|
صدر پرویز مشرف کا خطاب اور حقائق,,,,ادھورا سچ…اصغر ندیم سید

05-01-08, 09:33 AM
صدر پرویز مشرف کا خطاب اور حقائق,,,,ادھورا سچ…اصغر ندیم سید
صدر پرویز مشرف کے خطاب میں تمام چبھتے ہوئے مسائل کو ایک ایک کرکے زیر بحث لایا گیا اور میرے نزدیک صدرپرویز مشرف ایک معروضی انداز کے ساتھ عوام کوا عتماد میں لیتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اگرچہ اس وقت ملک لوڈشیڈنگ کے ایک مسلسل عذاب سے گزر رہا ہے۔ تاہم میری خوشی بختی کہ ان کا خطاب میں نے سن لیا۔ صدر صاحب کی تقریر کسی جغادری سپیج رائٹر کی لکھی ہوئی نہیں لگتی تھی۔ جس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے”میرے عزیز ہم وطنو!“ ویسے بھی صدر پرویز مشرف جب بات کرتے ہیں توان کے چہرے کے تاثرات اورباڈی لینگوئج میں تال میل قائم رہتا ہے۔ صدر صاحب کی تقریر کا پہلا غیر جانبدارانہ محاکمہ یہ تھا کہ سو ارب روپے کی املاک کو تباہ کرنے والوں کے خلاف مقدمے درج ہونے چاہئیں اور ساتھ میں ان افسروں کے خلاف بھی جن سے غفلت ہوئی۔ بظاہر یہ بے حد اچھی بات ہے لیکن یہاں پہلا سوال یہ آتا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے بعد انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا سوگ منا رہے تھے۔ پکنک منا رہے تھے یا سورہے تھے۔ یا روم جل رہا تھا اور نیرو بنسری بجا رہا تھا۔ کیا فوراًفوج یا رینجرزکو نہیں بھیجا جا سکتا تھا۔ یا کرفیو نافذ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اگر لفظ کرفیو سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے تو عملاً پوری دنیا کے چینل ملک کو کرفیو کے حوالے کر چکے تھے۔ اس کے بعد صدر پرویز مشرف نے قوم کی آواز کے مطابق ایک فیصلہ یہ دیا کہ بے نظیر بھٹو شہید کی شہادت کی تحقیقات کے لئے سکاٹ لینڈ یارڈ سے خدمات حاصل کرلی گئی ہیں۔ یہ خدمات لینی بے حد ضروری تھیں۔ اس لئے کہ اگر بے نظیر بھٹو صاحب کے قاتلوں کی نشاندہی نہ ہوئی توپھر صدر پرویز مشرف صاحب یا خطے میں دیگر شخصیات کو امن کی ضمانت کیسے ہو سکے گی۔ بیرونی دنیا نے یہ مطالبہ اس لئے کیاہے کہ بیرونی دنیا کو اپنی فکر ہے کہ اگر بے نظیر بھٹو صاحبہ کے قاتل نہ پکڑے گئے تو وہ پوری دنیا کے لئے خطرے کی گھنٹی کی طرح بجتے رہیں گے۔ لہٰذا بے نظیر بھٹوشہید کے قتل کی تحقیقات میں امریکہ اور یورپ کی دلچسپی سمجھ میں آتی ہے لیکن اس کے باوجود ڈاکٹروں کے بیانات اور حکومت کے مختلف بیانات میں کیاربط ہے۔ یہ بات کیا سکاٹ لینڈ یارڈ تک پہنچ سکے گی اوراس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ مختلف نیوز اور بیانات کیا سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد کے لئے ہم دیانتداری سے مرتب رکھ سکیں گے۔ صدر پرویز مشرف کے لئے یہ بات بے حد اہم ہے کہ وہ جوکہہ رہے ہیں اس پرا ن کے دل کی گواہی کیا ہے۔اس لئے کہ ایسے میں صدر صاحب سکاٹ لینڈ یارڈ کے لئے کس طرح کی آفر رکھتے ہیں۔ صدر صاحب نے الیکشن کے التواء کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے اعلان کی توثیق کی ہے اور حقیقت میں انہوں نے بہت صحیح فیصلہ کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی صدر صاحب نے فرمایا کہ الیکشن صاف شفاف، غیر جانبدارانہ اور Peace fulیعنی عوام کے نقطہ نظر سے محفوظ ہونے چاہئیں۔ اس بات سے کیسے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن آصف زرداری کے ردعمل کوا یک طرف رکھتے ہوئے۔ صدرصاحب کے اس بیان کا تجزیہ کرتے ہیں۔ صدر پرویز مشرف صاحب کو کنگز پارٹی کے حوالے سے پریس نے زیر بحث لایا ہے اور اس حوالے سے اگر صدر پرویز مشرف کی غیر جانبداری کو دیکھیں توصورتحال کافی مشکل لگتی ہے۔ اس لئے کہ صدر پرویز مشرف صاحب کے حوالے سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کی صدارتی حیثیت کو صرف چوہدری برادران ہی محفوظ رکھ سکتے ہیں اور اس حوالے سے چوہدری شجاعت حسین نے آج یعنی دوجنوری دو ہزار آٹھ میں یہ بیان دیا ہے کہ ہماری پارٹی پرویز مشرف صاحب کی پارٹی ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایک نجی ٹی وی پر دیا ہے۔اگر یہ سچ ہے توپھر صدر پرویزمشرف صاحب کی غیر جانبداری کا Statusکیا ہے۔ اس سے لگتی ہوئی بات ہم اپنے قارئین کے ساتھ Shareکرنا چاہتے ہیں لیکن ایک بات بہت واضح ہے کہ چوہدری شجاعت حسین مسلسل صدر پرویزمشرف کی چھتری کے نیچے پناہ لیتے رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ ایسی بری بات بھی نہیں ہے کہ صدر پرویز مشرف کی چھتری کے نیچے تو سید مشاہد حسین بھی ہیں۔ جو ایک زمانے میں اپنی ایک فلاسفی رکھتے تھے لیکن میاں نواز شریف نے پاکستان کی سیاست میں بہت کچھ بدل دیا ہے انہوں نے پاکستان میں نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا ہے۔ وہ اتنے بڑے انسان کے طورپر ابھرے ہیں کہ دنیا ان کے سیاسی نظریات کو عزت کی نگاہ سے دیکھے گی لیکن افسوس کہ اس طرح کے سیاسی اظہار کو روائتی سیاست شاید نہ سمجھ سکے۔ کہ ہمارے ہاں رسہ گیروں اور مافیاکے گروہوں کی سیاست ہے۔ اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے صدرپرویز مشرف کی بات پر آتے ہیں کہ انہوں نے آنے والے انتخابات کے لئے بہت واضح اعلان کئے ہیں لیکن افسوس یہ ہے کہ حقائق کچھ اور پیغام دے رہے ہیں۔ مثلاً الیکشن کا التواء چوہدری شجاعت صاحب کی پارٹی کے حق میں جاتا ہے اس لئے کہ بے نظیر شہید کاخون تازہ ہے اوراس نے بولنا ہے۔ آج بولے یا کل کو بولے۔ چوہدری صاحب اس التواء سے اگرپیپلز پارٹی کے افسردہ کارکنوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کا کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں تواٹھا لیں لیکن ان کے بیانا ت سے صدر پرویز مشرف کی غیرجانبداری خطرے میں پڑ چکی ہے۔ وہ ایسے کہ انہوں نے بارہا یہ کہاہے کہ وہ صدر پرویز مشرف کی پارٹی ہیں اور ان کو طاقت فراہم کریں گے۔ اس کی تصدیق سرکاری ٹی وی کے خبرنامے نے کردی ہے کہ مسلسل تین چار دنوں سے پی ٹی وی کی خبریں چوہدری شجاعت، چوہدری پرویز الٰہی اور سید مشاہد حسین کے بیانات کی شہ سرخی سے شروع ہوتی ہیں۔ اس سے کچھ اور ثابت ہو یا نہ ہو عام آدمی کیلئے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کی واقعی کوئی پارٹی ہے اور وہ جو کچھ بھی تقریر میں کہیں اس سے ان کی غیر جانبداری ثابت نہیں ہوتی۔ ایسے میں صدرصاحب کو چاہئے کہ وہ چوہدری برادران سے کہیں کہ کسی طرح وہ صدر صاحب کو معاف کردیں اور اپنی سیاست میں صدر پرویز مشرف کا نام نہ لیں۔ ساتھ میں سرکاری ٹیلیویژن کو بھی چاہئے کہ اپنے خبرنامے کو غیر جانبدار ثابت کرتے ہوئے مسلم لیگ ق کو اس کی جگہ پررکھے۔ سرکاری پارٹی کی حیثیت میں پیش نہ کرے۔ صدر صاحب کو میرے خیال میں کسی پارٹی کی سرپرستی کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ صدر کے منصب پر فائز ہوچکے ہیں۔ کوئی پارٹی جیت کر آتی ہے تو صدر صاحب قومی مفاہمت کے حوالے سے ایسا تدبر رکھتے ہیں کہ جیتی ہوئی پارٹی کوملک کی ترقی اورعوام کی بھلائی کے پیکیج پر قائل کرسکتے ہیں۔ ملک کو بچانے کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ عوام جسے منتخب کریں اسے قبول کیا جائے اور اپنی مرضی کے نتائج کی جستجو نہ کی جائے۔ خود مسلم لیگ ق کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام کی عدالت میں بغیرسرکاری چھتری کے آئیں اور اپنی کارکردگی پر بھروسہ کرتے ہوئے کسی قسم کے سہارے کے بغیر اپنی حیثیت منوائیں۔ لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ پھر نفرت کے نعروں پر سیاسی بازار گرم ہونے لگا ہے۔ یہ ملک کے لئے کسی صورت بھی فائدہ مند نہیں ہوگا۔ اگرچہ سندھ کے غصے کو آصف زرداری نے قابو میں لانے کے لئے اچھی تقریر کی لیکن ایک اضافی جملے نے چوہدری برادران کو پھر سے اسی جگہ لاکھڑا کیا ہے جہاں وہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی شہادت سے پہلے کھڑے تھے بلکہ اب ان کے تیور یہ بتا رہے ہیں کہ وہ اس سے بھی آگے جائیں گے۔ ایک واقعہ تو کل ہی پیش آگیا ہے کہ محترمہ عاصمہ جہانگیر کی بیٹیوں کوکچھ دیر کے لئے مونس الٰہی کے ورکرز نے اغواء کئے رکھا اور خود عاصمہ جہانگیرصاحبہ کوبھی ان کے غصے کا شکار ہونا پڑا۔ مونس الٰہی کے آنے کے بعد ا ن کی خلاصی ہوئی چوہدری برادران توپنجاب کے روائتی تحمل، بردباری اور فراخ دلی کا عملی نمونہ خود پیش کرتے رہے ہیں اور میں سمجھتا ہوں۔ اب بھی وہ اپنی مقبولیت کو اسی روائتی انسان دوستی کے کلچر سے مضبوط بنا سکتے ہیں۔ اپنے سندھی بھائیوں کے غصے کوبرداشت کرلیں کہ یہ ملک کی سلامتی کے لئے بہت ضروری ہے۔ آخری مشورہ چوہدری صاحبان کے لئے یہ ہے کہ خدارا! وہ ارباب غلام رحیم کے بیانات کی روشنی میں اپنی مہم نہ چلائیں کہ ارباب صاحب کا مقامی معاملہ کچھ اور ہے اور ان کو ایسی ہی سیاست کرنی ہے پنجاب کو فراخ دلی کے کلچر سے دل جیتے ہیں۔ ہمیشہ یہ ذمہ داری پنجاب پر ہی آجاتی ہے۔ اس لئے منشور پر سیاست کرنی چاہئے نفرت پر نہیں۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|