| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 168
|
||||
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,336
کمائي: 52,064
شکریہ: 4,379
1,824 مراسلہ میں 6,816 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
حصہ دوم گذشتہ سے پیوستہ
قانون توہین رسالت موجود ہے، ممتاز قادری کو عدالت سے رجوع کرنا چاہئے تھا کہا جاتا ہے کہ ممتاز قادری کو اپنے تئیں کوئی سنگین اقدام کرنے سے بہتر تھا کہ وہ قانون کا سہارا لیتا اور اگر کہیں شرعاً کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا چاہئے تھا۔ جہاں تک ممتاز قادری کے سلمان تاثیر کو قتل کرنے کی بات ہے تو اس سلسلے میں ایک سے زیادہ رائے ہوسکتی ہیں، اور شریعتِ اسلامیہ میں بھی یہی واحد حل نہیں ہے کہ کوئی مسلمان اُٹھ کر سلمان تاثیر کو قتل کردیتا۔ تاہم عدالت سے رجوع کرکے آسیہ مسیح یا سلمان تاثیر کو توہین رسالت کی سزا دلوانے کا مطالبہ کرنے والے لوگ بھی خیالوں اور واہموں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اوّل تو اُنہیں معلوم ہونا چاہئے کہ پاکستان کی تاریخ میں اس قانون کی تاریخ نفاذ 1992ء سے اَب تک توہین رسالت کے 986 کیس درج ہوئے ہیں، لیکن آج تک کسی کو توہین رسالت کی سزا نہیں ہوسکی۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں توہین رسالت کا ارتکاب ایسے ملعونوں کوکافرانہ قوتوں کی آنکھ کا تارا بنادیتا ہے، ان کو خصوصی پروٹوکول دیا جاتا اور کفر کا پورا طائفہ اپنا لاؤ لشکر لے کر اس کی حمایت میں کھڑا ہوجاتا ہے۔ایسے بدبختوں اور ان کے خاندانوں کوعیسائی مشنری ادارے اور مغربی این جی اوز سپانسر کرتے اور ان کے تحفظ کے لئےعالمی قوتوں کی مدد حاصل کرتے ہیں۔جیسا کہ پوپ کے حالیہ بیانات، آسیہ کے لئے دعا اور پاکستان پر دباؤ اس ملاقات کا نتیجہ ہیں جو وزیر اقلیتی اُمور شہباز بھٹی نے براہ راست ویٹی کن میں جاکر لابنگ اور جوڑتوڑ کے نقطہ نظر سے کی۔ ہماری عدالتیں بھی آغاز میں تو ان کو سزا دے لیتی ہیں، لیکن جونہی ان پر پریشر پڑتا ہے تو اعلیٰ عدالتوں کے لئے اپنے فیصلوں پر ڈٹے رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس سلسلے میں 1994ء میں رحمت اور سلامت مسیح کا کیس بالکل واضح ہے، جن کو سیشن کورٹ سے سزائے موت کے بعد ہائیکورٹ میں اس کی اپیل کے مراحل اس سرعت سے طے کئے گئے اور اس کے فوراً بعد ان کو بیرونِ ملک جرمنی روانہ کردیا گیا کہ مزید کسی قانونی پیش قدمی کی گنجائش ہی باقی نہ رہی۔ جہاں تک سلمان تاثیر کی ممکنہ براہ ِ راست توہین رسالت اور اس کی سزا کا تعلق ہے تو یہ بھی یادر ہنا چاہئے کہ پاکستان کے دستور کی دفعہ 248 کی رو سے صدر، گورنر اور وزرا کو عدالتی باز پرس سےاستثنا حاصل ہے جو شریعت ِاسلامیہ کے سراسر خلاف ہے۔ جب اسلام کی مقدس ترین ہستی سید المرسلین محمدﷺ اور آپ کی محبوب بیٹی سیدہ فاطمہ الزہرا اور خلفاے راشدین کو عدالتی باز پرس سے کوئی استثنا حاصل نہیں تو پھر مسلمانوں کا ایک ذیلی حکمران کس بنا پر قانون سے بالا تر ہونے کا استحقاق حاصل کرتا ہے؟ دراصل امتناعِ توہین رسالت کا حقیقی قانون نہ صرف مسلمانوں بلکہ غیرمسلموں کی اہم ضرورت ہے۔اوّل تو اس قانون کے ذریعے نبی کریم ﷺکی اہانت اور دیگر مذاہب کی توہین ایک قابل سزا جرم بن جاتی ہے۔ ثانیاً، برصغیر کی ماضی قریب کے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ اس قانون کی غیرموجوگی یا غیر مؤثر ہونے کے دوران قانون کو ہاتھ میں لے کر گستاخِ رسول کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا۔ اس قانون کی عدم تاثیر مسلم عوام کو کسی گستاخ رسول کا خاتمہ خود کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ غاز ی علم الدین شہید کے ہاتھوں واصل جہنم ہونے والا لاہور کا راج پال ہو یا کراچی کا نتھو رام، اُن کا قتل انہی حالات میں ہوا جب یہ قانون موجود نہیں تھا۔اور سلمان تاثیر کے حالیہ قتل کے پیچھے بھی اس قانون کے غیرمؤثر ہونے کی بنیادی وجہ موجود ہے۔ یہی بات مجاہد ناموسِ رسالت جناب محمد اسمٰعیل قریشی ایڈووکیٹ نے اپنی کتاب میں بھی لکھی ہے : ''قانون توہین رسالت ان تمام لوگوں کی زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کے خلاف فردِ جرم ثابت نہ ہو۔ورنہ ماضی میں بھی مسلمان سرفروشوں نے ایسے موقعوں پر قانون کو ہاتھ میں لیا اور گستاخانِ رسول کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ اس قانون کے پاکستان میں نافذ ہونے کا فائدہ یہ ہوگا کہ ایسے ملزم کی سزا کا معاملہ افراد کے ہاتھوں کے بجائے عدالتوں کے دائرہ اختیار میں آگیا ہےجو تمام حقائق اور شہادتوں کابغور جائزہ لےکر جرم ثابت ہونے کے بعد ہی کسی ملزم کو مستوجب ِسزا قرار دے گی۔''جناب قریشی صاحب نے قانون سازی ہوجانے کے بعد اس امر کو پاکستان کے لئے خوش کن قرار دیا ہے لیکن دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قانون سے کھلم کھلا مذاق کیا جاتا ہے اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کی سرعام توہین کی جاتی ہے۔یہاں تو قانون موم کی ایسی ناک ہے جس کو ہرطرف موڑا جاسکتا ہے۔این آر او کے فیصلے سے کیا گیا مذاق ایک کھلی حقیقت ہے۔ سلمان تاثیر کے قتل کے روز ق لیگ کے ایم این اے وقاص اکرم سے کیپٹل ٹاک میں انٹرویو کیا گیا، ان کے چچا بھی اسی طرح اپنے محافظوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے تھے۔وقاص اکرم جو برسراقتدار ایم این اے ہیں ، کا کہنا تھا کہ سالہا سال کے عدالتی عمل کے بعد ہماری عدالتوں نے تمام مجرموں کو بری کردیا اور ہم اپنے چچا کے قاتلوں کو سزا دلوانے سے قاصر ہیں۔ اس سے بڑھ کر پاکستان کے نظامِ عدل کا اور نوحہ کیا ہوسکتا ہے؟ سلمان تاثیر کا قتل موجودہ عدالتی نظام کے غیرمؤثر ہونے کی دلیل اور عوام کے اس پر بے اعتمادی کا استعارہ ہے۔ اگر پاکستان کے نظامِ عدل میں یہ قوت ہوتی اوروہ شریعت اسلامیہ کی رہنمائی پر کاملاً استوار ہوتا تو واقعتاً آج ممتاز قادری کو قانون کو ہاتھ میں لینے کی ضرورت قطعاً پیش نہ آتی اور اسلامیان پاکستان شاتمان رسول کو اس عدالتی نظام سے سزا دلوانے کاہی راستہ اختیار کرتے- پاکستان میں گذشتہ دنوں دہشت گردی اور اجتماعی قتل وغارت کے اس قدر سنگین واقعات پیش آئے کہ اگر کسی مغربی ملک میں ایسا کوئی ایک بم دھماکہ بھی ہوجاتا تو پوری حکومت مستعفی ہوجاتی۔ ان بم دھماکوں کے ذریعے پاکستانی قوم پر اجتماعی ہلاکت وغارت گری مسلط کردی گئی ہے، عوام اپنی لاشیں اُٹھا اُٹھا کر نڈھال ہیں او رظلم سہنے والوں کی آنکھیں رنج وغم سے پتھرا چکی ہیں، اس کے باوجودکسی ایک واقعہ میں کسی ایک مجرم کوبھی قرارِ واقعی سزا نہ دی گئی۔ دہشت گردی کی عدالتیں اور وسیع وعریض نظامِ عدل کی ناکامی کی اس سے بڑی کیا دلیل ہوسکتی ہے؟ اس کے بجائے ان مجرموں کی روزانہ میل ملاقات، عدالتی حاضریاں اور پیشیاں،گواہیاں ایسا مذاق ہے جس کو دیکھ کر متاثر ہ فرد کا خون کھولتاہے۔ اس نظا مِ عدل کی کسمپرسی کا اندازہ تو اس سے لگائیے کہ گورنر پنجاب جیسے بڑے عہدے کے فرد کو برسرعام قتل کردیا گیا، مجرم نے اعتراف بھی کرلیا اور معاملہ بڑا واضح ہے لیکن چار ہفتے ہونے کو آئے ہیں، اور فیصلہ کا دور دو رتک کوئی امکان نہیں۔ ہر طرف ابہام ہی ابہام اور تاخیر ہی تاخیر ہےحالانکہ فیصلہ میں تاخیر بھی تو انصاف کا قتل ہے۔ اس انگریز پرور نظامِ عدل سے مسلم معاشرے کبھی چین وسکون حاصل نہ کرسکیں گے۔ اگر دہشت گردی کے کسی حقیقی مجرم کو سرعام پھانسی دے کر عبرت کا نشان بنا دیا جاتا تو آج پاکستان میں عوام کا خون اور معاشرے کا چین سکون اتنا اَرزاں نہ ہوتا۔ جب قانون موجود ہی نہ ہو، قانونی استثنا حاصل ہو یا سنگین جرم کے باوجود مظلومین کے لئے داد رسی کے دروازے بند ہوں اور انصاف میں بلاجواز تاخیر ہورہی ہو تو ایسے حالات میں توہین رسالت ایسا حساس مسئلہ ہے کہ مسلم عوام قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ غازی علم دین شہید کو بھی قانون سے داد رسی کی کوئی اُمید نہ تھی، جانے سے قبل باپ سے مکالمہ کرکے گیا اور اس کے باپ نے اس کو قتل کی سزا سے خبردار کردیا تھا، لیکن اس نے حب ِرسولﷺ میں شاتم رسول کے ایک معاون راج پال کو، جس نے 'رنگیلا رسول 'شائع کی تھی،قانون کو ہاتھ میں لیتےہوئےجہنم واصل کردیا۔ او ریہ ہماری قومی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے کہ اس نازک موقع پر لاہور میں علامہ اقبال نے مسلمانانِ برصغیر کی قیادت کی۔ قائد اعظم جو اس وقت چوٹی کے مسلم وکیل تھے، اُنہیں علم دین شہید کےاقدامِ قتل کے دفاع کے لئے انہوں نے بلایا۔ قائد اعظم لاہور ہائیکورٹ میں ایک ہی بار پیش ہوئے او روہ غازی علم دین کے دفاع کا مقدمہ تھا۔ علم دین کو معافی تو نہ ملی اور پھانسی کی سزا ہوگئی لیکن اس سے برصغیر کے مسلمانوں کا جوش وجذبہ شعلہ جوالا کا روپ دھار گیا۔علامہ اقبال کی قیادت میں مسلمانوں کے پرزور مطالبے پر غازی علم دین کی میت کو میانوالی جیل سےلاہور منتقل کیا گیا۔ لاہور میں مسلمانوں کی نمائندہ شخصیات نے اس معاملہ میں عوامی جذبات کی قیادت کی، علامہ اقبال کو علم دین کا جنازہ پڑھانے کی دعوت دی گئی ۔مولانا ظفر علی خاں نے علم دین کو قبر میں اُتارا اور محب رسول اقبال علیہ الرحمہ نے یہ تاریخ ساز جملہ کہا کہ ''ترکھانوں کا بیٹا ، پڑھے لکھوں پر بازی لے گیا اور ہم دیکھتے رہ گئے۔'' آج موقع بے موقع 'قائد اعظم کے پاکستان' کی بات کی جاتی ہے۔ ان کی مزعومہ روشن خیالی کو دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ مقتول گورنر نے بھی آسیہ مسیح کو معصوم قرار دینے والی پریس کانفرنس میں تین بار قائد اعظم کا حوالہ دے کر پاکستان کو روشن خیال بنانے کی بات کی ہے۔ تحریک ِپاکستان کی قیادت بشمول قائد اعظم کا اس معاملے میں موقف تو بالکل واضح ہے، توہین رسالت ایسے حساس مسئلہ پر قانون کو ہاتھ میں لینا تو کجا، جبکہ اس پر کوئی قانون ہی موجود نہ تھا،قتل کے مجرم کا پرزور دفاع قائد کے دلی جذبات کا بہترین عکاس ہے۔ سب بخوبی جانتے ہیں کہ جناح ایسے مقدمہ کی وکالت کی کبھی حامی نہ بھرتے جس سے وہ متفق نہ ہوتے۔ علامہ اقبال نے اُنہیں علم دین کے دفاع کی دعوت بھی دی اور تحریک ِپاکستان کی قیادت کی دعوت بھی دی ۔ قیام پاکستان سے 18 برس قبل یہ واقعہ اس قومی رجحان اور ضرورت کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے جس کےلئے پاکستان کی دھرتی حاصل کی گئی۔ علم دین شہید کے مقدمہ کے چند سال بعد،مارچ1934ء میں کراچی میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس میں نتھورام نامی ہندو کو 'ہسٹری آف اسلام' میں توہین رسالت کے ارتکاب پر ایک باغیرت مسلم نوجوان غازی عبد القیوم نے عین کمرۂ عدالت میں جج کے سامنے ذبح کردیا تھا۔ یہ واقعہ بھی بڑا ایمان افروز ہے جس میں قانون کو ہاتھ میں لیا گیا تھا۔اس موقعہ پر بھی اہل کراچی نے عبد القیوم کی حمایت میں ایک عظیم الشان جلوس نکالا اور کراچی کے عمائدین لاہور میں علامہ اقبال کے پاس حاضر ہوئے اور اُن سے کہا کہ وائسرائے ہند سے آپ عبد القیوم کی سزا میں تخفیف کا مطالبہ کریں۔ علامہ اقبال نے پوچھا کہ'' کیا عبد القیوم گھبرا گیا اوراس کے قدم ڈگمگا گئے ہیں؟ اس کو کہو کہ میں جنت کو اس سے چند قدم کے فاصلے پر دیکھ رہا ہوں۔'' کراچی کے لوگوں کے مکرر مطالبے پر علامہ اقبال نے ایک تاریخ ساز رباعی کہی جو 'ضرب ِکلیم' میں 'لاہور وکراچی' کے نام سے موجود ہے: نظر اللہ پہ رکھتا ہے مسلمان غیور موت کیا شے ہے، فقط عالم معنی کا ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ قدر وقیمت میں ہے خون جن کاحرم سے بڑھ کر ہماری عدلیہ کو ممتاز قادری کے مقدمہ کا فیصلہ کرتے ہوئے، مسلمانان برصغیر کے جذبہ ایمانی، غیرت ملی اور بانیانِ پاکستان کی اس تاریخ ساز رہنمائی کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے۔ سلمان تاثیر کے جرم کی سنگینی سلمان تاثیر کی سزائے قتل پر شریعت اسلامیہ میں ایک سے زیادہ آرا ہیں جن کی تفصیل ممتاز قادری کے اقدام کی شرعی حیثیت کے ضمن میں پیش کی جائے گی۔ تاہم اسلام جو جدید نظام ہائے عدل سے بڑھ کر ایک ایسا بھر پور اور مکمل عادلانہ نظام ہےجس کی قانونی جزئیات اور دقیق تصورات عالمانہ گہرائی اور گیرائی سے مالا مال ہیں، اس میں جرم کی سزا کا تعین جرم کی نوعیت کے عین مطابق کیا جاتا ہے، نیزاس میں کسی جرم کے ردّعمل میں ہونے والےجرم کی سزا کا تعین پہلے جرم کی روشنی میں ہوتا ہے۔ سلمان تاثیر نے توہین رسالت ایسے حساس شرعی قانون کو کالا قانون قرار دیا، کھلم کھلا یہ ہفواتی دعویٰ کیا، ایک انتہائی ذمہ دار عہدے پر فائز ہوتے ہوئے کیا، اور توہین رسالت کی مجرمہ کی اپنے پورے کنبہ کے ساتھ تائید کی، اس کو معصوم قرار دیتے ہوئے اس سے اظہارِ ہمدردی کیا،اس کے جرم کو اپنے ذمہ لے لیا اور اس کو معافی کی ضمانت دی۔ جس کا اس کے سوا کیا مطلب ہے کہ اس نے توہین رسالت کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرکے اُنہیں قانونی پازپرس اور گرفت سے بالا تر کرنے کی کوشش کی۔ ان حقائق کو دیکھا جائے تو سلمان تاثیر کایہ جرم محض شریعت کے کسی حکم کے انکار تک محدود نہ تھا، بلکہ شریعت ِاسلامیہ کی اہم ترین شخصیتﷺ کی توہین کی تائید، اس تائید پر اصرار اور عملاً اس کے مرتکبوں کی حمایت تھا اور ظاہر ہے کہ یہ سب کوئی چھوٹے جرائم نہیں ! احادیث میں عکل او رعرینہ کے بادیہ نشینوں کا قصہ آتا ہے جو نبی کریم ﷺکے پاس اسلام سیکھنے کے لئے آئے۔ جب مدینہ کی آب وہوا ان کو راس نہ آئی توآپ نے اپنے چرواہے کے ساتھ اُنہیں بیت المال کے اونٹوں کا دودھ پینے کی تلقین کی۔ مدینہ کے مضافات میں کچھ دن رہنےکے بعد جب یہ لوگ صحت یاب ہوگئے تو جاتے ہوئے آپ کے چرواہے کو قتل کردیا اور بیت المال کے اونٹ ہنکا کر لے گئے۔ آپﷺ کو جب اس کی خبر ہوئی تو آپ نے صحابہ کو اُنہیں پکڑنے کو بھیجا اور گرفتار ہونےکے بعد رحمۃ للعالمین نے اُنہیں دردناک سزا سنائی، جو اسلامی تاریخ کی ایک سنگین سزا ہے: 1- اس جرم کے مرتکبین کے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے جائیں، اور ان کو داغ کر خون کو تھمنے نہ دیا جائے۔ 2- ان کی آنکھوں میں آگ پر تپائی ہوئی سلاخیں پھیری جائیں، جبکہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ گرم سلاخوں سے اُن کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں۔ 3- تپتی ریت پر ان کو تڑپنے کے لئے چھوڑ دیاجائے۔ 4- ان کی پیاس کی شدت یہ تھی کہ زمین کو کاٹتے اور چاٹتے تھے، لیکن ان کو پانی نہ دیا گیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ عکل اور عرینہ کے لوگوں کی یہ دردناک سزا محض ارتداد کی نہیں بلکہ اس میں احسان فراموشی، مسلم چرواہے کا قتل، بیت المال کے اونٹوں کو ہنکا کر لے جاناوغیرہ تمام جرائم کی سزا شامل تھی جو رحمتہ للعالمینﷺ کی عدالت سے صادر ہوئی۔یہ واقعہ درجنوں احادیث میں بیان ہوا اور سنداً متواتر ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جرم کی سنگینی کی بنا پر اس کی شرعی سزا میں بھی شدت پیدا ہوجاتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کا ایک معروف اُصول یہ بھی ہے جو اس فرمانِ نبوی میں بیان ہواہے: كل أمتي معافى إلا المجاهرين (المعجم الصغير للطبراني: 2 /237) ''میری ساری اُمت کو معافی دی جاسکتی ہے مگر کھلم کھلا گناہ کرنے والے کو نہیں۔'' چوری چھپے زناکاری کرنے والے کی بہ نسبت اس زناکار کا جرم زیادہ سنگین ہے جو عوام الناس میں کھلم کھلا اور ڈنکے کی چوٹ پر اس فعل بد کا ارتکاب کرتا ہے۔ چوری کی سزا قطع ید ہے، لیکن دھونس اور دہشت گردی سے مال چرانے والے پر اسلام نے حرابہ کی سنگین تر سزا عائد کی ہے۔مزید برآں اہم ذمہ داری پر فائز شخص کا جرم بھی بڑا ہوتا ہے۔سلمان تاثیر کے قتل نے بہت سے تلخ حقائق کو ظاہر کیا ہے۔ممتاز قادری نے صرف اس کو قتل نہیں کیا بلکہ اپنے بھرپور غم و غصہ کا اظہار اس پر 26 گولیوں کا برسٹ مار کر کیا ہے۔ سلمان کے محافظوں نے اس کو نہ روک کر اوراقدامِ قتل کے بعد اس پر کسی جارحیت نہ کرکے بہت سے پیغامات دیے ہیں۔کسی دفاعی یا جوابی گولی کے بغیر ممتا ز کو گرفتار کرنے میں بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں۔ کیا ممتاز قادری کی کوئی ذاتی دشمنی گورنر سے تھی جس کے لئے اس نے یہ بے دردانہ رویہ اختیار کیا۔ان محافظوں کی اس سے وہ کونسی دلی ہم دردی تھی کہ اُنہوں نے اس پر معمولی سی جارحیت بھی نہ کی اور محافظوں کی جانب سے کسی گولی یا معمولی مزاحمت کا بھی سامنا نہ کرنا پڑا۔ وقوعہ قتل کا یہ نقشہ قتل سلمان تاثیر کے جرم اور اس کے بارے میں رائے عامہ کو ظاہر کرتا ہے۔ سلمان تاثیر کا جنازہ نہ پڑھنے کے بارے میں علمائے کرام میں پائی جانے والی شدید تشویش بھی اسی عمومی تاثر کو ظاہر کرتی ہے جس میں سلمان تاثیر کا جرم اگر براہِ راست اہانت رسول نہیں تو توہین رسالت مآب کی معاونت، سرپرستی او رتائید ضرور تھا جو انتہائی سنگین جرائم ہیں۔ ذاتِ رسالت سے مسلمان کا تعلق چونکہ قانونی سے زیادہ جذباتی محبت کا متقاضی ہے، اس بنا پر علماءکرام سلمان تاثیر کے جنازے سے کنارہ کش رہنے کو ہی ترجیح دیتے رہے۔ ممتاز قادری کو ملنے والی اپنائیت بھی مسلمانوں کے نبی کریمﷺ سے والہانہ عقیدت اور محبت کا ایک پہلو ہے کہ وہ ایسے کسی بھی شخص سے جو تقدیس رسالت کی حفاظت کیلئے جان تک قربان کردینے کو تیار ہو، ایک گہری محبت اور اپنائیت رکھتے ہیں۔ سلمان تاثیر مقتول ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی سے محروم ہوا اور ممتاز قادری قانون کو ہاتھ میں لینے کے باوجود محبت کا حصہ وصول کررہا ہے، یہ مسلمانان پاکستان کے اپنے نبی مکرمﷺ سے گہری وارفتگی اور دلی محبت کا آئینہ ہے۔اللہ تعالیٰ ملت ِاسلامیہ کے حب ِرسول میں اسقدر اضافہ فرمائے کہ آپکی شان میں دریدہ دہنی کرنے والوں پر دلی رعب مسلط ہوجائےاور وہ محبوب الٰہی کے تقدس کو پامال کرنے کے مکروہ خیال سے بھی عبرت پکڑیں۔ Last edited by آبی ٹوکول; 04-10-11 at 12:16 AM. |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| کورٹ, کراچی, پہچان, پاکستان, پاکستانی, واقعات, وزیر, قرآن, نفرت, مفت, مکمل, موت, مسجد, معاشرہ, آج, ایمان, امریکہ, اسلام, جیل, حدیث, دھماکہ, راستہ, سیاست, طالبان, عورت |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| جو پیار کرو گے رسوائی تو ہو گی | The Great | مزاحیہ شاعری | 8 | 27-09-09 10:56 AM |
| یارب! کہیں سے بھیج دے سورج کا سائبان | The Great | شعر و شاعری | 0 | 07-08-08 06:58 PM |
| ملکی حالات کےے پیش نظر نواز شریف نے دورہ لندن منسوخ کردیا | محمدعدنان | خبریں | 0 | 26-04-08 01:24 PM |
| سواۓ پیشۂ عشق اور معاش کیا کرتا | خرم شہزاد خرم | شعر و شاعری | 0 | 05-01-08 02:57 PM |
| سوجی کی کھیر | کشورناہید | باورچی خانہ | 6 | 29-08-07 02:36 PM |