واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


صحافت اور نشریاتی ادارے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-05-08, 01:33 AM   #1
صحافت اور نشریاتی ادارے
محمد الیاس محمد الیاس آف لائن ہے 30-05-08, 01:33 AM

نشریہ اور صحافت کے نام پر آزادی دینے سے اس شعبے کے لوگ اور اسکا کام بڑھ گیا ہے۔ اس کو ایک الگ صنعت کا درجہ حاصل ہے اور اسکی الگ تعلیم اور سند مقرّّّر ہے۔ نشریہ کی آزادی بھی کچھ منفی رجحانات رکھتی ہے یا ہمارے ملک میں اس کا یوں‌ استعمال ہو رہا ہے یہ اس شعبے سے تعلق رکھنے والے ہی بہتر طور پر جان سکتے ہیں۔ نشریہ کے اس جدید رجحان سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں۔
1۔ یہ لوگ جواپنے اپنے اداروں کے لئے خبریں جمع کرتے ہیں ملکی تنصیبات اور سرکردہ شخصیّات کے آس پاس منڈلاتے رہتے ہیں۔ کوئی بھی حرکت اس دوران ہو جائے تو اس کو اُچھال کر اس کے بارے میں اپنی آراء اور بہترین معلومات نشر کرنا شروّّع کر دیتے ہیں۔ انکے جواب تیار کرتے کئی شکوک متعلقہ اداروں‌کے بارے میں پیدا ہو جاتے ہیں جبکہ یہ لوگ اس کو اپنی بہترین کارکردگی جان کر اپنا کرنے کے بعد پردے سے پرے ہوجاتے ہیں۔ اسطرح قومی راز تک محفوظ نہیں رہتے۔ کچھ نہ کچھ بھنک دنیا کو مل جاتا ہے۔
2۔ یہ لوگ اپنی خبر تیار کرنے کی حد تک مخلص ہوتے ہیں اور ان کو کسی سے ہمدردی نہیں‌ ہوتی اس وجہ سے مختلف گروہوں میں اختلافات کو زیادہ پیچیدہ شکل دینے اور اچھالنے میں‌ انکا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ اگر کسی شخصیت سے یہ لوگ گفتگو کر رہے ہوں تو اس کو الٹے سیدھے سوالات میں پھنسانے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں اور جب وہ کسی سوال پر کچھ سوچنے لگتا ہے تو اس کام کو اپنی بھرپور کامیابی جان کر فاتحانہ انداز میں عکسبندی کے آنکھ کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ ادارے مایوسی اور غلط فہمی پھیلانے میں پوری حد تک کوشاں رہتے ہیں۔ ان غلط فہمیوں کو اچھالنے کے بعد مزید ان پر اپنی نجی بحث نشرئے پر منعقد کرتے ہیں۔
3۔ جب کسی تقریب میں کوئی ایسا ہو کہ اس سے کچھ پوچھنا ہو تو یہ لوگ ایک غول کی شکل میں تاک میں ہوتے ہیں اور جیسے ہی وہ شخص کچھ دیر کے لئے سامنے آئے سارے اپنے اپنے سوال ایک ساتھ اس پر چھوڑ دیتے ہیں اور چونکہ اکثر موقعہ نہیں ہوتا تو جواب دینے والے چلا جاتا ہے۔ ایسے موقعہ پر ایک بے ہنگم سا شور اٹھتا ہے اور ایک دھکم پیل کے بعد پھر دب جاتا ہے۔
4۔ کئی ایسے کام بھی ہوتے ہیں جو حکومت کے اداروں کی پہنچ سے پرے ہوتے ہیں یا ابھی ان کی نظر میں نہیں آئے ہوتے تو اس سلسلے میں یہ ادارے بعض دفعہ اپنی کوشش اور مزید عکسبندی کے ذریعے پورا منظر فراہم کرتے ہیں۔ یہ سب دکھانے میں انکا جو بھی مقصد ہو مگر ایک حقیقت کھل کر دیکھنے میں مدد ملتی ہے۔
5۔ دیکھنے میں آتا ہے کہ بعض دفعہ کسی حادثے کا سن کر انکے نمائندے فوراً وہاں‌ پہنچ جاتے ہیں۔ وہاں پر چند ہی لوگ دوسروں‌کی مدد کو پہنچے ہوتے ہیں‌ جو پریشانی میں دوڑدھوپ میں لگے ہوتے۔ یہ لوگ جو بعض دفعہ ان سے تعداد میں زیادہ ہوتے ہیں جو وہاں کام میں مصروف ہوتےہیں مگر ان کے ساتھ مدد کے بجائے اپنے آلات اور بستے اٹھا کر انکی تصویریں اور آوازیں حاصل کرنے کیلئے آس پاس دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ یہ بے حسی کی ایک شدید کیفیّت ہے جو مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ ایک انگریز صحافی نے چند سال قبل افریقہ کے قحط زدہ علاقے کا دورہ کیا تھا اور اس نے ایک بچّے کی تصویر کھینچی جو زمین پر رینگ رہا تھا اور اس خوراک کی تقسیم کی جگہ جانا چاہتا تھا جو میلوں دور تھا جبکہ یہ بچّہ مرنے کے قریب تھا۔ اس کے قریب ایک گدھ بھی آ کر بیٹھا تھا کہ کب بچے کی جان نکلے۔ اس شخص کی نکالی اس تصویر نے لوگوں کی ہمدردی قحط والو‌ں کے لئے حاصل کی مگر وہ خود اس احساس سے کہ وہ بچے کی خود مدد کر سکتا تھا اور نہیں کی بعد میں اتنا پریشان ہوا کہ جلد ہی مر گیا۔
عام طور پر اس کام کے لئے مشترکہ طور پر سب اداروں کا منتخب کردہ ایک نمائندہ مقرر ہونا چاہئے جسکے ساتھ مدد کے لئے ایک ساتھی ہو جو تمام پوچھے جانے کے قابل سوالات اور مطلوبہ عکسبندی حاصل کرے اور یہ شخص باقی سب نشریاتی اداروں کو وہ معلومات مہیا کرے۔ اس پر یہ لوگ اس وجہ سے اتفاق نہیں کر سکتے کہ انکو اس کی پڑی ہوتی ہے کہ کسطرح ایک دوسرے سے بڑھ کر ان واقعات کو مختلف رنگ دیا جائے اور نمک مرچ لگائی جائے۔ ایک مقام پر تمام نشریاتی نمائندے بھی جمع ہو سکتے ہیں جب ان کی مجلس جواب دینے والے کی طرف سے بلائی جائے یا باقاعدہ ان کو وقت دیا جائے ورنہ ان کے ساتھ بھی زیادتی ہے کہ چلاتے ہوئے آگے پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔‌

 
محمد الیاس's Avatar
محمد الیاس
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 316
Reply With Quote
پرانا 02-06-08, 04:52 PM   #2
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,785
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: صحافت اور نشریاتی ادارے

اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
The Great کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس (03-06-08)
جواب

Tags
واقعات, لوگ, نظر, بہترین, تعلیم, جواب, جلد, سال, شور, صنعت, صحافی, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پاکستانی فنکاروں سے کام نہ لیں ورنہ سختی سے نمٹیں گے، شیوسینا کی بھارتی چینلز اور پروڈیوسرز کو دھمکی گلاب خان خبریں 0 21-02-11 06:52 AM
Swine Flu سوائن فلو‘‘ آخر ہے کیا؟ یہ بیماری کہاں سے آتی ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟ Real_Light شعبہ طب 3 03-05-09 12:52 PM
سڈنی ٹیسٹ آسٹریلیا کے نام،تاریخ بدلنے کے بھارتی کے بھارتی دعوے کھوکھلے نعرے ثابت ہوئے عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 07-01-08 08:30 AM
واضح شکست دیکھ کر بینظیر پھرن لیگ کی کشتی میں سوار ہونا چاہتی ہیں،پرویز الٰہی خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:46 AM
جنرل پرویز ڈوبتی کشتی میں سوار ہیں، جسٹس وجیہہ خرم شہزاد خرم خبریں 0 21-11-07 08:29 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger