واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


عامر متین صاحب کے مضمون کا جواب-- میرافسر امان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-04-11, 03:27 PM   #1
عامر متین صاحب کے مضمون کا جواب-- میرافسر امان
JISOUTH JISOUTH آف لائن ہے 27-04-11, 03:27 PM

ہمارے دوست عامر متین صاب جو ایک سینئرلبرل صحافی ہیں، نے اپنے تجز یے میں جماعت اسلامی کا پوسٹ مارٹم کیا جسے روز نامہ جنگ نے اپنی 31مئی 2010ء، یکم جون 2010ء ، 02 جون 2010 ء اور 04جون 2010ء کی اشاعت میں چھاپا ۔اسی کے جواب میں یہ مضمون لکھا گیا ہے ۔
عامر متین صاحب اپنے مضمون میں فرماتے ہیں ’’وہیں وہ(منور حسن) بیت اللہ محسود اور اس کے جانشین حکیم اللہ محسود کو دہشت تسلیم کر نے کے سے بھی منکر ہیں‘‘
یہ بات نہیں کہ جماعت حکیم محسود کو دہشت گرد نہیں مانتی ،بلکہ آے دن امیر جماعت اور دوسرے مرکزی لیڈر حضرات کے بیانات آتے رہتے ہیں ہم ملک پاکستان میں بندوق کے ذ ریعے تبدیلی نہیں چاہتے بلکہ پر امن جدوجہد کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیںاور یہ بات ابھی صاف نہیں ہوئی کہ پاکستان میں مصلح جد و جہد کرنے والے بیرونی دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں یا طالبان ہیں۔ویسے جناب کی نظر سے امریکی مصنف کی کتاب ضرور گزری ہو گی جس میں موصوف نے لکھا ہے کہ پاکستانی طالبان امریکہ کی وزارت خارجہ نے بنائے ہیں اصل کاروائیں بلیک واٹر کرتی ہے اور پاکستانی طالبان اسے اپنے کارنامے بتاتے ہیںذرا کچھ تو اپنے ملک کے حالات پر نظر رکھیں۔
عامر متین صاحب فرماتے ہیں ’’منور حسن اور ان کی جماعت کی پالیسی پاک فوج اور حکومت کی طالبان کے خلاف جنگ سے متصادم نظر آتی ہی‘‘ ہم پاک فوج کو اپنے لوگوں پر جنگ مسلط کرنے کے مخالف ہیں اگر حکومت ہمارے ازلی دشمن بھارت سے بات چیت کرنے کی درخواست کرتی رہتی ہے تو اپنے لوگوں سے بات چیت کیوں نہیں ہو سکتی۔ اور کیوں اپنے لوگوں سے جنگ کر رہی ہے سب کو معلوم ہے یہ صرف جماعت اسلامی ہی کا موقئف ہی نہیں بلکہ ملک کے کونے کونے سے یہ مطالبعہ اُٹھ رہاہے سب کو معلوم ہے امریکہ فوج کو اپنے ہی لوگوں سے مذاکرات کرنے نہیں دیتا اور اپنا ایجنڈا ہماری فوج سے پورا کروا رہا ہی۔
عامر متین صاحب نے کہا ’’منور حسن مقامی سیاست کو بین ا لااقوامی نظریاتی تناظر میں دیکھتے ہوئے آج بھی گو امریکہ گو کا نعرہ لگا کر پاکستانی سیاست میں کا میاب ہونا چاہتے ہیں فرق صرف یہ ہے کہ ماضی میں سویت یونین کی شکل میں کمیونسٹ حریف تھا اور آج افغان جنگ میں پرانا اتحادی امریکہ دشمن ہی‘‘
جماعت ہمیشہ کیمونزم اور سرمایادارانہ نظام کے خلاف سرگرم رہی ہے حکومت الہیا کا ایجنڈا لیکر چلنے والی جماعت کو امریکہ کا اتحادی نہ کہیں تو مناسب ہو گا مولانا مودودی ؒ کا یہ کہنا لوگوں کویاد ہو گا کہ ایک وقت آے گا ’’کیمونزم کو اپنے ملک میں پناہ نہیں ملے گی اور سرمیادارانہ نظام پیرس اور امریکہ کی یونیور سٹیوں میں تباہ ہو گا‘‘ کیمو نزم کا خاتمہ ہو گیا اور لوگ جبر کے نظام سے آزاد ہوے اور سات اسلامی ریارستیں آزرباہیجان،ازبکستان،قازقس تان ترکمانستان ،ازبکستان،تاجکستان اورکرغیزستان افغان جہاد کی وجہ سے آزاد ہوئیں اور ایک بار پھر سرمایادارانہ نظام کے حواریوں کو قدرت افغانستان میں گھیر لائی ہی۔ افغان جہاد افغانیوں نے خود شروع کیاتھا اس وقت امریکہ کا نام و نشان تک نہیں تھا جماعت اسلامی نے اسلام کے حوالے سے افغان مسلمانوں کی جہاد کے ذریعے مدد کی تو یہ عین فرض تھا اور حسن اتفاق سے امریکہ اپنے مفادات کی وجہ سے افغان جہاد میں شریک ہوا تو جماعت اسلامی امریکہ کی اتحادی کیسے ہو گئی کیا جب امریکہ آیا تو جماعت جہاد چھوڑ دیتی؟ ذرا کچھ تو صحافت کے ساتھ انصاف کریں۔
عامر متین صاحب فرماتے ہیں ’’ اسلامی جمیت طلبہ کا نام لیتے ہوئے ، جماعت اسلامی کی موجودہ مرکزی قیادت اور منور حسن سمیت آد ھے لوگ جہاد افغان میں شریک رہے ہیں ۔ جماعت کی یہ نظریاتی اور جنگجوانہ قیادت ایسے ماحول میں پروان چڑھی ہے جس میں ڈنڈے بردار جلسہ جلوسوں کے ذریعے اپنا سیاسی اور اخلاقی نظریات ٹھونسے جانے کی کوشش عام تھی‘‘
جماعت اسلامی ایک پر امن سیاسی جماعت ہے جو جمہوری طریقے سے اس ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کی کوشش کر رہی ہے جو سب جانتے ہیں۔ اس کی زیرِ اثر کسی تنظیم کی کسی ایک غلطی سے ڈنڈا برداری اور جنگجونہ قیادت کاخطاب دینا زیادتی محسوس ہو ر ہی ہی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ سفید چادر پر ایک بھی دھبہ بھی نظر آ جاے تو کچھ لوگ اَسے اَچھالتے ہیں۔
عامر متین صا حب نے چارلس اسمتھ اور مو رخ ولی نصر صاحب( سیدولی رضا نصرامریکی صدر اوباما کے مشیر برائے ایران ہیں) کے خیالات بیان کیے ہیں۔
عرض گزارش ہے مولانا مودودی ؒ پر چارلس اسمتھ کی کتاب i Ideals of Maulanoa Maudud یا مورخ ولی نصر صاحب کی تاہید کہ مولانا فاشٹ اور کیمونسٹ طریقہ سے متاثر تھے اُن کا حق ہے مگر مولانا مودودیؒ نے رہنمائی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و صلم سے لی ہے جو قرآن سے ثابت ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو ا پنا خلیفہ بنا کردنیا میں کام کرنے
۲
کے لیے بھیجا ہے اور راستہ پہلے دن سے بتا دیا تھا جس پر جماعت اسلامی شروع دن سے عمل کر رہی ہے ۔لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اَٹھا کر، لوگوں سے جھوٹے وعدے کر کی، سبز باغ دکھا کر جمہو ری طریقے سے اقتدار ہو یا کیمونسٹوں کی طرع ذبردستی اقتدار پر قبضہ کر کے لاکھوں لوگوں کو تہ تیغ کرنے کے طریقے کا حشر تو ہم دیکھ چکے ہیں ایک ہی راستہ بتدریج اصلاح کا طریقہ جس پرجماعت شروع دن سے عمل کر رہی ہے صحیح ہے نہ کے غیروں کے تجویز کردہ طریقی؟قارئین حضرات جو لوگ جماعت اسلامی کو عام سیاسی جماعت سمجھ کر تجزیات کریں گے وہ ٹھوکریں ہی کھاتے رہیں گے جیسے ہمارے محترم عامر متین صاحب نے ٹھوکر کھائی ہی۔جماعت اسلامی ویسی ہی جماعت بننے کی کوشش کرتی ہے جیسے ہمارے رب کو مطلوب ہی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام پیغبروں کی زبانی قرآن شریف میں یہ پیغام دیا ہے کہ’’ ہم اللہ کے بندے ہیں آپ بھی اللہ کے بندے بنو،ہمیں آپ سے اجر نہیں چاہیے ہمارا اجر ہمارے رب کے پاس محفوظ ہے ہم امین ہیں ‘‘ کیا یہ ساری باتیں لوگوں کو جماعت اسلامی میں نظر نہیں آتیں؟ پلاٹ پرمٹ سفارش اور دوسری مراعات کا جماعت میں رواج نہیں ۔جماعت لوگوں کو اللہ کا بندہ بنانے کی کوشش کرتی ہے اور اجر اپنے رب سے چاہتی ہی۔اس نے اپنا امین ہونا ثابت کر دکھایا ہے صرف ایک ٹیسٹ کیس جس کا میں چشم دیدہ گواہ ہوں۔جماعت اسلامی کے نمائندے عبدالستار افغانی ؒ جو دو ٹرم کراچی کے مہر رہ چکے ہیں ۔ ایک ٹرم قومی اسمبلی کے ممبر رہی۔ لیار ی کے فلیٹ میں رہتے تھے اپنی وفات تک اسی فلیٹ میں رہے راقم ان کی قومی سیٹ NA250 کا جماعت کے نظم کی طرف سے انچارج تھا۔اس لیے ان سے نسبتّ زیادہ قریب تھا ۔ ریاست سے فاہدہ حاصل کرنا تو دور کی بات ہے وہ قومی اسمبلی کی طرف سے الاوئنس میںجو رو ٹین کے خرچے کے بعد باقی بچی ہوئی رقم ہر ماہ جماعت کے بیت المال میں باقاعدگی سے جمع کرواتے تھی۔یہی حال ہمارے دوسرے عوامی نمائندوں کا ہے اس کے علاوہ صوبائی،قومی،اور سینٹ کے نمائندے سب کے سامنے موجو د ہیں ان لوگوں نے امین ہونا ثابت کردیا ہی۔اور آج تک ان پر کسی کرپشن کا الزام الحمداللہ نہیں لگا۔
عامر متین صاحب! جب تک میری کہانی میری زبانی کی بات نہیں ہوگی۔ مورخ ولی رضا نصر والا معاملہ ہی ہو گا یعنی مذہب اور سیاست کی علیحدگی... کیا رسول ؐ نے مدینے میں اسلامی ریاست قائم نہیں کی تھی ،کیا رسول ؐ اُس حکومت کے سربراہ نہیں تھی،چیف جسٹس،کمانڈر ان چیف،مقننہ اور انتطامی امور کے مالک کل نہیں تھی، دوسرے ممالک کو سفیر بیجھنا،خطوط لکھنا،فیصلے کرنا،قانون بنانا، قانون کا نفاذ کرنا، سزائیں دیناکیا یہ سیاست نہیں تھی ۔جماعت شروع دن سے سیاست میں تھی اور آج بھی ہے دین کو نافذ کرنے کے لیے تد بیرمختلف ہو سکتی ہیں ایسا نہیں جیسے ولی رضا نصر صاحب نے تجزیہ کیا ہے کہ ’’جماعت اپنی پہلی دہائی میں بنیادی طور پر مذ ہبی جماعت تھی جس کا مقصد لوگوں کے دلوں میں ایمان افروز کرنا تھا سیاست کو بُری نگاہ سے دیکھا جاتا تھا‘‘ اب مذہبی اور سیاسی کا فرق ختم ہو ناچا ہیے بہت تجزہے ہو چکے کاش آپ جماعت اسلامی کو اس طرح سمجھتے جس طرح جماعت اسلامی فی ا لو اقعی ہے یعنی میری کہانی میری زبانی۔بقول علامہ اقبال ؒ.......
’’جلالِ پادشاہی ہو یا جمہوری تماشہ ہو۔۔۔
جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی‘‘
عامر متین صاحب آپ نے جماعت اسلامی چھوڑ جانے واے کچھ علماء کا ذکر کیا۔ہر آدمی کو اپنی راے رکھنے کا حق ہے لیکن ایک مجدد اور ایک عالم دین میں بہت فرق ہوتا ہے کیا مولانا مودودیؒ کے نظریات نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو متاثر نہیں کیا؟ کیا جماعت اسلامی روز بروز ترقی نہیںکررہی؟ یہی فرق جماعت اسلامی کو چھوڑ جانے والوں اور مولانا مودودیؒ میںہی۔
عامر متین صاحب زیادتی ہو گی ایک مجدد پر الزام لگانا کہ وہ دِل کے عارضے کی وجہ سے جماعت اسلامی چھوڑ گے بلکہ یہ کہنا مناسب تھا کہ اقتدار سے خود دستبردار ہو گے جو دوسری دینی اور سیاسی پارٹیوں کی ریت نہیں ۔جماعت اسلامی ایک اصولی نظریاتی پارٹی ہے مورثی پارٹی نہیں۔مولا مودودی ؒ نے اپنی زندگی میں جماعت اسلامی کی امارت دوسری لیڈر شپ کے حوال کر دی۔
عامر متین صاحب آپ نے کرپشن کے حوالے سے بات کی ،کاش آپ کسی امیر،نائب امیر،مر کزی،صوبائی،ضلعی یا مقامی رکن کا نام لکھ دیتے تو آئینہ ہمارا چہرہ ہمیں دکھا دیتا اگرکسی اسلام کے حامی صحافی کو کسی نے کوئی مراعات دیں ہوںتو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے اس میں جماعت کا مرکزی ڈھانچہ کیسے کرپٹ ہو گیا۔یہ صحافتی نا انصافی ہی۔
عامر متین صاحب آپ کا کہنا کسی ایک یا دو افراد نے جماعت اسلامی کے نظریاتی مفکروں کو حکمرانوں کی جھولی میں ڈال دیا تھا کیسے ممکن ہے جبکہ وہ جماعت اسلامی کے عہدہدار بھی نہ ہوں جماعت اسلامی کی ایک مرکزی شوریٰ ہے جو فیصلہ ساز ادارہ ہی۔ یہ غلط ہے کے کوئی فرد یا افراد جو تنظیم میں شامل بھی نہ ہوں انہوں نے جماعت کے نظریاتی مفکروں کو کسی حکمران کی جھولی میں ڈال دیا ہو۔جماعت میں افراد نہیں جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ پالیسی ساز ادارہ ہے جو فیصلے کرتی ہے اور اس پر عمل کیا جاتا ہی۔

۳
عامر متین صاحب کمال ہے ! اگر جماعت اسلامی ایک شیطانِ کبیر(امریکہ)کو جو ہمار ی رگوں تک میں گھس چکا ہے عوام میں بے نقاب کرنے کی مہم ’’گو امریکہ گو‘‘ تحریک چلا رہی ہے تو یہ ایک شاندار چال ہو گئی یعنی جماعت اسلامی اپنے ایجنڈے پر کام کرتے ہوے کوئی تدبیر کرے تو یہ چال ہو گئی اور آپ کی کوئی پسندیدہ پارٹی کوئی تدبیر کرے تو اُس پر مضامین پہ مضامین لکھے جائیں ذرا فرق رہنے دیجیے اور انصاف کیجےی۔
آپ نے فوج کے خلاف ہونے کی بات کی آپ اپنی تشویش پر جمع خاطر رکھیں جماعت اسلامی کی ایک شوریٰ ہے جو پالیسی بناتی ہے اور اپنے امیر کی مدد کرتی ہے ۔یہاں فرد فیصلے نہیں کرتے شوریٰ جو اسلام کی داعی بھی ہو اس پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہوتا ہے اور اللہ اپنے بندوں کو کبھی گمراہ نہیں کرتا ۔ ہم اپنی فوج کے خلاف نہیں ہیںاور نہ ہوں گی۔ طریقہ کار میں اختلاف ہو سکتا ہے کھوج لگانے والے کھوج لگاتے رہیں انشااللہ پہلے کی طرح اب بھی انہیں مایوسی ہو گی۔

JISOUTH
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 66
شکریہ: 16
53 مراسلہ میں 142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 66
Reply With Quote
JISOUTH کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (27-04-11)
جواب

Tags
فرض, کمال, کارنامے, کراچی, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, پسندیدہ, قرآن, نظر, موجودہ, ممکن, معلوم, آئینہ, آج, ایمان, ایران, امیر, امریکہ, ترکمانستان, دوست, راستہ, سیاست, طالبان, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وزیرصحت کی مشیر کے گھر سے تین خواتین با زیاب جاویداسد خبریں 2 23-12-10 11:39 AM
باراتیو ں سے بھری بس جھیل میں گر گئی، 24 خواتین، تین بچے اور ایک مرد ڈوب کر ہلاک جاویداسد خبریں 0 15-12-10 06:41 PM
عالمی خواتین کانفرنس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نتائج راجہ اکرام دلچسپ اور عجیب 5 23-03-10 02:04 PM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM
تارکین وطن خواتین مقامی خواتین کی بری عادات اپنالیتی ہیں عبدالقدوس خبریں 0 13-04-08 09:27 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:08 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger