واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سیدعلی شاہ گیلانی کا خصوصی انٹرویو۔۔۔اہلِ پاکستان کے نام اہم پیغام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-11-11, 03:51 PM   #1
سیدعلی شاہ گیلانی کا خصوصی انٹرویو۔۔۔اہلِ پاکستان کے نام اہم پیغام
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 07-11-11, 03:51 PM

سیدعلی شاہ گیلانی اسلام کے سچے سپاہی،پاکستان کے عاشقِ زارہیں۔عید الاضحیٰ سے چند روز پہلے ان سے ٹیلی فون پر لیا گیا یہ مفصل انٹرویواہل پاکستان کے لیے مقبوضہ خطے میں تحریک آزادی کشمیرکے سب سے بڑے قائد کا نہایت اہم پیغام ہے۔
٭٭٭
٭ محترم گیلانی صاحب!آپ کی صحت کے بارے میں کافی عرصے سے کوئی اطلاع نہیں ملی، کیسی ہے آپ کی صحت؟
٭٭: الحمد للہ ،میں اسی صحت کے ساتھ جو کچھ کر سکتا ہوں کر رہا ہوں بہر حال آپ حضرات کی دعائوں کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے اتنے مختلف اور متنوع عوارض ہونے کے باوجود وہ ابھی زندگی کی مہلت عطا کر رکھی ہے۔ اللہ کا اتنا کرم ہے کہ ہمارے ایک ایک روئیں میں زبان آ جائے تو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔تاہم دعائوں کی سخت ضرورت ہے۔ ہمارے چھوٹے بھائی ولی محمد صاحب شدیدبیمار ہیں ان کے لیے دعا کریں۔اہل ِ پاکستان کومیری طرف سے عید کی مبارک باد اور سلام پہنچا دیں۔
٭ ہمارے دوست ڈاکٹر نعیم صاحب(گیلانی صاحب کے صاحب زادے) کیسے ہیں؟
٭٭ وہ بھی ٹھیک ہیں۔البتہ آپ کے ہاں(پاکستان)دس برس گزار کربہت کمزور ہو کرواپس آئے ہیں۔ وہاں پرکچھ دل برداشتہ بھی ہوئے۔
٭۔آپ کی مسلسل نظر بندی کی خبریں آرہی ہیں،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آپ کو نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد جانے سےبھی روکنے کی کارروائی کی گئی ہے۔ان ناروا پابندیوں کی اطلاعات کہاں تک درست ہیں؟
٭٭یہ بالکل صحیح ہے ،میری موجودہ مسلسل نظر بندی کو اب دو سو دن ہو نے والے ہیں، بغیر کسی وجہ کے مجھے ایک کمرے میں بند رکھا جاتا ہے۔میرے گھر کو عملاً سب جیل میں تبدیل کرکے سخت ترین پابندیاں لگادی گئی ہیں،میرے قریبی ساتھیوں کو بھی مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔اس کا مقصداس کے سوا کچھ بھی نہیں کہ بھارت اور اس کے ایجنٹ آزادی کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ عمر عبد اللہ کی انتظامیہ اپنی بدانتظامی کے حوالے سے بدترین حکومت ثابت ہوئی ہے، اس کے دور میں لاقانونیت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ پچھلے کم وبیش ایک سال سے یہ معمول بن گیا ہے کہ مجھے بغیر کسی کورٹ آرڈر یا انتظامیہ کے تحریری حکم نامے کے اپنے گھر میں محصور کردیاجاتا ہے اور اس دوران نہ صرف میری سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عاید رہتی ہے، بلکہ ہر قسم کی دینی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں عدالت عالیہ میں ایک رٹ پٹیشن اس امید کے ساتھ دائر کرائی گئی تھی کہ عدلیہ اس ریاستی دہشت گردی اور خلافِ آئین کارروائی کا سنجیدہ نوٹس لے گی اور مجھ پر لگائی گئی غیرقانونی پابندیوں کے سلسلے میں راست اقدام کرے گی، لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ عدلیہ مظلوم کی آخری امید ہوتی ہے اور یہ توقع رہتی ہے کہ عدلیہ ہی انصاف فراہم کرے گی ،تاہم اب ریاست کی عدلیہ بھی انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔عدلیہ پولیس کے دبائو کے تحت اور اس کے احکام پر عمل کر کے کارروائی انجام میں لاتی ہے، پورے عدالتی نظام کو پولیس نے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔مجھے آج بھی مسلسل اپنے گھر میں نظربند رکھا جاتا ہے، میرے گھر پر پولیس کا اتنا کڑا پہرا رہتا ہے کہ مجھے نماز کے لیے مسجد جانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔اس عید الفطر کے موقعے پر نماز ادا کرنے مجھے راتوں رات گھر سے نکلنا اور رات بھر مسلسل سفر کرنا پڑا اورتب جاکے عید کی نماز نصیب ہوئی۔ نماز جمعہ اد کرنے بھی سوپور اور بارہ مولہ تک جاتا رہا،مگراس کے بعدسے اب تک اپنے ہی گھر میں نظر بند ہوں۔ایک بڑی ون ٹن گاڑی گھر کے مین گیٹ پر کھڑی کر دی جاتی ہے اور فورسز کے اہل کاربھاری تعداد میں میری رہائش گاہ کے اردگرد وردیوں اورسادہ کپڑوں میں تعینات ہو جاتے ہیں اور24 گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔وہ لوگ جو یہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ ریاست جموں کشمیر کس طرح عملًا پولیس سٹیٹ بنا دی گئی ہے،انہیں چاہیے کہ میرے گھر آ کر دیکھ لیں۔ یہاں آئین و قانون عملًامعطل ہے۔مجھے اس وقت بہت دکھ ہوتا ہے جب میں اپنے قریبی عزیزوں کی خوشی اور غمی کی تقریبات میں بھی شریک نہیں ہو سکتا، نہ کسی سے بات کر سکتا ہوں،میرے گھر اور دفتر کے ٹیلی فون تک کاٹ دیے گئے ہیں۔حد تو یہ ہے کہ اب میرے ساتھیوں کے ذاتی موبائل فون بھی منقطع کر دیئے گئے ہیں۔
٭۔گزشتہ برس بھارت کی جانب سے مذاکرات کے لیے رابطہ کاروں کی ایک سہ رکنی ٹیم کو کشمیر کے حالات کے تجزیے اوراس کے حل کی تجاویز پیش کرنے کی ذمے داری سونپی تھی۔حال ہی میںرابطہ کاروں کی اس ٹیم کی رپورٹ آگئی ہے۔اس رپورٹ میں افسپااور ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ جیسے کالے قوانین کی منسوخی کی سفارشات پیش کرنے کے علاوہ بعض دوسرے اقدامات بھی تجویز کیے گئے ہیں،مثلاًکنٹرول لائن کے ذریعے آزاد کشمیر کے ساتھ تجارت میں وسعت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع جیسی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔رابطہ کاروں نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان کی رپورٹ میں حریت کانفرنس کے موقف کو بھی شامل کیا گیا ہے۔آ پ رابطہ کار ٹیم اور اس کی کار کردگی کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
٭٭ ہم نے بہت سوچ سمجھ کر پہلے ہی کہ دیا تھا کہ یہ بھی بھارتی حکومت کا عالمی توجہ بٹانے اور کشمیری عوام کو دھوکا دینے کا ایک حربہ ہے،اسی لیے ہم نے اس ٹیم سے بات چیت میں حصہ بھی نہیں لیا تھا ۔ ہمارے خدشات بالکل صحیح نکلے،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اس گروپ کی جو رپوٹ سامنے آئی ہے وہ بھی خود اس مسئلے اور کشمیر ی عوام کے ساتھ ایک بھونڈا مذاق ہے۔ہم جب بھارتی آئین کو ہی نہیں مانتے تو ہمیں آئینِ ہند کے اندر رہنے کی تاکید کرنے والی رپورٹ سے کیا دلچسپی ہو سکتی ہے۔ہاںیہ رپورٹ ہند نواز جماعتوں اوربھارت کے غلاموں کے لیے یقیناً اہمیت رکھتی ہے ۔ہم کو آئین ہند کے اندر کوئی بھی حل قابل قبول نہیں ہے۔ہم ان رابطہ کاروں کی تعیناتی کے وقت سے کہتے آرہے ہیں کہ یہ لاحاصل عمل ہے اور اب ان کی طرف سے پیش کی گئی حتمی رپورٹ نے ان کا بے کار ہونا ثابت کردیا ہے۔بہر حال ہمیں ان کی اور ان کی رپورٹ کی کوئی پروا نہیں،ہم تو اپنے آپ کو کشمیری عوام اور اپنے رب کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں،اس لیے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ میرے نزدیک اس رپورٹ کو توجہ کے قابل سمجھنا بھی لاکھوں شہداءکے لہواور ڈیڑھ کروڑکشمیری عوام سے بے وفائی کے مترادف ہے۔ان بے چارے رابطہ کاروںکا حال تو یہ ہے کہ انہوں نے دو سالہ اچھل کود کے بعد جو سفارشات پیش کیں، بھارتی حکومت اور ریاستی کٹھ پتلی انتظامیہ نے ان میں ایک بھی سفارش پر عمل نہیں کیا ۔اب اگر وہ رپورٹ کے نام پرہمارے سامنے غلامی کی ایک اور دستاویز پیش کر رہے ہیں جس میں ہمیں تاکید کی جا رہی ہے کہ ہم اپنے موقف میں لچک دکھائیں اور بھارتی آئین کے اندر رہ کر مسئلہ کشمیرکے حل پر تیار ہو جائیں تو ہم ایسی لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں جو ہمیں ہماری منزل سے دور کر دے۔حقیقت یہ ہے کہ کشمیرکی حریت پسند قیادت نے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے ہمیشہ لچک دکھائی ہے مگر بھارتی حکومت نے لچک کا جواب دوغلی پالیسی، تشدد ،لاٹھی ،گولی اور خون خرابے سے دیا ہے۔بھارت کے بعض انصاف پسند دانش ور ،وکلاءاور انسانی حقوق کے کارکن مسئلہ کشمیر کے حل اور کشمیری عوام کی رائے کے احترام کا مطالبہ کرتے ہیں،مگر انہیں انتہا پسند قوتوں کے ذریعے دبانے کے علاوہ ان پر حملے بھی کروائے جاتے ہیں۔انسانی حقوق کے مشہور کارکن گوتم نولکھا نے کشمیر میں بھارتی فورسز کی طرف سے انسانی حقوق کی پامالیوں کی بات کی تو ان کے کشمیر آنے پر پابندی لگادی گئی،حال ہی میں ایک اور بھارتی قانون دان اور صفِ اول کے سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کو حق بجانب قرار دیا اور رائے شماری کرانے کی بات کی، تو ہندو انتہا پسندوں نے ان کے چیمبر میں گھس کران پر حملہ کیا۔ایسا لگتا ہے آئندہ مذاکرات کاروں کو بھی کشمیریوں سے بات چیت کرنے سے پہلے انتہا پسند قوتوں سے اجازت نامہ حاصل کرنا ہوگا۔
٭ کیا یہ سچ ہے کہ بھارت کی جانب سے حال ہی میں آپ کومذاکرات کی پیش کش کی گئی ہے،اگر ایسا ہے تو آپ کافیصلہ کیا ہو گا؟
٭٭ہاں میں نے بھی ذرائع ابلاغ کی طرف سے ایسی خبر پڑھی اور سنی ہے کہ ہندوستان حریت کانفرنس کی قیادت کو بھارت کی مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شامل ہونے کی دعوت دے رہا ہے اوریہ بھی کہا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں گیلانی کو بھی شریک کیا جائے گا۔میں یہ بات کئی بار واضح کر چکا ہوں کہ ہم مذاکرات کے خلاف نہیں،تاہم ہمیں ایسے مذاکرات کے بارے میں کسی قسم کی خوش فہمی نہیں رکھنی چاہیے۔ اب تک مذاکرات کے ڈیڑھ سوادوار ہوئے لیکن ایک بھی بات چیت بامعنی نہیں رہی ،جبکہ جب تک مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بامعنی بات چیت نہیں ہوگی خطے میں امن و استحکام ممکن نہیں۔اس لیے میں نے یہ بتا دیا ہے کہ ہم ماضی جیسے بے مقصد اور بے نتیجہ مذاکرات کی مشق فضول میں شامل ہونا نہیں چاہتے ،ماضی میں جو بھی بات چیت ہوئی ہمیشہ وقت کا زیاں ہی ثابت ہوئی۔ جہاں تک موجودہ دعوت کے جواب کا معاملہ ہے توہمارا ایک باقاعدہ سسٹم ہے۔ ہماری پارٹی کی ایک مجلس شوریٰ ہے،ہمارے اتحاد کے فورم کی بھی مجلس مشاورت ہے۔ ایسی کوئی تجویز سامنے آئے گی،تو ہم اس پر باہم مشاورت کریں گے۔دراصل کشمیر کے تنازعے کی بنیادی وجہ بھارت کا جبری فوجی قبضہ ہے، اسی وجہ سے یہاں پر ظلم کی مختلف شکلیں موجود ہیں۔لہٰذا دنیا کے سب سے زیادہ فوجی جمائو کے ساتھ مذاکرات کی بات بے رحمی ہے۔ اس لیے ہم نے مذاکرات کے لیے چند شرائط رکھ دی ہیں :
۱۔ ہماری سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ بھارت کشمیر کی منتازعہ حیثیت کو تسلیم کرے۔بات چیت کا عمل اس وقت تک کیسے شروع ہوسکتا ہے جب تک حکومت ہند جموں کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ قرار نہیں دیتی۔اگر کوئی تنازعہ ہی نہیں تو پھر مذاکرات کس بات کے؟
۲۔ مذاکرات سے پہلے بھارتی فوج کا انخلا ضروری ہے۔اس لیے کہ اس وقت تو مذاکرات کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے سینے پر بندوق رکھ کر ہم سے کہا جا رہا ہے کہ مذاکرات کرو۔
۳۔ جموں وکشمیر میں لاگو افسپا اور دوسرے سخت قوانین کو ہٹادیا جائے۔
۴ ۔ سیاسی نظر بندوں کی رہائی اور حقوق انسانی پامالیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
۵۔ یہ بات ثابت کرنے کے لیے کہ بھارت سچ مچ مذاکرات کا خواہاں ہے ان پولیس ، فوج اور فورسز کے اہل کاروں کے خلاف چارہ جوئی بھی ناگزیر ہے جو شہری ہلاکتوں میں ملوث ہیں۔
٭ بتایا جاتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حالیہ مردم شماری میں بھارتی فوج کو بھی مقبوضہ کشمیر کی آبادی میں شامل کیا گیا ہے اور اب کچی بستیوں کے لاکھوں غیر ریاستی باسیوں کو ریاست جموں وکشمیر میں شامل کرنے کی خبریں آرہی ہیں،اس پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟
٭٭ بھارت ریاست جموں و کشمیرکی آبادی کا تناسب بگاڑنے کے لیے ہمیشہ ہی سازشیں کرتا چلا آیا ہے۔ جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو ریاست کی مستقل شہریت دینے کی کوشش بھی اسی سازش کا حصہ ہے۔ان جھگی جھونپڑی والوں کی بستیاں اکثرجموں ڈویژن میں ہیں اور ان جھگیوں میں رہنے والوںکا تعلق بھارت کی مختلف ریاستوں یا پھرنیپال وغیرہ سے ہے۔جموں کے سرکاری اداروں میں اس طبقے کی اکثریت ہے جو بھارت کے سازشی منصوبوں میں پوری طرح شریک ہے۔نام نہاد مین اسٹریم سیاسی جماعتیں بھی بھارت کے ان خاکوں میں رنگ بھر رہی ہیں ۔شیخ محمد عبداللہ نے ۵۷۹۱ءکے بعد بھارت کے سامنے ”سرنڈر“کرکے ”لینڈ گرانٹ بل“پاس کیا اور غیر ریاستی باشندوں کے ریاست جموں وکشمیر میں مستقل طور پرمقیم ہونے کا جواز پیدا کیا۔ اس ضمن میں نیشنل کانفرنس ،کانگرس اور پی ڈی پی سب ہم خیال ہیں۔ ان سیاسی جماعتوں نے ہر دور میں ریاستی عوام کا کھوکھلے نعروں اور وعدوں سے استحصال کیا اور ہندوستانی استعمار کو پنپنے کا موقع فراہم کیا۔ ان کی فریب کاری اور دھوکہ دہی کے باعث مسلم اکثریت والی ریاست کی شناخت ختم کرنے کے در پے ہیں اور یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کر ریاست کی ڈیموگرافی کو مسخ کیا جا رہا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مقبوضہ خطے میں غیر ریاست باشندوں کی تعداد کئی لاکھ ہے،اگر ان کا اندراج سٹیٹ سبجیکٹ کے طور پر ہو گیا تو اس سے ریاست کی ڈیموگرافی تبدیل ہو جائے گی۔ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک صدی پہلے جہاں فلسطین تھاوہاں آج اسرائیل ہے ،فلسطین کے لوگ بے گھر ہو چکے ہیں یا مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے تھوڑے سے علاقے میںسمٹے ہوئے ہیں۔ریاست فلسطین کی ڈیمو گرافی ہماری آنکھوں کے سامنے بدل دی گئی۔ بھارت بھی اسرائیلی طرز پر جموں وکشمیر میں مسلم اکثریت کو ختم کرنے کے درپے ہے اور غیر ریاستی باشندوں کو جوجھگی جھونپڑیوں میں رہتے تھے مستقل طور پربسا رہا ہے۔دو سال پہلے بھی ایک سرکاری فیصلے کے تحت یہاں کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی تھی، مگر اس کے خلاف لوگوں نے ایسی مزاحمت کی کہ بھارتی حکومت کو اپنا فیصلہ بدلنا پڑا تھا۔اگر ہندوستانی حکومت نے اپنا موجودہ فیصلہ بھی واپس نہ لیا تو اس کے خلاف بھی2008ءکی طرز پر ہی عوامی احتجاج ہو گا۔ہم ان شاءاللہ ہر قیمت پر ریاست کے اندر غیر ریاستی باشندوں کو بسانے کے فیصلے کے خلاف مزاحمت کریں گے۔
٭ پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھارت کے دورے سے واپسی پر کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے ان کو یقین دلایا ہے کہ بھارت کشمیر سمیت ہر مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے۔حنا کھرنے یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکراتی عمل مثبت اور تعمیری رہا ہے۔ کیا آپ کو بھی موجودہ صورت حال میں ایسے امکانات دکھائی دیتے ہیں،اطمینان کی کوئی صورت نظر آتی ہے؟
٭٭ اطمینان کیسے ہو سکتا ہے کہ بھارت گزشتہ چونسٹھ برس میں ایک دن کے لیے بھی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے سے باز نہیں آیا،مگر پاکستان کے حکمران ہر بار خو ش فہمی میں مبتلا ہوجاتے اور خوش خبریاں بانٹتے پھرتے ہیں۔میں تو اس بات پر حیران ہوں کہ جب بھارت اپنی دیرینہ ہٹ دھرمی پر قائم ہے تو پاکستان کے اس سے مذاکراتی عمل کا کیا جواز ہے؟حکومت پاکستان کو چاہیے تھاکہ وہ بھارت سے مذاکراتی عمل کو مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ مشروط کرتا‘ بصورت دیگر ایسے مذاکرات سے یکسر انکار کر دیا جاتا۔ کشمیری قیادت نے تو ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کو پاکستان کی شمولیت سے مشروط کر رکھا ہے‘ مگر پاکستان کشمیری قیادت کو تو کجا‘ خودکشمیر کو بھی بھارت کے ساتھ مذاکرات کا حصہ بنانے پر آمادہ نہیں۔پاکستان کی اس پالیسی کی وجہ سے کشمیری نوجوان خودپاکستان کے بارے میںسخت نا مطمئن ہو رہے ہیں۔سابق صدر مشرف کے دور میں بھارت سے نہایت غیر متوازن تعلقات رکھے گئے جس سے بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی میں اور بھی اضافہ ہوگیا۔آج پاکستان اور ہندوستان میں مذاکرات کا کیا جواز ہے‘ اس کے بارے میں پاکستان کی حکومت ہی بہتر بتا سکتی ہے جبکہ ہمیں بہت دکھ کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی حکومتوں کی ہول ناک غلطیوں اور قلابازیوں کی وجہ سے اہل کشمیر کی پاکستان کے ساتھ محبت و یگانگت کے احساس میں کمی اور اس کی قیادت سے مایوسی اور بے اعتمادی میں اضافہ ہورہا ہے۔مشرف دور کی طرح موجودہ حکومت کی بے عملی اور بدعملی کے باعث آج بھی پاکستان سے کشمیر ی نوجوانوں کی مغائرت خطرناک حدود کو چھو رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے معاملے میں ہم پاکستان کو بنیادی فریق اور اپنا وکیل سمجھتے ہیں۔خدا نخواستہ پاکستان کے کردار پر بھی کشمیریوں کو مایوسی ہو گئی تو اس کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
٭ کیا آپ یہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ اہل کشمیر پاکستان کے حکمرانوں کی غلطیوں کی وجہ سے اپنا نصب العین تبدیل کر لیں گے اور پاکستان کے ساتھ ان کی نظریاتی وابستگی تبدیل ہو جائے گی؟
٭ یقیناًمجھے اب یہ خطرہ نظر آنے لگاہے۔ورنہ اب تک تو پاکستان کی محبت کشمیر کے بدن میں خون بن کر دوڑتی آئی ہے۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیری عوام نے قیام پاکستان سے بھی پہلے مسلم کانفرنس کے 1945ءکے اجلاس میں خود کو پاکستان کے ساتھ منسلک کرلیا تھا۔اس کا ببانگ دہل اعلان کیا گیا اور تقسیم ہند کی صورت میں پاکستان ہی کو انہوں نے اپنی منزل اور مستقبل دے دیا تھا۔پاکستان کے لیے اپنے اسی جذبے اور وارفتگی کی وجہ سے ہی اہل کشمیر کوگزشتہ چونسٹھ برس سے بھارتی فوجوں کے ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت نے کشمیریوں کی آواز دبانے کے لیے ہر حربہ اور ہر ہتھکنڈہ آزما لیا ہے مگر کشمیری عوام کی ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ جانوں کی قربانی اور بے بہا مالی نقصانات کے باوجود کشمیری عوام میں آزادی کی تڑپ کم ہوئی ہے‘ نہ پاکستان کے ساتھ الحاق کی تمنا ہی ختم ہوئی ہے۔ چنانچہ کشمیری عوام کے اس علانیہ جوش و جذبے کو بھانپ کر ہندو بنیا جانتا ہے کہ اگر کشمیریوں کو رائے شماری کا موقع دیا گیا تو وہ پاکستان کے حق میں ہی ووٹ دیں گے۔اسی بنیاد پر وہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد سے انکاری ہیں۔یہی سبب ہے ان کی جانب سے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے کا۔ المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران تو کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھنے کے شعور سے ہی محروم ہوتے جا رہے ہیں،لیکن ہندوستان کی تمام حکومتیںکبھی اس بات کو نہیں بھولتیں کہ پاکستان کی شہ رگ پر اپنا تسلط برقرار رکھنا ان کا اولیں مقصد وہدف ہے۔انتہا پسند بی جے پی والے ہوں یا نام نہاد سیکو لر کانگرسی،وہ سب کے سب کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کوکچلنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں۔ گزشتہ چونسٹھ برس میں شاطر ہندو بنیے نے ایک دن کے لیے بھی اپنا موقف تبدیل نہیں ،پاکستان ہی بار بار اپنے موقف بدلتا ہے۔بھارت سے توآج بھی یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ مذاکرات کی میز پر کشمیر کے بارے میں اپنی ہٹ دھرمی سے دست بردار ہو جائے گا اور یو این قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل قبول کرلے گا۔البتہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے ڈانواں ڈول رہتا ہے اور بھارت اس کا پورا فائدہ اٹھاتا ہے۔اس وقت بھارتی میڈیاپوری کوشش کر رہا ہے کہ پاکستان کی بے اعتنائی اور لاتعلقی کے خلاف پرو پیگنڈا کر کے کشمیر کی نئی نسل کو پاکستان سے مایوس کر دے۔
٭ اس صورت حال کو بدلنے کے لیے آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟
٭٭ میں سمجھتا ہوں پاکستان کا میڈیا بڑی حد تک آزاد ہے اور اس کے خاصے اثرات بھی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مغربی تہذیب کی غلاظتوں سے اپنا دامن بچائے اور پاکستان کی نظریاتی بنیادوں کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔پاکستان کے ذرائع ابلاغ کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا۔پاکستان کو اقتصادی اور دفاعی لحاظ سے کمزور بناناہمیشہ سے بھارت کے ایجنڈے میں شامل رہا ہے،جس کی تکمیل کے لیے وہ اس کشمیر کو اپنے خونیں پنجے میں جکڑے رکھنا چاہتا ہے جسے قائداعظم پاکستان کی شہ رگ قرار دے چکے ہیں ۔کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کی تمنا میں طویل عرصے سے قربانیاں دیتے چلے آئے ہیں اور انہوں نے ہر محاذ پر جد وجہد جاری رکھ کرشاطر و مکار دشمن کی پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی خواہش پوری نہیں ہونے دی ۔پاکستان کے حکمرانوں میں کچھ بھی شعور ہو تو وہ کشمیری عوام کی اس جدوجہد کا نہ صرف کھل کر ساتھ دیں بلکہ ان کی دامے‘ درمے‘ سخنے مدد بھی کریں۔یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ پاکستان کے سابق اور موجودہ حکمران اپنے مفادات اورمصلحتوں کے تابع کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے حق میں آواز اٹھانا تو کجا‘ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیرہی بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کے لیے بے تاب نظر آتے ہیں۔یہ پاکستان کے محب وطن عوام اور اہل دانش کا فرض ہے کہ اس موقعے پر اہل کشمیر کا ساتھ دیں اور حکمرانوں کو مجبور کریں کہ کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کا ساتھ دیں۔ یہ افسوس ناک امر ہے کہ پاکستان کا سرکاری میڈیا بھی اپنی حکومت کے جھوٹے سچے پرو پیگنڈے کے لیے وقف ہو کر رہ گیا ہے،کشمیر کی اہمیت باقی نہیں رہی ؛حالانکہ کشمیری قوم کی جدوجہد فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے ،کشمیری عوام سینہ سپر ہو کر بھارت کو یہ احساس دلا چکے ہیں کہ فوجی طاقت کے زور پر مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں‘ انہیں بالآخر اس مسئلے کے سیاسی حل کی جانب آنا ہو گا۔کیا پاکستان میڈیا اس سلسلے میں اپنا فرض ادا کر رہا ہے؟میڈیا حکمرانوں پر دبائو ڈال سکتا ہے تاکہ پاکستان کے حکمران نادانستگی میں بھی ایسا کوئی قدم نہ اٹھا سکیں جس سے کشمیر کاز کمزور ہوتا ہو اور کشمیری عوام کے ذہنوں میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہو کہ پاکستان ان کی جدوجہد آزادی کے ثمرات کو ضائع کر رہا ہے۔اب یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوگئی ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کشمیر کا کیس نہیں جیتا جا سکتا ،کشمیر پر اس کا تسلط قوتِ بازو سے ہی ختم کرانا ہو گا۔ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا ڈول ڈالنے کے بجائے اپنے دفاعی حصار کو مضبوط و مستحکم کریںاور دشمن کے ہر حربے کاچوکس و تیار رہ کر جواب دیں۔پاکستان کسی قیمت پر بھارت کے سامنے نہ جھکے،ان شا ءاللہ کشمیری عوام ہر محاذ پر پاکستان کی ڈھال بن جائیں گے۔
٭ لیکن پاکستان پر زرداری کا اقتدار ہے وہی زرداری کہ بر سر اقتدار آتے ہی انہوں نے مسئلہ کشمیر کو منجمد کرنے اور آنے والی نسلوں پر اٹھا رکھنے کی بات کی تھی۔ان سے آپ کیا امید رکھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوئی کردار ادا کریں گے؟
٭٭ میں اس معاملے میں حکمران پیپلز پارٹی سے کہوںگا کہ اپنے بانی لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے اور فلسفے کو سامنے رکھیں، جو ہندو کے عزائم کو بھانپ چکے تھے،اسی لیے انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا فیصلہ کیا اوراعلان کیا تھا کہ گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے۔بھٹو نے کشمیر کے لیے ہی بھارت کے ساتھ ہزار سال تک جنگ لڑنے کا اعلان کیا تھا۔اس لیے میں پیپلز پارٹی سے کہتا ہوں کہ زرداری صاحب کے فلسفے کو نظرانداز کرکے پارٹی کے بانی کی سوچ کو اپنائے۔پیپلز پارٹی کی حکومت کو چاہیے کہ بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرے اور بھارت سے مذاکرات اسی صورت میں کیے جائیںکہ جب وہ مسئلہ کشمیر کے حل پر آمادہ ہو۔اس وقت مشرف جیسی لچک دکھانے یا بھارت کی منشا کے مطابق مسئلے کا کوئی حل قبول کرنا مہلک ہو گا۔اگر پیپلز پارٹی پاکستان کے دیرینہ اور اصولی موقف پر ڈٹی رہتی ہے، تو اس سے کشمیری عوام کی جدوجہد کو بھی تقویت حاصل ہو گی اور مکار ہندو بنیا بھی جان جائے گاکہ کشمیر کو ہضم کرنا اس کے لیے آسان نہیں ۔
٭ آپ کو معلوم ہوگیا ہو گا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جا رہا ہے، اس پر آپ کیا کہیں گے؟
٭٭ موجودہ حالات میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک قرار دینے کا کوئی جواز نہیں،کیا بھارت اس لیے پسندیدہ ملک ہے کہ اس نے ریاست جموں و کشمیر کے لاکھوں بے گناہ افرادکو قتل کیا ہے،یاحکومت پاکستان کو اس کی یہ ادا پسند آگئی ہے کہ وہ پاکستان کو دولخت کر چکا ہے اور اب افغانستان میں بیٹھ کر بلوچستان کو پاکستان سے علاحدہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے؟ یا پسندیدگی کی وجہ یہ ہے کہ بھارت پاکستان کے دریاﺅں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجرنانا چاہتا ہے؟ کشمیر کی حد تک تو میں یہی کہ سکتا ہوں کہ بھارت کو پسندیدہ ملک قراردینا ہمارے زخموں پر مرچ لگا کر نمک پاشی کرنے کے مترادف ہے۔مجھے آپ کے ذریعے پاکستان کے ذرائع ابلاغ تک اپنی یہ شکایت پہنچانی ہے کہ وہ کشمیر کی جدوجہد میں اپنی ذمے داریاں ادا نہیں کر رہے ہیں۔ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کو اجاگر نہیں کیا جا تا،جب کہ بھارتی میڈیا اور عالمی ذرائع ابلاغ بھارتی مظالم پر پردہ ڈالنے میں پور ی طرح کامیاب ہیں۔یہ پاکستانی میڈیا کا فرض تھا کہ وہ کشمیر کی اندرونی صورت حال سے دنیا کو آگاہ کرتا،مگر آپ کے اخبارات اور چینلز کشمیر کاز سے لاتعلق بنے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہماری آواز کشمیر سے باہر نہیں جارہی ہے۔ میں 2010 ءمیں 141 دن مسلسل نظر بند رہا جبکہ2011ءمیں جنوری سے اب تک ۵۹۱ دنوں سے مسلسل نظر بند ہوں، مسجد میں نماز پڑھنے تک کی اجازت نہیں۔ کیا پاکستان کے لوگ اس کے بارے میں جانتے ہیں!! اگر نہیں جانتے تو یہ کس کاقصور ہے۔
٭ محترم گیلانی صاحب گزشتہ دنوں کم نام قبروں کا ایشو اٹھایا گیاآپ کی معلومات کے مطابق حقیقی صورت حال کیا ہے؟
٭٭ یہ ان مظلوموں کی قبریں ہیںجن کو بھارت فورسز نے حراست میں لے کر قتل کیا اور بعد میں ان کی لاشیں نامعلوم مقامات پر دفنا دیں۔مقبوضہ کشمیر کے صرف 5 اضلاع میں 6200 بے نام قبریں موجود ہیں۔گزشتہ برس ریاست کی ”سول سوسائٹی“ نے 62ایسے گم نام قبرستانوں کی نشان دہی کی تھی جن میں نامعلوم افراد کو قتل کر کے گمنام قبروں میں دفن کر دیا گیاتھا۔ حال ہی میں دیور لولاب میں بھی ایسے38قبرستانوں کی نشان دہی ہوئی ہے جن میں نامعلوم افراد کو دفن کیا گیا ہے۔سرن کوٹ میں میں نے اپنی آنکھوں سے درجنوں بے نام قبریں دیکھی ہیں۔صوبہ کشمیر کی طرح صوبہ جموں میں کچھ ایسی ہی صورت حال ہے، وہاں پربھی معصوم لوگوں کوبڑی تعداد میں گم نام قبروں میں دفنایا گیاہے۔یہ ہماری ریاست کا عظیم المیہ ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دس ہزار سے زائد لوگوں کو لاپتہ کر دیا گیا۔ان گم نام قبروں میں وہ لوگ دفن کیے گئے ہیں جو نہتے اور معصوم تھے۔ان قبروں میں وہ لوگ مدفون ہیں جن کے ہاتھوں میں نہ تو بندوق تھی اور نہ ہی انہوں نے جنگ و جدل کا راستہ اختیار کیا تھا۔ان گم نام قبروں میں معصوم اور کم سن افراد دفن ہیں۔
٭ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی طرف سے گم نام قبروں کا پتہ لگانے اور ان میں دفن افراد کی شناخت کے لیے" ٹروتھ اینڈ ریکنسی لیشن کمیشن"قائم کرنے کے لیے کہا گیا ہے،جسے آپ نے قبول نہیں کیا،آپ اسے مسترد کیوں کرتے ہیں؟
٭٭آج تک جو بھی کمیشن قائم کیے گئے ہیں اور ان کا جو حشر ہوا ہے،ہم اچھی طرح جانتے ہیں۔ شوپیان اور دوسرے تحقیقاتی کمیشنوں سے ریاستی عوام واقف ہیں اس لیے ان کے کسی بھی کمیشن پر کوئی بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔پھر یہ جرائم توان ہی لوگوں نے خود کیے ہیں ،ان کے قائم کردہ کمیشن کیسے ان کے خلاف تحقیقات کریں گے۔اس نظام اور تحقیقاتی عمل پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے جس میں لال بازار کے دو بھائیوں کو 14سال کی اسیری کے بعد بے گناہ قرار دیاگیا۔ ریاستی پولیس کے سربراہ کلدیپ کھڈاحراستی ہلاکتوں کے سلسلے میں تحقیقات میں عدم دلچسپی دکھا رہے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ پولیس کے کئی اعلیٰ افسروں سے لے کر سپاہیوں تک حراستی ہلاکتوںمیں ملوث ہیں۔اسی لیے ہم نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میںایک" فیکٹ فائنڈنگ کمیشن" تعینات کیا جائے،تا کہ ان گم نام قبروں کی تحقیقات شفاف اور منصفانہ طریقے پر ہو سکے۔میں سمجھتا ہوں گم نام قبریں ہماری قوم بھارتی استعماریت کا تحفہ ہے اور جب تک کشمیر کے بنیادی مسئلے کو ایڈرس نہیں کیا جاتا تب تک اس طرح کی صورت حال کا سامنا یہاں کے عوام کو کرنا پڑے گا۔تاہم لوگ ہمت اور حوصلے سے رواں جدو جہد کے تئیں اپنے کلیدی رول کو ادا کریں۔ بھارت تاخیر ی حربے استعمال کرکے مسئلہ کشمیر کو فوجی طاقت کے ذریعے طول دے رہا ہے،تاہم وہ ہماری غلامی کے دور کو کچھ طول تو دے سکتا ہے،لیکن آزادی کی صبح طلوع ہونے سے روک نہیں سکتا۔
٭: گزشتہ برسوں میں آپ کی حریت کانفرنس اور میر واعظ عمر فاروق گروپ کے درمیان مفاہمت کی بات چلی تھی اور کسی حد تک یک جہتی نظر بھی آ رہی تھی،اب کیا صورت حال ہے؟
٭٭: وہ یک جہتی بڑی حد تک موجود ہے۔ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم باہم محاذ آرائی نہ کریں اور اپنے پلیٹ فارم سے اور اپنے طریقے سے اس کاز کی خدمت کریں۔ ہم نے عہد کیا ہے کہ ہم محاذ آرائی کبھی نہیں کریں گے۔ وہ لوگ اپنے طریقے سے کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ جہاں تک اتحاد نہ ہونے کی بات ہے تو 1993ءمیں جب سے حریت کانفرنس بنی ہے ہم نے کوئی ایسی صورت پیدا نہیں ہونے دی کہ جس سے دشمن فائدہ اٹھا سکے۔ طویل عرصے کے تجربے کی بنیاد پر ہم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ اتحاد نتیجہ خیز ثابت ہو سکتا ہے،متنافر عناصر کو ایک پلیٹ فارم پر بٹھا دینے سے بسا اوقات فائدے کے بجائے الٹا نقصان ہوتا ہے۔ اتحاد بہر حال اصولوں پر ہونا چاہیے۔ 19 جون2008ءکو جب یہاں حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے رہنما جن میں میر واعظ صاحب تھے، شبیر شاہ صاحب تھے، ہمارے لوگ بھی موجود تھے جہاں ایک معاہدہ ہوا تھا کہ ہندوستان سے مذاکرات صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب وہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت تسلیم کرے، کشمیریوں کے حق خود ارادیت کوتسلیم کرے اور مذاکرات سہ فریقی ہوں۔ اس معاہدے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا گیا۔میں آپ کی وساطت سے حکومت پاکستان، پاکستانی قیادت اور عوام تک یہ بات پہنچا دینا چاہتا ہوں کہ جموں کشمیر کے مسئلے کے حل کے حوالے سے یہ کوئی رکاوٹ نہیں کہ ہم الگ الگ پلیٹ فارم سے اس کاز کی خدمت کریں۔ ہم لوگ دس سال تک حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم پر اکٹھے تھے، لیکن دس سال تک بھارت نے کوئی توجہ نہیں دی کہ ہم کیا کہ رہے ہیں، ہمارا مطالبہ کیا ہے اور ہم کیوں اکٹھے ہیں۔ دس سالہ اتحاد کے بعد ہمارے درمیان کچھ اختلافات پیدا ہو گئے جس کے باعث ہم الگ ہو گئے لیکن ہم نے اپنے نصب العین سے رو گردانی نہیں کی۔ اس کے علاوہ ایک اور بات بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، اتحاد افراد کا نہیں ہوتا، پارٹیوں کا ہوتا ہے۔ میر واعظ صاحب ایک پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں، ان کے ساتھی اپنی اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، تحریک حریت ہماری اپنی پارٹی ہے اور اسی طرح ہمارے متحدہ فورم میں مختلف پارٹیاں ہیں۔اس طرح یہ اہم بات ہے کہ سب پارٹیاں ایک نظریے پر متحد ہیں۔ لیڈروں کے درمیان اتحاد ہو بھی جائے لیکن جب تک وحدتِ فکر و عمل پارٹیوں کی سطح تک نہ اترے، کارکنان کی سطح پر اتحاد نہ ہو، لوگ ایک دوسرے کو تسلیم نہ کریں، ایک دوسرے کے لیے احترام کا جذبہ نہ پیدا ہو، تو محض لیڈروں کے سر جوڑ کر بیٹھ رہنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
٭آخر میں میرا سوال یہ ہے کہ آج 27 اکتوبر2011ءہے۔بھارت نے آج سے ٹھیک 64برس پہلے یعنی27 اکتوبر 1947ءکوریاست جموں وکشمیرپر قبضہ کیا تھا۔ اس طویل مدت میں اس قبضے کو چھڑانے کی جدوجہد میں آپ کا اہم ترین حصہ رہا ہے۔بظاہر ریاست جموں وکشمیر کی آزادی کی منزل آج بھی اتنی ہی دور نظر آتی ہے جتنی چونسٹھ برس پہلے تھی۔کیا تحریک آزادی کے حوالے سے آپ کو ایسی کوئی امیدنظر آتی ہے کہ برف ٹوٹ جائے گی اور کشمیر آزاد ہو جائے گا؟
٭٭: ان شاءاللہ ہمیں قوی امید ہے کہ اللہ ہماری مدد کرے گا۔میں اپنی پوری زندگی میں کبھی ایک دن کے لیے بھی مایوس نہیں ہوا، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو لوگ حق اور صداقت کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اللہ ان کی نصرت فرماتاہے۔ ہمیں بھی قوی امید ہے کہ اللہ ہماری نصرت فرمائے گا،اس لیے کہ ہم حق پر ہیں۔ ہماری قوم نے بھی اسی لیے قربانیاں پیش کی ہیں کہ وہ بھی ہمیشہ اس یقین سے سرشار رہی ہے۔اسی یقین کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں شہیدوں کے چھ سو سے زاید مزار آباد ہو چکے ہیں، ہماری ہزاروں مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں لٹی ہیں، دس ہزار لوگ گزشتہ بیس برسوں میں گرفتاری کے بعد لاپتہ کیے جا چکے ہیں۔ یہ جو ظلم اور جبر ہو رہا ہے اور اس مظلوم قوم نے جو قربانیاں دی ہیں، ہمیں یقین ہے کہ یہ قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی اوران کا ثمر مظلوم قوم کو ملے گا۔ لیکن1948ءکے بعد پاکستانی قیادت اور حکومتوں سے کچھ ایسی سنگین غلطیاں ہوئی ہیں جن کی ہمیں سزا بھگتنا پڑ رہی ہے۔ خصوصاًنائن الیون کے بعد پاکستان کے حکمرانوں نے جس طرح امریکا کے سامنے سرنڈر کی پالیسی اختیار کی، اس پالیسی نے خود پاکستان کو بھی نقصان پہنچایا ا ور جموں کشمیر کی تحریک ِ آزادی کو بھی اس پالیسی نے بہت نقصان پہنچا یا ہے۔اسی ہلاکت خیز پالیسی نے افغانستان تاراج کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ تا ہم اس ساری صورت حال کے باوجود ہم اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے اور ہمیں امید ہے کہ ہم ان شاءاللہ اپنے مشن میں کامیاب ہو جائیں گے۔اگر ہم آزادی اور حق خودارادیت کے اپنے موقف پر ڈٹے رہے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں غلام نہیں بناسکتی اور نہ ہی ہمیں اپنے موقف سے دور کرسکتی ہے۔ میں اہل پاکستان کو اپنی طرف سے یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جب تک دم میں دم ہے بھارت کے فوجی قبضے کے خلاف جاری جدو جہد کو جاری و ساری رکھوں گا اور رواں جدو جہد کے حوالے سے بھارت کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ہماری جماعت اور حریت کانفرنس میں شامل لوگ بھی اپنا فرض ادا کر رہے ہیں اہل پاکستان بھی اپنا فرض ادا کریں۔
٭٭٭

Last edited by عبدالہادی احمد; 08-11-11 at 07:43 AM..

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 140
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ہادی (07-11-11), نیلم خان (07-11-11), ابوسعد (09-11-11), سام (07-11-11)
پرانا 07-11-11, 08:34 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,214
کمائي: 17,918
شکریہ: 2,326
912 مراسلہ میں 2,327 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کشمیربنےگاپاکستان انشاءاللّٰہ
سام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (07-11-11), ابوسعد (09-11-11)
پرانا 07-11-11, 10:57 PM   #3
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
کشمیربنےگاپاکستان انشاءاللّٰہ
بنے گا تو سہی مگر کون بنائے گا؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (09-11-11), خالد حسین (10-02-12)
پرانا 09-11-11, 05:17 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
کمائي: 7,798
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
کشمیربنےگاپاکستان ان شاءاللّٰہ
کشمیر کو پاکستان بنانا ہے تو پہلے پاکستان کو پاکستان بنائیں
اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ پاکستا ن وہ پاکستان نہ بن سکا جو اس کا مقصدِ وحید تھا
تخلیق پاکستان کو ممکن بنانے کے لیے جن لوگوں نے "پاکستان کا مطلب کیا، لا الہ الا اللہ" کا نعرہ بلند کیا تھا۔۔۔۔انہوں نے ہی کہا تھا "کشمیر پاکستان کی شہ رگ"ہے۔یہ دونوں نعرے لازم و ملزوم تھے۔نہ پہلا نعرہ جامہ عمل پہن سکا نہ دوسرا روبہ عمل آ سکا۔
عبدالہادی احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
ہادی (09-11-11), ابوسعد (09-11-11)
جواب

Tags
فورم, ہندو, فارم, فرض, کورٹ, پاکستان, پاکستانی, پسند, پسندیدہ, وزیر, قائداعظم, نماز, موجودہ, مسجد, ایٹم بم, اقوام متحدہ, احتجاج, جیل, حنا, دوست, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, زرداری, غزہ, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خصوصی پیغام نیلم خان آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 75 01-09-11 02:49 AM
سیرت صدیق رضی اللہ عنہ کا پیغام میاں شاہد تاریخ و عبر 3 05-08-11 11:42 AM
پیغام رسائی( شہر اقبال سے سید انجم شاہ کی خصوصٰ تحریر ایس اے نقوی میری ڈائری 25 06-12-10 08:15 PM
افغانستان میں اتحادی فوج کے کمانڈر نے ممکنہ انخلاء کی ڈیڈلائن دیدی حیدر خبریں 3 29-11-09 08:27 PM
خصوصی پیغام اراکین کےلئے ایس اے نقوی عمومی بحث 17 23-08-09 12:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:53 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger