واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


طلب تصدیق ,,,,نیر ندیم

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-12-07, 08:15 AM   #1
طلب تصدیق ,,,,نیر ندیم
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 19-12-07, 08:15 AM

طلب تصدیق ,,,,نیر ندیم



یہ کالم عمومی طور پر ان حضرات کے لئے ہے جو کراچی میں مستقلاً رہائش پذیر ہیں خواتین اس سے مستثنیٰ ہیں ان کے لئے اس کالم کی حیثیت محض تجدید نصاب کی حد تک ہے اسے انگریزی میں ریفریشر کورس کہا جاتا ہے۔ اہل کراچی اسے سرسری طور سے پڑھ کر سر ہلا سکتے ہیں جسے تصدیق قرار دیا جائے گا۔ وہ لوگ جو تفریحاً کراچی آئے ہیں یا آنا چاہتے ہیں ان کے لئے اس کالم کو جستہ جستہ اور حاضر دماغی سے پڑھنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ کسی تقریب میں آنے والے بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ وہ حضرات جو اس شہر میں مستقل طور پر آباد ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ اسے کسی بابائے کامل اور پیر چارہ گر کا تعویذ سمجھیں۔ شہر میں گرمی کے سبب کھڑکیوں کا رواج بہت زوروں پر ہے۔ فلیٹوں میں بالکونیاں بھی ہوتی ہیں۔ کھڑکیوں اور بالکونیوں کا استعمال اس شہر کے رہنے والے سب سے بہتر جانتے ہیں۔ گھر کا کوڑا کرکٹ، پھلوں کے چھلکے، سالن کی بچی کچی ہڈیاں اور اس نوعیت کی دیگر اشیاء گلی اور سڑک سے گزرنے والوں پر انہی ذرائع سے پھینکی جا سکتی ہں مجروحین بے بسی سے کھڑکیوں اور بالکونیوں کو دیکھ سکتے ہیں کسی کو مجرم نہیں ٹھہرا سکتے۔ اس قسم کے واقعات شہر کے ہر حصے میں ہوتے ہیں ان واقعات سے اہل شہر کے مہذب ہونے کا ثبوت ملتا ہے کیونکہ شخص مجروح سے دیگر راہ گیر اظہار ہمدردی ضرور کرتے ہیں اس موقع پر انہیں قہقہوں پر بھی قابو رکھنا ہوتا ہے۔ بعد میں ہنستے ہوں گے گھر جا کر لوٹ پوٹ ہو جاتے ہوں گے۔ وہ لوگ جو بازاروں اور چوراہوں پر یا چلتے پھرتے کھانے کے عادی ہیں۔ انہیں پھلوں کے چھلکے سڑک اور فٹ پاتھ پر پھینکنے کی عادت ڈالنا چاہئے بلکہ بچوں کو بھی اس کی تربیت دینا چاہئے۔ کاغذ کی تھیلی سے پکوڑے کھائے۔ تھیلی سے ہاتھ پونچھے اسے مروڑا اور ایک طرف اچھال دیا۔ اسے ایک فن کا درجہ حاصل ہے کسی کو اندازہ نہ ہو کہ یہ حرکت کس نے کی ہے۔ ہمارے ایک دوست تھے ان کی عادت تھی کہ وہ خواہ گھر پر ہوں یا دعوت میں اپنی پلیٹ کی ہڈی کو اٹھا کر پیچھے کی جانب اچھال دیتے تھے۔ یہ ہڈی کا مقدر کہ وہ کس کی ناک کو ہدف بناتی ہے یا کسی کے سر پر جا ٹھمکتی ہے۔ دریا کو تو بس اپنی اٹھکیلیوں سے کام ہوتا ہے۔ ان کا حال گھر میں کیا ہوتا تھا مگر کئی بار ان کے گریبان کے ساتھ ساتھ جرم معیت میں ہمارا گریبان بھی تار تار ہوا ہے۔ ان کے اور ہمارے گریبان پر ہاتھ ڈالتے افراد یقیناً غیرمہذب اور غیرتربیت یافتہ تھے۔ کم فہموں میں تحمل اور برداشت کے ساتھ ساتھ عفو و درگزر جیسے اخلاقی اصولوں کا بھی گزر نہیں تھا۔ ماں باپ نے انہیں تمیز ہی نہیں سکھائی تھی۔ خیر ہم نے انہیں معاف کر دیا۔ موقع پر بھی معافی مانگ کر جان بچائی تھی۔ کراچی میں ایک روایت تجاوزات قائم کرنا ہے۔ اس قسم کے اقدامات سے اثر و رسوخ، صاحبان اقتدار سے مراسم اور سیاسی طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ اگر شہر کے کسی گوشے میں تجاوزات کا مظاہرہ دیکھیں تو وہاں موجود غریب دکان داروں اور بے گھروں کو قبضہ کرتے ہوئے دیکھ کر گمان میں نہ پڑیں کہیں دور پرے کوئی آہنی ہاتھ ہوگا جس پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہوگا۔ تجاوزات کا عالم یہ ہے کہ کراچی کے ایک معروف علاقے صدر میں ہر وقت اور ہر روز فٹ پاتھوں، سڑکوں اور آس پاس کی ذیلی گلیوں میں پتھارے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اتوار کے دن شہر کے بعض علاقوں میں پرندوں، پالتو جانوروں اور مویشیوں کے بازار لگ جاتے ہیں جن میں بلی سے لے کر گھوڑے تک خریدے جا سکتے ہیں۔ یہاں کبوتر کی ہرنسل مل جاتی ہے۔ مرغ اصل مل جاتے ہیں۔ پانچ سال قبل ایک پنجرے میں شیر بھی موجود تھا مگر وہ برائے فروخت نہیں تھا ایک سیاسی جماعت کا انتخابی نشان تھا برائے شہرت عام لایاگیا تھا وہ شیر اب بھی کسی چڑیا گھر میں ہوگا مگر شیر کے نشان والے بڑی مشکل سے واپس آئے ہیں۔ تجاوزات کا سلسلہ بھی خوب ہے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا جس طرح اہل ایمان صورت خورشید جیتے ہیں ادھر ڈوبتے ہیں تو ادھر نکل آتے ہیں یہی عالم تجاوزات کا ہے۔ اس میں بعض سرکاری ادارے بھی حصہ لیتے ہیں کچھ سرکاری ادارے تجاوزات کے خاتمے میں مصروف ہیں تو بعض سرکاری ادارے قیام تجاوزات کے نیک کام میں مصروف رہتے ہیں۔ گلشن اقبال کے ایک معروف چوراہے پر واقع ایک معروف اور معزز ادارے نے پہلے تو سروس روڈ کو خاردار تار لگا کر بند کر دیا ہے اس پر بھی حق تجاوزات ادا نہیں ہوا تو فٹ پاتھ پر بڑے بڑے گملے رکھ دیئے ہیں تاکہ راہ گیر عین سڑک پر ٹریفک کے ہمراہ چلیں ہماری نیپا والوں سے (اب کوئی نیا نام مل گیا ہے) گزارش ہے کہ وہ جلد از جلد سامنے سے گزرنے والی دو رویہ سڑک میں سے ایک پر قبضہ کر لیں یا ہمیں اجازت بطور حکم دے دیں۔ آپ میں سے اگر کوئی صاحب سگریٹ نوش ہیں تو ایک بات تو طے ہوتی ہے کہ آپ کی طبیعت میں ضد کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے آپ اپنی ذات کی طرف سے بے پروا نہیں بلکہ لاپروا ہیں بھلا ہر طرف سگریٹ نوشی کے خلاف مہم جاری ہو، پبلک مقامات پر سگریٹ پینے کو بداخلاقی تصور کیا جاتا ہو، سگریٹ کے ہر پیکٹ پر اس کے مضر صحت ہونے کا اعلان لکھا ہوا ہو اور پھر بھی اس کی طلب ہو تو وہ تبصرہ کیا جا سکتا ہے جو ابھی ابھی ہمارے قلم نے ادا کیا ہے۔ بہرحال سگریٹ نوش حضرات کیلئے اس شوق سے عہدہ برا ہونے کے لئے جائے پناہ بتائی جا سکتی ہے۔ پہلے ممنوعات کا ذکر کر دیتے ہیں راستے میں سگریٹ نہ پی جائے۔ ہوا کی وجہ سے اس کی میعاد کم ہو جاتی ہے دوچار کش میں سگریٹ دھویں اور راکھ میں تبدیل ہو کر الوداع کہہ دیتی ہے اس کے لئے بس اسٹاپس بھی مناسب نہیں ہیں صحیح اور صائب طریقہ یہ ہے کہ مسافر بس یا منی بس کا انتظار کیجئے جب آپ اس میں بزعم خود آرام سے کھڑے ہو جائیں یا بیٹھ جائیں تو سگریٹ نکالئے اتنے ہی آرام سے اسے سلگایئے آس پاس والوں کی زحمت پر توجہ نہ دیجئے۔ بس اور منی بس کے مالکان کی جانب سے پہلے ہی اذیت دینے کے بہت سے طریقوں پر عمل ہو رہا ہے آپ کی ایک زحمت طرازی سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ آپ خود ملاحظہ کریں گے کہ آپ کی پیروی کرتے ہوئے بعض دیگر جیبوں سے سگریٹ کے پیکٹ باہر نکلیں گے۔ کنڈیکٹر کی ذمہ داری اس قسم کے امور میں مداخلت ہرگز ہرگز ممکن نہیں ہے۔ بس مالکان اور ان کی یونین کو بہت سی سرکاری پالیسیوں سے عادتاً اختلاف کی عادت ہے سگریٹ نوشی کا معاملہ بھی اسی زمرے میں آتا ہے کیونکہ حکومت چاہتی ہے کہ مسافر بسوں میں سگریٹ نوشی نہ ہو اس لئے بس مالکان کی یونین اس معاملے میں چپ چاپ ہے اس کے اپنے ملازم کنڈیکٹر اس عمل خیر میں شریک رہتے ہیں۔ جو لوگ سگریٹ نوش نہیں ہیں وہ جس قدر چاہیں جزبز ہوں مگر مسافر بسوں میں سگریٹ کا دھواں، گانے کے کیسٹ، کرائے پر قضیئے جاری رہیں گے۔ حکومت قوانین بنائے گی، لوگ انہیں توڑتے رہیں گے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی دھویں کے مرغولے اڑیں گے تو مسافر بسوں کا کیا قصور ہے۔ یہ بھی تو متحرک اسمبلیاں ہیں۔ کراچی کی مسافر بسوں میں مسافروں کو زحمت فراہم کرنے کے لئے سارے لوازمات موجود ہوتے ہیں۔ غیرآرام دہ نشستیں، ٹوٹا ہوا فرش، بوسیدہ کھڑکیاں اور شورمچاتے کنڈیکٹر یہ شورساز افراد جب بس اسٹاپ پر حضرات کو دیکھتے ہیں تو ان کے دل پسیج جاتے ہیں یہ انہیں فوراً خواتین کے لئے مخصوص کمپارٹمنٹ فراہم کر دیتے ہیں۔ خدا بھلا کرے ایک محترم افسر جناب اقبال رضوی کا جن کے احکامات کی روشنی میں مردوں اور خواتین کے درمیان جنگلے لگائے گئے تھے وہ جنگلے آثار قدیمہ کی شکل میں بسوں میں موجود ہیں وہ مردوں کی آمدورفت میں کوئی مزاحمت کرنے سے قاصر ہیں۔ اب تو بات اور آگے بڑھ گئی ہے ان پر مردوں کا قبضہ بطور فیشن رائج ہو گیا ہے۔ وہ تمام خواتین، کالجوں کی طالبات اور دیگر متعلقہ عورتیں جو اخبارات میں مسافر بسوں میں خواتین کی نشستوں پر مردوں کے قبضے کے خلاف لکھتی رہتی ہیں ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع نہ کریں۔ اس مشورے کو پس منظر میں ہماری اپنی ذاتی گناہ گار سماعت بین ثبوت ہے۔ ابھی حال ہی میں کراچی کی ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کے لئے ہیلمٹ کی پابندی پر عملدرآمد کی مہم شروع کی۔ ایک جگہ ایک نوجوان پولیس افسر سے معذرت کر رہا تھا بس ایک مہلت کا خواہش مند تھا۔ اسے جواب ملا کہ مہلت ممکن نہیں ہے کیونکہ اوپر سے ہدایت ملی ہے۔ یہ جو مسافر بسوں میں خواتین کمپارٹمنٹ پر مردوں کا قبضہ ہے اس کے لئے بھی ٹریفک ڈپارٹمنٹ کو اوپر سے ہدایت ملی ہوگی ورنہ دن دہاڑے اور ہر مصروف وقت میں مرد حضرات کس کو نظر نہیں آتے۔ اس میں کوئی گہری سازش ہے یقیناً ملازمت پر جانے والی خواتین، اسکول کالج جانے والی طالبات اور بچوں کو اسکول پہنچانے والی خواتین کب تک یہ پریشانیاں برداشت کریں گی۔ دو تین سال میں دیکھئے گا کہ خواتین گھروں میں بند ہوں گی۔ مردوں کے لئے ملازمت کے مزید دروازے کھل جائیں گے۔ طالبات حصول علم کی جگہ گھروں پر کھانا پکانے کی تربیت حاصل کریں گے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو ملک کی آخری متحرک خاتون شمار ہوں گی۔ ان کا ذکر کتابوں میں اقبال کی زبان میں # ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی، کے حوالے سے ہوگا۔ابھی ابھی ہمیں خیال آیا کہ ہم نے بے خیالی میں ایک بامقصد کالم لکھ دیا ہے آپ سب سے تصدیق کے طالب ہیں۔

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 236
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (20-12-07)
جواب

Tags
فن, فروخت, کتابوں, کراچی, گمان, گانے, ٹریفک, پولیس, واقعات, لوگ, موٹر سائیکل, ممکن, ماں, معذرت, ایمان, بے نظیر, بچوں, جواب, حکم, حال, خواتین, خلاف, خدا, دوست, صحت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مختصر تاریخ اسلام آباد گلاب خان اپکے کالم 0 19-02-11 06:04 AM
کفر و شرک کی ابتداء کی مختصر تاریخ sahj کفروشرک 2 01-01-10 11:44 PM
حج پر ایک مختصر نظر چاچا کمال عمرہ و حج 2 04-12-08 08:43 PM
مختصر مختصر---یورب سے مسٹر گرزلی خبریں 0 22-06-08 03:17 PM
غمِ مختصر میاں شاہد ذاکر دہلوی 0 22-04-08 11:04 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger