میں نے زندگی میں شاید سچائی کا ایک ہی لمحہ دیکھا ہے ۔ اس واقعہ کی یاد آج بھی مجھ پر رقت طاری کردیتی ہے۔ یہ واقعہ خود میرے اپنے ساتھ پیش آیا۔ دوستوں اور ساتھیوںسے شئیر کررہا ہوں۔
تعلیم مکمل کرنے کے کچھ عرصہ بعد، 1982 سے 1987 تک میں نے ریاض میں وزارۃ التخطیط میں کام کیا، اس دوران میں ، جب میں نے المساعد العربی نام کا سوفٹ وئیر ڈیویلپ کیا تو ریاض کے کاروباری اور تکنیکی حلقوں میں کچھ جانا پہچانا جانے لگا۔
ایک دن میرے پاس میرے کام پر ایک اجنبی شخص کا فون آیا کہ اس کا نام صانع ہے اور وہ مصنع صانع للساعات کے نام سے کاروبار چلاتا ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتا ہے۔
یہ تو مجھے یاد نہیں کہ اس سے کتنے دن بعد ملاقات ہوئی لیکن یہ یاد ہے کہ میرے فلیٹ پر ایک اور لبنانی دوست آیا جس نے مجھے بتایا کہ اس نے صانع کو میرا نمبر دیا تھا اور اگر میں اس کے ایک الیکٹرانک پراجیکٹ میں اس کی مدد کرسکوں تو وہ مجھے ایک بھاری رقم ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ میرے استفسار پر اس نے مجھے بتایا کہ صانع بہت بری طرح پھنسا ہوا ہے اور اس کام کے لئےایک خطیر رقم خرچ کرنے لے لئے تیار ہے۔
اس بات کے بعد میں اور میرا یہ دوست صانع کے پاس پہنچے، یہ شاید جنوری یا فروری 1986 کی بات ہے۔ اس دوران اس دوست نے کہا کہ وہ میرا اتنا فائیدہ کروا رہا ہے تو اگر میں پہلے سے سوچ کر اس میں 10 فی صد اس کا حصہ رکھ دوں تو وہ اس کو میرا احسان مانے گا۔ کاروباری دنیا میں ایسے بروکریج عام ہیں۔
بہر حال ہم مغرب کی نماز کے بعد اور عشاء سے پہلے صانع سے ملے ۔ وہ بہت پریشان تھا۔ اس کے پاس مکہ اور مدینہ میں مسجد نبوی اور مسجد الحرام کے علاوہ ان شہروں میں جا بجا ساعات یعنی گھڑیاں لگانے کا ایک بڑا کنٹریکٹ تھا۔ اس کام کے لئے اس نے کسی امریکی کمپنی سے ایسی گھڑیاں خریدی تھیں جو عین غروب آفتاب کے وقت بارہ بجاتی تھیں۔ اسی وجہ سے اس کو یہ کنٹریکٹ ملا تھا۔ یا جو بھی وجہ رہی ہو۔
اس نے مجھے بتایا کہ ان گھڑیوں میں ایک سال کے بعد فرق آنا شروع ہوگیا ہے اور غروب آفتاب کا وقت درست نہیںہے۔ جس کی وجہ سے آنے والے مہینوں میں اس کی کمپنی کی چھٹی ہوجائے گی۔ میں نے اس سے ایک گھڑی دیکھنے کے لئے کہا اور اس کو اسی وقت دیکھا تو اس میں انٹیل کا ایک پرانا پراسیسر 80186 لگا تھا میں نے اس کے پچھلے ورژن 8086 پر کام کیا ہوا تھا۔ اسی پراسیسر کا 8 بٹ ورژن 8088 ، آئی بی ایم نے انہی دنوں پرسنل کمپیوٹر میں استعمال کیا تھا۔
میں نے اس سے واپس آنے کا وعدہ کیا اور دوبارہ جب آیا تو اپنے ساتھ ایک ای پرام ریڈر بھی لایا، جس کی مدد سے میں نے اس چھوٹے سے کمپیوٹر کا مکمل پروگرام کاپی کرلیا۔ یہ ای پرام ریڈر اور پروگرامر میں نے المساعد العربی کے لئے عربی کی فونٹ بنانے کے لئے خریدا تھا۔
اس پروگرام کو دیکھنے سے پتہ چلا کہ اس میںایک ٹیبل میں ایک سال کے سورج غروب ہونے کے اوقات کو پروگرام کیا ہوا تھا۔ اور ایک سال کے بعد اس نے بیٹھنا ہی بیٹھنا تھا
میں نے صانع کو دوسرے ہی دن فون کرکے بتایا کہ اس کا فوری علاج ممکن ہے لیکن دائمی علاج کے لئے مجھے ایک ایسا پروگرام چاہئیے ہوگا جو تاریخ کے حساب سے سورج غروب ہونے کے درست وقت کا حساب کرسکے۔ ایسا ایک فارمولہ میں نے کسی کتاب میں پاکستان میں دیکھا تھا۔
میں نے صانع کو اس ٹیبل اور ایسے فارمولے کے بارے میں بھی بتایا۔ اور اس کو میں نے یہ بھی بتایا کہ میںنے ایک ایسا فارمولہ ایک اردو کی کتاب میں دیکھا تھا۔ جس کو حاصل کرنے کی میں کوشش کروں گا۔
اس کے پاس ایک فلسطینی انجینئیر تھا، میں نے اس کو درست ٹیبل بنانے کے بارے میں سمجھا دیا اور اس فلسطینی انجینئر نے آئندہ سال کا ٹیبل پروگرام کرکے ، اس کو ٹیسٹ کرکے، ہر گھڑی کے لئے ایک ای پرام کاپی کرکے ان میںسے کچھ گھڑیوں میں لگوائی۔ اس کی تفصیل کا مجھے علم نہیں ۔
اس دوران طے یہ پایا کہ صانع، اس فارمولے کو حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور ساتھ ساتھ میں بھی کوشش کروں گا۔ ادائیگی اس دوران کوئی نہیں ہوئی۔ سارا معاملہ اس مسئلہ کے دائمی حل پر مشروط ہوا کہ جب میں دائمی حل مہیا کروں گا تو ادائیگی ہوگی۔
میری توجہ اس طرف بہت کم رہی۔ اس کی کئی وجوہات تھیں۔ میں ان دنوں یورو مارشے سے اگر آپ ریاض شہر کی طرف آئیے تو مشکل سے آدھ میل کے فاصلے پر رہتا تھا۔ یہ ایک بہت نئی عمارت تھی اور اس میں اس وقت ٹیلی فون لائن نہیں تھی۔ میں دوپہر کو کھانا کھانے گھر آیا کرتا تھا۔
میرا خیال ہے کہ کئی مہینے گذر گئے ، صانع کے فون آتے رہے ، وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ وہ اور شد و مد سے اصرار کرتا تھا کہ میںکہیںسے اس فارمولے کو حاصل کروں۔ میں اپنی دانست میں اس مسئلہ کا ایک حل فراہم کرچکا تھا۔ لہذا توجہ نہیں دے رہا تھا۔ یقیناً اس کے پاس کوئی وجہ ہوگی اس اصرار کی۔
ایک دن میں اپنے کام سے اٹھ ہی رہا تھا کہ صانع کا فون آیا، وہ کچھ برہم تھا اور کچھ مجھ کو مزید لالچ دے رہا تھا کہ وہ ادائیگی بڑھا سکتا ہے بس میںیہ کام کردوں ۔ میں نے اس کو بتایا کہ میں بہانا نہیںکررہا ہوں، رقم کے اضافہ اچھا ہے لیکن میںاس کا کام لٹکا نہیںرہا ہوں۔ ساتھ ساتھ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ ایسی کتاب حاصل کروں جس میں یہ فارمولہ موجود ہو، اور اس کو پروگرام کرکے دوں گا۔
اس کال کے ساتھ ہی میں آفس سے لنچ کے لئے گھر جانے کے لیے اٹھ گیا، عموماًَ میں وزارۃ کی مسجد میں ہی نماز پڑھ کر گھر جاتا تھا۔ نماز پڑھ کر جب میں اپنی کار کی طرف جارہا تھا تو میں نے بس ایک سرسری سے دعا اللہ تعالی سے کی کہ یا اللہ تعالی میری مدد کیجئے، یہ شخص سمجھ رہا ہے کہ میں روپے کے لالچ میں اس کا کام لٹکا رہا ہوں ، اگر مجھے سورج غروب ہونے کا وہ فارمولہ مل جائے تو میںیہ کام آپ کی خوشنودی کے لئے بخوشی کروں گا اور آپ کا شکر گزار ہوں گا۔
میں جب اپنے فلیٹکی عمارت پر پہنچا، تو دوپہر تھی ، روشن دن تھا، جس بلڈنگ میں میںرہتا تھا وہ بہت نئی تھی اور بہت صاف بھی ۔ میں اس کی داخلی سیڑھیاں ہلکے سے بھاگ کر چڑھتا تھا۔ اوپر چڑھتے ہوئے میں نے دیکھا کہ فرش پر ایک مڑی تڑی سے کاغذ کی خالی تھیلی پڑی ہوئی ہے ، جو دور سے لگ رہا تھا کہ اردو میں ہے اور شاید کسی ڈائجسٹ یا رسالے کا صفحہ سے بنائی ہوئی تھی۔ میں نے یہ سوچ کہ کہیں اس پر کوئی آیت وغیرہ نہ لکھی ہو اس کو اٹھا لیا کہ دیکھ کر تلف کروں گا۔ اس دوران میں اپنے فلیٹ کے دروازے پر پہنچ گیا، اور گھنٹی بجانے سے پہلے یا بجانے کے بعد اس کاغذ کو دیکھا تو وہ حصہ جو کہ سامنے تھا ، اس پر جلی حروف سے لکھا تھا " سورج کے طلوع اور غروب ہونے کا وقت معلوم کرنے کا طریقہ" سارے الفاظ سامنے نہیں تھے لیکن جوںجوں کھولا ، یہ واضح ہوتا چلا گیا، یہ مڑی تڑی تھیلی جس کاغذ کی مدد سے بنی تھی، یہ کسی ایسی ہی جنتری کا صفحہ تھا جس پر یہ فارمولہ موجود تھا۔ اس فارمولہ میں کچھ کمی تھی جو معمولی سی محنت سے دور ہوگئی۔
یہ سچائی کا وہ لمحہ تھا جو میں نے خود سے محسوس کیا، ابتدائی مشاہدہ کے بعد ہی اس کاغذ کو کھولتے وقت میری عجیب سی حالت تھی، ہر مسام سے پسینہ پھوٹ رہا تھا اور بے اختیار رقت سے آنسو بہنے لگے تھے۔ میری بیگم نے بعد میں مجھے بتایا کہ میں عجیب ششدر حالت میں تھا۔ وہ بھی اس معاملہ سے تھوڑی بہت آگاہی رکھتی تھیں ، اس لئے وہ بھی اتنا ہی حیران ہوئیں جتنا میں۔
ایسا عجیب اتفاق یا ایسا تجربہ پھر کبھی نہیں ہوا۔
کچھ دنوں بعد ہی میں نے اس فلسطینی انجینئیر کے ساتھ مل کر اس کام کو مکمل کردیا تھا اور اپنی دعا کے مطابق، اس کام کو فی سبیل اللہ کیا۔ صانع کے بہت اصرار پر بھی میں نے اس سے کوئی رقم نہیںلی البتہ اس سے کہا کہ جب یہ مکہ اور مدینہ میں یہ گھڑیاں اپڈیٹ ہوجائیں تو وہ مجھے ایک لیٹر لکھ دے کہ اب سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے۔ وہ لیٹر میرے پاس ہے۔ اگر صانع آج زندہ ہے تو آپ اس سے اس کی طرف کی کہانی سن سکتے ہیں۔ میرا اس سے کوئی رابطہ نہیں رہا کہ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی میںسعودی عرب سے واپس چلا آیا
میں آج تک حیران ہوتا ہوں کہ دعا مانگتا ہوا کار میں بیٹھا اور اترتے ہی دعا قبول ہوجائے۔ ایسے اتفاق کا کیا امکان ہے؟
والسلام