| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 994
|
||||
|
|
#2 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
سورۃ التوبہ 9، آیت نمبر 122 اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں، تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں اس آیت کی مختصرا تفسیر یہ ہے کہ تمام افراد کے لیے ممکن نہیں کہ دین کی تعلیم مکمل طور پر اُس کے منابع سے حاصل کر سکیں۔ خدا کا حکم یہ ہے کہ کچھ افراد حاصل کرلیں اور وہی باقی افراد کو بتائیں۔ رسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا وَمَن لَّم یُبَجِّل عَالِمِینَا فَلَیسَ مِنَّا (سنن الترمذی، کتاب البر والصلة،ج:۴،ص:۲۲۳، ) جو اپنے علماء کی عزت نہ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
__________________
Last edited by کنعان; 07-04-10 at 04:26 AM. |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-04-10), ھارون اعظم (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), حیدر (07-04-10), حیدر Rehan (07-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (07-04-10) |
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
اسلام و علیکم ۔ ۔ ۔ ۔
موضوع بہت اچھا ہے ۔اور اہم بھی ۔ مگر اس کےلیے بہت ہی زیادہ معلومات اور اس پر بحث کی ضرورت ہوگی ۔ اگر کچھ اور اپ کے پاس اس موضوع سے مطق ہے تو پہلے اپ وہ بھی لکھیں تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ کس قسم کے سوال کریں ۔ کیونکہ جو سوال ابھی میرے زہن میں ہے وہ اتنا اہم ہے کہ جس کے لیے اپ کی یہ دلیلیں کم ہونگی ۔۔۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک |
|
|
|
|
|
#4 | |
|
Senior Member
![]() |
اقتباس:
اسلام و علیکم ۔ ۔۔ کنعان بھائی ۔۔۔۔ اپ نے سہی کہا یہ تو ہو نہی سکتا کہ اگر طبیعت خراب ہو تو ہر کوئی ڈاکٹر بن جائے یا اگر گھر بنانا مقصود ہوتو خود ہی شروع ہوجائیں ایک ماہر کی ضرورت ہمیشہ اور ہر جگہ رہتی ہے ۔ اور اپکی دوسری بات بھی سہی ہے کہ عالم کی عزت لازمی ہے (لیکن عالم کو قرآن کی نظر میں بھی عالم ہی ہونا چاہیے) ورنہ وہ طالب علم ہی رہے گا ۔ یا شاید وہ بھی نہ ہو |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-04-10), کنعان (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), حیدر (07-04-10), عبداللہ حیدر (07-04-10) |
|
|
#5 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس سے پہلے کوئی اور کچھ لکھ دے میں ہی تصحیح کر دوں، قرآن اور حدیث کی باتیں صحیح ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
| 6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), حیدر (07-04-10), حیدر Rehan (07-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (07-04-10) |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام و علیکم حضرات تحریر مکمل ہو چکی ہے
اب آپ کھل کر سوالات کر سکتے ہیں لیکن اگر کسی سوال کا جواب ہمیں نہ آیا تو معزرت پیشگی کیئے دیتے ہیں ہاں تلاش کر کے جواب دیا جا سکتا ہے۔ |
|
|
|
| شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا | حیدر (08-04-10) |
|
|
#8 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اس کا مطالعہ کر لیں اس حوالے سے منتظمین بھائی کے حکم سے ایک الگ تھریڈ بنانے کا ارادہ ہے آپ کے اس مراسلے کا شافی جواب وہیں دیا جائے گا |
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کے علم سکھائے ہیں ۔
ایک علم الاسماء جو حضرت آدم علیہ السلام کو ناموں کا علم سکھایا ، جن سے فرشتے لاعلم تھے ۔ یہ دنیاوی علم یہی علم الاسماء ہے ۔ آپ دنیاوی علم دیکھیں کوئی بھی سیبجیکٹ کو لیں ، وہ دراصل ناموں کا علم ہی ہے ۔ میں چونکہ ڈاکٹر ہوں اس لیے علم طب کی بات کروں گی ۔ anatomy تو ہے ہی انسان کے اجزاء کے ناموں کا علم ، فزیالوجی ۔ انسان کے اجزاء کے فنکشن کا علم ہے لیکن اگر ہم تفصیل میں جائیں تو کسی بھی چیز کا فنکشن بھی ہم اور مختلف چیزوں کے ناموں کے علم سے ہی سیکھتے ہیں ۔ اسی طرح باقی تمام علم ، ناموں کا ہی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا ، اور آہستہ آہستہ تمام انسانیت میں منتقل ہورہا ہے ۔ دنیاوی علم انسان کا پیدا کردہ نہیں ، بلکہ انسان اتنا ہی سیکھ سکتا ہے جتنا اللہ نے یہ علم دنیا میں اتارا ۔ دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان تک پہنچایا ، اس کو روحانی علم بھی کہا جاسکتا ہے ۔ قرآن کا علم ، علم الاسماء نہیں ، اس علم کا تعلق انسان کی روح سے ہے ۔ قران میں اللہ نے علم الاسماء کا ذکر تو کیا ہے لیکن ناموں کا علم قرآن میں نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر ۔ دل کو گناہوں سے پاک کرنے کا طریقہ تو قرآن مین ملے گا لیکن دل کے چار حصے ہوتے ہیں اور ان حصوں کو کیا کہتے ہیں یہ ہم کو قرآن میں نہیں ملے گا ۔ دونوں علم ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں ۔ لیکن اللہ کی نظر میں بھی افضل علم قرآن کا علم ہے ۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے ۔ تم میں بہترین انسان وہ ہے جو قرآن پڑھے اورقرآن پرھائے ۔ علم دونوں ہیں اور عالم بھی دونوں ہیں ۔ لیکن قرآن کے عالم کو عام دنیاوی عالم پر فضیلت حاصل ہوگی ۔
__________________
اے اللہ میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے |
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (09-04-10), حیدر Rehan (09-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10), عبداللہ حیدر (09-04-10), عروج (07-05-11) |
|
|
#10 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کے علم سکھائے ہیں ۔
ایک علم الاسماء جو حضرت آدم علیہ السلام کو ناموں کا علم سکھایا ، جن سے فرشتے لاعلم تھے ۔ یہ دنیاوی علم یہی علم الاسماء ہے ۔ آپ دنیاوی علم دیکھیں کوئی بھی سیبجیکٹ کو لیں ، وہ دراصل ناموں کا علم ہی ہے ۔ میں چونکہ ڈاکٹر ہوں اس لیے علم طب کی بات کروں گی ۔ anatomy تو ہے ہی انسان کے اجزاء کے ناموں کا علم ، فزیالوجی ۔ انسان کے اجزاء کے فنکشن کا علم ہے لیکن اگر ہم تفصیل میں جائیں تو کسی بھی چیز کا فنکشن بھی ہم اور مختلف چیزوں کے ناموں کے علم سے ہی سیکھتے ہیں ۔ اسی طرح باقی تمام علم ، ناموں کا ہی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا ، اور آہستہ آہستہ تمام انسانیت میں منتقل ہورہا ہے ۔ دنیاوی علم انسان کا پیدا کردہ نہیں ، بلکہ انسان اتنا ہی سیکھ سکتا ہے جتنا اللہ نے یہ علم دنیا میں اتارا ۔ دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان تک پہنچایا ، اس کو روحانی علم بھی کہا جاسکتا ہے ۔ قرآن کا علم ، علم الاسماء نہیں ، اس علم کا تعلق انسان کی روح سے ہے ۔ قران میں اللہ نے علم الاسماء کا ذکر تو کیا ہے لیکن ناموں کا علم قرآن میں نہیں ہے ۔ مثال کے طور پر ۔ دل کو گناہوں سے پاک کرنے کا طریقہ تو قرآن مین ملے گا لیکن دل کے چار حصے ہوتے ہیں اور ان حصوں کو کیا کہتے ہیں یہ ہم کو قرآن میں نہیں ملے گا ۔ دونوں علم ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں ۔ لیکن اللہ کی نظر میں بھی افضل علم قرآن کا علم ہے ۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے ۔ تم میں بہترین انسان وہ ہے جو قرآن پڑھے اورقرآن پرھائے ۔ علم دونوں ہیں اور عالم بھی دونوں ہیں ۔ لیکن قرآن کے عالم کو عام دنیاوی عالم پر فضیلت حاصل ہوگی ۔ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
|
|
|
|
|
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اور جہاں تک روحانی علم کا تعلق ہے تو یہ بھی انسان کی تذکیہ نفس ہی کرتا ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو اللہ کے ہر روحانی حکم میں بھی علم الاسما کی رو سے فائدے چھپے ہوے ہیں ، اس طرح میری سمجھ کے مطابق تو یہ ہر جگہ کو ریلیٹ کرتے ہیں ان میں حد تو وہی قائم کی جا سکتی ہے جو ہم نے بیان کر دی یعنی فقہ ، کا علم قرآن کا علم ، وغیرہ اور پھر مزید تمام اس کی شاخیں ہیں ، اور اللہ تعالی نے قرآن میں واضھ طور پر فرما دیا کہ تمام علوم اللہ تعالی کے پاس ہیں اور وہ جس کو چاہے اس میں سے کچھ عطا فرما دے ۔ تو اللہ کی عطا ہمارے خیال میں تو ہر حالت میں یکساں اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم خدا نخواستہ علمائے دین کی اہمین اور توقیرکو ہر گز گھٹانا نہیں چاہتے بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ بقول آپ کے علم الاسما کے حامل افراد کو بھی قابل احترام گردانا جائے اور ان کو علمائے دین کے برابر توقیر دی جائے ، تا کہ مسلمانوں کا رحجان ایک بار پھر سے ان علوم کی جانب ہو سکے جن میںپیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہم آج ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا | حیدر (08-04-10), حیدر Rehan (09-04-10) |
|
|
#13 |
|
Administrator
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شاہ جی بھائی
میں آپ کی تمام باتوں سے متفق ہوں سوائے ، دو باتوں کے ۔ پہلی قرآن کو تمام کتابون پر فضیلت حاصل ہے اسی طرح قرآن کے علم کو بھی تمام علم پر فضیلت حاصل ہے ۔ بے شک تمام علم اللہ کا عطا کردہ ہے لیکن قرآن کلام اللہ ہے ، اس کو ہم باقیوں کے برابر نہیں کرسکتے ۔ دوسری بات ۔ مسلمانوں کے ذلیل و خوار ہونے کی وجہ سائنس نا پڑھنا نہیں بلکہ قرآن کو نا سمجھنا اور اس پر عمل نا کرنا ہے ۔ ہم اپنے سب سے ذہین بچے کو ڈاکٹر انجینیر بناتے ہیں اور جو بچہ کچھ نہیں کرپاتا اس کو مدرسے میں ڈال دیتے ہیں ۔ یا مدرسوں میں ذیادہ تر بچے غریب گھرانوں کے ہوتے ہیں ۔ اپر کلاس کے بچوں نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کیا تیر مار لیا یا مسلمانوں کا کیا نام روشن کیا ۔ ان کو تو مواقع بھی بہت میسر ہوتے ہیں ۔ شکریہ |
|
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا | کنعان (09-04-10), مسٹر شیف (10-04-10), حیدر (09-04-10), حیدر Rehan (09-04-10), راجہ اکرام (09-04-10), شاہ جی 90 (09-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (09-04-10) |
|
|
#14 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,377
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
محترمہ سحر نے کہا کہ "علم دونوں ہی ہیں تاہم قرآن کے عالم کو اسما کے عالم (یعنی دنیاوی علوم کے عالم )پر سبقت حاصل ہو گی"
ہم زیادہ جھمیلوں میں نہیں پڑتے ۔ فرض کیے لیتے ہیں کہ سب کچھ اچھا ہے۔ بُرا کچھ نہیں مسلمانوں میں۔ اب کیس فرض کریں کہ ایک طرف قران کا عالم ہے مثلاً مولانا وغیرہ۔ اچھے عالم ہیں۔ مسلمانوں کی دینی معاملات میں اچھی رہنمائی کرتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جن کے کارنامے ایٹم بم، میزائل، تعلیمی خدمات کی وجہ سے مشہور عام ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں اور اسلام کے دفاع میں نہایت اہم کام کیا ۔ ایک نے رہنمائی کی جو قرآن کا ایک حکم ہے۔ دوسرے نے جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کیا جو قرآن کا دوسرا حکم ہے۔ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ داکٹر عبدالقدیر خان کا کام چھوٹے درجے کا ہے (اسی بات کو الٹ کر کہہ لیں کہ داکٹر عبدالقدیر چھوٹے درجے کا عالم ہے کیوں کہ اسکے پاس چھوٹے درجے کا علم ہے)یاد رہے کہ بعضے احادیث کی روشنی میں جہاد کو سب کاموں پر فضلیت دی گئی ہے۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟/ |
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#15 | |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
یہ باتیں آپ نے بہت اچھی پیش کی ہیں، لاہور میں ہماری لوکل مسجد میں علامہ صاحب بھی یہ فرمایا کرتے تھے کہ جو بچہ اپاہج ہوتا ھے یا کچھ نہیں کر پاتا اسے مدرسہ میں داخل کروا دیتے ہیں، یہ بھی درست ھے کہ مدرسوں میں زیادہ تر غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مگر اب کچھ تبدیلی ہو رہی ھے جیسا ایک فارم میں کسی نے سعودی عرب میں دینی تعلیم کے لئے کالج کے بارے میں معلومات حاصل کرنی تھی تو کسی نے بتایا تھا کہ میڑک سائنس کے ساتھ 60 فی صد نمبر ہیں تو اس پر وہ چھوٹا سا دینی ٹیسٹ لیتے ہیں اگر پاس ہو گئے تو داخلہ مل جاتا ھے۔ میری رائے کے مطابق عالم بننے کے لئے اتنی تعلیم ہونا ضروری ھے۔ باقی پاکستان میں بھی جو مکمل دینی تعلیم دی جاتی ھے تو اس کا سرٹیفیکیٹ بھی ڈگری لیول کا ہی ہوتا ھے۔ میری ایک کزن نے اپنے بیٹے کو سعودی عرب میں رہ کر قرآن مجید حفظ کروایا پھر اس کے بعد سکول کی تعلیم اور اب وہ آئی۔ٹی کر رہا ھے۔ اسطرح بہت سے لڑکے لڑکیوں نے بھی قرآن مجید حفظ کئے ہوئے ہیں ہماری فیملی میں مگر اس کے بعد کوئی پراگرس نہیں، دنیاوی تعلیم کے پیچھے ہی بھاگ رہے ہیں۔ والسلام |
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا |
![]() |
| Tags |
| color, green, system, ہے۔, کس, وضاحت, نظر, منتقل, آج, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, جواب, حدیث, رفتار, سال, سائنس, علوم, علم, علاج, عالم, غیب, صدیوں, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|