واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ضیاء الحق کے جرائم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-03-11, 11:38 AM   #1
ضیاء الحق کے جرائم
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 29-03-11, 11:38 AM

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ جنوبی پنجاب کے علاقہ حاصل پور میں 2 دین دار، انتہائی نیک اور شریف شہریوں کو مقامی مذہبی جنونیوں نے شہید کروا ڈالا۔ واقعہ کچھ یوں ہوا کہ شہید ہونے والے لوگوں کے مخالفین نے انہیں اخبارات اور ردی کے کاغذات جلاتا دیکھ لیا اور پھر شور مچا دیا کہ یہ لوگ قرآن جلا رہے ہیں۔ پھر کیا تھا… لوگ مشتعل ہو گئے کہ قرآن کی بے حرمتی… اور ہم برداشت کر لیں… کسی نے نہ آئو دیکھا نہ تائو… نہ کسی نے یہ پوچھنا یا دیکھنا گوارا کیا کہ جلنے والے قرآن یا اوراق کہاں ہیں جس وجہ سے ہم دو انسانوں کی جان لینے لگے ہیں۔ اس کا کچھ ثبوت بھی تو ہونا چاہئے لیکن انہیں کسی بھی چیز کی پروا کئے بغیر بازاروں میں گھسیٹا گیا، کپڑے پھاڑے گئے، پتھر مارے گئے، سر اور جسم کچلے گئے۔ قرآن جلانے کی محض افواہ پر دو دین داروں، نیکی کے پرستاروں کو شہید کرنے والوں میں بھاری اکثریت ان کی تھی جن کے چہرے محمدی نہیں بلکہ انگریزی یعنی داڑھی منڈے تھے۔ ان کی بھاری اکثریت نماز کے قریب بھی نہ پھٹکتی تھی۔ قرآن سمجھنا تو کجا انہیں قرآن پڑھنا تک نہ آتا تھا اور شاید بے شمار نے تو کبھی قرآن کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو گا لیکن دو معصوم اور نہتے بے بس و بے کس مسلمان ان کے ہتھے چڑھ گئے تو انہوں نے یہیں سے جنت ’’پکی‘‘ کرنے کا سوچ لیا اور پھر وہ کر گزرے کہ جس سے جنت نہیں جہنم ہی پکی ہو سکتی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں گزشتہ دنوں ایک بڑے مذہی رہنما کے ضیاء الحق کے خلاف بیان پڑھ کر یاد آیا جنہوں نے کہا کہ قوم ہمیں ضیاء الحق کا ساتھ دینے پر معاف کر دے۔ ضیاء الحق کی حیثیت بھی تقریباً حاصل پور کے انہی 2 شہداء جیسی ہے جن پر لوگ چڑھ دوڑے تھے کیونکہ اس وقت ہمارے ہاں جمہوریت کی دیوی کی پوجا کی جا رہی ہے اور ہر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اسے جمہوریت کو پوج کر اقتدار مل سکتا ہے۔ جمہوریت سے وفاداری اور وفا شعاری کا پہلا سرٹیفکیٹ اس وقت ملتا ہے جب ضیاء الحق کی مخالفت کھلے بندوں اور ننگے لفظوں سے کی جائے، حالانکہ جو لوگ اسلام کا نام لے کر سیاست چمکانا چاہتے ہیں اور اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں، انہیں یقینا یہ پتہ ہے کہ اس راستے سے اسلام کبھی غالب آیا ہے اور نہ آئے گا کیونکہ جو راستہ ہی غلط ہو اس کی منزل کیسے صحیح ہو سکتی ہے۔
1992ء کا سال ہر کسی کو یاد ہے جب الجزائر کی مسلم تحریک نے 2 تہائی سے بھی کہیں زیادہ ووٹ لے کر جمہوریت کے عالمی رائج نظام کے ذریعے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اسے حکومت نہ دی گئی اور پھر ان لوگوں کا قتل عام شروع کر دیا گیا جو اسلام چاہتے تھے، 18سال سے نافذ ا یمر جنسی گزشتہ دنوں ہی ختم کی گئی ہے۔ اس دوران دسیوں ہزار مسلمان قتل ہو گئے لیکن افغانستان، عراق اور دیگر خطوں کے لاکھوں مسلمانوں کو شہید کرنے والے امریکہ کو یہ سب کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ یہی کچھ 2007ء میں غزہ میں ہوا، جہاں حماس نے انتخابات جیتے تو 16 لاکھ فلسطینی دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں بند کر دیئے گئے، جو اب بھی وہیں سسک سسک کر مر رہے ہیں لیکن ساری دنیا تماشائی ہے اور جمہوریت کے چمپئن یہاں سب کچھ بھول چکے ہیں۔ یہی حال ترکی میں نجم الدین کے ساتھ ہوا حالانکہ اربکان تو معمولی سے ہی دین دار تھے لیکن جمہوریت کے پجاریوں کو پھر بھی سمجھ نہ آئے تو کیا کریں۔ ضیاء الحق کی مخالفت اور اس سے لاتعلقی ظاہر کرنے والے آخر کسے خوش کرنا اور کس کی رضا مندی چاہتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کے جواب کی تلاش کی ضرورت نہیں، بس تھوڑا سا غور کیجئے…
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہوریت کا بت بنانے والوں کی خوشنودی چاہنے والے خود بھی اس قدر مجبور ہیں کہ ان کی سیاست ضیاء الحق کے اٹھائے گئے اقدامات کی حفاظت کئے بغیر چلتی بھی نہیں۔ تحفظ حقوق نسواں ایکٹ آیا، وہ کس کے خلاف تھا، وہ کیوں لایا گیا،سب واضح تھا کہ ضیاء الحق نے حدود آرڈیننس کے تحت شرعی سزائیں نافذ العمل کی تھیں جو مغرب کو اسی روز سے کھٹکتی تھیں جسے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ختم کیا گیا تو وہ بھی جمہوری نظام کے ذریعے کسی حد تک ضیاء الحق نے روس کے خلاف علم جہاد بلند کیا ، پاکستان کو بچایا…سرخے کہا کرتے تھے کہ بس جناب یہ سردیاں گزر جانے دیں، روس کو پھر کون روکے گا یہ تو دوچار دن کا کھیل ہے پھر ہم ہوں گے یا پھر وہ… ہر طرف سرخ ہی سرخ ہو گا لیکن 10 سردیاں گزریں، ضیاء الحق کی عقل و خرد نے سرخ کو سبز میں بدل دیا، جس طرح آج امریکہ تیونس، مصر لیبیا، شام، یمن، الجزائر اور مراکش کے بدترین اسلام دشمن حکمرانوں کا کل تک پشت پناہ تھا، اسے کوئی جمہوریت یا جمہوری اصول اور سبق یاد نہ تھے اور اب جبکہ وہاں کے عوام جان کی بازی لگا کر ان سے نجات حاصل کر رہے ہیں تو امریکہ منافقت کی نئی چادر اوڑھ کر عوام کا حمایتی بن گیا ہے۔ حسنی مبارک کا مخالف، قذافی کا دشمن بلکہ اس پر حملہ آور… 23 سال، 30 سال اور 41 سال تک امریکہ کہاں تھا…؟
یہی کچھ اس وقت ہوا تھا جب افغانیوں نے روس کو شکست دیدی تو وہ بھی میدان میں آج کی طرح اتر آیا کہ ’’نمبر بنا لوں‘‘اور پھر اس نے خوب نمبر بنائے بلکہ کئی ایک کے دل و دماغ میں ایسا گھسا کہ انہیں روس کی شکست ہی آج تک امریکہ کی مرہون منت نظر آتی ہے… آج کے یہ ضیاء الحق کے مخالف اس وقت اس ’’مجرم‘‘ کے حامی تھے بلکہ اس نظریے کے تو اب بھی حامی ہیں… ذرا مزید آگے چلتے ہیں۔
ضیاء الحق کو دنیا سے گزرے ساڑھے 22 برس ہو گئے، جمہوریت کے ذریعے اسلام لانے کے علمبردار اور دعویدار بتا دیں کہ ضیاء الحق تو چلا گیا لیکن اس کے بعد ملک کتنا اسلام کے قریب ہوا… اور کتنا دور… آخر جناب بات تو اسلام کی ہے… تو پھر بتا دیں، ہم تو اتنا ہی پوچھیں گے، یہ جو توہین رسالت پر سزائے موت کا قانون ہے جس پر آج کے دین دار جمہوریت نوازوں کی زندگی کی ڈوریں قائم ہیں جناب یہ کب آیا تھا کون لایا تھا، جمہوریت کے قانون اور فارمولے کے مطابق تو ملک کی بھاری اکثریتی فقہ کچھ اور ہی کہتی ہے۔ کسے مان رہے ہیں اور کیوں مان رہے ہیں… کچھ دن گزرے، کسی ٹی وی پر ’’بیچ راستے‘‘ کے بیٹھے کچھ لوگ تبصرہ کر رہے تھے اور ایک دانشور کہہ رہا تھا کہ ضیاء الحق نے جو کیا وہ تو شاید تاریخ میں کبھی ختم نہ ہو سکے گا۔ جناب سوچیے! کہ ضیاء الحق نے ایسا کیا کیا تھا کہ جوان سب کے گلے کی ہڈی ہے اور سب اس کو نگل جانا چاہتے ہیں لیکن نگل نہیں پا رہے ہیں کیونکہ جو ضیاء الحق نے کیا وہ دیکھنے میں شاید آپ کو کچھ اور نظر آئے لیکن اصل میں وہ ہے جسے جتنا دبائو وہ اتنا ہی ابھرتا ہے… آخر میں یہ بھی سنتے جایئے، کہ دنیا کی تاریخ میں کہیں سے بھی جمہوریت کے ذریعے اسلام کے غلبے یا شریعت کے قیام کی معمولی مثال نہیں دی جا سکتی لیکن جہاد کے ذریعے اس کی مثال ہر دور اور ہر زمانے میں دی جا سکتی ہے، زیادہ دور کیوں جائیں، دنیا میں اس وقت صرف ایک ملک میں کسی حد تک شریعت اسلامیہ قائم ہے جسے سعودی عرب کہا جاتا ہے۔ لیکن ذرا سوچیے کہ یہاں شریعت کیسے آئی؟ جمہوریت کے ذریعے یا جہاد کے ذریعے، افغانستان میں طالبان نے اگرچہ چند سال ہی حکومت اور شریعت قائم کی لیکن کیا وہ جمہوریت کا کرشمہ تھی یا جہاد کا… آج کے دور میں صومالیہ کے بڑے حصے پر ایک بار پھر شریعت قائم ہے حدود کے قانون اور سزائیں جاری، ذرا بتایئے تو… کیا یہ الیکشن لڑ کر ہوا یا بندوق اٹھا کر تو پھر حقائق سے آنکھیں نہ چرایئے… اور یاد رکھیے جس چیز کو کافر ہمارے لئے پسند کریں وہ کبھی ہمارے فائدے کی ہو سکتی ہی نہیںاور جمہوریت کن کا نعرہ ہے۔ کن کی پسند بھی بتانے کی ضرورت ہے۔

بشکریہ۔۔۔۔ہفت روزہ جرار
والسلام ۔۔ علی اوڈراجپوت
ali aodrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

Last edited by ALI-OAD; 29-03-11 at 10:35 PM..

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 315
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-03-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (29-03-11), عبداللہ آدم (29-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 11:48 AM   #2
ذیلی ناظم

 
عدنان دانی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: متحدہ عرب امارات
عمر: 22
مراسلات: 6,348
کمائي: 154,199
شکریہ: 4,887
4,397 مراسلہ میں 11,052 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دیجیٹل صاحب جواب دے ؟
عدنان دانی آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عدنان دانی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-03-11), حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 12:28 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
علی بھائی بہت خوب شیئرنگ ہے۔ واقعتا ایک بڑی اکثریت جمہوریت کی دیوی کی رضامندی کو ہی تمام آلام و مصائب سے نجات کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے اور اسی کے لئے ہمہ تن و ہمہ وقت کوشاں ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ رائج جمہوری نظام کبھی بھی خوشحالی اور بہتری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

علی بھائی تحریر کا رنگ سرخ کے بجائے سیاہ ہی رہنے دیا کریں ۔۔ سرخ رنگ آنکھوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ شکریہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-03-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (29-03-11), عبداللہ آدم (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 03:12 PM   #4
Senior Member
 
abdulrehman303's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: لاہور
مراسلات: 274
کمائي: 4,210
شکریہ: 353
170 مراسلہ میں 422 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ضیاالحق شہد تیری عظمت کو دل کی گہرئیوں سے سلام
اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے امٰین اور ہم کو آپ جیسا جرنیل
__________________
http://urduyahoo.blogspot.com/
لگتا ہے اپنی الجھنیں اور بڑھ جائیگی
آج ہمیں پھر کسی کی سادگی اچھی لگی
abdulrehman303 آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے abdulrehman303 کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (30-03-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (29-03-11), راجہ اکرام (29-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 03:31 PM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : abdulrehman303 مراسلہ دیکھیں
ضیاالحق شہد تیری عظمت کو دل کی گہرئیوں سے سلام
اللہ آپ کو جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے امٰین اور ہم کو آپ جیسا جرنیل
آمین ثم آمین یا رب العالمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
abdulrehman303 (29-03-11), dxbgraphics (30-03-11), حیدر (29-03-11), عبداللہ حیدر (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 10:40 PM   #6
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
علی بھائی بہت خوب شیئرنگ ہے۔ واقعتا ایک بڑی اکثریت جمہوریت کی دیوی کی رضامندی کو ہی تمام آلام و مصائب سے نجات کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے اور اسی کے لئے ہمہ تن و ہمہ وقت کوشاں ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ رائج جمہوری نظام کبھی بھی خوشحالی اور بہتری کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

علی بھائی تحریر کا رنگ سرخ کے بجائے سیاہ ہی رہنے دیا کریں ۔۔ سرخ رنگ آنکھوں کے لئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ شکریہ
جی اکرام بھائی آپ کی خوائش پر ہممم نے کلر تبدیل کردیا
خوش رہو
۔
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
حیدر (29-03-11), راجہ اکرام (30-03-11), عبداللہ آدم (29-03-11)
پرانا 29-03-11, 11:05 PM   #7
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اپنا رنگ بھی تو سرخ ہے پیر ساب!!!

اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی؟؟؟
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
abdulrehman303 (30-03-11), نورالدین (29-03-11), حیدر (29-03-11)
پرانا 30-03-11, 08:56 AM   #8
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
اپنا رنگ بھی تو سرخ ہے پیر ساب!!!

اس کی کوئی تکلیف نہیں ہوتی؟؟؟
ہُن دسو ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-03-11, 10:40 AM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے اپنی نہیں آپ کی تکلیف کی فکر ہے مرید صاحب
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 30-03-11, 06:06 PM   #10
Senior Member
 
abdulrehman303's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: لاہور
مراسلات: 274
کمائي: 4,210
شکریہ: 353
170 مراسلہ میں 422 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ لوگ کس لڑائی میں پر گے صرف ایک بات یاد رکھے کہ ہم خود کو ضیاالحق جیسا بنایئں جو ملک و قوم کا وفا دار ہو
abdulrehman303 آف لائن ہے   Reply With Quote
abdulrehman303 کا شکریہ ادا کیا گیا
ALI-OAD (02-04-11)
جواب

Tags
پاکستان, پسند, نماز, نظر, موت, امریکہ, اسلام, تلاش, جیل, جواب, حماس, خوش, خلاف, داڑھی, روزہ, راستہ, زندگی, سیاست, سال, شور, طالبان, عقل, علی, غزہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:05 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger