واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


عافیہ! تو آبروئے ملتِ مرحوم ہے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-10-10, 10:25 PM   #1
عافیہ! تو آبروئے ملتِ مرحوم ہے
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 09-10-10, 10:25 PM

عافیہ! تو آبروئے ملتِ مرحوم ہے
86برس سزا پانے والی سائنس دان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی کہانی
عبدالہادی احمد
[جنرل مشرف نے ڈاکٹر عافیہ کو امریکا کے حوالے کیوں کیا۔ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکی شہری تھیں۔امریکاانہیں پاکستانی شہری گردانتا ہے ۔ یہ مضمون میں نے مسلسل37 گھنٹے لکھ کراسی مخمصے کودور کرنے کی کوشش ہے۔ یہ مشکل کام میں نے ایک مقدس فرض جان کرکیاہے،تاکہ دوسروں کو بھی اس موضوع پر لکھنے کی تحریک ملے اورہرپاکستانی یہ محسوس کرے کہ86 برس کی سزا صرف ڈاکٹر عافیہ کونہیں،ہر پاکستانی کو دی گئی ہے۔یہ مضمون یہی احساس آپ سب کے ساتھ شیئر کرنے کی ایک ابتدائی کوشش ہے۔اللہ کرے ہمارے لکھنے والے زیادہ سے زیادہ اس موضوع پر اظہارِ خیال کریں،تاکہ ہماری سوئی ہوئی قومی غیرت بیدار ہو ]
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کمرئہ عدالت میں انصاف کا خون کرتے اور ڈاکٹر عافیہ کو86سال قید کی سزا سناتے ہوئے امریکی جج رچرڈ برمن کا لہجہ غصے سے کانپ رہا تھااور سیکورٹی کے اہل کار سخت خوف زدہ تھے؛ جبکہ عافیہ صدیقی پورا وقت پراعتماد اور مطمئن نظر آئیں۔ امریکی عدالت نے عافیہ کو یہ سزا ایک ایسے مقدمے میں سنائی جس میں فرد جرم عاید کرنے سے لے کرفیصلے تک پوری کارروائی تضادات سے لبریز تھی۔جہاں گواہوں کے نام اوران کی گواہیاں تک جھوٹی تھیں۔۔۔اسی لیے ملزم اور صفائی کے وکیلوں سے چھپائی گئیں۔ اس مقدمے کی کارروائی اور فیصلے کی بدولت آج امریکی بھی کہہ رہے ہیں کہ اسلام اور مسلمانوں سے نفرت اور انتقام پر مبنی یہ مقدمہ امریکی نظام عدل کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو گا ۔استغاثے کی پوری کہانی بہت بڑاجھوٹ تھی۔کہانی کےمطابق ایک ایسی نحیف و نزار خاتون سے تفتیش کی جارہی تھی جسےمسلح اور تربیت یافتہ امریکی فوجیوں نے گرفتار کررکھا تھا، وہ اچانک ایک امریکی کمانڈو کی رائفل چھین کران پر فائرنگ شروع کردیتی ہے۔آگے چل کرلاکھوں کروڑوں امریکیوںنے اپنی آنکھوں سے اس عورت کو دیکھا جو ہڈیوں کا پنجرا بن چکی تھی،انہیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔اس نے کیسے اتنے مضبوط اور تربیت یافتہ فوجیوں پر فائرنگ کی ہوگی۔پھر یہ کیسی گولیاں تھیں کہ جن سے کوئی امریکی فوجی زخمی نہ ہوا ،نہ ہی ملزمہ کی نام نہاد فائرنگ کا کوئی نشان اس کمرے کی دیواروں پرملا؛ البتہ خود عافیہ ایک امریکی فوجی کی گولی سے زخمی ہوگئیں۔کسی نے بھی الزام لگانے والوںسےیہ نہ پوچھا کہ بمشکل50پونڈ وزن رکھنے والی اورامریکی فوجیوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی ایک دھان پان سی عورت سکورٹی افسرسے رائفل چھین کر کیسے فائرنگ کرسکتی ہے؟ اور فائرنگ بھی ایسی کہ جس سے کوئی زخمی تک نہ ہوا۔اگریہ واقعہ سچ مچ اسی طرح پیش آیا ہوتا، تو ایسے بزدل اورنکمے فوجیوں کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے تھا،جن سے ایک ایسی عورت نے بندوق چھین لی جو برسوں تشدد سہتے سہتےاس حال کو پہنچی ہوئی تھی کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہونے کے قابل بھی نہ تھی۔
امریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے کہا تھا فیصلہ امریکی قانون کے مطابق ہوگا۔اس فیصلے سے ثابت ہو گیا کہ امریکی دنیا کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ ان قانون امریکیوں کے لیے الگ ہے اور مسلمانوں کے لیے الگ۔۔۔حقیقت یہ ڈاکٹر عافیہ86 برس سزائے قید کا اعلان ھونےکے بعدصرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہیں، وہ پورے عالم اسلام بلکہ ساری دنیا کے انصاف پسندوں کا مسئلہ بن گئی ہیں۔ یہ مقدمہ وار آن ٹیرر نہیں، وار آن اسلام ہے۔
ڈاکٹر عافیہ کی رودادِ حیات
مارچ 1972 میں گلشن اقبال کراچی کے ڈاکٹر محمد صدیقی اور محترمہ عصمت صدیقی کے گھر ایک بچی پیدا ہوئی جس کا نام عافیہ رکھا گیا۔ آج دنیا اسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام سے جانتی ہے۔ ابتدائی تعلیم کراچی میں مکمل کرنے کے بعد1990ءمیںاعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے بڑے بھائی کے پاس ٹیکساس امریکہ چلی گئیں اورہوسٹن یونیورسٹی میںد اخلہ لیا۔ ان کا پورا خاندان اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے۔ عافیہ صدیقی کے والد نے بھی برطانیہ میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی، عافیہ تین بہن بھائیوںمیں سب سے چھوٹی ہیں۔ ان کے ایک بھائی امریکہ میں آرکیٹیکٹ ہیں اور بڑی بہن فوزیہ دماغی امراض (نیورولوجی) کی ماہر ہیں اور پہلے نیو یارک میں کام کرتی رہی ہیں۔ ایک سال کے بعد عافیہ امریکہ کے عالمی شہرت یافتہ میساچوسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(MIT ) میں آگئیں جہاں اپنی زندگی کے دس بہترین برس گزارے۔ مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا شوق عافیہ کو برینڈیزلے گیا۔ یہاںانہوں نے نیورو سائنسزکی تعلیم حاصل کی اوریہیں سے نیورو لوجیکل سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ڈاکٹر عافیہ نے ایک انعام یافتہ ایم آئی ٹی کی گریجویٹ خاتون کا اعزاز حاصل کیاتھا اور اب وہ ایک اعلی پائے کی سائنس دان بن چکی تھیں اور معذور بچوں پر تحقیق کر رہی تھیں۔پچاس سےزاید یونیورسٹیوںنےان کواعزازی ڈگریاںدیںجوکسی بھی پاکستانی کےلیےمنفرد اعزازھے۔
1995ءمیںنیوروسائنسز کی تعلیم کے لیے کراچی سے آئے ہوئے ایک ہم خیال اور ہم نظریہ طالب علم محمد امجد خاں سے عافیہ کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعدانہوں نے نیورولوجی میں ریسرچ شروع کی۔ شادی کے چند سال بعد میاں بیوی میں اختلافات رہنے لگے تھے۔ عافیہ کی والدہ کے مطابق شادی کے بعد امجد سے ان کا جھگڑا اس بات پر تھا کہ بچوں کی پرورش امریکہ میں ہو یا پاکستان میں۔ عافیہ بچوں کو امریکہ میں ہی رکھنے کے حق میں تھیں۔ لیکن گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ پہلے ایف بی آئی نے امجد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا۔ امجد خان پر الزام لگا تھاکہ انہوں نے امریکہ میں پیٹرول سٹیشنوں کو دھماکے سے اڑانے کامنصوبہ بنایا تھا۔ ان سے اس پر پوچھ گچھ ہوئی کہ انہوں نے رات میں دیکھنے والی دور بین، زرہ بکتر اور عسکری موضوعات پر کتابیں کیوں خریدی تھیں۔ امجد کا موقف تھا کہ یہ سامان انہوں نے شکار کھیلنے کے لیے خریدا ہے۔ عافیہ سے بھی پوچھ گچھ کی گئی لیکن بعد میں دونوں کو چھوڑ دیا گیا۔ اس کے کچھ دن بعد وہ پاکستان لوٹ گئے کیونکہ ان کے خیال میں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکہ میں پاکستانیوں کے خلاف امتیاز بڑھ رہا تھا۔ 23نومبر 1996ءمیںپہلے بچے احمدکی ولادت ہوئی اور دو سال بعد مریم پیدا ہوئی۔ اسی دوران نائن الیون کاحادثہ ہوا،اس کے ساتھ ہی عافیہ کا دکھوں کا سفربھی شروع ہوگیا۔ نائن الیون کے بعد عافیہ اور امجد کچھ دنوں کے لیے پاکستان آئے لیکن پھر واپس امریکہ چلے گئے۔ کچھ عرصے بعد وہ دوبارہ پاکستان لوٹے۔3اگست2002ءکو ان کے سب سے چھوٹے بیٹے سلمان کی پیدائش ہوئی۔ سلیمان کے دنیامیں آنے سے پہلے ہی ڈاکٹر عافیہ کو طلاق ہوگئی تاکہ آگ اورخون کے دریا وہ اکیلی ہی عبور کریں۔ اس وقت عافیہ کے یہاں تیسرے بچے کی پیدائش ہونے والی تھی۔ بچے کی ولادت کے تھوڑے ہی دن بعدڈاکٹر عافیہ اچانک غائب ہو گئیں۔
کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ امریکا میں ہی تھیں کہ ایف بی آئی کی لسٹ پر ان کا نام آگیا تھا۔ اس بدنامِ زمانہ ادارے کی فہرست میں آنے کے بعد ان کے لیے امریکا میں سکون سے کام کرنا مشکل ہو گیا۔ اگرچہ امریکیوں کے پاس ان کے بارے میںکوئی ٹھوس شواہد نہ تھے، لیکن نائن الیون کے بعدحالات ایسے تھے کہ سارا کاروبار ہی شکوک وشبہات پر چلایا جا رہا تھا۔ امریکی اورپاکستانی ایجنسیوں نے ان کے بارے میںخاصی تحقیق کی مگر وہ ان کے بارے میں کچھ بھی حاصل نہ کر پائے۔ ان پر یہ مضحکہ خیز الزام عاید کیا گیا کہ وہ مذہب اسلام اور خاص کر جہاد کی تعلیم حاصل کرتی رہی ہیں۔ اس لیے وہ یقیناً القاعدہ سے متعلق ہو گئی تھیں، اس بنا پرانہیں خطرناک دہشت گرد قرار دیا گیا۔القاعدہ کے ساتھ وابستہ کرنے کے لیے ڈاکٹر عافیہ پر یہ الزام بھی عاید کیا گیا کہ انہوں نے خالد شیخ محمد کے عزیز عمار علی بلوچی سے شادی کر رکھی ہے۔بعد میں ان کے مقدمے کے دوران کوئی شواہد نہ ہونے کی بنا پرپورے مقدمے میںالقاعدہ سے ان کے تعلق کا ذکر تک نہ آیا۔ وہ کن حالات میں غائب ہوئیں، اس بارے میں کئی طرح کی کہانیاںمشہور ہوئیں۔ سب سے پہلے امریکی جریدے نیوز ویک میں خبر چھپی کہ عافیہ القاعدہ کے ’سلیپر سیل‘ کا حصہ تھیں۔ 2004ءمیں ایف بی آئی نے کہا کہ پوچھ گچھ کے لیے عافیہ اسے مطلوب ہیں۔ بعد میں کہا گیا کہ القاعدہ کے ایسے گروہ میں شامل تھیں جو لائبیریا سے ہیروں کی سمگلنگ کرتا اور اس آمدنی سے القاعدہ کی مدد کی جاتی ہے۔ نیوز ویک جیسے جریدوں کے مطابق سمگلنگ کا مقصد القاعدہ کے کیمیاوی اور حیاتیاتی اسلحے کے پروگرام کے لیے فنڈز اکھٹا کرنا تھا۔ اس دوران کہیں کہیں یہ بات بھی سنائی دیتی رہی کہ وہ افغانستان میں امریکی قید میں ہیں۔
طلاق کے بعدویسے بھی ڈاکٹر عافیہ کی دکھوں بھری زندگی کی شروعات ہوگئی تھی۔25دسمبر2002ءکو کرسمس کے موقعے پر عافیہ اپنے بچوں کو اپنی ماں کے پاس چھوڑ کر بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ کے پاس ایک بار پھر امریکہ چلی گئیں جو بالٹی مور کے سینائی ہسپتال میں ملازمت کرتی تھیں۔ وہ بچوں کے ساتھ امریکا منتقل ہونے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ ابھی عافیہ اپنے لیے کسی موزوں جاب کی تلاش میں ہی تھیںکہ انہوں نے خود کو نادیدہ خطرے میں گھراہوا محسوس کیا؛ چنانچہ فروری2003ءکووہ پاکستان واپس لوٹ آئیں۔ مارچ 2003میں ہی امریکی ٹی وی چینلز پر عافیہ کی تصاویر مشتہر ہونے لگیں۔ انہیں القاعدہ کا ایک خطرناک رکن ظاہر کیا گیا۔ یہ امریکا میں موجود مسلمانوں کے خلاف سوچی سمجھی امریکی مہم کا حصہ تھا۔ ان ہی دنوں نیوز ویک نے عافیہ کوایک سٹوری میں القاعدہ کے دو اہم ارکان خالد شیخ محمداور علی المیری قطری کے ساتھ منسلک کر دیا۔ خالد شیخ محمد راولپنڈی سے گرفتار ہوگئے تو عافیہ کے حوالے سے بھی بڑی بڑی خبریں آنا شروع ہو گئیں۔
ڈاکٹر عافیہ کی چیخیں
30مارچ 2003ءکو عافیہ نہایت گھبراہٹ کے عالم میں اپنی ماں کے گھر گلشن اقبال کراچی سے نکلیں۔ چھ برس کا بیٹااحمد، چار برس کی مریم اور چھ ماہ کا سلمان ان کے ساتھ تھے۔ عافیہ راولپنڈی جانے کے لیے میٹروکیب ٹیکسی میں سوار ہوکر کراچی ایئر پورٹ روانہ ہوئیں، مگروہ فلائیٹ تک نہ پہنچ سکیں۔ قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا بھیڑیوں نے عافیہ کو اس کے معصوم بچوں کے ساتھ راستے میں ہی د بوچ لیا۔ اس سے اگلے روز وزیر داخلہ فیصل صالح حیات نے ایک پر ہجوم پریس کانفرنس میں عافیہ صدیقی کی گرفتاری کی تصدیق کر دی۔ ان ہی دنوں میں خفیہ ایجنسیوں کے لوگ عافیہ کے گھر جانے لگے اور گھر والوں کو خاموش رہنے کے لیے ڈراتے دھمکاتے رہے۔ عافیہ صدیقی کی والدہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی بیٹی کے غائب ہونے کے بعد ایک شخص موٹرسائیکل پر ان کے گھر آیا اور انہیں دھمکی دی کہ’ ’ اگراپنی بیٹی اورنواسی نواسوںکوزندہ دیکھناچاہتی ہو توخاموش رہو“۔پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ کے خاندان کو مسلسل دھمکایا جا رہا تھا۔ان کو اپنے بارے میں فکر نہ تھی ،لیکن وہ عافیہ کی خاطر زبان بند کیے ہوئے تھے۔ایک ایسے ہی موقعے پر عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی نے کہا کہ بگرام ائیر بیس پر گزشتہ پانچ سالوں کے دوران عافیہ صدیقی پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے ہیں،مگر ان پر کوئی جرم ثابت نہ کیا جاسکا۔ مسلسل تشدد کی وجہ سے ان کی جسمانی اور ذہنی صحت تشویش ناک حد تک خراب ہو گئی ہے۔ ہمیں امریکی عدالت سے انصاف کی امید نہیں ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور دباو¿ ڈالا جارہا ہے کہ ہماری جانب سے اسلام آباد میں دائر کیا جانے والا مقدمہ واپس لے لیا جائے ورنہ مجھے بھی اٹھا کر اسی طرح غائب کر دیا جائے گا۔ فوزیہ صدیقی نے کہا ، مجھے بھی فون اور ایس ایم ایس کے ذریعے دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ اگر ہم نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں زبان بند نہ کی تو ہمارے خاندان کو قتل کر دیا جائے گا۔30دسمبر2003ءکو عافیہ کی بڑی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے اعجاز الحق کے ہمراہ فیصل صالح حیات سے ملاقات کی تو وزیرداخلہ نے یہ کہہ کر تسلی دے دی کہ مجھے یقین ہے کہ عافیہ کو چھوڑ دیا گیا ہو گا۔ آپ خاموش رہو اور اس کے فون کا انتظار کرو، لیکن عافیہ آئیں نہ ان کا فون۔
ڈاکٹر عافیہ اور بردہ فروش مشرف
اس دن جب عافیہ اغواہوئی تھیں پاکستان کے آمرصدرمشرف اور وزیرِ اعظم ظفر اللہ جمالی کی حکومت تھی۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اسی زمانے میں اغوا ہوئیںجب ہزاروں انسانوں کے قاتل،انسان فروش اوربردہ فروش جنرل مشرف پاکستانیوں اور غیر ملکیوں کو فروخت کر کے ڈالر کما رہے تھے۔ مشرف نے اپنی کتاب” ان دی لائن آف فائر“میں اعتراف کیا ہے کہ ان کی حکومت نے سینکڑوں ملزم پیسوں کے عوض یا رضاکارانہ طور پر امریکہ کے حوالے کیے۔ اس زمانے میں وزیرِ داخلہ فیصل صالح حیات تھے۔ کیا صدر،وزیر اعظم اور وزیرِ داخلہ کے علم میں یہ بات نہ تھی کہ ایک پاکستانی خاتون کو (جسے امریکی خفیہ ادارے نامزد کر چکے تھے) کب، کیوں اور کس قانون کے تحت اغوا کیا گیا اور کسی غیر ملک کے حوالے کیا گیا؟ اس روز لیفٹننٹ جنرل احسان الحق ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی تھے۔ کیا آئی ایس آئی کو معلوم نہ ہو سکاکہ ایک پاکستانی شہری کو کوئی ملکی یا غیرملکی ایجنسی یا فرد ٹھوس قانونی جواز کے بغیر اغوا کر کے لے جا رہا ہے؟ عافیہ صدیقی غائب ہوئیں تو سید محب اسد ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے تھے۔ امیگریشن اور پاسپورٹ کنٹرول کی ذمہ داری ایف آئی اے کی ہے۔ ایف آئی اے کے علم میں ہو نا چاہیے تھا کہ کوئی پاکستانی باشندہ جبراً یا جعلی دستاویزات پر غیر قانونی یا خفیہ کوشش کے تحت ملک کی فضائی، زمینی یا بحری حدود سے باہر لے جایا جارہاہے۔ ایسا نہیں تھا،حکام اور ادارے سب جانتے تھے۔ اگلے دن پاکستانی اخبارات میں خبر چھپی تھی کہ القاعدہ سے روابط کے الزام میں ایک عورت کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کی تصدیق پاکستان کی وزارت داخلہ نے کر دی تھی۔ پھر وزیر داخلہ فیصل صالح حیات کے حوالے سے یہ خبر چھپ گئی کہ عافیہ صدیقی کو امریکیوں کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس سے امریکی ڈرامے کا پلان خراب ہونے کا ڈر تھا، اس لیے بعد میں حکومت پاکستان اور امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے صاف انکار کر دیا کہ عافیہ کی گم شدگی سے ہمارا کوئی تعلق نہ تھا۔ اس سب کے بعد اچانک امریکہ نے اعلان کر دیا کہ انہیں افغانستان سے گرفتار کیا گیا ہے۔ اب وہ امریکہ میں ہیں اور انہوں نے افغانستان میں حراست کے دوران امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کی کوشش کی تھی۔
عافیہ صدیقی کے اغوا ہونے کے واقعے سے لے کرامریکیوں کی طرف سے انہیں گرفتار کرنے کے دعوے یااعتراف کے درمیان پانچ برس کی مدت حائل ہے۔ ان پانچ برسوں میں عافیہ کہاں رہیں۔ پاکستان کی بیٹی نے سرزمین وطن سے افغانستان اور وہاں سے امریکا پہنچنے تک ایک طویل سفر کیوں کر طے کیا، اس طویل مدت میں اس پر کیا گزری۔اگر عافیہ دہشت گرد تھی تو کیا اپنے بچوں کو ساتھ لے کر دہشت گردی کرنے ئی تھی؟کوئی سچ مچ کی دہشت گرد ماں بھی اگرکہیں دہشت گردی کرتی ہے تواپنے بچوں کو ساتھ نہیں رکھتی۔ یہ کہانی ابھی ان کہی ہے۔ اگر یوان رڈلے اس بات کا انکشاف نہ کرتیں تو دنیا قیدی نمبر650سے ہمیشہ لا علم ہی رہتی۔ اگر امریکی ڈاکٹر عافیہ کے مجرم ہیں تو وہ پاکستانی کیسے بے گناہ قرار پا سکتے ہیں جنہوں نے ان کے اغوا میں حصہ لیا،ان کو امریکا کے ہاتھ بیچااور انہیں افغانستان پہنچانے میں دلالی کی۔ اس پاکستانی ادارے یا افراد کو کب بے نقاب کیا جائے گا یا ان مکروہ چہروں پر ہمیشہ نقاب پڑی رہے گی؟ سوال یہ ہے کسی فرد یا تنظیم نے کسی مقامی عدالت میں ایسی پٹیشن داخل کیوں نہ کی جس میں ان پاکستانی اداروں اور افراد کے ناموں کے انکشاف اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جاتا جن پر اس پورے ڈرامے میں اہم کردار ادا کرنے کا شبہہ ہے۔
ڈاکٹر عافیہ کا اصل جرم
عافیہ پر لگائے لگائے تمام الزامات بوگس ہیں، سوائے ایک کے ا ور اس سے وہ خود بھی انکارنہیں کرتیں۔ وہ بلاشبہ اسلام پر فخر کرنے والی عملی مسلمان تھیں۔ خصوصاً نائن الیون کے بعدامریکا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جتنی شدت سے پرپیگنڈا کرتا وہ اسی قدر شدت سے اسلام کی محبت سے سرشار ہو جاتیں اور اپنے ایمان و دین کے لیے جان ومال کی قربانی دینے پر آمادہ ہوتی جاتیں۔ ان کاتعلیمی کیریر بھی گواہی دیتا ہے کہ عافیہ ایک مضبوط عقیدے کی باعمل اور داعیانہ صفات رکھنے والی خاتون رہی ہیں۔ کردارو عمل میں ان کا اصول ہمیشہ یہی رہا کہ دوستی اللہ کے لیے اور دشمنی بھی اسی کے واسطے۔ امریکہ میں قیام کے دوران عافیہ نے جنون کی حد تک اسلام کی دعوت کا کام کیا، یہی ان کا جرم ٹھہرا۔ اسی وجہ سے امریکی شروع دن سے اس سے خائف رہنے لگے تھے۔ MITمیں دورانِ تعلیم وہ اپنے کلاس فیلوز میں قرآن اور اسلامی کتب تقسیم کرتی رہتی تھیں۔ انہوںنے وہاں قرآن کے سٹڈی سرکل ترتیب دیے۔ عافیہ نے امریکی جیلوں میں بھی دعوت کا بھرپور کام کیا جہاں وہ قرآن مجید اور دیگر اسلامی لٹریچر تقسیم کرنے جاتی رہیں۔ بوسنیا کی جنگ اور اس میں مسلمانوں کے قتل عام نے عافیہ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ عافیہ نے بوسنیائی عورتوں اور خصوصاً حاملہ بوسنین کے قتل عام پر ایک گرافکس پریزینٹیشن بھی بنائی، جسے وہ اپنے لیپ ٹاپ کمپیوٹر پر لوگوں کو دکھاتی رہتی تھیں۔ عافیہ نے بوسنین یتیم بچوں اور بیواﺅں کے لیے بھرپور فنڈریزنگ کی۔ اس کے لیے وہ باقاعدہ مقامی مسجد میں بھی جاتی تھیں اور وہاں ایک لیکچر بھی دیا۔ دوران خطاب نمازیوں سے پوچھا کہ کسی کے پاس ایک سے زائد بوٹ ہیں؟ تو آدھے نمازیوں نے ہاتھ کھڑے کر دئےے جس پر عافیہ نے ترغیب دلائی کیوں نہ یہ اضافی جوڑا آپ بوسنیا والوں کو دے دیں، تو اس پر نمازیوں اور حتیٰ کہ امام مسجد نے بھی اپنا ایک ایک جوتوں کاجوڑا دے دیا۔
2004ءمیں بوسٹن میگزین میں عافیہ پر ایک مضمون چھپا‘جس میں لکھا گیا کہ عافیہ نے ایک سٹڈی سرکل میں اپنے خیالات کااظہارکچھ اس طرح سے کیاتھا: ”اگر ہم خلوص اور تحمل سے اللہ کے دین کا کام کریں تو کیا عجب یہی امریکا کل کوایک اسلامی ریاست بن جائے“۔ عافیہ نے مقامی مسلم بچوں کے درجنوں گروپ ترتیب د ے رکھے تھے جنہیں وہ باری باری اختتام ِہفتہ قرآنی قاعدہ پڑھانے جایا کرتی تھیں۔ بچوں کو قاعدہ پڑھانا ہی عافیہ کا اصل جرم ٹھہرا اور امریکیوں نے اس قاعدے سے ا ن کو’القاعدہ‘ بنا دیا۔ مجموعی اعتبار سے عافیہ کی زندگی پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔ اپنے عقیدے اور نظریے پر اپنی عائلی زندگی قربان کر دی، امریکا کے پر تعیش ماحول میںاپنا کیریراورمستقبل لٹا دیا، اپنی خوشیاں، اپنے بچے یہاں تک کہ جسم وجاں اور دل ودماغ بھی نثار کر دیا۔86برس کی سزا کا اعلان انہوں نے جس سکون سے سنا اور جو رد عمل ظاہر کیا وہ بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک کمزور ترین جسمانی قوت رکھنے والا مسلمان بھی ایک پوری سپر پاور کو شکست سے دوچار کر سکتا ہے۔
امریکی ڈرامہ کیسے شروع ہوا
2006ءکے تقریباً وسط میں چور مچائے شور کے مصداق امریکی ایف آئی نے ایک ڈرامہ رچایا اور اپنی ویب سائٹ پر عافیہ کی تلاش کااشتہاردے دیا۔ حالانکہ عافیہ کو بہت پہلے اغوا اورقید کرنے کے بعد ایف بی آئی نے اپنے تسلط میں لے رکھا تھااور اب وہ ان کے ظلم کی چکی میں پس رہی تھیں۔ پاکستانی نژاد لارڈ نذیر احمد نے ہاﺅس آف لارڈز انگلینڈ میں ایک احتجاجی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہاکہ بگرام کی ا مریکی جیل میںایک قیدی خاتون ہے جس کا نمبر650ہے۔ اس کے ساتھ امریکی نہایت سفاکانہ مظالم روا رکھے ہوئے ہیں۔ وہ اسے وحشیانہ جسمانی اورجنسی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ جیل میںاسے مردوں کے ساتھ رکھا گیا ہے حتیٰ کہ اسے علاحدہ ٹوائلٹ کی سہولت بھی نہیں دی گئی۔ ظلم وجور کے اس نقارخانے میں طوطی کی آواز کسی نے نہ سنی۔اس سے بہت پہلے فروری2002ءمیں ایک بے گناہ پاکستانی قیدی معظم بیگ کواسلام آباد سے گرفتار کر کے قندھار ،بگرام اور آخر کار گوانتا ناموبے پہنچایا گیا۔ کیوباکی اس جیل سے وہ2005ءمیں رہا ہوا۔ آزادی کے بعدTheEnemy Combatant کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ اپنی کتاب میں انہوں نے قیدی نمبر650کا تذکرہ بھی کیا۔ معظم بیگ نے لکھا کہ بگرام جیل میں ایک قیدی خاتون جس کا نمبر650 ہے، جب امریکی اسے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں تو اس کی دل دوز چیخوں سے پوری بگرام جیل لرز اٹھتی ہیں۔ اس کی کتاب میں یہ معلومات پڑھ کر معروف و مشہور نو مسلم برطانوی صحافی خاتون یو ان ریڈلے نے تحقیق وتفتیش کا آغاز کیا۔ سات جولائی 2008ءکو اسلام آباد میں عمران خان کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے ریڈلے نے انکشاف کیا کہ650نمبر خاتون قیدی ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہی ہیں۔ ریڈلے کے اس دھماکہ خیز انکشاف کے نتیجے میں امریکیوں میں کھلبلی مچ گئی اور وہ بغلیں جھانکنے لگے۔3اگست2008ءکو بی بی سی نے رپورٹ دی کہ ایف بی آئی والوں نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بارے میں ان کے خاندان کی وکیل کو بتایا ہے کہ وہ زندہ ہے مگر زخمی حالت میںاور افغانستان کی جیل میں ہے۔ مگر نہ تو یہ بتایا گیا کہ زخمی کیسے ہوئی، نہ یہ کہ افغانستان کیسے پہنچی اور اس کے مصوم بچے کہاں ہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ یہ معمہ بھی اپنی جگہ موجود تھا کہ ایف بی آئی کی ویب سائٹ پر ڈاکٹر عافیہ کانام ابھی تک مطلوب ترین (Most Wanted)افراد میں درج تھا۔ اگر عافیہ امریکی جیل پہنچ چکی تھیں تو موسٹ وانٹڈ کا کیا مطلب تھا؟ تب امریکیوں نے ایک بہت بڑا اور نہایت ہی جھوٹاڈرامہ رچایا۔
3اگست2008ءکوہوسٹن (ٹیکساس) میںمقیم عافیہ کے بڑے بھائی محمد علی صدیقی کے پاس ایف بی آئی کا ایجنٹ آکر انہیں مطلع کرتا ہے کہ تمہاری بہن عافیہ افغانستان سے پکڑی گئی ہے۔ اس سے اگلے روز امریکی فیڈرل پراسیکیوٹر نے میڈیا کے سامنے ’وضاحت‘ کرتے ہوئے کہا، عافیہ جولائی کے وسط میں افغانستان سے پکڑی گئی ہے۔ کہاں اور کیسے پکڑی گئی؟ اس سلسلے میںجو کہانی گھڑی گئی وہ جھوٹ کے پلندے کے سوا کچھ نہ تھا۔ کہا گیا ،ڈاکٹر عافیہ سترہ جولائی کو مشکوک حالت میں غزنی کے گورنر کے محل کے صحن میںچلتی پائی گئی۔ افغان نیشنل پولیس کے اہل کاروں نے اس کے بیگ سے بارود بنانے کے نوٹس‘ اہم امریکی عمارات کی تصاویر اور دھماکہ خیز دھاتیں برآمد کی ہیں۔ان کے سامان میں امریکہ کی اہم عمارتو ں کے نقشے اور ان کے پرس سے کیمیکل مواد شیشے کی بوتلیں اور مرتبان بھی موجودتھے جن میں خطر ناک بم بنانے کا کیمیکل بھرا ہوا تھا۔(یہ اسی طرح کی امریکی خبر تھی جیسی عراق میں کیمیکل کی موجودگی کی خبرتھی۔ جو کبھی برآمد نہ کیے جاسکے)۔امریکی وضاحت میں یہ بھی کہا گیا،چونکہ ڈاکٹر عافیہ ایک مدت سے امریکی حکومت کو مطلوب تھی؛لہذا گرفتاری کے بعد افغانوں نے انہیں امریکیوں کے سپرد کر دیا تھا ۔امریکیوںنے عافیہ کی کہانی مارچ 30مارچ2003ءکے بجائے اگست2008ءسے اوربگرام کے بجائے غزنی سے شروع کی،لیکن یہ نہ بتایاکہ 30مارچ2003ئءسے3اگست2008تک عافیہ پر کیاگزری؟ان کو کس نے پکڑا اور کہاںسے پکڑا اورچھپا کہاںرکھا تھا،اس پورے عرصے میںان کے بچے کس کے پاس رہے؟امریکیوںنے ان سوالوں کے جواب میںآج بھی اپنے لب بند کررکھے ہیں۔امریکی کہانی کا آغازغزنی سے ہوتا ہے تاہم یہ کہانی یہاں سے اس لیے شروع کی گئی کہ امریکیوں نے جلدی میں ڈاکٹر عافیہ نامی جو ڈرامہ لکھا اور جسے اب سٹیج کیا جا رہا تھا، اس کے تقاضے یہی تھے۔اس کا سبب ایک آزاد ملک کی آزاد صحافی یوان ریڈلے بن گئیں ،ورنہ عافیہ کی داستاں تک نہ ہوتی د استانوں میں۔ بعد میں مقدمے کے دوران بھی اسی کہانی کو بار بار دہرایا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ کو86 برس کی سزا دینے یا موت کی کرسی پر بٹھانے کے لیے ضروری تھا کہ اسے ایک ایسی طاقت ور عورت کا کردار دے دیاجائے جو نہتی اورتن تنہا ایک امریکی مسلح گروہ پر حملہ آور ہو سکتی ہو۔چنانچہ ڈرامے کے اگلے سین میں یہ دکھایا گیا کہ اگلے دن جب چند امریکی عافیہ سے پوچھ گچھ کرنے گورنر غزنی کے محل میں جاتے ہیں،تو عافیہ شیرنی کی طرح ان پر جھپٹ پڑتی ہے۔امریکی تفتیشی ٹیم میںایف بی آئی کے دو سپیشل ایجنٹ‘ ایک آرمی وارنٹ آفیسر‘ ایک آرمی کیپٹن اورایک بلیک واٹر کاملٹری کمانڈو تھا۔ یہ سب لوگ مسلح تھے اور ڈاکٹرعافیہ سے تفتیش کرنے وہاں گئے تھے۔ یہ لوگ محل کی دوسری منزل پر واقع میٹنگ ہال میں پہنچے تو عافیہ جوپہرے داروں کی غفلت سے اسی کمرے کی کھڑکی کے پردوں کے پیچھے چھپی کھڑی تھی موقع غنیمت جانتے ہوئے امریکی وارنٹ افسر کی گن ایم فو ر کاربین اٹھا کر ان پر فائر کرنے لگی۔ اس پرامریکی بلیک واٹر اہل کار نے عافیہ کو فوراً دھکا دے کر نیچے گرا دیا اور وارنٹ آفیسر (جس کا نام مقدمے کے دوران آخر وقت تک خفیہ رکھا گیا) نے اپنے9 ایم ایم سروس پستول سے عافیہ پر دوفائر داغ دئیے اور وہ شدید زخمی ہو کر گرپڑی۔دوسری روایت کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نے دوران تفتیش ایک امریکی فوجی کی بندوق چھین کر امریکیوں پر فائر کیے مگر اس فائرنگ کا اثر اامریکیوں پر نہیں ہواخود عافیہ صدیقی زخمی ہو کرگئیں۔ امریکہ کے اٹارنی جنرل مائیکل گارشیا نے اس جھوٹی اور من گھڑت کہانی کا پلاٹ لکھا تھا۔انہوں نے یہاں امریکی فوجی افسروں کی کارروائی ڈالی ، جوابی فائرنگ سے ایک گولی ڈاکٹرعافیہ کے سینے میں لگی ۔اس دوران ڈاکٹر عافیہ چیخ چیخ کر کہتی رہیں کہ وہ امریکیوں کو مار دے گی۔ لیکن ان پر قابو پالیا گیا۔یہاں پراستغاثے کی بوگس ڈرامائی کہانی مکمل ہوتی ہے۔
پاکستانی ارکان پارلیمنٹ سےملاقات
امریکی شہر ٹیکساس کے فیڈرل میڈیکل سنٹر میں کچھ ماہ بعدچندپاکستانی ممبران پارلیمنٹ (مشاہد حسین سیدوغیرہ) نے ڈاکٹر عافیہ سے ملاقات کی۔ وہ چند روز پہلے ہی کچھ بولنے کے قابل ہوئی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ بگرام جیل میںمجھے امریکیوں کے ہاتھوںناقابل بیان تشدد کا نشانہ بننا پڑا، تاہم افغانیوں نے مجھے تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا۔ میرے تین بچوں احمد، سلیمان اور بیٹی مریم کو مجھ سے جدا کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ نے اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ اس کے بیٹے سلیمان کو غالباً قتل کر دیا گیا ہے۔ بگرام جیل میں تفتیش اور تشدد کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہاںایک بھارتی باشندہ بھی تھا جو امریکی لہجے میں انگریزی بولتا اورکبھی ہندی میں بھی بات کرتا تھا۔اپنے زخمی ہونے کے واقعے سے پردہ اٹھاتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ نے کہایہ غزنی میں نہیں بگرام جیل میںپیش آیا تھا۔انہوں نے کہا، تفتیش کے دوران جب میں اچانک یہ دیکھنے کے لیے اٹھی تھی کہ پردے کے پیچھے کون ہے تو ایک فوجی مجھے دیکھ کرچلایا:" She is losee " یہ سننا تھا کہ ایک امریکی فوجی کیپٹن نے فائر کر دیا جو میرے پیٹ میں ناف کے پچھلے حصے پر لگا اور میں فرش پر گر گئی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے وفد کو اپنے اوپر گرزنے والی درد ناک کہانی سناتے ہوئے کہا، اسلام آباد میں مجھے گرفتار کرنے سے قبل بے ہوشی کے انجیکشن دیے گئے تھے اور جب ہوش آیا تو میں نے خود کو افغانستان میں اوربگرام جیل میں قید پایا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر جو گزری تھی اس نے ان کی شخصیت کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ یہاں تک کہ پاکستانی ممبران پارلیمنٹ کو اپنی روداد غم سناتے ہوئے ان کو اپنے بچوں کے نام بھی یاد نہیں آ رہے تھے۔ لیکن انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں جہاں ان کو رکھا گیا تھا وہاں ساتھ والے کمرے سے ان کے بچوں کی چیخوں کی آوازیں آتی تھیں۔ ملاقات کے دوران ہونے والی گفتگو کی تفصیل سے صحافیوں کو آگاہ کرتے ہوئے پاکستانی ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ نیویارک جیل میں چھ افراد جنہوں نے اپنا چہرے نقابوں سے چھپا رکھاے تھے، مجھے برہنہ کرتے ہوئے میرے ہاتھ پیچھے باندھ کر میری ویڈیو فلم بنائی اور کئی بار سیکورٹی چیک کی آڑ میں نیویارک جیل میں بھی اسی طرح کا سلوک روا رکھا گیا۔ اس تذلیل کے باعث میں نے اپنے وکیل سے ملنے اور عدالت جانے سے انکار کر دیا۔ سیل میں جب مجھے عریاںحالت میں ہی ویل چیئر پر لے جایا جا رہا تھا تو ایک خاتون نے مجھ پر کمبل ڈالا اور ان نقاب پوشوں سے درخواست کی کہ مجھ سے غیر انسانی سلوک نہ کریں۔ ڈاکٹر عافیہ نے بتایا کہ نیویارک جیل میں سیکورٹی چیک کے لیے برہنہ کرنا معمول بنا لیا گیاتھا۔سیکورٹی چیک سے بچنے کے لیے ہی میں نے اپنی وکیل سے ملاقات کرنے اور عدالت آنے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ میری یادداشت کو تیز کرنے کے لیے مجھے مسلسل جو انجکشن لگائے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے میں جاں بحق ہو سکتی ہوں۔ انہوں نے کہا،میں نہیں چاہتی کہ میرے خاندان کا کوئی فرد امریکا آئے بلکہ میں اپنے وطن پاکستان واپس جانا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا نہ تو میں نے عمار علی بلوچی سے شادی کی اور نہ ہی اسے جانتی ہوں،یہ بھی دوسرے جھوٹے الزامات کی طرح مجھ پر ایک جھوٹا الزام ہے۔ وفد نے ڈاکٹر عافیہ کو خدا حافظ کہا اور ملاقات ختم ہونے والی تھی تو ان کی آنکھوں سے آنسو نکل کران کے گالوں پر بہہ رہے تھے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے اس موقعے یہ پوچھا گیا کہ پاکستانیوں کے لیے کیا پیغام دینا چاہتی ہیں تو انہوں نے کہا، خدا را اپنے لوگوں کو تفتیش کے نام پر امریکہ کے حوالے نہ کرو۔ اگرمجھے واپس آنے کا موقع مل گیا، تو جب میں اپنی درد بھری کہانی سناﺅں گی تو پاکستان اپنی خارجہ پالیسی بدلنے پر مجبور ہو جائے گا۔ ستم تو یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کسی اور نے نہیں اپنوں نے امریکہ کے حوالے کرکے پوری امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کے ماتھے پر بدنامی کا داغ لگایا۔آج امت مسلمہ اور پاکستانی قوم کے یہ مجرم سرکاری پروٹوکول میں سیر سپاٹے کر رہے ہیں اور کوئی ادارہ اور کوئی عدالت ان سے نہیں پوچھتی کہ آپ نے یہ جرم عظیم کیوں کیا؟
ظالمانہ فیصلہ اور ردِ عمل
ڈاکٹر عافیہ کو بالآخرچھیاسی برس کی قید سنا دی گئی۔ جھوٹ کو سچ ثابت کرتے ہوئے بدنصیب امریکن جج برمن نے جب عافیہ کے خلاف فیصلہ سنایا تو اسلام اورپاکستان کی اس آہنی عزم والی بیٹی کا انداز قابل دید تھا۔ جیسے کہہ رہی ہوں گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں۔ عافیہ نے فیصلہ جس صبر وتحمل اور استقامت سے سنا اس پر سارا امریکا حیران رہ گیا۔ ڈاکٹرعافیہ جب یہ کہہ رہی تھیں کہ اس عدالت کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے (Shame on this court) تو اس وقت اپنا سر بے بسی سے آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے جیسے خود کلامی سے بارگاہِ ایزدی میں عرض کر رہی تھیں، اے اللہ میں آپ کی رضا پر راضی ہوں۔ یہ کہا اور سر تسلیم خم کر لیا۔
فیصلے کے مطابق وہ اپنی سزا ٹیکساس کی جیل فیڈرل میڈیکل فیسیلٹی کارلز ویل میں گزاریں گی جہاں خواتین قیدیوں کو ذہنی علاج کی سہولیات میسر ہیں۔ مقدمے کی کارروائی سے پہلے بھی عافیہ کو نیویارک سے ٹیکساس مذکورہ ہسپتال میں بھیجا گیا تھا؛ اس ہسپتال کے سرکاری ماہر نفسیات ڈاکٹر تھامس کچارسکی نے کہا تھا کہ شدید ڈیپریشن اورپیچیدہ نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ اس قابل نہیں کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ عافیہ کے اغواسے سزا تک کی کہانی میں جہاں بے شمار جھوٹ، ان گنت لا جواب کرنے والے سوالات اور لاتعداد شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں وہاں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ امریکی عدالت نے عافیہ کی مشکوک ذہنی حالت کو نارمل قرار دیتے ہوئے اس پر مقدمہ کیوں چلایا اور اسے سزا کیسے سنا دی، جب کہ جج مانتا ہے کہ انہیں عام جیل کے بجائے ذہنی بیمار خواتین کی جیل میں بھیجا جائے؟ چار گھنٹے جاری رہنے والی سماعت میں ڈاکٹر صدیقی نے کئی دفعہ طویل بیان دیا مگر کمرے میں موجود لوگوں کو ان کی باتوں میں ربط نظر نہیں آیا۔ البتہ انہوں نے بار بار یہ کہا کہ وہ خون خرابہ نہیں امن چاہتی ہیں اور ان کے نام پر کوئی تشدد نہ کرے۔ ڈاکٹر صدیقی نے اپنے حامیوں سے یہ بھی اپیل کی کہ ان کے کیس میں سب کو معاف کر دیا جائے اور کوئی غصہ نہ کرے کیونکہ انہوں نے سب کو معاف کر دیا ہے اوراللہ کی رضا میں راضی ہیں۔انہوں نے جج برمن کو مخاطب کرتے ہوئے کہامیں نے تم کو بھی معاف کردیا۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بہت غم زدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عافیہ کے ساتھ صریحاً ظلم ہوا ہے۔ اگر ان کا جرم تسلیم بھی کر لیا جائے تو بھی سزا جرم سے ہزارگنا زیادہ ہے۔ یہ سیاسی اور سرکاری انصاف ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مسلمانوں میں دہشت پیدا کرنا ہے اورعافیہ ایک مقدمہ نہیں بلکہ امریکہ کے تمام مسلمانوں کے لیے وارننگ ہے۔
فیصلے کے بعدڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کی ترجمان ٹینا فوسٹر کے مطابق پاکستانی حکومت نے ان کی تمام تر اپیلوں کے باوجود ڈاکٹر صدیقی کی پاکستان واپسی کا موقع ضائع کر دیا اور اب ڈاکٹر صدیقی کی واپسی کے راستے میں قانونی مسائل حائل کر دیے گئے ہیں۔ انٹرنیشنل جسٹس نیٹ ورک سے وابستہ مس فوسٹر کے مطابق امریکہ اور پاکستان کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ نہیںجس کے تحت ایک سزا یافتہ مجرم اپنی سزا پاکستان میں مکمل کر سکے یا اسے پاکستان بھجوایا جا سکے۔ فیصلے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صدیقی کے وکلا کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں اپیل کا ایک نہیں کئی پہلو ہیں۔
فیصلہ سناتےہوئےتمام لوگوں نے محسوس کیا جج بریمن کا لہجہ سفاکانہ حد تک سردتھا۔ فلاں جرم کے بدلے بیس برس فلاں گناہ کے لیے بیس برس اور فلاں جرم کے لیے عمر قید۔ القاعدہ کے لیے لائبریامیں ہیروں کی تجارت کرنے اور القاعدہ کو دوسرے اور طریقوں سے سہولت دینے اور دیگر بوگس الزامات کو سچاکہتے ہوئے جج کسی سے آنکھ نہ ملا پا رہا تھا۔ جیسے زبان حال سے کہہ رہا ہو جھوٹ بولنا میری قوم نے میرا مقدر بنا ڈالا ہے۔
فوزیہ صدیقی کا شکوہ
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ایک عرصے تک حکومت پاکستان کے منافقانہ رویے اور دھمکیوں پر لب کشائی سے گریز کرتی رہی تھیں۔ حکومت انہیں جھوٹی تسلیاں دیتی رہیں لیکن وہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی امید کا دامن ہاتھ سے چھوڑنا نہیں چاہتی تھیں۔ حکومتی اہل کار انہیں کہتے تھے کہ وہ میڈیا سے دور رہیں، حکومت کے خلاف بات نہ کریں۔ حکومت پر بھروسہ رکھیں، حکومت ان کی بہن کی رہائی کے لیے مخلص ہے۔ فوزیہ اپنی زبان کھول کر حکومت کو جواز کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ وہ بار بار وزیراعظم ہاﺅس کے چکر لگاتی رہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی حکومت کی یقین دہانیوں پر یقین کرنے پر مجبور تھیں۔ وزیراعظم کی باتوں سے انہیں لگتا تھا جیسے ان کی بہن امریکہ سے کل لوٹ آ ئے گی۔ حسین حقانی کی فون کالز سے لگتا تھا جیسے ان کی بہن ابھی آ جائے گی۔ ہر ملاقات اور ہر کال پرایک نئی امید بندھ جاتی تھی لیکن فوزیہ کی بہن کو امریکی عدالت نے سزا سنا دی تو ان کی خاموشی ٹوٹ گئی۔ اب وہ چیخ چیخ کر ساری دنیا کو بتانا چاہتی تھیں کہ حکومتی شخصیات نے انہیں دھوکا دیا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ عافیہ کی سزا کے پیچھے حکومت پاکستان کا مکمل ہاتھ ہے۔ اب رحمان ملک اورامریکا میںپاکستانی سفارت خانے کی امریکی عدالت کے ساتھ ملی بھگت کھل کر سامنے آ گئی تھی۔
عافیہ کو کہاں سے گرفتار کیا گیا
امریکا نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے اغوا کے واقعے کو تسلیم نہیں کیا، حالانکہ لاہور ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی ڈاکٹرعافیہ صدیقی کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے روبرو پیش ہوکر یہ گواہی دے دی تھی اور عدالت نے اسے تسلیم بھی کر لیا تھا کہ عافیہ صدیقی کو افغانستان سے نہیں بلکہ30 مارچ 2003 کو کراچی میں ان کے گھر سے گرفتار کیاگیا۔ انہوں نے کہایہ تاثر غلط ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان سے گرفتار کیاگیا۔ انہوں نے مزید کہا، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری میں اس وقت کی حکومت پاکستان ملوث تھی اورانہیں خدشہ ہے کہ حکومت کی غفلت کی وجہ سے ڈاکٹر عافیہ امریکا میں مرنہ جائیں کیونکہ وہ شدید بیمار ہیں۔ اس موقعے پر ڈاکٹر عافیہ کا بیٹا بھی ان کے ہمراہ عدالت میں موجود تھا۔ عدالت نے ڈاکٹرفوزیہ صدیقی کا بیان قلم بندکرکے مزیدکارروائی بارہ جنوری تک ملتوی کردی۔ یہاں پر یہ بات بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ اس وقت کی پاکستانی حکومت کے اہل کار کوئی سچائی بیان کرنے پر تیار نہ تھے جس طرح امریکی اہل کار بھی ایک طے کردہ ڈرامے کے پلاٹ کوافسانے کے گرد گھماتے رہے اور پہلے سے طے کردہ فیصلہ جج کی آواز میں سنانے کے لیے ایک طویل ڈرامہ سٹیج کیا گیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو سابق آمر جنرل مشرف کی اجازت اور حکم سے2003ءمیں ان کے تین بچوں سمیت پاکستان اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے اغوا کیا تھا۔ اس کے بعد ایک عرصے تک وہ لاپتہ رہیں۔امریکیوں کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے پرویز مشرف کی جانب سے ڈاکٹر عافیہ پر الزام لگایا گیا تھا کہ ان کا حیاتیاتی دہشت گردی(Terrorism Bio)سے تعلق ہے۔ وہ خطرناک کیمیکل تیار کرنے کی ماہر ہیں۔کیا پانچ سال تک انہیںخفیہ امریکی جیلوں میں رکھ کر اوران پر تشدد کر کے یہی پوچھا جا رہا تھا؟ یہاں تک کہ ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ ڈاکٹر صدیقی کے دو بچے پاکستان میں ان کے خاندان والوں کے پاس ہیں جبکہ تیسرے بچے کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں چلا۔
ڈاکٹر عافیہ کو جن مختلف الزامات کے سلسلے میں سزا سنا ئی گئی ،ان میںامریکی شہری کے قتل کی سازش، امریکی شہری ملازمین کے خلاف قتل کی کوشش اور سازش شامل ہے۔ استغاثے کادعویٰ ہے کہ جب وہ افغان پولیس کے تھانے میں بند تھیں، انھوں نے نیچے پڑی رائفل اٹھا کر کمرے میں ایف بی آئی کے ایجنٹوں اور امریکی فوجیوں پر فائر کھول دیا تھا۔تاہم ایک بھی گولی کسی امریکی کو لگی نہ دیوار یا چھت پر اس کا نشان پڑا۔ ا لزامات کی نوعیت اور سزا کا عرصہ متعین کرتے ہوئے امریکی عدالت نے تعصب اور دشمنی کی حد ہی کر دی۔ اس فیصلے میں حکومت پاکستان کے سفیر حسین حقانی کا بڑا اہم کردار ہے۔کہا جاتا ہے حسین حقانی ایک با اثر شخص ہے اسی لیے ڈاکٹر عافیہ رہا نہیں ہو سکیں۔ صدر زرداری کا خیال ہے کہ وہ آج اس شخص کی محنتوں اور سازشوں کی بدولت کرسی اقتدار پر بیٹھے ہوئے ہیں۔اس لیے کس کی مجال کہ حقانی سے کچھ پوچھ سکے!
ڈاکٹر عافیہ امریکی شہری نہ ہوتے ہوئے بھی امریکی جیل میں پڑی ہیں، حالانکہ وہ گرین کارڈ ہولڈر بھی نہیں اورعافیہ کے وکیل اسی قانونی نکتے کی بنا پر کہتے چلے آ رہے تھے کہ اگر حکومت پاکستان چاہے تو عافیہ کو پاکستان لے جا سکتی ہے، مگرحکومت عدم دلچسپی کا مظاہرہ کر تی رہی۔ عدالتی کارروائی کے دوران جج نے کہا کہ اس بات پر اتفاق نہیں کہ ڈاکٹر صدیقی غزنی میں کیا کر رہی تھیں۔ اس بارے میں مختلف مفروضے سامنے آئے ہیں مگر یہ بات ثابت ہے کہ ڈاکٹر صدیقی نے امریکی اہل کاروں کو قتل کے ارادے سے بندوق اٹھائی تھی۔ عافیہ صدیقی پر الزام عائد ہو چکا تھااور یہ بھی’ثابت‘ کر دیا گیا تھا کہ انہیں افغانستان میںغزنی کے گورنر کے کمپاﺅنڈ کے باہر دھماکہ خیز مواد کے ساتھ گرفتار کیا گیا تھا۔ پاکستا ن اصل حقیقت سامنے لا کر آسانی سے ثابت کر سکتا تھا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کوان کے بیٹے احمد اور والدہ کے مطابق ڈاکٹر عافیہ کو کراچی سے30 مارچ 2003 کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ اپنے تینوں بچوں کے ہمراہ گھر سے ٹیکسی پر کراچی ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئی تھی۔ اگراس سچائی کو ماننے کے لیے امریکی انصاف تیار نہ تھا، تو پاکستان بھی اپنے اداروں اورافراد کا پردہ چاک کرنے کے لیے تیارنہ تھا۔
ایوان ریڈلے کا انکشاف
پاکستان کے متعدد اخبارات نے عافیہ کی گمشدگی کی خبریں شائع کی تھیں۔ ڈان اخبار اور گلف نیوز نے ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی سے قبل ہی خبر دے دی تھی جس میں لکھا تھا کہ ایف بی آئی انہیں ڈھونڈ رہی ہے۔ اس خبر سے بھی ڈاکٹر عافیہ کا تعلق القاعدہ سے دکھایا گیا تھا۔ تاہم جب عافیہ گم ہو گئیں تو پاکستان کے خفیہ اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا نے بھی چپ کا روزہ رکھ لیا۔ بدقسمتی سے ہمارے اخبارات اور دیگر ذرائع ابلاغ خود تحقیقی میں یقین نہیں رکھتے، ان کا زیادہ تر کا م سنی سنائی سے ہی چل جاتا ہے۔ یہ تو ایوان ریڈلے کا صحافیانہ تجسس تھا اور اسلامی غیرت تھی کہ جس نے حقائق سے پردہ اٹھایا۔6جولائی 2008ءکو برطانوی صحافی اور نو مسلم خاتون ایوان رڈلے نے پہلی بار پاکستانی حکام اور عافیہ خاندان کو بتایا کہ عافیہ افغانستان کی امریکی جیل بگرام میں ہے اوراس جیل میں گرے لیڈی کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ افغانستان میں بگرام ہوائی اڈے پر قائم اس بدنام زمانہ امریکی عقوبت خانے میں عافیہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ عافیہ کو اس تعذیب کدے کے بھوت کا نام دے دیا گیا ہے اوران کی اندوہ ناک چیخوں سے قیدیوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کسی سے سچ اگلوانے یا اقرار جرم کرانے کے لیے نامزد ملزموں سے کتنا وقت درکار ہوتا ہے؟ دنیا بھر میںپولیس کو ملزم سے تفتیش کے لیے زیادہ سے زیادہ ایک دو ماہ کا وقت دیتے ہیں، اس کے بعد اگر ملزم پر فردجرم عائد نہ کر سکیں تو اسے رہا کر دیا جاتا ہے لیکن ہماری ایجنسیاں اپنے لوگوں کو کئی کئی سال عقوبت خانوں میں قید رکھ کر پتہ نہیں کیا حاصل کرتی رہتی ہیں۔
نیوز لائن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے بعدان کی والدہ کا انٹرویو کیا۔ ان کی والدہ نے ڈاکٹر عافیہ کے سابق خاوند پر بھی شک کا اظہار کیا، لیکن ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کی گمشدگی کے بعد ایجنسیوں کے لوگ ان کے گھر آئے تھے اورانہیں خاموش رہنے کی تلقین کی تھی اور بولنے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکی دی تھی۔ ابھی عافیہ کی گمشدگی کو چند ہی روز ہوئے تھے ایک دن امریکی چینل NBC پرخبر نشر ہوئی کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو القاعدہ سے تعلق کے الزام میں پاکستان سے گرفتار کیا گیاہے۔ تاہم پاکستانی ایجنسیوں نے اس خبر کی فوراً تردید کر دی۔ مشرف حکومت کے اس وقت کے وزیر داخلہ فیصل صالح حیات سے اس خبر کی تصدیق چاہی گئی تو انہوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ عافیہ پر شروع میںالقاعدہ کے ساتھ تعلق کا الزام عائد کیا گیا،لیکن القاعدہ کے ساتھ تعلق کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوا اورعدالت میں شواہد پیش نہ کیے جا سکے؛ چنانچہ مقدمہ امریکی فوجیوں پر گولی چلانے کے الزام میںچلایا گیا۔
مقدمے کی گواہیاں
نیویارک میں وفاقی امریکی عدالت یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ سدرن کے کمرئہ عدالت میں جب وفاقی جج رچرڈ بریمن نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا مقدمہ سماعت کے لیے اٹھایا توعافیہ صدیقی نے چیخ چیخ کر جج سے کہا:''میں اس عدالت کو نہیں مانتی اور نہ ہی اپنے دفاع کے وکلاءکومانتی ہوں، یہ سب جھوٹ ہے اور عدالت بھی جھوٹ ہے''۔ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف امریکی حکومت کے مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے تیسرے دن جج رچرڈ برمن کی سربراہی میں شروع ہوا تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے وکلاءنے مقدمے میں بتائے جانے والے مبینہ آلہ جرم یعنی ایم فور رائفل پر ڈاکٹر عافیہ کے انگلیوں کے نشانات نہ ملنے کے بارے میں ایف بی آئی کے ماہر پر جرح کی۔ اس سے پہلے استغاثہ نے عدالت میںوہ ایم فور رائفل ثبوت کے طور پیش کی جسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے مبینہ طور پر اٹھارہ جولائی دو ہزار آٹھ کو غزنی میں امریکی سکیورٹی اہل کاروں پر قاتلانہ حملے میں' استعمال' کیا تھا۔ نشانات کے ماہر نے کہا۔ میں ایف بی آئی کی لیبارٹری میں تمام تر تکنیکی طریقہ کار اور مطلوبہ کیمیکلز استعمال کرنے کے باوجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی انگلیوں کے نشانات نہیں ڈھونڈ سکا۔ اس لیے دوران جرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے وکلاءکا موقف تھا کہ ان کی موکلہ نے مبینہ رائفل کو چھوا تک نہیں۔ ایک موقعے پر صفائی کی وکیل ایلین شارپ نے ایف بی آئی کے ماہر کے بیان پر طنزیہ کہا: میرا خیال ہے وہ رائفل جسے ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اٹھایا تھااس پر انگلیوں کے نشانات گرم موسم میں تحلیل ہو گئے۔ دوران جرح ایف بی آئی کی ماہر گواہ اور جسمانی سائنسدان فائیف نے اپنا بیان دہرایا کہ اگرچہ رائفل پر انگلی کا ’فریکشن رج‘ کا ذرہ ملا ہے لیکن ایسا کوئی طریقہ نہیں کہ یہ کہا جاسکے کہ وہ نشان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ہے۔
گواہی میں واضح تضاد
امریکی گواہ چیف سکیورٹی افسر سے وکیل صفائی چارلس سوئفٹ نے جرح کے دوران جب یہ پوچھا کہ انہوں نے اپنی گواہی میں تو یہ کہا ہے کہ واقعے والے دن اٹھارہ جولائی 2008 ءکو انہوں نے جب دیکھا کہ عافیہ صدیقی ان کی (چیف وارنٹ افسر کی ) ایم فور رائفل ان کی اور کمرے میں موجود افراد کی طرف تانے کھڑی ہے تو انہوں نے اپنے پستول سے فائر کیے۔ لیکن اس واقعے کے بعد انہوں نے اپنی حلفیہ آپریشنل رپورٹ میں اور کچھ دن بعد ایف بی آئی کو اپنے بیان میں یہ کہا تھا کہ جب خاتون (عافیہ صدیقی) ان کے پائوں کے پاس پڑی ان کی رائفل کو پکڑنے لگی تو انہوں نے ان پر اپنے نائن ایم ایم پستول سے فائر کردیا۔ وکیل صفائی نے بیانات عدالت میں دکھائے اس پر گواہ چیف وارنٹ افسر نے تسلیم کیا کہ میں نے اس وقت ایسے بیانات دیے تھے۔ اس موقعے پر عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے عدالت گواہ سے براہ راست مخاطب ہوتے کہا، مجھ پر گولی کیپٹن سنائیڈر نے چلائی تھی۔ اس پر جج نے وفاقی مارشلز کو حکم دیاکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو کمرہ عدالت سے نکال دیں۔ اس پرڈاکٹر عافیہ صدیقی کے دفاع کے ایک وکیل لنڈا مرینو نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو زبردستی عدالت سے لے جانے پراحتجاج کیا اور کہا امریکی مارشلز کا ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ ایسا سلوک ان کے شفاف اور منصفانہ مقدمے کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ جج نے یہ اعتراض مسترد کردیا۔
امریکی فوج کے افسر کیپٹن سنائیڈر نے اپنی گواہی کے دوران کہا جس طرح چیف وارنٹ افسر نے غزنی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے تحقیقات کیں، اس پرمیں نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا، بلکہ میں نے چیف وارنٹ افسر کو دیئے جانے والے سلور میڈل دینے پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ اس پر وکیل صفائی نے چیف وارنٹ افسر سے پوچھا کہ آیا ان سے کیپٹن سنائیڈر خفا تھے تو انہوں نے کہا۔ ہوسکتا ہے ہوں ،لیکن مجھے معلوم نہیں۔
ڈاکٹر عافیہ پرنرس کا غصہ
ڈاکٹر عافیہ کے افغانستان میں زخمی ہونے پر فوری طبی امداد پہنچانے والی امریکی فوج کی خاتون میڈیکل کارکن بھی حکومت کی طرف سے گواہ کے طور پر پیش ہوئی۔ اس نے کہا میں نے عافیہ کو ان پر بندوق تانے دیکھا تھا اور چیف وارنٹ افسر نے عافیہ پر فائر کیے تھے جس سے ان کے پیٹ کے دائیں طرف زخم پہنچا تھا جس کا میں نے علاج کیا تھا۔ دوران جرح اس نے کہا، مجھے ڈاکٹر عافیہ کے خلاف غصہ تھا کیونکہ انہوں نے گولی چلائی تھی اور پھر بھی امریکی ان کا علاج کر رہے تھے۔
عافیہ صدیقی نے اس پر شدید احتجاج کیا کہ انہیں بار بار جیل سے آتے جاتے برہنہ تلاشی لے کر عدالت میں لایا جاتا ہے۔ یہ کہتے ہوئے وہ کمرئہ عدالت سے اٹھ کر قریبی کمرے میں چلی گئیں۔ اگلی پیشی پرجج رچرڈ ایم بریمن نے سامنے کھچا کھچ بھرے کمرئہ عدالت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے کہا کہ عدالت میں مقدمے کے ہر سماعت کی تاریخ کے دوران تمہاری عدالت میں موجودگی تمہارا بنیادی حق ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا ’میں اپنے اس حق سے دست بردار ہونا چاہتی ہوں۔ میرے اور بھی کئی حق ہیں جن کی پروا نہیں کی گئی۔ جج کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ”تم نے ان کو مجھ پر ’تشدد‘ کرنے کی دانستہ اجازت دی ہے اور آج بھی مجھے زبردستی عدالت میں لایا گیا ہے۔ آج کے دن تمہارا مجھ سے کیا برتائورہا، میں تمہیں معاف کر سکتی ہوں لیکن کبھی بھی بھلا نہیں پاﺅں گی“ چنانچہ اس کے بعد طے پا گیاکہ آئندہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جسمانی طور پر عدالت میں موجود ہونے کے بجائے جیل سے وڈیو کانفرنس کے ذریعے اپنے مقدمے کی کارروائی میں شریک ہوں گی۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی کلائیوں میں باندھی جانے والی ہتھکڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے عدالت میں موجود لوگوں سے کہا”مجھے ٹارچر کیا جا رہا ہے،میری برہنہ تلاشی لی جاری رہی ہے۔ پھر صفائی کے وکلاءکے بیچ بیٹھی ہوئی ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کاغذ پر کچھ تحریر کر کے کمرئہ عدالت میں بیٹھے لوگوں کی طرف رخ کر کے کاغذ ان کے سامنے لہرانے کی کوشش کی۔ اس پرڈاکٹر عافیہ صدیقی کے پیچھے بیٹھی ایک محافظ نے ان سے بھری عدالت میں کاغذ چھین لیا۔ ڈاکٹر عافیہ کی دفاعی وکیل نے محافظ سے ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے ان کا کاغذ چھیننے کے بارے میں پوچھا تو محافظ نے وہ چھینا ہوا کاغذ اپنی جیب میں رکھ لیا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے محافظوں کے بیچ میں تنائو ان کی چال ڈھال سے محسوس کیا جا سکتا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی پشت پر عدالت کے حصے میں موجود مقدمہ دیکھنے کے لیے موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، دیکھ لیں، وہ مجھے بند رکھ کر میرا مقدمہ چلانا چاہتے ہیں۔
افغانستان میں امریکی اڈے بگرام پر متعین سابق ایف بی آئی اسپیشل ایجنٹ کرلی گورڈن عدالت میں غزنی میں افغان نیشنل پولیس کے ہیڈ کوارٹر میں اس کمرے کی دیوراوں اور چھت کی کھدائی سے حاصل کیا ہوا ملبہ، امریکی فوجی افسر کی طرف سے مبینہ جوابی فائرنگ میں استعمال کیا ہوا نائن ایم ایم پستول لے کر آیا۔ واقعے میں وہ پردہ بھی پیش کیا گیا جس کے پیچھے سے مبینہ طور پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے فائرنگ کی تھی۔ قالین کے ٹکڑے اورجائے وقوعہ کی دیوراوں سمیت افغان نیشنل صدر دفاتر کی عمارت کی تصاویر، کمرے کی وڈیو اور غزنی شہر کی تصاویر گواہی کے طور پر پیش کیں۔ حکومتی گواہ اسپیشل ایجنٹ کرلی گورڈن نے دوران جرح دفاع کے وکلاءکو بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف وہ کسی بھی قسم کی فورینزکی گواہی اور ڈی این اے پیش نہیں کر سکے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف امریکی حکومت کی طرف سے قائم فوج داری مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہوا تو حکومتی گواہ کے طور پر مبینہ واقعے کے وقت افغانستان میں متعین چیف وارنٹ افسر گواہی کے لیے پیش ہوا۔ اس افسر نے جب ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے کہا کہ میں نے عافیہ صدیقی کو اپنے پستول سے فائر کرکے زخمی کیا تھا جب وہ میری رائفل مجھ پر اور کمرے میں موجود افراد پر تانے ہوئے تھیں۔ تواس پر کمرہ عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر فائرنگ تم نے نہیں بلکہ ایک اور افسر کیپٹن سنائیڈر نے کی تھی،تم کیوں اس کا الزام اپنے سر لے رہے ہو؟ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا، میرے خلاف جھوٹ بولنے پر امریکہ کا نام بین الاقوامی طور بدنام ہورہا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بولنے پر ان کی نگرانی کرنے والے اہل کار انہیں کمرہ عدالت سے متصل کمرے میں لے گئے۔
کئی تمغے سینے پر سجائے امریکی اسپیشل فورسز کا یہ باوردی افسر (جس کا نام پوشیدہ رکھا گیا ) عراق اور افغانستان میںخدمات سرانجام دے چکا ہے۔ اپنی ایک کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ عدالت میں آیا تھا۔ اس کی گواہی کے دوران جب اس کی پیشہ وارانہ قابلیت اور تجربات کے بارے میں سوالات کے دوران استغاثہ کے وکیل نے پوچھا کہ وہ کب اور کہاں اور کیسے زخمی ہوا؟ تو اس نے بتایا کہ ستمبر 2009ءمیں افغانستان میں سڑک پر ایک بم حملے کے دوران میرے تین ساتھی ہلاک اور میں زخمی ہوا۔ اس واقعے کا ذکر کرکے وہ عدالت میں رونے لگا۔ اس موقعے پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کھڑے ہوکر اس سے مخاطب ہوکر کہنے لگیں:آفیسر! آپ کے ساتھ جو ہوا اس پر مجھے افسوس ہے لیکن آپ دوسرے کا الزام اپنے سر مت لیں، مجھے اچھی طرح یاد ہے گولی آپ نے نہیں کیپٹن سنائیڈر نے ماری تھی۔
حرفِ آخر
پاکستان میںگزشتہ دو برس کے عرصے میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے لیے بہت احتجاج ہوا،جلوس نکالے گئے،جلسے ہوئے ،یادداشتیں پیش کی گئیں،لیکن امریکا ٹس سے مس نہیں ہوا۔ڈاکٹر عافیہ کو سز سنائی گئی تو”سو سنار ایک لوہار کی “کے مصداق طالبان کی طرف سے ایسا بیان آیا ہے کہ جس نے امریکی حکمرانوں اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کود ہلا کے رکھ دیا ہے۔طالبان کے ترجمان نے کہاہے کہ اگرامریکی ہماری مسلمان بہن عافیہ کو رہا نہ کریں گے تو ہم امریکی قیدیوں کو قتل کر دیں گے۔
علامہ اقبال نے طرابلس کی جنگ میں غازیوں کو پانی پلاتے ہوئے شہید ہونے والی فاطمہ بنت عبداللہ کے لیے کہا تھا ”فاطمہ ! تو آبروئے ملت مرحوم ہے“،آج عافیہ آبروئے ملت مرحوم بن گئی ہے۔اس امت کی غیرت اگربیدار ہوگئی اور ان شاءاللہ ضرور ہو گی، تو وہ اسلام کی اس بیٹی پر ہمیشہ فخر کیا کرے گی جس نے اپنے ایمان ویقین کی طاقت سے نام نہاد سپر پاور کی جھوٹی عظمت اور سطوت کوتوڑ پھوڑکے رکھ دیا۔دنیا بھرمیںشیطانی اور طاغوتی قوتوں کا خوف جھاگ کی طرح بٹھا دیا۔آئیے اقبال کی زبان میں(نام کے تصرف سے)ملت بیضا کی اس بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کریں:
عافیہ! تو آبروئے امتِ مرحوم ہے
ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے
یہ جہاد اللہ کے رستے میں بے تیغ و سپر
ہے جسارت آفریں شوقِ شہادت کس قدر
اپنے صحرا میں بہت آہو ابھی پوشیدہ ہیں
بجلیاں برسے ہوئے بادل میں بھی خوابیدہ ہیں
عافیہ! گو شبنم افشاں آنکھ تیرے غم میں ہے
نغمہ عشرت بھی ا پنے نا لہ ما تم میں ہے
یہ کلی بھی اس گلستانِ خزاں منظر میں تھی
ایسی چنگاری بھی یا رب، اپنی خاکستر میں تھی!

Last edited by عبدالہادی احمد; 10-10-10 at 01:11 PM..

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 162
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-10-10), راجہ اکرام (10-10-10)
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- Haya 786 گپ شپ 7 25-02-11 10:42 AM
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے Wahid Mahmood شعر و شاعری 1 11-03-10 11:10 PM
آؤ پشتو سیکھیں = راشہ پشتو ذدہ کہ محمد کاشف حبیب پشتو فورمز 113 09-07-09 08:30 PM
تو نے کہا تو تیری تمنا ہی چھوڑ دی Shani شعر و شاعری 3 19-11-08 08:22 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:06 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger