کر نے سے روک دیتی یا کرنے کو اصرار کرتی اس کیفیت میں جسے تصوف میں مراقبہ کہتے ھیں اسے ایک نشان ربانی نظر آتا اور کچھہ احکام اس تک پہنچائے جاتے، سقراط کے لئے یہ کیفیت ناقابل بیان تھی لیکن واقعات سے معلوم ھوتا ھے کہ وہ اس بات پر یقین کر چکا تھا کہ نشان ربانی کسی دیوتا کی طرف سے ھے اور اس سے کوئی خاص کام لیا جانے والا ھے۔ بعض لوگوں کو یہ شک گزرنے لگا کہ سقراط خود دیوتا ھے یا اسکے اندر کوئی دیوتا چھپا ھوا ھے لیکن سقراط نے کبھی بھی نبی ھوے کا دعوی نہیں کیا، عام زندگی میں وہ کھی کبھی کسی دیوتا کی پرستش کر لیتا اور کبھی خدائے واحد کا زکر بھی کرتا۔

مندرجہ بالا واقعات سے ایک بات قرین قیاس معلوم ھوتی ھے کہ سقراط کا تصور مذھب اسلام میں تصور واحدہ الوجود کے زیادہ قریب تھا۔ اسلام میں اس سے مراد یہ ماننا ھے کہ رب انسان کے اندر موجود ھے اور انسان کا دل اس باری تعالی کا مسکن ھے اور انسان رب کے وجود کا
حصہ ھے اور آخر کار اسی میں فنا ھوگا بقول غالب

نہ تھا کچھہ تو خدا تھا کچھہ نہ ھوتا تو خدا ھوتا
ڈبویا مجھکو ھونے نے نہ میں ھوتا تو کیا ھوتا
وحدہ الوجودی اس بات پر مقلد ھیں کہ انسان مسلسل محنت اور ریاضت سے مقام کن پر پہنچ جاتا ھے جہاں اسکی ذات باقی نہیں رہ جاتی اور وہ انا الحق کا نعرہ لگا دیتا ھے اس فلسفے پر اسلام کے اکثر صوفی عمل پیرا رھے ھیں یہ ایک علیحدہ مضمون ھے کبھی موقعہ ملا تو عرض کروں گا مختصر یہ کہ اس فلسفے کی ضد واحدہ الشہود کا فلسفہ ھے جسکے مطابق خدا بندے کے اندر نہیں بلکہ کائنات سے باھر ھے اور ھر چیز اس کے ھونے کی شہادت دیتی ھے۔

تقریبا پچاس سا ل کی عمر میں سقراط نے اپنی الہامی تعلیمات کا باقاعدہ آغاز کر دیا وہ ساری رات مراقبہ کے عالم میں کھڑا رھتا اور صبحح سورج کی کرن کے ساتھہ اپنے شاگردوں کو کو خطاب کرتا اسکے چیدہ چیدہ مذھبی اصول درج ذیل تھے
سارے دیوی دیوتا جھوٹے ھیں کیونکہ وہ مخصوص لوگوں کی مدد کرتے ھیں اور مخصوص مفادات کے لئے کام کرتے ھیں، انسان کو سچائی کے لئے کام کرنا چاھیے اور اعلی قدروں کے لئے قربانی کرنی چاھیے، اس زندگی کے بعد بھی ایک زندگی ھے جو اس سے بہتر ھو سکتی ھے اگر ھم اچھے عمل کریں، حسن انسان کے اندر ھوتا ھے اور اگر انسان کا باطن حسین ھو تو وہ ھر چیز میں خوبصورتی پیدا کر لیتا ھے، زندہ رھنا اتنا اھم نہیں جتنا درست انداز میں زندہ رھنا ،

سد ید مسعو د
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 264
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (01-04-09), خرم شہزاد خرم (03-04-09), رضی (20-09-11)
پرانا 01-04-09, 03:57 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,613
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے متعلقہ موزوں میں اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
واقعات, لوگ, نظر, معلوم, انسان, اسلام, حسن, دل, زندگی, زمانہ, سال, عالم, عبادت, صوفی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger