واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سمندر سے گہری،ہمالیہ سے بلند، شہد سے شیریں!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-12-10, 05:25 AM   #1
سمندر سے گہری،ہمالیہ سے بلند، شہد سے شیریں!
گلاب خان گلاب خان آن لائن ہے 20-12-10, 05:25 AM

عرفان صدیقی
چینی وزیراعظم وین جیا باﺅ نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا کمال کی بات کہی۔
”پاک چین دوستی ہمارے دلوں میں رچ بس کر‘ ہمارے لہومیں شامل ہوکر‘ ایک عظیم عقیدے کی شکل اختیار کرچکی ہے“۔ پاکستان اور چین کی دوستی کی گہرائی اور مضبوطی کو شاید ہی اس سے بہتر الفاظ میں بیان کیا جاسکے۔ اگر دو مختلف ممالک‘ دو مختلف قوموں کی باہمی دوستی‘ ایک نظریے‘ ایک اصول‘ ایک آدرش اور ایک عقیدے میں ڈھل سکتی ہے تو پاکستان چین دوستی کے علاوہ شاید ہی کوئی دوسری مثال پیش کی جاسکے۔ پاکستان میں کتنے ہی سیاسی بھونچال آئیں‘ کتنی ہی حکومتیں الٹ پلٹ جائیں‘کیسے ہی انقلابات برپا ہوں‘ خود چین کے اندر کیسی ہی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں‘ پاک چین دوستی کا شیریں دھارا اپنی مخصوص رفتار سے بہتا رہتا ہے۔ یہ دوستی دونوں ملکوں کے عوام کے دلوں میں گھر کرچکی ہے۔ پائیدار اور استوار جڑیں رکھنے والی یہ دوستی آتے جاتے موسموں سے بے نیاز اور چہرے بدلتی رتوں سے ماوریٰ ہے۔ مجھے یاد ہے، چینی سفیر صدر محمد رفیق تارڑ سے ملنے آئے۔ وہ نہ صرف بہت اچھی اردو بولتے بلکہ شاعری بھی کرتے تھے۔ صدر تارڑ نے تب کہا تھا کہ ”پاک چین دوستی سمندروں سے گہری‘ ہمالیہ سے بلند اور شہد سے زیادہ شیریں ہے“۔ وزیراعظم گیلانی نے اس میں ”فولاد سے زیادہ مضبوط“ کا اضافہ کیا ہے۔ صدر تارڑ نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم نہایت ہی میٹھی شے ”شوگر“ کے لئے چینی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس پر چینی سفیر نے کھل کر قہقہہ لگایا تھا۔ چینی وزیراعظم وین جیاباﺅ نے بھی مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشاعرانہ تشبیہات وااستعارات کا خوبصورت استعمال کیا۔ باہمی دوستی کو ”صنوبر“ کے درخت سے تشبیہہ دی جس پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ یہ چینی کہاوت یاد دلائی کہ ”اچھا ہمسایہ دور کے رشتہ داروں سے کہیں بہتر ہوتا ہے“۔
اگر سفارت کاری کی دنیا میں پاکستان کی کسی ایک شاندار کامیابی اور یادگار کمائی کا ذکر کیا جائے تو وہ پاک چین دوستی کی تشکیل و تعمیر ہے۔ اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ ہم نے اس کمائی کو سنبھال کررکھا۔ چینی عام طور پر جذباتیت پر یقین نہیں رکھتے۔ وہ معروضی حقائق کو سامنے رکھ کر‘ انتہائی دھیمے پن لیکن سنجیدگی اور پختہ کاری کے ساتھ‘ اپنے مفادات کو مرکز و محور بناتے ہوئے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کے ساتھ ایک جنگ لڑنے اور سرحدی معاملات پر تحفظات رکھنے کے باوجود چین نے بھارت سے ترک تعلق نہیں کیا۔ چین کو اس امر پہ بھی تشویش ہے کہ بھارت نے دلائی لامہ کو پناہ دے رکھی ہے۔ لیکن چین ان باتوں کو پس پشت ڈال کر اپنی اقتصادیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہاہے۔ چین شکر رنجی کے اسباب کے باوجود اس حقیقت کو نظر انداز کرنے پر آمادہ نہیں کہ بھارت تیزی سے آگے بڑھتا ہوا ملک ہے جو بہت بڑی منڈی بھی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بھارت کے دورے پہ آئے تو چالیس صنعت کاروں اور تاجروں کا وفد ہمراہ لائے۔ فرانسیسی صدر سرکوزی کے ساتھ ساٹھ سے زائد صنعت کار اور تاجر بھارت آئے۔ امریکی صدر کے ہمراہ آنے والے وفد کا حجم 215 افراد تھا جب کہ چینی وزیراعظم بھارت گئے تو اُن کے ساتھ چار سو چینی صنعت کار اور تاجر بھی تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجہ بھارت کی چابک دستی ہے۔ پانچ سال قبل تک چین اور بھارت کی باہمی تجارت صرف 13.6 ارب ڈالر تھی۔ اب یہ 60 ارب ڈالر کو چھورہی ہے۔ دونوں ممالک نے عہد کیا ہے کہ اگلے پانچ برس میں دو طرفہ تجارت کا حجم ایک سو ارب تک پہنچ جائے گا۔
پاکستان اس حوالے سے کوسوں دور ہے۔ دوستی کی استواری اور پائیداری کے باوجود یہ ہماری نااہلی ہے کہ ہم اقتصادی تعاون کی نئی جہتیں دریافت نہیں کرسکے۔ اس وقت دونوں ملکوں کی باہمی تجارت صرف سات ارب ڈالر ہے۔ اب اعلان ہوا ہے کہ اگلے پانچ برس میں اس تجارت کا حجم پندرہ ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔ عدم توازن کا یہ حال ہے کہ ہم صرف ایک ارب ڈالر سے کچھ اوپر کی اشیا چین کو برآمد کررہے ہیں۔
اس سب کچھ کے باوجود پاک چین دوستی‘ چین بھارت تعلقات سے کہیں زیادہ گہری‘ بامعنی اور فروغ پذیر ہے لیکن ہم اس دوستی کو ٹھوس نتائج میں ڈھالنے کی حکمت سے محروم ہیں۔ چین‘ بھارت سے تجارت ضرور بڑھا رہا ہے لیکن وہ وہاں مستقل براہ راست سرمایہ کاری سے گریزاں ہے۔ بھارت میں چین کی کل براہ راست سرمایہ کاری صرف 22 کروڑ ڈالر تک محدود ہے۔ جب کہ پاکستان میں اس کی سرمایہ کاری سات گنا زیادہ ہے۔ ایک اور نمایاں فرق یہ ہے کہ بھارت اور چین کے تعلقات میں سیاسی رچاﺅ ہے نہ دفاعی حوالے سے کوئی اشتراک کار نہ عوامی سطح کی وہ لازوال دوستی جو خون میں شامل ہوکر ”عقیدے“ میں ڈھل جاتی ہے۔ بھارت اور چین‘ خطے کے احوال کے حوالے سے یکساں نقطہ نظر بھی نہیں رکھتے جب کہ پاکستان اور چین کی دوستی میں سیاسی اور روحانی پختگی کے ساتھ دفاعی تعاون کا ایک وسیع دائرہ کار بھی موجود ہے۔ چین نے آزمائش کی ہر گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا اور اب بھی پاکستان کی قومی سلامتی اُس کی علاقائی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان 19 ارب ڈالر کی نئی سرمایہ کاری‘ کئی نئے منصوبوں اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے 35 معاہدوں پر دستخط بڑی پیش رفت سہی لیکن یہ دونوں ملکوں کی باہمی دوستی میںموجود جوہر کی نسبت سے بہت کم ہے۔ مشرف کو جانے دیجئے کہ وہ امریکی کروسیڈ کے کولہو کا بیل تھا اور اس کے اقتدار کی رسی امریکی کھونٹے سے بندھی تھی۔ لیکن نئی جمہوری حکومت کو بھی تین سال ہوگئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو اس دوستی کے معماروں میں سے تھے لیکن اُن کی جماعت نے تین برس کے دوران چین سے دوستی کے جوہر کو پوری طرح بروئے کار لانے کے لئے کوئی ٹھوس کاوش نہیں کی۔ ہم چین کے سامنے مواصلات‘ توانائی‘ ڈیمز اور صنعتی فروغ کے منصوبے رکھیں تو وہ اپنے ماہرین‘ اپنی ٹیکنالوجی اور اپنے سرمایہ میں بخل نہیں کرے گا۔ لیکن ہمیں اپنے کشکول میں کھنکتے سکوں کی ضرورت ہے۔ چین حتی الامکان تعاون ضرور کرے گا‘ لیکن اُسے بھیک سے نفرت ہے اور وہ ہماری ہوس زر کا ایندھن نہیں بنتا۔گزشتہ تین برس سے ہم چند ڈالروں کے لئے امریکی چوکھٹ پر ماتھا ٹیکے ہوئے ہیں اور آئی ایم ایف کے نخرے برداشت کررہے ہیں لیکن اس دلدل سے نکلنے کے لئے ہم نے نہ چینی دوستوں سے مشاورت کی نہ اُن سے ٹھوس تعاون کی راہیں تراشیں۔ گوادر کی بندرگاہ چین کے لامحدود تعاون سے تعمیر ہوئی لیکن مشرف نے اس کا ٹھیکہ دبئی کی کسی فرم کو دے دیا۔ بعدازاں سنگاپور کی کسی فرم سے معاملات طے کرلئے گئے۔ چین کو اس لئے دور رکھا جارہا ہے کہ امریکہ کو پسند نہیں۔ اسی سبب پاک ایران گیس منصوبہ التواء کا شکار ہے۔ گوادر کی بندرگاہ اپنی منفرد خصوصیات کے حوالے سے ہماری معیشت میں انقلاب لاسکتی ہے لیکن چار برس سے یہ پوری توانائی کے ساتھ بروئے کار نہیں آرہی۔
چین تھڑِدلا ملک ہوتا اور ہمارے رویوں کی بنیاد پر فیصلے کرتا تو صورتحال مختلف ہوتی۔ لیکن اس کے باوجود کہ ہم امریکی امداد کا دم دار سیارہ بنے ہوئے اور اس کے اہداف و مقاصد کے لئے ( جو چینی مفادات سے متصادم ہیں) اپنے آپ کو وقف کررکھا ہے۔ چین کی گرم جوشی میں فرق نہیں آیا۔ بلاشبہ پاکستان کے سترہ کروڑ عوام اس دوستی کی پشت پر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس دوستی کو ٹھوس نتائج اور عملی تفسیر کے سانچے میں ڈھالا جائے۔ چین جیسے عظیم دوست کی بے پناہ صلاحیتوں اور بے ساختہ تعاون سے بھرپور استفادہ نہ کرنا پر لے درجے کی بے حکمتی بھی ہے او رکم نصیبی بھی۔ شاید ہمیں ٹھوس اور مخلصانہ تعاون نہیں، ایسی بھیک جو قرضوں اور امداد کی ضرورت ہے جو ذلتوں اور رسوائیوں کی سوسو شرطوں میں جکڑی ہو اور جس کا حقیقی مقصد ہمیں بے عمل اور بانجھ کرنا ہو‘ جانے کیوں ہم اچھے ہمسائے کو چھوڑ کر سات سمندرپار کی بے ثمر رشتہ داریاں پال رہے ہیں؟
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 123
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کمال, پاکستان, پسند, وزیراعظم, نفرت, منصوبہ, ایران, امریکہ, اردو, حال, خون, دبئی, دریافت, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, رفتار, سال, شاندار, شاعری, عہد, علی, صورتحال, صنعت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رات سُنتی رہی،میں سُناتا رہا۔ خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 1 24-06-08 10:23 AM
کراچی،مچھر کالونی میں فائر نگ ، 50سالہ شخص زخمی عبدالقدوس خبریں 0 15-06-08 08:22 PM
کراچی،لانڈھی میں ٹریفک حادثہ،ایک شخص ہلاک،تین زخمی عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 08:26 AM
صدر پرویز کے حکم پر 2002ء میں دھاندلی کرائی،میجر جنرل (ر) احتشام ضمیر وجدان خبریں 0 27-02-08 05:26 AM
صدر پرویز کے حکم پر 2002ء کے انتخابات میں دھاندلی کرائی،میجر جنرل (ر) احتشام ضمیر عبدالقدوس خبریں 0 24-02-08 11:54 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:45 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger