واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


علامہ اقبال (رح) کی والدہ ماجدہ امام بی بی المعروف '' بے جی''

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-05-11, 09:46 PM   #1
علامہ اقبال (رح) کی والدہ ماجدہ امام بی بی المعروف '' بے جی''
عصمت عصمت آف لائن ہے 24-05-11, 09:46 PM

شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی والدہ ماجدہ امام بی بی المعروف '' بے جی'' 1834ء کے قریب سیالکوٹ قصبہ سمبڑ یال میں پیدا ہوئیں ۔ بڑے ہی سادہ اور اور خوبصورت ماحول میں ان کی تربیت ہوئی۔ 1858ء کے لگ بھگ ان کی شادی سیالکوٹ میں شیخ نور محمد سے ہوئی۔ امام بی بی اپنے خاندان میں ''بے جی''کے لقب سے مشہور تھیں اس دور میں عورتیں زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن اس کے باوجود انتہائی وضع دار اور صوم صلوةٰ کی پابند تھیں۔

ان کے حسن سلوک کی بدولت لوگ انہیں عزت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کی دیانتداری کا یہ عالم تھا کے محلے کی عورتیں اکثر ان کے پاس اپنا زیور اور قیمتی سامان رکھتی تھیں۔ محلے یا برادری میں خاندانوں کی سطح پر اگر کوئی لڑائی جھگڑا اور تو تکار ہوتی تو ''بے جی'' کو بطور ثالث مقرر کیا جاتا۔ وہ غریب اور نادار عورتوں کی خفیہ طور پر امداد بھی کرتی رہتی تھیں۔



ایک دومرتبہ ایسا بھی ہوا کہ وہ اپنے گھر غریب خاندانوں کی بچیاں لے آئیں انہیں بڑے ناز اور چاؤ سے پالا پوسا اور جب وہ جوان ہو گئیں تو ان کی شادی کروا دی ، بے جی کو اپنے چھوٹے اقبال سے بہت محبت تھی اور وہ اقبال کو پیار سے بالی کہتے تھیں اقبال بھی اپنی والدہ ماجدہ کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اقبال ان لوگوں میں سے ایک تھے جنہیں ماں کی عظمت کا ادراک تھا۔

1914 بے جی کافی کمزور ہو چکی تھیں اور گزشتہ چند برسوں سے علیل چلی آ رہی تھیں ۔ درد گردہ کی شکایت بھی کافی عرصہ سے تھی وہ رمضان کے روزے رکھنے سے معذور ہو چکی تھیں اور ہر سال فدیہ رمضان دیا کرتی تھیں۔ انہیں ایک روز ہلکا سا بخار ہوا جو موسمی بخار کی صورت اختیار کر گیا ۔ کمزور تو پہلے ہی ہو چکی تھیں جس کی وجہ سے قوت مدافعت بھی ختم ہو چکی تھی اور بالکل چار پائی سے لگ گئی تھیں۔



ان کی اس حالت کے پیش نظر علامہ محمد اقبال بے جی کو لاہور لے جانا چاہتے تھے مگر وہ سیالکوٹ چھوڑنے پر آمادہ نہ تھیں۔ اکتوبر کے وسط میں ان کی طبیعت بے حد خراب ہو چکی تھی علامہ ماں کے بارے میں اس قدر پریشان تھے کہ دن رات ان کے سرہانے سے نہ اٹھتے تھے۔ ڈاکڑوں اور حکیموں سے بہت علاج کروایا مگر افاقہ نہ ہوا ۔ لاہور سے علامہ صاحب ایک ڈاکٹرکے دوست بھی تھے ان کو بلوایا مگر بے سود ۔



80 برس تک ممتا نچھاور کرنے والی عظیم ہستی آخر کار 9 نومبر 1914 ء کو ان کی روح پرواز کر گئی اور وہ اپنے مالک حقیقی سے جا ملیں۔ میاں جی شیخ نور محمد نے بے جی کا کفن خود سیا اور عورتوں کو میت پر واویلا کرنے سے منع فرمایا لیکن ان کے بڑے بیٹے شیخ عطا محمد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے جبکہ بہوئوں اور بیٹیوں کی آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات جاری رہی۔ اقبال اس روز انتہائی رنجیدہ تھے کیونکہ ان کی کائنات ان کی عظیم ترین ماں ان سے جدا ہو چکی تھیں۔ جنہیں امام صاحب قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
----------------------------------------------------
__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
-

 
عصمت's Avatar
عصمت
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 162
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عصمت کا شکریہ ادا کیا
مون (25-05-11), محمدخلیل (24-05-11), سیپ (25-05-11), سد ید مسعو د (25-05-11), عروج (01-06-11)
پرانا 25-05-11, 12:16 AM   #2
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 189
کمائي: 5,403
شکریہ: 47
168 مراسلہ میں 485 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Sadeed Masood, Newzeland Auckland)

مامتا

چھوٹے سے شہر کا بارونق بازار، خوانچہ فروشوں، سبزی فروشوں، اور دیگر رنگ رنگ کی چیزیں بیچنے والوں کا شور، میں اس بازار سے پرانا آشنا تھا، بچپن میں جب ماں کی انگلی پکڑ کر یہاں سے گزرتا تو میری نظر ان چیزوں پر ہوتی جو مجھے بہت بھاتی تھیں اور پھر ماں سے ضد شروع ہو جاتی کہ مجھے یہ خرید کر دو ماں بہت سمجھاتی کہ یہ تیرے کام کی نہیں ہے مگر میں کب ماننے والا تھا آخر میرے آنسوؤں کے سامنے ممتا ہار جاتی اور میں وہ چیز لے کر یوں خوش ہوتا گویا دنیا بھر کی دولت مجھے مل گئی ہو، پھر سکون خوش باش ماں اپنی شاپنگ کرتی رہتی اور میں ساری دنیا سے بے نیاز اپنے کھلونے میں مگن رہتا۔ ماں کو مختلف کام ہوتے تھے اور بہت سی فکریں اور میں بے غم، روٹی سے بے غم٬ کپڑے سے بےغم٬ گھر کے انتظام سے بے غم، مجھے یاد ہے کہ اک رات مجھے بخار تھا اور صبح عید تھی ماں نے بڑے چاہ سے میرے لئے نئے کپڑے بنوائے تھے، نئے جوتے خریدے تھے اور اس کی خواہش تھی کہ اسکا چاند صبح تیار ہوکر ہنسی خوشی باپ کے ساتھ نماز عید کے لئے جائے وہ بار بار میرے ماتھے پر ہاتھ رکھتی اور بخار کی تیزی دیکھ کر پریشان اور بے چین ہو جاتی اس نے اس رات کئی ٹوٹکے آزمائے، مجھے شہد کھلایا، قہوہ پلایا، تیل ملا، دم ڈالا، ڈاکٹر کی دوائی پلائی، میں سو جاتا اور جب میری آنکھ کھلتی ماں جاگ رہی ہوتی، اسے مجھ سے اتنی محبت کیوں تھی حالانکہ مجھے تو اس وقت اسکی اتنی پرواہ نہیں تھی مجھے تو دن میں اسکی ضرورت بس اس وقت محسوس ہوتی جب مجھے بھوک لگتی یا کوئی تکلیف پہنچتی یا پھر کوئی مطلب نکالنا ہوتا مگر وہ تو ہر دم سائے کی طرح میرا پیچھا کرتی۔ جب میں تھوڑا بڑا ہوا اور میٹرک میں پہنچا تو ماں میں بڑھاپے کے آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے، اس میں پہلے کی پھرتی اور تیزی باقی نہ رہی، چہرے پہ جھریاں نمایاں ہونے لگیں، ہاتھوں میں معمولی سی لغزش آ گئی مگر میرے سارے کام تو اسی تیزی اور تن دہی سے ہوتے تھے اور اب تو میری فرمائشیں بھی بڑھ گئیں تھیں، یہ چیز کھانی ہے اور وہ نہیں کھانی یہ کپڑا پہننا ہے اور وہ نہیں پہننا یہ کام کرنا ہے اور وہ نہیں کرنا، میری اور ماں کی پسند میں زمین آسماں کا فرق آ گیا تھا اور کتنی عجیب بات ہے کہ اس نے اپنی پسند کی ساری چیزیں چھوڑ دی اور صرف میری پسند کو ملحوظ خاطر رکھا مثلاً کبھی وہ کھانا نہ بنایا جو اسے پسند تھا، کبھی وہ کام نہ کیا جو میری خاطر زاری کرے مجھے گھر میں جھاڑو کی آواز سے سخت نفرت تھی جب تک میں سکول نہ چلا جاتا ماں گھر میں جھاڑو نہ دیتی۔ انٹر کے پیپرز آئے میں پیپرز دیتا رہا ماں نفل پڑھتی رہی اور روزے رکھتی رہی، میں راتیں پڑھائی میں گزارتا رہا ماں دعائیں کرتی رہی اور منتیں مانتی رہی اسے میرے صبح کے ناشتے کی کتنی فکر ہوتی تھی ایک دن جب پیپرز کے درمیان چھٹی تھی اور میں دیر تک سوتا رہا اسکے ٹھنڈے اور کانپتے ہاتھ میرے بالوں اور ماتھے پر سرسراہٹ کر کے مجھے جگانے لگےوہ تو مجھے پوچھ رہی تھی کہ میرا چاند کیا کھائے گا اور مجھے بیزاری ہو رہی تھی کہ اس نے مجھے جلدی کیوں جگا دیا میں ذرا تلخ لہجے میں بولا " ماں تو کیا ہر وقت میرے پیچھے پڑی رہتی ہے تھوڑا اور سو لینے دے" وہ میرے جواب سے متفکر ہوکر بولی " پتر زندہ ہوں تو پوچھتی ہوں مر جاؤں گی تو کوئی نہیں پوچھے گا ماں کے پیار کو یاد کرو گے" میرے لئے اسکا یہ فقرہ کوئی معنی نہیں رکھتا تھا شاہد میرے ذہن میں اس زمانے کا تصور ہی نہ تھا کہ جب ماں نہ ہوگی۔ میرے شہر میں انٹر کی تعلیم کے بعد دور جانا پڑتا تھا شہر چھوڑنا پڑتا تھا ہاسٹل میں رہنا پڑتا تھا مجھے یاد ہے کہ جب اس نے مجھے رخصت کیا وہ بے حد رنجیدہ تھی اسکے زرد رخساروں پر تھکی ہوئی آنکھوں سے آنسوؤں کا ایک سمندر امڈ رہا تھا وہ دیر تک میرا ماتھا چومتی رہی اور دعائیں دیتی رہی، میرے سر سے کچھ پیسے وار کر کام والی کو دیئے " پتر ماں مر جائے گی تہرے بغیر ہر ہفتے ماں کو ملنے ضرور آنا" پھر جب میں گھر آتا وہ بہت خوش ہوتی، مزے مزے کے کھانے پکاتی میرے ناز نخرے اٹھاتی اور جب میں واپس ہاسٹل چلا جاتا تو اداس ہو جاتی۔ اب تو اس کو پسلیوں میں درد بھی رہنے لگا تھا اور ایک رات تو وہ درد سے سو بھی نہ سکی تھی میں ان دنوں تھرڈ ائیر کے پیپرز دے رہا تھا اور کئی دن گھر نہ آسکا مجھے ماں کا ایک خط موصول ہوا " پتر ماں زیادہ زندگی نہیں مانگتی رب سے بس تیرے سر پر سہرہ دیکھ لوں پھر آرام سے قبر میں سوؤں گی" میں دل ہی دل میں ماں کی جلد بازی پر ہنس دیا۔ میں تقریباً ڈیڑھ مہینے بعد گھر واپس آیا تو ماں کا حلیہ ہی بدل چکا تھا وہ بالکل لاغر ہو چکی تھی اسکی آنکھیں اندر دھنس چکی تھیں اور چہرے کی ہڈیاں ابھر آئیں تھیں مگر میرے لئے اس کا پیار ویسا ہی تھا اور مجھے دیکھ کر جیسے وہ اپنی بیماری بھول گئی تھی مامتا میں بڑا حوصلہ ہوتا ہے جبر کا صبر کا، خدا نے اس کے پاؤں تلے جنت رکھی ہے تو دل میں اولاد کے لئے بے لوث محبت، دنیا میں ماں کے بعد ایسی محبت کہیں دستیاب نہیں ہے ماں میری ہو یا کسی اور کی سب کی ایک کہانی ہے ایک قصہ ہے، ماں پیار ہے، پناہ ہے، دعا ہے، ماں سایہ ہے، شانتی ہے، امن ہے۔

آج شہر کے بازار میں وہی رونق تھی مگر میں تو ماں کے خیالوں میں گم تھا اور مجھے تو ماں کے لئے کچھ خریدنا تھا، پہلی دفعہ کچھ خریدنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ کاش میں ماں کے لئے کوئی نایاب چیز خرید سکتا جسے میں بہترین تحفے کا نام دے سکتا مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بازار تو ویران تھا ہر چیز ساکن تھی اور میں ایک دوکان کے سامنے کھڑا تھا میں بمشکل اس دوکان میں داخل ہوا اور میں نے دوکان دار سے کیسے کہا مجھے نہیں معلوم پر لفظ یہ تھے " مجھے میری ماں کے لئے کفن کا کپڑا درکار ھے
سد ید مسعو د آف لائن ہے   Reply With Quote
سد ید مسعو د کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (01-06-11)
پرانا 25-05-11, 12:33 AM   #3
Administrator


 
سیپ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,064
کمائي: 1,047,208
شکریہ: 5,798
6,278 مراسلہ میں 15,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم ورحمتہ اللہ و بر کاتہ
اچھی شئرنگ ھے
سیپ آف لائن ہے   Reply With Quote
سیپ کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (01-06-11)
جواب

Tags
گھر, لوگ, نظر, ماں, ماں کی عظمت, محمد اقبال, محبت, حسن, دوست, رمضان, رات, سال, شادی, عورتیں, عورتوں, علیل, علامہ, علامہ محمد اقبال, علاج, عالم, عرصہ, عزت, عظیم, عظمت, غریب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger