واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سٹار پلس ڈرامے ہمارے معاشرے کےلیے کیوں موزوں نہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-12-10, 06:01 PM   #1
سٹار پلس ڈرامے ہمارے معاشرے کےلیے کیوں موزوں نہیں؟
یاسر عمران مرزا یاسر عمران مرزا آن لائن ہے 15-12-10, 06:01 PM

اس حقیقت کے باوجود کے بھارتی ٹی وی چینلوں پر پیش کیے جانے والے ڈارامہ سیریلز پاکستان میں‌بکثرت دیکھے جاتے ہیں۔ مجھے ان ڈراموں کو پاکستان میں پیش کیے جانے پر سخت اعتراضات ہیں۔

ان ڈرامہ سیریلز کی خاص بات ان کی بار بار بدلتی کہانی اور قسطوں کا نہ ختم ہونے والا ایک سلسلہ ہوتا ہے۔ اس طرز کے سیریلز کی شروعات بھارتی چینل سٹار پلس نے کی، بعد ازاں‌بھارتی گھریلو خواتین میں‌مقبول ہونے کے بعد اسی انداز کو دیگر کئی ٹی وی چینلز نے بھی اپنا لیا جن میں‌ذی ٹی وی، این ڈی امیجن ٹی وی اور دیگر کئی چھوٹے بڑے ٹی وی چینل شامل ہیں۔ ان ڈراموں کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ فلموں میں ناکام ہونے والے اکثر نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ان ڈراموں میں‌اپنی قسمت آزمانے لگے۔اگرچہ ان ڈراموں سے بہت سے بے روزگار بھارتی نوجوانوں کو کام کی سہولت میسر آ گئی وہیں ادا کاری کا معیار کم ہوتا چلا گیا۔ اور لڑکیوں‌نے زیادہ سے زیادہ شہرت حاصل کرنے کی کوشش میں‌ اپنی جسمانی خوبصورتی کو زیادہ نمایاں کرنا شروع کر دیا۔

خوبصورتی کو نمایاں‌کرنے کےلیے ننگ دھڑنگ ڈانس، بھڑکیلے ملبوسات، اور زیورات کا استعمال زیادہ ہو گیا۔ایسا کرنے سے ڈرامہ دیکھنے والوں کے صارفین میں اضافہ ہوا اور یوں اس کاروبار کو تقویت ملنے سے اس سے جڑے ہر فرد کے لیے یہ ڈرامہ سیریلز روزی کا وسیلہ بن گئے جس کا نتیجہ آج ہم بے شمار بھارتی ٹی وی چینلز اور بے بہا ڈرامہ سیریلز کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ چونکہ بھارتی معاشرہ ہندؤں پر مشتمل ہے اس لیے ان کی ثقافت اس چیز پر زیادہ اعتراض‌نہیں کرتی۔ لیکن جہاں تک میرا خیال ہے یہ ڈرامہ سیریلز کسی طرح بھی پاکستانی ثقافت کےلیے موزوں نہیں ہیں، ان ڈراموں کو دیکھنے سے نوجوان نسل بے حیائی کے راستے پر چل رہی ہے اور معاشرے میں ایسی کئی نئی جہتوں کا وجود ہوا ہے جو پہلے نہیں تھا۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے مجھے ان ڈراموں کا مشاہد کرنے کا موقع ملا تو میں نے ایسی کچھ چیزیں دیکھیں جو مجھے قابل اعتراض لگیں۔ نیچے میں چند اعتراضیہ نکات پیش کروں گا۔

بار بار ناجائز جنسی تعلقات کا ذکر

ہر ڈرامے میں ایک یا ایک سے زائد مرتبہ کسی آدمی یا عورت پر ناجائز جنسی تعلقات کا قصہ چھیڑا جاتا ہے۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ ایک آدمی جو ڈرامے کے شروع سےلے کر اختتام تک شریف النفس ظاہر کیا جاتا ہے پر اچانک کوئی عورت آ کر ماضی میں اس کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے کا الزام لگا دیتی ہے۔بعد میں وہ الزام سچ ثابت ہو جاتا ہے۔

پاکستان میں خواتین جب اپنے کام کاج چھوڑ کر ایسے ڈرامے دیکھ رہی ہوتی ہیں تو ان کےچھوٹے بچے بھی ان کے ساتھ ڈرامہ دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ بار بار ناجائز تعلقات کا ذکر سن کے ان کے ناپختہ ذہنوں پر برا تاثر پڑتا ہے مگر بچے چونکہ اپنے والدین کو ہی سمجھ بوجھ والا سمجھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ ٹی وی پر جو کچھ ہو رہا ہے وہی معاشرے کی حقیقت ہے اور جس طرح یہ عورت ناجائز تعلقات رکھتی ہے اسی طرح ان کی ماں یا باپ بھی یہ کام کر سکتے ہیں۔ اور یہ کوئی بہت زیادہ معیوب بات نہیں۔


غیر متعلقہ بیک گراؤنڈ موسیقی

ڈراموں میں ایک تو غیر ضروری طور پر موسیقی بجائی جاتی ہے ۔ ہر بدلتی صورت حال کے لیے موسیقی کا بجنا شروع ہو جانا اوریہ موسیقی ہندوؤں کی عبادت گاہوں میں بجنے والی گھنٹیوں، مذہبی رسومات میں بجائے جانے والے سنکھ اور مختلف موقعوں پر پڑھے جانے والے منتروں کے پاٹ پر مشتمل ہوتی ہے۔ یوں نہ چاہتے ہوے بھی مندر کی گھنٹی آپ کے گھر میں گونجتی ہے۔ منتروں کے پاٹ چلتے ہیں۔ اگر اسی چیز کو آپ اس انداز میں سوچیں کہ کسی ہندو کے گھر میں اذان کی آواز گونجنے لگے یا قرآن کی تلاوت سنائی دینے لگے تو اس کا طرز عمل کیا ہو گا ؟ موسیقی تو ویسے بھی اسلام میں پسند نہیں کی جاتی تو اگر آپ خود کو موسیقی سننے سے باز نہیں رکھ سکتے تو کم از کم ہندوؤں کی مذہبی موسیقی سے اپنے گھروں اور اپنی اولاد کے کانوں کو محفوظ رکھیں۔

مزید ہندوؤانہ رسومات

ان ڈراموں میں مکمل طور پر ہندوؤں کی مذہبی رسومات دکھائی جاتی ہیں ۔ شادی کے پھیروں سے لے کر لاش کو لکڑیوں پر جلانے تک۔ السلام علیکم کی جگہ نمستے اور جے شری کرشنا استعمال کرنے سے لے کر ماں باپ کے پیر چھونے تک۔ مجھے ڈر ہے کہ اگر ہماری نئی نسل یہ سب دیکھتی رہی تو ایک دن ایسا نہ آئے جب آپکے بچے آپ سے سوال کرنے لگ جائیں کہ بابا جب کوئی فوت ہو جاتا ہے تو ہم اسے جلاتے کیوں نہیں۔ امی جان مجھے آشیرواد دیجیے۔ آپی مجھے راکھی کب باندھو گی اور بھیا اگلے جنم میں آپکا بڑا بھائی میں بنوں گا وغیرہ وغیرہ۔


اسلام میں لاش کو دفنانے پر تنقید

ہندوؤں کے اکثر ڈراموں اور فلموں میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کسی انسان کے مر جانے کے بعد اگر اس کی لاش کو جلایا نہ جائے تو روح جسم سے الگ نہیں ہوتی، اور اپنی مقرر کردہ جگہ پر واپس نہیں جاتی بلکہ دفنا دینے کی صورت میں لاش کے ارد گرد ہی موجود رہتی ہے۔ ایسے حالات میں فلم یا ڈرامہ کی کہانی میں لاش کو دفن شدہ جگہ سے نکال کر جلایا جاتا ہے تا کہ بعدازاں وہی روح کسی اور کو تنگ نہ کرے۔ ایسا کر کے دراصل اسلام میں لاش کو دفنانے کے عمل کو غلط قرار دیا جاتا ہے۔ جو کہ اسلامی اصولوں پر صاف تنقید ہے۔ کیا آپ ایسے ڈرامے دیکھنا چاہیں گے جس میں آپ کے مذہبی طریقہ کار کو غلط قرار دیا جائے۔


کہانی کو غیر ضروری طور پر لمبا کرنا

اگر ہم مذہب کو پس پشت بھی ڈال دیں اور ڈرامے کو انٹرٹینمینٹ کی ایک قسم سمجھ لیں تب بھی ان ڈراموں میں ناظرین کے ساتھ ناانصافی کی جاتی ہے۔ ان ڈراموں میں کہانی کو غیر ضروری طور پر لمبا کر دیا جاتا ہے ۔ اکثر اوقات ایک عمل کو دکھانے کے لیے دس اقساط گزار دی جاتی ہیں۔ جو کہ دیکھنے والے کے ساتھ زیادتی ہے۔ اگر ڈرامہ بنانے والے واقعی کوئی اچھی اور سبق آموز کہانی پیش کرنا چاہتے ہیں تو وہ فضول طورپر کہانی کو لمبا کر کے کم از کم ناظرین کا وقت ضائع نہ کریں۔ اکثر اوقات ڈرامے کا ایک کردار کسی بھی غلط عمل کا سارا ذمہ خود لے لیتا ہے اور کسی کو اس بارے میں آگاہ نہیں کرتا۔ بعد ازاں کرداروں میں غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور اسی چخ چخ میں کئی اقساط گزر جاتی ہیں۔


خواتین کو غلط ترغیب دے کر گھریلو نظام تباہ کرنے کی کوشش

ان ڈراموں میں اکثر اوقات عورت کو مردوں سے برتر دکھایا جاتا ہے۔ عورت گھر کا مکمل انتظام سنبھالے ہوے ہے، کاروبار کی منتظم بھی وہی ہے۔ بڑے بڑے فیصلے بھی وہی کرتی ہے جب کہ گھر کے مرد، بڑے بوڑھے کرداروں کو خاموش رکھا جاتا ہے۔ یوں ایک طرف تو عورت کو گھر سے باہر نکلنے کی ترغیب دی جا رہی ہے دوسرے اسے مرد سے زیادہ حقوق رکھنے کی تعلیم بھی دی جا رہی ہے۔ میرے خیال سے عورت مرد کے لیے ہے۔ ایک خاندان کی گاڑی چلانے کے لیے مرد اور عورت مکمل تعاون کریں تبھی سبھی امور اچھی طرح انجام پاتے ہیں۔ لیکن عورت گھر کی چار دیواری اور اولاد کے منتظم ہے اور مرد گھر کے باہر ی امور کا۔اگر عورت گھر کے باہر معاملات میں بڑے بڑے فیصلے صادر کرنے لگے تو خاندانی نظام کا توازن بگڑ جانے کا خدشہ ہے۔ اس لیے یہ ڈرامے ہماری نئی نسل کی بچیوں کے لیے بھی موزوں نہیں۔


ناقابل قبول لباس اور اڈلٹری

انڈین ڈراموں میں خواتین کا زیادہ استعمال ہونے والا لباس ساڑھی ہے۔ یہ ایک ایسا لباس ہے جس میں خواتین کا مکمل جسم ڈھکا نہیں رہ سکتا۔ مزید براں جب خواتین ایسا لباس پہن کر کسی کردار میں آتی ہیں تو ڈرامہ کے دیگر مرد کردار، کزن، دیور اور کلاس فیلو ان کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہیں۔ ان کی تعریف کرتے ۔ خواتین کو اس طرح نیم عریانی کی کیفیت میں دیکھ کر ہمارے نوجوانوں کے ذہن بے حیائی کی طرف جا رہے ہیں اور وہ بھی معاشرے میں خواتین کے ساتھ اسی قسم کا تعلق چاہتے ہیں۔


ان سبھی وجوہات کی بنا پر یہ ڈرامے ہمارے معاشرے ، ہماری ثقافت اور ہمارے مذہب کے ساتھ میل نہیں کھاتے۔ اگر ہم ان کی مزید پذیرائی کریں گے تو ہم اپنی ہی آنے والی نسلوں کا نقصان کریں گے۔

مصنف: یاسر عمران مرزا
سٹار پلس ڈرامے ہمارے معاشرے کےلیے کیوں موزوں نہیں؟ | Yasir Imran Mirza
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com

Last edited by یاسر عمران مرزا; 17-12-10 at 04:25 PM..

 
یاسر عمران مرزا's Avatar
یاسر عمران مرزا
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,044 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1435
Reply With Quote
26 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (15-12-10), asakpke (16-12-10), Faisal Imran Mirza (15-12-10), J.S (19-12-10), saraah (22-12-10), shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), فرخ ظفر (15-12-10), گلاب خان (16-12-10), پاکستان دوست (16-12-10), ھارون اعظم (15-12-10), نیلم خان (15-12-10), میاں شاہد (22-12-10), ایس اے نقوی (15-12-10), ابو عمار (16-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), سیپ (15-12-10), سحر (16-12-10), شمشاد احمد (15-12-10), طلحہ (25-12-10), طارق راحیل (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عبداللہ آدم (25-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:23 PM   #2
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,336
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بڑی جامع تحریر لکھی ہے یار چھاگئے ہو میں سوچ رہا تھا افتخار محمد چوھدری صاحب کو ایس ایم ایس کروں کہ جناب کہاں گیا آپ کا قانون
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), پاکستان دوست (16-12-10), محمدمعیداحمد (17-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), شمشاد احمد (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:23 PM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,850
شکریہ: 7,286
5,956 مراسلہ میں 15,117 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھا لکھا ہے لیکن بھائی بہت ہی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم پھر بھی یہی دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔
اور اس کی دیکھا دیکھی پاکستانی چینلز پر بھی یہی ہو رہا ہے۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی بھارت والے پاگل ہیں وہ دیکھا رہیے ہیں جو کہ ان میں بھی نہیں‌ہے
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), سیپ (15-12-10), شمشاد احمد (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:27 PM   #4
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,336
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
بہت اچھا لکھا ہے لیکن بھائی بہت ہی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم پھر بھی یہی دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔
اور اس کی دیکھا دیکھی پاکستانی چینلز پر بھی یہی ہو رہا ہے۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آتی بھارت والے پاگل ہیں وہ دیکھا رہیے ہیں جو کہ ان میں بھی نہیں‌ہے
میرے والد گرامی کا کہنا ہے کہ جب وہ بھارت میں پاکستانی سفارت خانے گئے تو ان پر یہ بات عیاں ہوئی کہ پاکستان میں سنے جاسکنے والے انڈین ریڈیو چینلز بھارت میں نہیں سُنے جاسکتے۔۔۔۔

البتہ یہ بات واقعی تشنہ ہے بھارت چاہتا کیا ہے؟ ہمارے معاشرے کے ساتھ ساتھ ان کا اپنا معاشرہ بھی تو اس وجہ سے تباہ ہورہا ہے جو وہ ٹی وی پردیکھنے پر مصر ہے
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), پاکستان دوست (16-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), شمشاد احمد (15-12-10), طارق راحیل (15-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:27 PM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 277,992
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سٹار پلس ایک لعنت ہے۔ جس سے ہمارا معاشرہ اثراَندازہو رہا ہے خاص کر ٹین ایجرزکے دِل ودماغ پراِسکا خاصا اثر پڑ رہا ہے۔ These sorts of channel should banned by Government
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), پاکستان دوست (16-12-10), پاکستانی (15-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), سیپ (15-12-10), شمشاد احمد (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:41 PM   #6
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,208
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Assalam-o-Allykom Wrt Wbrkt
میں نے تو کئی سال ہوئے دیکھنا چھوڑ دیا کیونکہ سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ انڈیا پاکستان سے ثقافتی جنگ جیت چکا ہے۔
میں پہلے اسٹار پلس پر سون پری، حاتم ،کچھڑی،شرارت اور کرشمہ کا کرشمہ وغیرہ ہی دیکھتی تھی ۔ جب میں انڈیا گئی تو وہاں پر تو کیبل آپریٹرز کوئی بھی پاکستانی چینلز دیتے ہی نہیں تھے ، بس قیو ٹی وی ،مصالحہ ٹی وی وغیرہ ہی آتے ۔پھر میں نے بھی انڈین چینلز دیکھنے چھوڑ دیئےتھے
__________________
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِي رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاء *
رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے سیپ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), پاکستان دوست (16-12-10), ھارون اعظم (15-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:48 PM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یاسر بھائی
ایک عمدہ موضوع پر بہترین تحریر پیش کرنے پر بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ کریم سے دعا ہے کہ زور قلم اور زیادہ ہو۔۔ بہت خوشی ہوئی

ٹی وی کواصل میں میں ٹی بی سے زیادہ خطرناک سمجھتا ہوں۔ اور ایک وائرس کی طرح اس کو صرف ہمارے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے معاشروں میں پھیلایا گیاہے۔
اس لیے یہاں یہ بحث نہیں ہے کہ کس کے ڈارموں یا فلموں سے کس کا معاشرہ تباہ ہو رہا ہے اور کس کا نہیں ہو رہا۔۔۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ کون اس قسم کی حرکتوں سے ایسا کر رہا ہے۔۔
اسلام اور کفر کی کشمکش تو ازل سے ہی ‌چل رہی ہے۔ لیکن اکیسویں صدی کی بہت سارے نئے نظریات کی طرح اب اسلام اور کفر کی کشمکش کے ساتھ ساتھ مذہب اور لا مذہب کی کشمکش بھی جاری ہے۔ ۔۔ اس کشمکش میں لا مذہبی عناصر کی کوشش یہی ہے کہ دنیا سے مذہب کو ختم کر دیا جائے ‌چاہے وہ کئی بھی مذہب ہو۔

اس کے لیے بے حیائی اور فحاشی کو عام کرنے کے تمام ممکنہ طریقوں تک رسائی کو ‏آسان بنانے کی ہر ممکن کوشش کے ساتھ ساتھ اس کو قبول عام بنانے کے لیے مختلف دلائل بھی عام کیے جارہے ہیں۔ جو ہم اکثر اپنے معاشرے میں سنتے رہتے ہیں۔
‏آج سے 30 سال قبل 40 سال قبل کی فلم اور ڈرامے کے کرداروں اور ان کے سکرپٹ ، لباس اور دیگر امور کا مقابلہ ‏آج کے دور سے کریں تو ‏آپ کو زمین ‏آسمان کا فرق محسوس ہو گا۔۔۔۔ لیکن اگر ‏آپ اس کا جائزہ لیں تو ‏آپ کو محسوس ہو گا کہ ماضی میں 3 گھنٹے کی پوری فلم ختم ہو جاتی تھی لیکن ہیرون ہیرو کے گلے نہیں لگتی تھی۔ اس کی ‏آستینیں مکمل ہوتی تھیں۔۔۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ سلسلہ زیادہ ہونا شروع ہوا۔ تو بات اب یہاں تک ‏آ گئی ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ حتی کہ نیوز کاسٹر تک کے سینے نظر ‏آنا شروع ہو گئے ہیں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), پاکستان دوست (16-12-10), ھارون اعظم (15-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:51 PM   #8
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اثرات ملاحظہ فرمائیں ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), تانیہ رحمان ستارہ (15-12-10), حیدر (15-12-10), سیپ (15-12-10), شمشاد احمد (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 06:54 PM   #9
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,339
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,044 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہاں یہ رپورٹ میں‌نے دیکھی تھی۔ اچھی بنائی ہے یہ بھی بنانے والی صاحبہ نے۔ اور حقائق کو اچھی طرح پیش کیا ہے۔
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), نیلم خان (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 07:04 PM   #10
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 3
کمائي: 249
شکریہ: 0
3 مراسلہ میں 9 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب لکھا اور اچھی جانب لوگوں کی توجہ مبذول کرائی۔ اصل میں ڈراموں اور فلموں کا مقصد چاہے وہ ہندو بنائیں یا یہودی عیسائی یا ہمارے مسلمان۔ اگر تو مقصد لوگوں کی فلاح ہے اور لوگوں میں سے برائیوں کی روک تھام کے ساتھ ساتھ معاشرتی ذندگی کو بھی بہتر کرنا ہے تو اس میں کوئی حرج والی بات نہیں یہی معاملہ موسیقی کے ساتھ بھی ہے کہ اگر تو موسیقی لوگوں کو کچھ بہتر کرنے پر اُکسائے تو اس کے سننے میں کوئی ایسی بات نہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہمارا ملک اسلام کے لیے بنا تھا یہاں ہر چیز میں اسلام نظر آنا چاہیے تھا ہم فلموں اور ڈراموں کے ذریعے لوگوں کو پیار اور محبت کرنا سکھا سکتے تھے لیکن ہمارے تمام پروڈیوسرز پیسے اور سستی شہرت کے پیچھے پڑ گئے۔ مجھے یاد ہے کہ پی ٹی وی پہ ایک ڈرامہ شروع ہوا تھا "یہ راہ مشکل نہیں' میں کہتا ہوں کمال کر دیا جس نے بھی بنایا اس نے معاشرے کی برائیوں کو اسلامی انداز سے حل کرنے کی کوشش کی اور ایسے ڈرامے ہی حقیقت میں ہمارے ملک میں چلنے چاہیں۔
جہاں تک سٹار پلس کا تعلق ہے یا انڈین ڈراموں کا تو میں نے ایک ہی بات دیکھی ہے کہ یہ انتہائی غیر حقیقی اور جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سب ڈراموں کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ ایک بہت امیر کبیر "پریوار" ہے جس کو کچھ بیرونی لوگ نقصان پہنچاتے رہتے ہیں اور ہر ایک کردار غرور اور انا کا مرکب نظر آتا ہے۔
ہماری عورتیں ایسے ڈرامے دیکھ کے سوچتی ہیں کہ اُن پہ بھی ایسے ہی ظلم ہوتے ہیں اور وہ بھی انا پرستی اور بدتمیزی پہ اُتر آتی ہیں اپنے تھکے ہارے واپس لوٹے شوہر کے ساتھ۔
بچوں پہ ان ڈراموں کا یہ اثر ہے کہ ایک تو اُن کی پڑھائی بہت ضائع ہو رہی ہے اور ساتھ ساتھ میں وہ ہندو مذہب کے جملے سیکھ جاتے ہیں جن کا مطلب وہ خود بھی نہیں جانتے اور جو انتہائی شیطانی جملے ہوتے ہیں۔
ہماری حکومت کو چاہیے کہ وہ باقاعدہ ان چینلز پہ پابندی لگائے اور پاکستانی چینلز کے ڈراموں کا بھی معیار مقرر کرے اور عوام خدارا اپنے گھروں کی حفاظت کرو۔ جو گھر کا سربراہ ہے اُس کی ذمہ داری بھی بڑی ہے اور اُس کا حساب بھی سخت ہے قیامت کے دن۔
اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ اب ہم ثقافتی جنگ جیتیں گے پاکستان سے اور وہ واقعی بات سچ ہو رہی ہے جب اپنے اداکار اور گلوکار انڈیا میں جاتے دیکھتے ہیں اور جگہ جگہ انڈین آئیڈل کی باتیں سنتے ہیں۔
اللہ تعالٰی ہم لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے آمین۔
عظیم لطیف آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عظیم لطیف کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), ھارون اعظم (15-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), حیدر (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 07:04 PM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

‏آخر میں رپورٹر کے کئے گئے سوال پر تمام شرکاء کا تبصرہ ضروری ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ماضی میں محدود وسائل کے باوجود ہمارے ڈرامے اب تک کلاسک تصور کیے جاتے ہیں تو اب کیوں نہیں؟؟؟؟
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 07:10 PM   #12
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھارت سے نفرت کی وجہ ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), حیدر (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 07:19 PM   #13
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائیوں اسٹار پلس تو خیر انڈیا کا چینل ہے
کبھی اپنے پاکستانی چینلوں کی بھی خبر لے لیا کریں

آجکل کے پاکستانی ڈرامے بھی اسٹار پلس کے تذکرہ کردہ معیار سے کچھ کم نہیں ہیں

اور تو اور" بگ باس " نامی انڈین پروگرام کو پاکستانی چینل سے نشر کیا جاتا ہے جس کو خود انڈیا میں اب "صرف بالغان" کے لئے قرار دے دیا گیا ہے اور اس کی ٹائمنگ رات کے آخری پہر میں رکھی گئی ہے
جبکہ پاکستان میں یہ پروگرام دن میں دو مرتبہ رات پرائم ٹائم میں اور دن کے تقریبا دو بجے پیش کیا جاتا ہے

اور اس میں موجود پاکستانی اداکارہ "وینا ملک " کی کارستانیوں کی داستانیں سن کر تو شاید انڈیا جیسے آزاد خیال ملک کے شہری بھی دانتوں میں انگلیاں دبا لیتے ہونگے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), نیلم خان (15-12-10), مرزا عامر (16-12-10), حیدر (15-12-10), رضی (15-12-10), عبدالقدوس (15-12-10)
پرانا 15-12-10, 08:00 PM   #14
Senior Member
 
تانیہ رحمان ستارہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2008
مراسلات: 1,302
کمائي: 30,789
شکریہ: 1,240
1,047 مراسلہ میں 3,049 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائیوں اسٹار پلس تو خیر انڈیا کا چینل ہے
کبھی اپنے پاکستانی چینلوں کی بھی خبر لے لیا کریں
یہی بات میں کرنے لگی تھی ۔۔۔۔ وہ تو ہم اس لیے بھی چھوڑ سکتے ہیں کہ ہندو معاشرے کی عکاسی ہوتی ہے ۔۔۔ کہانی کچھ نہیں ۔۔۔ بیکار میں ایک دوسرے پر شک کیا جاتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اپنے ڈرامے کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔ وہ بھی نقالی کرنے میں پیش پیش ہیں ۔۔۔جبکہ ہمارا ڈارمہ سب فلموں اور ڈراموں میں اچھا ہوتا تھا ۔۔۔ویسے میری اتنی ہمت نہیں ہے کہ اتنے لمبی لمبی اقساط پر مشتمل ڈرامے دیکھ سکوں ۔۔۔ نا دماغ ہے اور نا ہی برداشت کا حوصلہ
تانیہ رحمان ستارہ آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے تانیہ رحمان ستارہ کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), یاسر عمران مرزا (15-12-10), حیدر (15-12-10), عروج (16-12-10)
پرانا 15-12-10, 08:09 PM   #15
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسٹار پلس نہ ہو تو خواتین گھر کے کام وقت پر کر سکیں گی۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-12-10), فیصل ناصر (15-12-10), حیدر (15-12-10)
جواب

Tags
کوشش, کلاس, پاکستان, پاکستانی, پسند, قرآن, قصہ, مکمل, موقع, ماں, معاشرہ, آج, آدمی, الزام, انسان, اسلام, اسلامی, بھائی, تعلیم, حال, خواتین, عورت, عبادت, صاف, صارفین


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جناب صدر لوگ اپ سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟ حیدر خبریں 6 30-04-12 06:39 PM
لڑکیاں نقاب کیوں کرتی ہیں؟ مسٹر رائٹ گپ شپ 90 09-03-11 08:25 PM
آگسٹا آبدوزوں کے سودے میں کمیشن و رشوت اور کراچی کار بم دھماکے کا راز فاش sahj عمومی بحث 2 19-11-10 11:02 AM
ٹوپی ڈرامے آخر کیوں کیے جاتے ہیں؟ چاچا کمال سیاست 37 24-01-09 11:18 PM
عمرانہ نقاب کیوں پہنتی ہیں؟ چاچا کمال اسلام اور مغربی دنیا 0 04-10-07 11:47 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:47 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger