واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سیلاب، عذاب اور توبہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-10, 07:08 PM   #1
سیلاب، عذاب اور توبہ
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 04-09-10, 07:08 PM

سیلاب، عذاب اور توبہ
تحریر : عبدالہادی احمد
پاکستان میں حالیہ سیلاب اللہ تعالیٰ کے عذاب اورعتاب کا ایساخوف ناک اظہارہے کہ اس نے ملک کی معاشی اورمعاشرتی بنیادیں ہلاکے رکھ دی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون نے بھی تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کے سیلاب کی تباہ کاریاں2004ءکے سونامی سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ ابھی2005ءکے زلزلے کے ہاتھوں شمالی پاکستان کے نسبتاً تھوڑے علاقے کو سنبھلنے کا موقع نہیں ملا تھاکہ سیلاب کسی خوف ناک عذاب کی طرح سکردو سے لے کر ٹھٹھہ تک پھیل گیا۔ اس عظیم آفت سے نکلنے اوردوبارہ اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے کے لیے اس ٹوٹی پھوٹی اور بکھری ہوئی قوم کوبہت طویل عرصہ درکار ہو گا۔ اللہ نہ کرے اس سے پہلے ہی ہم ا پنے اجتماعی گناہوں کی پاداش میں کسی نئے اور بڑے عذاب کے مستحق قرار نہ پا جائیں۔ہم غور نہیں کرتے ورنہ یہ ابتلائیںبے مقصد نہیں ہوتیں :”کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ؟ مگر اِس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں“(التوبہ۔126) ہم توان پے درپے قومی مصیبتوںکے عوامل پرغور بھی نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کسی قوم کی تباہی کے بارے میں اپنا قانون یوں بیان کرتا ہے:
”جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں“۔(بنی اسرائیل۔16)۔“
حدیث رسولْ ہے ”اللہ تعالیٰ ظالم کو چندے مہلت دیتا ہے لیکن جب وہ پکڑلیتا ہے تو پھر اسے چھوڑتانہیں“(مسلم)۔ اصول یہ ہے کہ جرم انفرادی ہو تو اس کی سزا بھی افراد تک محدود رہتی ہے اور جب قوم کی قوم ہی جرم وبغاوت کا راستہ اختیار کرے تو اس کی سزا بھی پوری قوم کو ملتی ہے۔ اجتماعی گناہوں کی پہلی بڑی سزا ہمیں1971ءکی شکست اور ملک کے دوٹکرے ہونے کی صورت میں ملی تھی اس پربھی ہم نے توبہ کی نہ ہی سبق لیا۔2005ءکا زلزلہ بھی کچھ کم قہر خداوندی نہ تھا مگر ہماری سرکشی پھر بھی کم نہ ہوئی۔ اب یہ سیلاب تو عذاب الٰہی کا واضح اعلان ہے۔ یہ عذاب اس طرح آیا ہے کہ ہم اپنی سرزمین پرکھلم کھلاایک بہت ہی بڑے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اللہ کے دشمنوں کے حکم پرحقیر معاوضہ لے کراپنے ہی ملک کے مسلمان شہریوں کا قتل عام کر رہے ہیں،ان کو دہشت گرد کہہ کر دوسروںسے بھی مرواتے ہیں اور خود بھی مارتے ہیں۔اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیںمسلسل ایک رسوا کن عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے۔اس سے زیادہ رسوائی اور کیا ہو گی کہ ہمیں عالم گیر بھکاری بنادیاگیا ہے۔پانچ برس پہلے زلزلے کے موقعے پر ہم نے ساری دنیا سے بھیک مانگنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا،جو کسر رہ گئی تھی اب سیلاب کے نام پر پوری کر رہے ہیں۔قومیں پہلے ہمارا مذاق اڑاتی تھیں اب ہمیںحقارت اور رحم کی نظر سے دیکھتی ہیں۔ہم اسی پر خوش ہیں کہ ہمارے کشکول میں خیرات تو ڈالی جا رہی ہے۔یہ بھی اگر عذاب الٰہی نہیںتوپھرعذاب اور کسے کہتے ہیں۔
”یہ وہ لوگ جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں بہت فساد پھیلا تھا۔ آخر کار تمہارے ربّ نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ گھات لگائے ہوئے ہے۔(الفجر۔11تا 14)
اس عذاب اورعتاب سے نجات حاصل کرنے کے لیے لازم تھا کہ ساری قوم بارگاہِ ایزدی میں توبہ ورجوع اختیار کرتی۔اجتماعی گناہوں کو چھوڑ دیتی اور گزشتہ گناہوں پر بارگاہِ رحمت میں استغفار کرنے لگتی۔ سورہ نوح میں اس قسم کے معاصی کوکثرت سے قحط وتنگ سالی جیسے عذاب نازل ہونے کا سبب بتایا گیا اور ان کا علاج توبہ واستغفار بتایاگیا ہے۔ نوح علیہ السلام بارگاہِ الٰہی میں یوںعرض گزارتے ہیں:”میں نے کہا اپنے ربّ سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لیے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لیے نہریں جاری کردے گا“(نوح۔10 تا 12)
ان آایات سے پتہ چلتا ہے قانون الٰہی یہ ہے کہ توبہ وانابت کی برکت سے نہ صرف آخرت کی کامیابی وکامرانی نصیب ہوتی ہے،بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل واحسان سے دنیا کا عیش وآرام بھی مہیا فرماتا ہے۔ دلوں کو سکون واطمینان نصیب ہوتاہے، اموال میں خیر وبرکت ہوتی ہے، اولاد صالح اور خدمت گار ہوتی ہے، آسمان سے ابر رحمت کا نزول ہوتا ہے اور پھلوں اور غلوں کی کثرت اور بہتات ہوتی ہے۔اس کے برعکس ہماری قوم کی حالت یہ ہے کہ فیصلے کی گھڑی سر پر دیکھ کر بھی جرم سے بازنہیں آتی۔عین زلزلے اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں بھی لوٹ مار جاری ہے۔ عذاب نہ آئے تو کیا آئے ”تم پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قص±وروں سے وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے۔(الشوریٰ۔30)“ مکمل تباہی سے بچنے کے لیے ہمارے پاس اب بھی وقت ہے ۔بیماری کی صحیح تشخیص اور فوری علاج ضروری ہے۔ ظاہری اور سطحی تدبیریں ناکام ہوجاتی ہیں۔ قوم نے فسق وفجور اور حکمرانوںنے ظلم وعدوان سے بچنے کے لیے اب بھی رجوع الی اللہ کا راستہ اختیار نہ کیا ،تو اینٹ سے اینٹ بج سکتی ہے(اعاذنا اللہ)۔
ہماری قوم لیڈر شپ کے معاملے میں بہت ہی بدقسمت واقع ہوئی ہے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے ”حکمران عوام کا آئینہ ہیں، جیسی رعایا ہوگی ویسا ہی حکمران ہوگا“ہماری قوم میں احساسِ برائی مٹ گیا تو اللہ تعالیٰ ہم پر ظالم و بے حس حاکم مسلط کر دیے ۔ قوم سیلاب میںڈوب رہی تھی اور حکمران عیش ومسرت میں مخمور غیر ملکی دورے پر نکلا ہواتھا۔ ہمارے حاکم تو اس حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے بھی تیار نہیں کہ ہم قہر ِخداوندی کی زد میں ہیں۔ہمارا کریم رب پھر بھی بار بار ہمیں سنبھلنے اور نصیحت حاصل کرنے کا موقع عطا کرتا ہے۔ اس کی رحمت زبان حال سے ہمیں مخاطب کرتی ہے،کبھی زلزلے سے اور کبھی سیلاب کے ذریعے کہ ابھی وقت ہے پلٹ آئواپنے بخش دینے والے رب کی طرف، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے اور اللہ اپنے عذاب کا کوڑاتم پر اسی طرح برسادے جس وہ پہلی گمراہ و نافرمان قوموں پر برساتا آیا ہے۔ ہر قومی مصیبت اللہ کی سخت ترین ناراضی کاپیغام سناتی ہے۔ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اِن بحرانوں اور آفات سے نکلنے کا واحد راستہ توبہ ا ور استغفار ہے۔ اگر ہم نے پھر بھی یہ راستہ اختیار نہ کیا تو اللہ کا قانون ہمارے لیے تبدیل نہیں ہو جائے گا۔ ہم سے پہلے بہت سی قومیں اس بد انجامی سے دوچار ہو چکی ہیں۔ان کو بھی بار بارتوجہ دلائی گئی تھی مگر جب وہ باز نہ آئیں تو ان پرکا رسوا کن عذاب نازل ہوا اور وہ نشانِ عبرت بناکر رکھ دی گئیں۔
اسمیں شبہ نہیںکہ حالیہ سیلاب جیسی قدرتی آفات کو ٹالا تو نہیں جا سکتا‘ مگراللہ کے حضور رجوع اور توبہ سے اوردریاﺅں پرڈیم بنا کر نقصانات کی شدت ضرور کم کی جاسکتی ہے۔ حالیہ سیلاب کے دوران تمام ماہرین نے بار بار اس حقیقت کا اظہار کیا کہ اگردریاﺅں پر بروقت کالاباغ جیسے ڈیم تعمیر کرلیے جاتے جن میں سیلابی پانی اسٹور ہوسکتا توحالیہ تباہی ہرگز نہ ہوئی ہوتی۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی کالا باغ ڈیم کی افادیت کو تسلیم کیا اور کہا،اگرکالا باغ ڈیم ہوتا تو سیلاب سے اتنے وسیع پیمانے پر تباہی نہ ہوئی ہوتی۔افسوس وزیراعظم کوکالا باغ کا خیال آیالیکن بعد ازخرابی¿ بسیار۔ سوال یہ ہے کیا اب بھی سارے صوبے گفت و شنید کے ذریعے اس غفلت شعاری کی تلافی کرنے پر آمادہو سکتے ہیں، تاکہ اب سیلاب آئے تو نقصان اور تباہی و بربادی کے بجائے اضافی پانی سٹور کر کے اس سے استفادہ کیا جا سکے۔
راجہ پرویز اشرف نے وزارتِ پانی و بجلی کا قلم دان سنبھالتے ہی اعلان کر دیا تھا کہ کالا باغ ڈیم کا معاملہ اب ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہے۔ اس ایشو پر اب بات بھی نہیں ہو گی۔ ان کے اس اعلان میں ملک اور قوم سے سفاکانہ لا تعلقی نظر آتی ہے؛یعنی سیلاب آتا ہے تو آئے،سینکڑوں جانیں ڈوبتی ہیں توڈوب جائیں۔ غریب مرتے ہیں تو مرنے دیں۔ عوام مریں ،ہمارا کیا جاتا ہے۔ اب کہا جا رہاہے ہم کیا کریںخیبرپختون خواہ، سندھ اور بلوچستان کی طرف سے شدید مخالفت کی وجہ سے ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کیا اتنی بڑی بربادی کے بعد بھی ہاتھ بندھے ہی رہیں گے؟ کیا اب بھی گفت وشنید اور باہمی مشاورت سے اِن صوبوں کو اعتماد میں نہیں لیا جا ئے گا!!
یہ بات بجائے خود تحقیق طلب ہے کہ اگر اس مون سون میں ریکارڈ بارشیں نہیںہوئیں تو ریکارڈ سیلاب کیسے آ گیا۔ عام سی بارشوں کے نتیجے میںیہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور تباہ کن سیلاب کیسے بن گیا۔ اسی لیے کہا جارہا ہے کہ یہ سیلاب قدرتی سے زیادہ انسان کی برپا کی گئی آفت کا نتیجہ ہے۔haqeeqat.org نامی ویب سائٹ پر اس مصنوعی تباہی کی تفصیلات دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس میں دلائل سے ثابت کیا گیاہے کہ یہ ریکارڈ سیلابی پانی صرف بارشوں کے نتیجے میںنہیںآیا،بلکہ بھارت اور افغانستان کے ڈیموںسے بھی آیا ہے۔ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ افغانستان اور بھارت نے اپنے بڑے ڈیموں کے دہانے عین اس وقت کھولے جب کسی بھی مقام پر پانی کنٹرول سے باہر نہیں ہوا تھا۔ کابل کے قریب سروبی ڈیم کا مکمل انتظام ہندو مشینری کے پاس ہے، اس نے اس ڈیم کے دروازے کھول کر خیبر پختونخواہ کی بربادی کا سامان کیا اور دریائے کابل نے پورے صوبے میں تباہی مچا دی۔ ادھر بھارت نے بھی کشمیر کے ڈیموں میں سے چند ایک کے پانیوں کا رخ پاکستان کی طرف کر دیا۔ ان میں بگلیہار ڈیم اہم ترین ہے۔ کیا یہ تعجب خیز امرنہیں کہ دریائے سندھ،جہلم اور چناب،بلکہ راوی اور ستلج تک میں جہاں چند دن پہلے تک ریت اڑتی تھی یک بیک اتنے بڑے طوفان کیسے امڈنے لگے جنہوں نے ایک چوتھائی پاکستان کو ڈبو دیا۔ یہی نہیں بارشیں رک جانے کے بعد بھی تباہ و بربادی کا سلسلہ جاری ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا ملک اب بھارت کے رحم و کرم پر ہے۔ سیلاب اسی لیے تھمنے کا نام نہیں لے رہا کہ سیلاب کا منبع دشمن کے قبضے میں ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کا آغاز ہوئے چالیس دن ہوچکے ہیں اورآج بھی پہلے دن کی طرح علاقے ڈوب رہے ہیں،انسان اور جان دار مر رہے ہیں،بے گھر ہو رہے ہیں، بیماریوں کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔ سیلاب کی وجہ اگر بارشوں کو قرار دیا جائے تو بارشیں تو بھارت اور افغانستان میں بھی ہوئی ہیں وہاں پانی آفت کیوں نہیں بنا؟ بھارت میں پاکستان سے تیس فی صد زیادہ بارشیںہوئی ہیں وہاں یہ ہلاکت خیز سیلاب کیوں نہیں آیا؟ ہندوستان میں پاکستان کے مقابلے میںزیادہ بارشیں ہونے کے باوجود سیلاب نہیں آیا اس لیے کہ انہوں نے اپنا ضرورت سے زیادہ پانی سینکڑوں بڑے چھوٹے ڈیموں میں سٹور کر رکھاہے۔
اے این پی سے ضرور پرسش ہونی چاہیے کہ جس نے محض سیاسی مقاصد کے لیے شور مچا رکھا تھاکہ ہم مر جائیں گے مگر کالا باغ نہیں بننے دیں گے،بنے گا تو بم سے اڑا دیں گے۔ یہ وہی تھے جو دعویٰ کرتے تھے کالا باغ بنا تو نوشہرہ ڈوب جائے گا۔ ولی خان کے خانوادے اور غفار خان کے نظریات کے وارث جیت گئے ،ان کے سیاسی مقاصدپورے ہوگئے،کالا باغ ڈیم نہ بنایا جا سکا،لیکن کیا نوشہرہ کو بچالیا گیا؟وہ نوشہرہ ڈوبنے کی بات کرتے تھے ،نوشہرہ تو کالا باغ ڈیم کے بغیر بھی ڈوب گیا،اس کے لیے تو دریائے کابل طوفان نوح لے کر آگیا۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے بغیرہی نہ صرف نوشہرہ ڈوبا بلکہ چارسدہ بھی ڈوب گیا اور ڈبویا بھی ان کے اپنے دوست بھارت نے۔وقت آگیاہے کہ ہم قومی سطح کی مشاورت کر کے کالا باغ اور دوسرے ڈیموں کا آغاز کریں۔ خیبرپختون خواہ والے تو جھوٹ بولتے رہیںگے ،تاہم صوبہ سندھ والوں کا خدشہ جائز ہے، ان کو اعتماد میں لیا جاناچاہیے۔ پنجاب یہ گارنٹی دے کہ سندھ کو نہ صرف اس کے حصے کا پوراپانی ملے گا ،بلکہ ڈیموں میں سٹور ہونے کے بعدزیادہ بھی ملے گااور سمندر کو بھی اتنا پانی ملتا رہے گا کہ وہ ساحلی علاقوں پر نہ چڑھ دوڑے۔ بلوچستان کو بھی اس کے جائز حصے کاپانی ملے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کو ان کی ضرورت سے زیادہ مقدار میں پانی مل سکتاہے بشرطیکہ قومی اتفاق سے ڈیم بنا لیے جائیں اورزیادہ سے زیادہ سیلابی پانی اسٹور کر لیا جائے۔ اس مقصدکے لیے ایک کالاباغ ڈیم بھی ناکافی ہے۔ دیامربھاشا، منڈا، اکھوڑی، تنگی اور سکردوجیسے بڑے ڈیموں کے علاوہ سینکڑوںچھوٹے چھوٹے ڈیم بھی بنانے ہوں گے۔ ان سے جہاں سیلابی پانی زراعت کی ترقی کے لیے استعمال ہو گا وہاں ملکی ترقی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات کے لیے سستی بجلی بھی وافر مقدار میں میسرآئے گی۔ امریکہ میں ذرا ذرا سے ندی نالوں پر ہزاروں بند بندھے ہوئے ہیں جن سے اسٹور کیا ہوا پانی بڑے چھوٹے شہروں اور قصبوں کی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ ہماری جانب سے ڈیم نہ بنانے کی کوتاہی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ہمارے حصے میں آنے والے دریاﺅں پر بھی چھوٹے بڑے62سے زائد ڈیم تعمیر کرلیے ہیں۔ وہ اپنی زرعی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان ڈیموں میں پانی ذخیرہ بھی کرلیتا ہے اور جب چاہے اس ذخیرے کو جنگی ہتھیار بھی بنا لیتا ہے۔ بارشوں کے موسم میں اس کے پاس پانی وافر ہو جائے گا تو وہ سارا فالتو پانی ہماری جانب چھوڑ دیا کرے گا۔ بھارت کی ان سازشوں کا توڑ بھی کالاباغ سمیت تمام ضروری ڈیموں کی تعمیر ہی سے کیا جا سکتاہے۔ہماری زمین پر جتنے زیادہ ڈیم بنیں گے‘ اتنا ہی سیلابی موسموں میں پانی کا ذخیرہ کرنے میں آسانی ہوگی،بھارت اپنے ڈیم کھولے گا تو بھی ہمیں فائدہ ہو گا اور فالتو پانی سارا سال ہماری زراعت اوربجلی کے لیے موجود رہے گا۔

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 225
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (14-09-10), shafresha (05-09-10), ھارون اعظم (05-09-10), مرزا عامر (04-09-10), راجہ اکرام (04-09-10), شمشاد احمد (05-09-10)
پرانا 05-09-10, 12:00 AM   #2
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اللٰہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-09-10), مرزا عامر (05-09-10)
پرانا 05-09-10, 02:39 AM   #3
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سروق کے لیئے اپلائی کریں!
اب آپ کی تحریر سرورق پر
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (06-09-10)
جواب

Tags
net, pak, url, لیئے, آمین, اپلائی, اللٰہ, تعالیٰ, خیر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
توبہ شکن سے انتخاب از بانو قُدسیہ زارا اردو ادب سے اقتباسات 0 27-01-11 11:02 AM
8اکتوبر2005 زلزلہ۔۔۔۔۔تیسری برسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خصوصی کوریج ابن جلال خبریں 0 08-10-08 12:22 AM
مجلس عمل نے آٹے کے بحران پرسینیٹ میں تحریک التوا ء جمع کرا دی عبدالقدوس خبریں 0 06-01-08 07:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:53 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger