واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


سینہء بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام ----افشاں نوید

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-04-11, 02:32 PM   #1
سینہء بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام ----افشاں نوید
JISOUTH JISOUTH آف لائن ہے 27-04-11, 02:32 PM

یہ ایک نجی ٹی وی چینل کا پروگرام ہے --وائس آف امریکہ کا میزبان واشنگٹن ڈی سی کے ایک خاندان کا تعارف کراتا ہے -وجہ تعارف یہ ہے کہ سٹیلائٹ کے اس دور میں بھی یہ خاندان ٹیلی وژں کی ضرورت سے بے نیاز ہے --20 برس کا نوجوان گویا ہوتا ہے اس "ڈبے " نے ہم سے ہماری پرائیویسی چھین لی ہے -یہ ہمارے اعصاب پر بھوت بن کر سوار ہو گیا ہے -ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے مستقبل کو یہ ڈبہ اپنی گرفت میں لے لے -اس دوران اس نوجوان کی ماں جو قریب ہی کچن میں کچھ بنانے میں مصروف تھی تیزی سے آکر کیمرے کے سامنے بیٹھ گئی
اور دونوں ہاتھ اٹھا کر بولی "ہم نہیں چاہتے کوئی ہم سے ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی چھین لے ہم بہت پرسکون ہیں" ٹی وی کا نمائندہ سوال کرتا ہے " اتنی تیز تر دنیا میں پھر آپ کی پاس معلومات کا ذریعہ کیا ؟؟پ فوری معلومات سے تو محروم رہتے ہوں گے ؟؟" اس پر نوجوان نے سائیڈ ٹیبل پر رکھے اخبار و جرائد کی طرف اشارہ کیا اور بولا کہ " یہ ہماری معلومات کے لئے کافی ہیں ویسے ہمیں معلومات کا جنون بھی نہیں ہے

ہم اتنے باخبر ہیں جتنا ہمارے لئے ناگزیر ہے " پھر آپکی تفریح کا کیا ذریعہ ہے "ٹی وی میزبان کے سوال پر نوجوان گویا ہوا "میں پیانو بجاتا ہوں یہ میرا بہترین دوست ہے پڑھائی کے بعد کچھ وقت فارغ ہوتا ہے تو نوجوانوں کے ایک کلب میں چلا جاتا ہوں جہاں صحت مند سرگرمیاں میرے اندر جینے کی نئی امنگ پیدا کرتی ہیں ھان یہ میری ماں ایک رفاہی ادارے کی رضاکار ممبر ہیں بہر حال ہم بہت خوش ہیں اور ہمیں اس ڈبے کی ضرورت بھی نہیں ہم نہیں چاہتے کہ اپنی آزادی کو اس ڈبے (ٹی وی ) ہاتھوں گروی رکھ دیں "
اور پھر ٹی وی کے اسی پروگرام میں اور کئی خاندانوں کا تعارف پیش کیا گیا جو کیبل اور ٹی وی کی ضرورت سے بے نیاز ہیں ---- یہ یورپ کے خاندان ہیں جو ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث بے یقینی اور خدشات کا شکار ہیں - حقیقت یہ ہے کہ اس تیز رفتار ترقی نے مشرق تو مشرق خود مغرب کے روایتی
کیونکہ برطانیہ ہو یا روس اور چین یہ اپنے آپکو نیو کلیائی اسلحے سے پاک کرنے کے جتنے بھی وعدے کر لیں ان وعدوں پر کوئی اعتبار کرنے کو تیار نہیں --کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے جتھے ذخیروں کو تباہ کیا جا رہا ہے اتنے ہی نئے نئے کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروجود میں آرہے ہیں -چاہے لاکھ بینالاقوامی معاہدے کئے جاتے رہیں اور اخلاقی ضابطے بنائے جاتے رہیں یہ جن قابو میں آنے والا ہے نہ انکے منفی اثرات سے کلی چھٹکارا ممکن ہے
اس جدید ٹیکنالوجی پر لاحول پڑھ لینا اور ریت میں سر چھپانا مسئلے کا حل نہیں
مسلم معاشرے پر بھی اس ابلاغی ٹیکنالوجی کے بے حد منفی اثرات ہیں اور تیسری دنیا کی بہت سی روایات ٹوٹ رہی ہیں اور یہ ذرائع ابلاغ اسلام کا ورلڈ ویو (world view) نہ صرف تبدیل کر رہے ہیں بلکہ اسے مجروح کر رہے ہیں
جرمن مسلم اسکالر مراد ھوف مین اس کا حل یہ بتاتے ہیں "نوجوانوں کو نقصاندہ بیرونی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے انہیں جدید ٹیکنالوجی سے دور رکھنا مسئلے کا حل نہیں ---جدید دور کے لوگوں کو اس کے بجائے مامونیت (immunization) کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے یعنی اثرات سے محفوظ رہنے کی کوشش
یہی وہ کوشش ہے جسے "علم کی اسلامی تشکیل" کہا جا سکتا ہے --ہم حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمان نوجوانوں کو اسلامی تصور جہاں کی اتنی مضبوط بنیاد فرہم کر سکتے ہیں وہ درست سوالات اور کسوٹی کے ساتھ مغربی سائنس کا مقابلہ کر سکیں
!!!!! ----
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی بجائے خود شیطان نہیں ہے کہ ہم 'تعوذ' پڑھ کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیں --اس وقت کا چیلنج یہ ہے کہ اس تمام تر جدیدیت میں ہمیں صحت مند رویوں کے ساتھ خود کو اپنے نظریات اور اقدار کو کیسے محفوظ رکھنا ہے؟؟؟؟
کیونکہ اس تہذیبی یلغار کی سب سے زیادہ ضربیں ہمارا خاندانی نظام سہہ رہا ہے --ہمیں اپنے خاندان کے دفاع کی اسوقت پہلے سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ خاندان کا دفاع ہی بحیثیت مجموعی سماج کا دفاع ہے -- اپنے گھروں کے اندر جسقدر ہم اسلامی روایات و اقدار کو فروغ دینے میں کامیاب ہوتے ہیں اتنے ہی ہم اس ٹیکنالوجی کے منفی اثرات سے بچ سکیں گے
ہمیں چوکس رہنا ہوگا کہ انٹرنیٹ اور ٹی وی ہمارے ہمارے خاندانی رشتوں کے عدم استحکام کا باعث تو نہیں بن رہے ہیں ---ہم اپنے مسائل اہل خانہ کے ساتھ شیئر کرنے کے بجائے
online رہنا پسند کرتے ہیں اگر اہل خانہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے کھانے کے دوران بھی ہماری نگاہیں مسلسل ٹیوی کا طواف کر رہی‌ ہیں اور جسوقت ہمارے بچے ہم سے گفتگو کے منتظر ہیں ہم موبائل فون کے موصول شدہ پیغامات اور گفتگو میں مصروف رہتے ہیں تو یقیناً ہم گلوبلائزیشن کا شکار ہیں
کیونکہ یہ ایجادات بہرحال ہمارے روابط کو ایک طرف بڑھا رہی ہیں تو دوسری طرف کچھ اہم روابط کو کمزور کرنے کا بھی باعث ہیں --اگر ہم پہلو کے ساتھی کو مسلسل نظرانداز کر کے موبائل پر مصروف ہیں یا بچے فارغ وقت والدیں کے ساتھ گزارنے کے بجائے نیٹ پر گزارنا پسند کرتے ہیں تو یقیناً ہم عالمگیریت کے ہتھکنڈوں کا شکار ہو رہے ہیں ---
اس وقت والدین کا کردار بہت اہم کسوٹی ہے -ان تمام حملوں کے جواب میں والدین کا جوابی مثالی رویہ ،جب تعیشات کو ضروریات بنا کر مادہ پرستانہ طرز زندگی کو لازم کیا جا رہا ہے -- تو والدین سہولیت اور ضروریات کا تعین کر کے بتا سکتے ہیں کہ زندگی کی حقیقی خوشیاں زیادہ سہولتوں کے حصول میں مضمر نہیں اور اکاقی اقدار کی بلندی، معیار زندگی کی بلندی سے بدر جہا بہتر ہے
معلومات کے جس سمندر میں ہم زندہ ہیں ایسے میں بڑوں کی بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں میں تجزیہ کرنے کی عادت ڈالیں -اور معلومات کو قبول کرنے کے بجائے صحیح اور غلط کی شناسائی ین میں پیدا کریں --
حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی گلوبلائزیشن کے دور میں بحیثیت مسلمان اپنے عقائد اور نظریات پر قائم رہنا اور قرآن جو نظریہ حیات اور تصور دنیا ہمیں دیتا ہے اپنی نئی نسل کو ان عقائد اور تصورات پر پختہ کرنا ہی تمام شیطانی حربوں اور تدبیروں کا حل ہے --اس لئے ایک مستحکم خاندانی نظام اسوقت ہماری اولین ضرورت ہے ---

JISOUTH
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 66
شکریہ: 16
53 مراسلہ میں 142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 260
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے JISOUTH کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (28-04-11), سید محمد عابد (27-04-11), عدنان دانی (27-04-11)
پرانا 27-04-11, 02:41 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی ٹیکنالوجی بجائے خود شیطان نہیں ہے کہ ہم 'تعوذ' پڑھ کر اس سے چھٹکارا حاصل کر لیں --اس وقت کا چیلنج یہ ہے کہ اس تمام تر جدیدیت میں ہمیں صحت مند رویوں کے ساتھ خود کو اپنے نظریات اور اقدار کو کیسے محفوظ رکھنا ہے؟؟؟؟
یہی وہ مثبت رویہ ہے جسے اپنانے اور عام کرنے کی ضرورت ہے۔ بے شک ہر ٹیکنالوجی بری یا نقصان دہ نہیں ہوتی لیکن اس کا استعمال اس کو اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔ اس لئے بجائے اس کے کہ سرے سے کنارہ کشی اختیار کی جائے ضرورت ہے کہ رویوں کو بہتر بنا کر خیر تلاش کرنے کی کوشش کی جائے اور جدید ذرائع کا مثبت استعمال کیا جائے تا کہ فلاح انسانیت کا کام مزید احسن انداز سے سر انجام پا سکے ۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
JISOUTH (28-04-11), skjatala (28-04-11), مرزا عامر (01-05-11), حیدر (27-04-11), سام (17-05-11)
پرانا 27-04-11, 02:42 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک بہت خوبصورت اور پر مغز تحریر ہے۔ شیئر کرنے کا شکریہ

سر ورق پر چسپاں کرنے کی سفارش کی جاتی ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
JISOUTH (28-04-11), مرزا عامر (28-04-11), حیدر (27-04-11), عدنان دانی (27-04-11)
پرانا 27-04-11, 02:56 PM   #4
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,199
شکریہ: 4,887
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس افرا تفری کے ماحول میں اس طرح کاجاندار تحریر شئیر کرنے کاشکریہ۔
سرورق پر لگانے کیلے سفارش کی جاتی ہے۔
__________________
اور اس نے میرے ساغر میں
مئے سرخ انڈیلی ۔۔۔ تو کہا
مت سوچو !
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
JISOUTH (28-04-11), skjatala (28-04-11), مرزا عامر (28-04-11), حیدر (27-04-11)
پرانا 28-04-11, 11:35 AM   #5
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قابلِ فکر تحریر ہے۔ معلومات بہم پہنچانے کا شکریہ !
شیئر کا اردو میں مناسب ترین ترجمہ کیا ہے؟
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
JISOUTH (28-04-11), مرزا عامر (28-04-11)
پرانا 28-04-11, 01:53 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شیئر کا ایک ترجمہ ’’بانٹنا‘‘ بھی کیا جاتا ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
JISOUTH (28-04-11), skjatala (28-04-11)
پرانا 30-04-11, 07:47 PM   #7
Senior Member
 
مہتاب's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2010
مراسلات: 2,032
کمائي: 22,536
شکریہ: 862
1,306 مراسلہ میں 2,830 بارشکریہ ادا کیا گیا
مہتاب کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں مہتاب کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی اور فِکرانگیز تحریر بہم پہنچانے کا شکریہ
مہتاب آن لائن ہے   Reply With Quote
مہتاب کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (01-05-11)
جواب

Tags
پاک, واشنگٹن, قرآن, چینل, موبائل, مقابلہ, ممکن, ماں, مسائل, world, انٹرنیٹ, امریکہ, اسلام, اسلامی, بہترین, بچوں, تعارف, جواب, حل, حال, خوش, دوست, سائنس, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آئندہ 20سالوں میں موجودہ ادویات کی بجائے سٹیم سیل ادویات لیں گی جاویداسد دلچسپ اور عجیب 28 29-11-11 10:28 AM
تجھ کو ڈھونڈا تو فقط سینہ میرا شق کرنے کو عبدالقدوس شعر و شاعری 6 20-05-11 05:17 PM
ملک ممتاز قادری پرسوز آواز میں نعت پیش کرتے ہوئے عبدالقدوس عمومی بحث 6 07-01-11 05:50 PM
ویب سائٹ بنائیں صرف 30منٹ میں .بغیر html سیکھے..ایک انوکھا سافٹ ویئر پیاسا سوفٹ ویرز کے بارے میں آپکی رائے اور سوفٹ ویر کی درخواست 15 27-10-09 11:40 AM
دل مرا سوز نہاں سے بے محابا جل گیا The Great شعر و شاعری 0 14-09-09 01:30 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 04:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger