واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


علم کیا ہے ؟ عالم کون ہے ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-04-10, 11:58 PM   #1
علم کیا ہے ؟ عالم کون ہے ؟
شاہ جی 90 شاہ جی 90 آف لائن ہے 06-04-10, 11:58 PM

بھائیو اور بہنو
اسلام و علیکم
پاک ۔ نیٹ پر ایک بحث چل رہی ہے کہ عالم کون ہے ۔ یعنی کہ کیا دنیاوی علوم کے حامل مسلمانوں کو اسلامی نقطہ نظر سے عالم کہا جا سکتا ہے یا نہیں ۔
کیا علم صرف دینی حوالے سے علم کہلائے گا اور کیا عالم ، اسلام کی روشنی میں صرف وہی ہو گا جو کہ دینی علوم کا حامل ہو؟
انہی سوالوں کے جواب جاننے کے لیئے اس تھریڈ کا آغاز کیا گیا ہے ۔
سب سے پہلے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ علم کی تعریف کیا ہے ۔

قالَ رَبّی يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّماء ِ وَ الأَرْضِ وَ هُوَ السَّميعُ الْعَليمُ.

"(انھوں نے) کہا: جو بات آسمان اور زمین میں ہے، میرا پروردگار اُسے جانتا ہے اور وہ سننے والا، جاننے والا ہے۔"
قرآن کریم (سورۂ۲۱/انبیا، آیت۴)

عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعالِ.

"وہ غیب و شہود کا جاننے والا ہے، بزرگ اور بلند ہے۔"
قرآن کریم (سورۂ۱۳/الرعد، آیت۹)
قرآن کریم کی ان دو آیات سے ہی علم کے معنی اور عالم کی حقیقت واضح ہو جاتی ہے ۔
يَعْلَمُ الْقَوْلَ فِی السَّماء ِ وَ الأَرْضِ
یعنی وہ بات جو آسمانوں اور زمینوں میں ہے اللہ اسے جانتا ہے
گویا کہ علم کے معنی ہیں جاننا ، کس بات کا جاننا؟
اس بات کا جو کہ آسمانوں اور زمینوں میں ہے چاہے وہ غیب ہو یا ظاہر
اس کی مزید وضاحت ان آیات مبارکہ سے ہو جاتی ہے۔

عالِمِ الْغَيْبِ لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ فِی السَّماواتِ وَ لا فِی الْأَرْضِ وَ لا أَصْغَرُ مِن ذَلِكَ وَ لا أَكْبَرُ إِلّا فِی كِتابٍ مُبيـنٍ.

"(وہ خداوند) غیب کا جاننے والا (ہے)، زمین و آسمان کا کوئی ذرّہ بھی اُس سے پوشیدہ نہیں اور نہ اُس (ذرّے) سے چھوٹی اور نہ بڑی کوئی چیز (اُس سے پوشیدہ ہے)، مگر یہ کہ وہ واضح کتاب میں موجود ہے۔" قرآنِ کریم (سورۂ۳۴/سبا، آیت۳)

زمین و آسمان میں جو کچھ بھی ہے اس کا علم اللہ تعالی کو ہے اور وہ زات پاک اس علم کی عالم ہے ۔
اس آیت مبارکہ سے تو جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ
علم ال بدن یعنی
anatomy of brain
anatomy of nervous system
جو کہ میڈیکل کی فیلڈ ہے ۔
علم الطبیات
یعنی physics جس میں رفتار کی حقیقت سے لے کر کشش ثقل تک زیر بحث آتی ہیں یہ بھی علم کی ایک شاخ ہے۔
اسی طرح جملہ مروجہ سو کالڈ دنیاوی علوم اس ذیل میں آتے ہیں
تو ہماری مجبوری ہے کہ جو مسلمان ان میں سے کسی بھی علم کا حامل ہو اسے نہ صرف عالم مانا جائے بلکہ کہا جائے ۔
اب آتے ہیں اس حقیقت کی جانب جس سے آج ہم مسلمان نظریں چرا نہیں سکتے ۔
اللہ نے تمام علوم قرآن پاک میں واضح کر دئیے اور کہا کہ ان پر تفکر کرو
اللہ نے سات آسمانوں اور سات زمینوں کا زکر کیا
اللہ نے درختوں اور پودوں کی افزائش نسل کا زکر کیا
اللہ نے انسان کی اصل کا زکر کیا ۔
یہ سب کیا ہے ، اللہ نے کہ دیا کہ اس میں نشانیاں ہی ان کے لیئے جو کہ ایمان لانے والوں میں ہیں
قرآن کا بنظر عمیق مطالعہ کیا جائے تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ یہ کتاب دنیا کے تمام علوم کا احاطہ کرتی ہے ۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج جو کچھ سائنس صدیوں بعد ثابت کر رہی ہے میرے پاک رب نے احکامات ، اور نشانیوں کے ذریعے ہمیں 1400 سال پہلے بتا دیا
مثال کے طور پر سائنس دان اب ثابت کرتے ہیں کہ برقی آلات سے انسان میں منفی چارج پیدا ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے مزاج پریشان اور چڑچڑا ہو جاتا ہے، اس کا علاج تحقیق سے یہ پتا چلا کہ قبلہ رخ ہو کر ماتھے کو زمین سے لگایا جائے تویہ منفی چارج ماتھے کے راستے زمین میں منتقل ہو جاتا ہے جس سے انسان کو ٹینشن سے نجات مل جاتی ہے۔
لیکن افسوس تو یہ ہے کہ یہ تحقیقات غیر مسلم کر رہے ہیں ۔
اور مسلمان قرآن میں دئیے گئے احکامات میں سے صرف حقوق اللہ حقوق العباد ، فقہ وغیرہ تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں ، اور ظم کی انتہا یہ کہ ان موضوعات سے ہٹ کر کسی علم کو قرآن و حدیث کی روشنی میں علم مانا ہی نہیں جاتا کبھی اسے معلومات کہا جاتا ہے اور کبھی فنون ۔
لیکن یہ صورت حال اسلام کے ابتدائی دور میں یا وسطی دور تک پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس وقت تک قرآن کی اصل دعوت یعنی تفکر پر لبیک کہا جاتا تھا ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ مسلمان سائنسدانوں کی لکھی کوئی کتابیں اہل مغرب کے نصاب میں داخل رہیں اور مسلمانوں کی کی گئی تحقیقات ان کے لیئے مشعل راہ ثابت ہوئیں ۔
لیکن آہستہ آہستہ مسلمانوں نے مجموعی طور پر تفکر کی راہ کو اور تحقیق کے چلن کو چھوڑ دیا ۔ اور چند دینی احکامات و تعلیمات جن کا اوپر زکر آیا ہے ان کو اپنا کر بیٹھ گئے ۔ یہاں ہمارا مقصود ہر گز یہ نہیں کہ آج کے "دینی علوم" کے عالم جو کچھ پڑھ اور پڑھا رہے ہیں وہ غلط ہے ، نہیں ہر گز نہیں بلا شک و شبہ ان کا نصاب قرآن و حدیث سے ہی ہے ، لیکن جہاں بات دینی اور دنیاوی علوم کی تقسیم کی آتی ہے وہاں سے اختلاف کی بنیاد پڑ جاتی ہے ۔
اوپر ہم نے ثابت کیا کہ کوئی میڈیکل کے کسی شعبے میں تحقیق کرتا ہے یا سائکالوجی کی کسی شاخ میں ، یا وہ فزکس کے کسی شعبے میں کوئی نئی بات دنیا کے سامنے لاتا ہے اگر وہ مسلمان ہے تو عین اللہ کے حکم کے مطابق علم حاصل کر رہا ہے اور پھیلا رہا ہے ، وہ عالم کہلانے کا مستحق ہے اور اسی قدر منزلت کا بھی جو کہ دین اسلام میں ایک عالم کے لیئے مقرر کی گئی ہے ۔
اب دور جدید کی اس ضرورت کی جانب آئیے جہاں ہر میدان میں سپیشلائزیشن کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ یہاں ظاہر ہے کہ دیگر کسی بھی شعبے کی طرح ہمیں قرآن ، حدیث اور فقہ کے ماہرین کی ضرورت ہمہ وقت رہتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ماہرین کی شدید تر ضرورت ہے ۔ تا کہ ہم اللہ کے دین کی سرفرازی کے لیئے مسلم امہ کی مضبوطی کے لیئے کوشش کر سکیں اور یہود و ہنود کا مقابلہ بہتر طریقہ سے کر سکیں " جو کہ ہمہ وقت اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں ۔
چونکہ قرآن کریم کے مطابق علم کا مطلب ہے جاننا اور عالم ہے جاننے والا
تو قرآن کریم میں چونکہ دنیا کے تمام علوم کا احاطہ کیا گیا ہے ، لہذا ان علوم میں سے کسی بھی علم کا حامل عالم کہلائے گا لیکن یاد رہے کہ اللہ نے قرآن میں بعض علوم سے اجتناب کا حکم بھی فرما دیا مثال کے طور پر پیشن گوئی یا علم نجوم دست شناسی وغیرہ ، تو ایسے علوم کے حامل افراد ظاہر ہے کہ نہ تو عالم کے درجہ پر فائز ہوں گے اور نہ ہی ان کی وہ فضیلت تصور کی جائے گی جو کہ عالم کا حصہ ہے ۔ ایسے افراد کو تو اللہ کے احکامات کا منکر ہی کہا جا سکتا ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ہم مسلمانوں میں درجاتی حساسیت یا سٹیٹس کانشیئس نیس بھی پیدا ہو چکی ہے جو کہ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنے علاوہ کسی کی بھی اہمیت تسلیم کرنے سے انکار کر دیں ۔
یاد رکھئیے یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی نظام میں کوئی بھی فرد جو اپنے آپ کو کسی بھی انتظامی عہدے کے لیئے خود پیش کرے اس کو اس عہدے کے لیئے نا اہل تصور کیا جائے گا مثال کے طور پر قاضی گورنر، یا خلیفہ وقت کا عہدہ ، کیوں کہ ان عہدوں پر فائز لوگوں کا منصف اور غیر جانبدار ہونا پہلی شرط ہے اور ظاہر ہے کہ اپنی اغراض کے حصول کے لیئے ہی کسی عہدے کی لالچ اپنے دل میں پیدا کرے گا ۔
لیکن آج ہم دیکھتے ہیں کہ مساجد کی امامت پر جھگڑے ہو رہے ہوتے ہیں ۔
مسجد کمیٹی کی صدارت پر گھمسان کی جنگ "زبانی زبانی " عام بات ہے ۔
شاید اسی احساس کی کرشمہ سازی ہے کہ آج ہم میں سے جو بھی کسی علم کا ماہر یا عالم ہے وہ دیگر ماہرین یا علما کو عالم یا ماہر تسلیم کرنے سے انکار کر دیتا ہے ، ایک بنیادی تفریق تو دینی و دنیاوی علوم کی صورت میں سامنے آتی ہی رہتی ہے ، یہاں تو ڈاکٹر ڈاکٹر کو پرو فیسر پروفیسر کی جاہل قرار دے رہا ہوتا ہے۔ لیکن ایک بڑا اختلاف علمائے دین یعنی عالم قرآن ، محدث اور فقیہہ حضرات اور علمائے سائنس و دیگر انتھروپالوجیکل علوم کے عالموں کے درمیان نظر آتا ہے ۔ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل کوئی پروفیسر علمائے دین کو عالم ماننے کو تیار نہیں بلکہ وہ انہیں طنز اور تشنیع کے قابل گردانتا ہے اور علمائے دین کے نزدیک جواباً وہ پروفیسر حضرات لعین بنے ہوتے ہیں حتی کہ ان کی عالم کی حیثیت کو ہی تسلیم نہیں کیا جاتا ۔
اس جھگڑے میں ہمارا بحیثیت مسلمان قوم بڑا نقصان ہو رہا ہے ۔
چونکہ ہم میں دین پر کٹ مرنے کا جذبہ الحمدللہ آج بھی موجود ہے لہذا ہم عام آدمی سے زیادہ علمائے دین کی بات توجہ سے سننا اور اس پر عمل کرنا پسند کرتے ہیں ۔ اور علمائے دین کا چلن یہ بن چکا ہے کہ وہ سائنسی و دیگر معاشرتی علوم کو علم ماننے پر ہی تیار نہیں " حالانکہ اللہ تعالی خود اس بات کو علم قرار دے رہا ہے جو کچھ کہ زمینوں اور آسمانوں میں ہے " تو اس صورت میں تحقیق جو کہ ہر شعبہ میں آج کے مسلمان کی بنیادی ضرورت ہے اس کا کام کھٹائی میں نظر آتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ علم دین کے ساتھ ساتھ دیگر علوم کو بھی علم تسلیم کیا جائے ، اور ان کے عالموں کو بھی وہی توقیر دی جائے جو کہ ان کا حق ہے ، قرآن پاک تفکر اور تدبر پر زور دیتا ہے ، تو کوئی حرج نہیں کہ ایک مدرسے کا طالب علم اگر سافٹ وئیر انجنئیر بننا چاہے اور اس کے میلان طبع کو دیکھتے ہوے اندازہ ہوتا ہو کہ یہ اس شعبے میں ایک نابغے کی صورت سامنے آ سکتا ہے تو اس کو سافٹ ویئر انجنئیر بنا دیا جائے ، اسی طرح گورنمنٹ سائنس کالج کا کوئی طالب علم محسوس کرے کہ علم حدیث میں وہ زیادہ بہتر طریقہ سے کام کر سکتا ہے تو کوئی گناہ نہیں کہ اسے اس علم کے حصول کے لیئے کسی مدرسہ میں موجود محدث تک رسائی دی جائے نہ کہ اس کے راستے میں اس کے والدین اور اساتذہ تلواریں سونت کر کھڑے ہو جائیں ۔
مولانا طارق جمیل صاحب کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ وہ میڈیکل کی تعلیم کو ادھورا چھوڑ کر عالم دین بنے تھے ، وہ بہت اچھے عالم دین ہیں ممکن ہے ایک اچھے ڈاکٹر ثابت نہ ہوتے کیوں کہ یہ تو میلان طبع کی بات ہے ۔
اگر ہم نے بحیثیت مسلمان اپنی حیثیت کو بچانا ہے اور اہل مغرب سے مزید تمانچے کھانے سے بچنا چاہتے ہیں‌تو ہمیں وسیع النظری کا ثبوت دیتے ہوے اپنے طلبا پر چاہے وہ سکول میں پڑھتے ہوں یا مدرسے میں تحقیق کے در وا کرنے پڑیں گے ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم تمام علوم کی برابر اہمیت کو تسلیم کریں گے اور دینی علوم کے ساتھ ساتھ سائنسی و معاشرتی علوم کے حصول کو بھی حکم ربی جان کر بجا لانے کی کوشش کریں گے۔
رب زدنی علما
اے اللہ میرے علم میں اضافہ فرما

Last edited by شاہ جی 90; 08-04-10 at 02:03 AM..

 
شاہ جی 90's Avatar
شاہ جی 90
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 994
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
rabab (07-04-10), shafresha (07-04-10), کنعان (07-04-10), منتظمین (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), بزم خیال (04-05-10), حیدر (07-04-10), رضی (08-04-10), سحر (08-04-10), عروج (07-05-11)
پرانا 07-04-10, 04:23 AM   #2
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
سورۃ التوبہ 9، آیت نمبر 122
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں،
تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں
اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں
تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں


اس آیت کی مختصرا تفسیر یہ ہے کہ تمام افراد کے لیے ممکن نہیں کہ دین کی تعلیم مکمل طور پر اُس کے منابع سے حاصل کر سکیں۔ خدا کا حکم یہ ہے کہ کچھ افراد حاصل کرلیں اور وہی باقی افراد کو بتائیں۔


رسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا
وَمَن لَّم یُبَجِّل عَالِمِینَا فَلَیسَ مِنَّا
(سنن الترمذی، کتاب البر والصلة،ج:۴،ص:۲۲۳، )
جو اپنے علماء کی عزت نہ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
__________________



Last edited by کنعان; 07-04-10 at 04:26 AM.
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-10), ھارون اعظم (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), حیدر (07-04-10), حیدر Rehan (07-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (07-04-10)
پرانا 07-04-10, 11:18 AM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,151
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اسلام و علیکم ۔ ۔ ۔ ۔
موضوع بہت اچھا ہے ۔اور اہم بھی ۔
مگر اس کےلیے بہت ہی زیادہ معلومات اور اس پر بحث کی ضرورت ہوگی ۔
اگر کچھ اور اپ کے پاس اس موضوع سے مطق ہے تو پہلے اپ وہ بھی لکھیں تاکہ ہمیں اندازہ ہو کہ کس قسم کے سوال کریں ۔
کیونکہ جو سوال ابھی میرے زہن میں ہے وہ اتنا اہم ہے کہ جس کے لیے اپ کی یہ دلیلیں کم ہونگی ۔۔۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-10), کنعان (07-04-10), حیدر (07-04-10)
پرانا 07-04-10, 11:24 AM   #4
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,151
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,905 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
[COLOR="Green"]اس آیت کی مختصرا تفسیر یہ ہے کہ تمام افراد کے لیے ممکن نہیں کہ دین کی تعلیم مکمل طور پر اُس کے منابع سے حاصل کر سکیں۔ خدا کا حکم یہ ہے کہ کچھ افراد حاصل کرلیں اور وہی باقی افراد کو بتائیں۔


رسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا
وَمَن لَّم یُبَجِّل عَالِمِینَا فَلَیسَ مِنَّا
(سنن الترمذی، کتاب البر والصلة،ج:۴،ص:۲۲۳، )
جو اپنے علماء کی عزت نہ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔

اسلام و علیکم ۔ ۔۔
کنعان بھائی ۔۔۔۔ اپ نے سہی کہا
یہ تو ہو نہی سکتا کہ اگر طبیعت خراب ہو تو ہر کوئی ڈاکٹر بن جائے
یا اگر گھر بنانا مقصود ہوتو خود ہی شروع ہوجائیں

ایک ماہر کی ضرورت ہمیشہ اور ہر جگہ رہتی ہے ۔


اور اپکی دوسری بات بھی سہی ہے
کہ عالم کی عزت لازمی ہے
(لیکن عالم کو قرآن کی نظر میں بھی عالم ہی ہونا چاہیے) ورنہ وہ طالب علم ہی رہے گا ۔ یا شاید وہ بھی نہ ہو
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-10), کنعان (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), حیدر (07-04-10), عبداللہ حیدر (07-04-10)
پرانا 07-04-10, 03:32 PM   #5
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
اسلام و علیکم ۔ ۔۔
کنعان بھائی ۔۔۔۔ اپ نے سہی کہا
اور اپکی دوسری بات بھی سہی ہے
کہ عالم کی عزت لازمی ہے
(لیکن عالم کو قرآن کی نظر میں بھی عالم ہی ہونا چاہیے) ورنہ وہ طالب علم ہی رہے گا ۔ یا شاید وہ بھی نہ ہو
السلام علیکم حیدر بھائی

اس سے پہلے کوئی اور کچھ لکھ دے میں ہی تصحیح کر دوں، قرآن اور حدیث کی باتیں صحیح ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-04-10), محمدمبشرعلی (05-08-10), حیدر (07-04-10), حیدر Rehan (07-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (07-04-10)
پرانا 07-04-10, 09:09 PM   #6
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,377
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی شاہ جی باقی کا انتظار ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (08-04-10)
پرانا 08-04-10, 07:21 PM   #7
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام و علیکم حضرات تحریر مکمل ہو چکی ہے
اب آپ کھل کر سوالات کر سکتے ہیں
لیکن اگر کسی سوال کا جواب ہمیں نہ آیا تو معزرت پیشگی کیئے دیتے ہیں ہاں تلاش کر کے جواب دیا جا سکتا ہے۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (08-04-10)
پرانا 08-04-10, 10:23 PM   #8
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : کنعان مراسلہ دیکھیں
وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِيَنفِرُواْ كَآفَّةً فَلَوْلاَ نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُواْ فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُواْ قَوْمَهُمْ إِذَا رَجَعُواْ إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ
سورۃ التوبہ 9، آیت نمبر 122
اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ سارے کے سارے مسلمان (ایک ساتھ) نکل کھڑے ہوں،
تو ان میں سے ہر ایک گروہ (یا قبیلہ) کی ایک جماعت کیوں نہ نکلے کہ وہ لوگ دین میں تفقہ (یعنی خوب فہم و بصیرت) حاصل کریں
اور وہ اپنی قوم کو ڈرائیں جب وہ ان کی طرف پلٹ کر آئیں
تاکہ وہ (گناہوں اور نافرمانی کی زندگی سے) بچیں


اس آیت کی مختصرا تفسیر یہ ہے کہ تمام افراد کے لیے ممکن نہیں کہ دین کی تعلیم مکمل طور پر اُس کے منابع سے حاصل کر سکیں۔ خدا کا حکم یہ ہے کہ کچھ افراد حاصل کرلیں اور وہی باقی افراد کو بتائیں۔


رسول اللہ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا
وَمَن لَّم یُبَجِّل عَالِمِینَا فَلَیسَ مِنَّا
(سنن الترمذی، کتاب البر والصلة،ج:۴،ص:۲۲۳، )
جو اپنے علماء کی عزت نہ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
کنعان بھائی تحریر مکمل کر لی ہے
اس کا مطالعہ کر لیں
اس حوالے سے منتظمین بھائی کے حکم سے ایک الگ تھریڈ بنانے کا ارادہ ہے
آپ کے اس مراسلے کا شافی جواب وہیں دیا جائے گا
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-04-10), حیدر (08-04-10)
پرانا 08-04-10, 11:35 PM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کے علم سکھائے ہیں ۔
ایک علم الاسماء جو حضرت آدم علیہ السلام کو ناموں کا علم سکھایا ، جن سے فرشتے لاعلم تھے ۔ یہ دنیاوی علم یہی علم الاسماء ہے ۔ آپ دنیاوی علم دیکھیں کوئی بھی سیبجیکٹ کو لیں ، وہ دراصل ناموں کا علم ہی ہے ۔
میں چونکہ ڈاکٹر ہوں اس لیے علم طب کی بات کروں گی ۔ anatomy تو ہے ہی انسان کے اجزاء کے ناموں کا علم ، فزیالوجی ۔ انسان کے اجزاء کے فنکشن کا علم ہے لیکن اگر ہم تفصیل میں جائیں تو کسی بھی چیز کا فنکشن بھی ہم اور مختلف چیزوں کے ناموں کے علم سے ہی سیکھتے ہیں ۔
اسی طرح باقی تمام علم ، ناموں کا ہی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا ، اور آہستہ آہستہ تمام انسانیت میں منتقل ہورہا ہے ۔ دنیاوی علم انسان کا پیدا کردہ نہیں ، بلکہ انسان اتنا ہی سیکھ سکتا ہے جتنا اللہ نے یہ علم دنیا میں اتارا ۔
دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان تک پہنچایا ، اس کو روحانی علم بھی کہا جاسکتا ہے ۔
قرآن کا علم ، علم الاسماء نہیں ، اس علم کا تعلق انسان کی روح سے ہے ۔ قران میں اللہ نے علم الاسماء کا ذکر تو کیا ہے لیکن ناموں کا علم قرآن میں نہیں ہے ۔
مثال کے طور پر ۔ دل کو گناہوں سے پاک کرنے کا طریقہ تو قرآن مین ملے گا لیکن دل کے چار حصے ہوتے ہیں اور ان حصوں کو کیا کہتے ہیں یہ ہم کو قرآن میں نہیں ملے گا ۔
دونوں علم ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں ۔
لیکن اللہ کی نظر میں بھی افضل علم قرآن کا علم ہے ۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے ۔ تم میں بہترین انسان وہ ہے جو قرآن پڑھے اورقرآن پرھائے ۔
علم دونوں ہیں اور عالم بھی دونوں ہیں ۔ لیکن قرآن کے عالم کو عام دنیاوی عالم پر فضیلت حاصل ہوگی ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-04-10), حیدر Rehan (09-04-10), شاہ جی 90 (08-04-10), عبداللہ حیدر (09-04-10), عروج (07-05-11)
پرانا 08-04-10, 11:40 PM   #10
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کے علم سکھائے ہیں ۔
ایک علم الاسماء جو حضرت آدم علیہ السلام کو ناموں کا علم سکھایا ، جن سے فرشتے لاعلم تھے ۔ یہ دنیاوی علم یہی علم الاسماء ہے ۔ آپ دنیاوی علم دیکھیں کوئی بھی سیبجیکٹ کو لیں ، وہ دراصل ناموں کا علم ہی ہے ۔
میں چونکہ ڈاکٹر ہوں اس لیے علم طب کی بات کروں گی ۔ anatomy تو ہے ہی انسان کے اجزاء کے ناموں کا علم ، فزیالوجی ۔ انسان کے اجزاء کے فنکشن کا علم ہے لیکن اگر ہم تفصیل میں جائیں تو کسی بھی چیز کا فنکشن بھی ہم اور مختلف چیزوں کے ناموں کے علم سے ہی سیکھتے ہیں ۔
اسی طرح باقی تمام علم ، ناموں کا ہی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا ، اور آہستہ آہستہ تمام انسانیت میں منتقل ہورہا ہے ۔ دنیاوی علم انسان کا پیدا کردہ نہیں ، بلکہ انسان اتنا ہی سیکھ سکتا ہے جتنا اللہ نے یہ علم دنیا میں اتارا ۔
دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان تک پہنچایا ، اس کو روحانی علم بھی کہا جاسکتا ہے ۔
قرآن کا علم ، علم الاسماء نہیں ، اس علم کا تعلق انسان کی روح سے ہے ۔ قران میں اللہ نے علم الاسماء کا ذکر تو کیا ہے لیکن ناموں کا علم قرآن میں نہیں ہے ۔
مثال کے طور پر ۔ دل کو گناہوں سے پاک کرنے کا طریقہ تو قرآن مین ملے گا لیکن دل کے چار حصے ہوتے ہیں اور ان حصوں کو کیا کہتے ہیں یہ ہم کو قرآن میں نہیں ملے گا ۔
دونوں علم ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں ۔
لیکن اللہ کی نظر میں بھی افضل علم قرآن کا علم ہے ۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے ۔ تم میں بہترین انسان وہ ہے جو قرآن پڑھے اورقرآن پرھائے ۔
علم دونوں ہیں اور عالم بھی دونوں ہیں ۔ لیکن قرآن کے عالم کو عام دنیاوی عالم پر فضیلت حاصل ہوگی ۔
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
حیدر (08-04-10), حیدر Rehan (09-04-10), عبداللہ حیدر (09-04-10)
پرانا 08-04-10, 11:41 PM   #11
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالیٰ نے انسان کو دو طرح کے علم سکھائے ہیں ۔
ایک علم الاسماء جو حضرت آدم علیہ السلام کو ناموں کا علم سکھایا ، جن سے فرشتے لاعلم تھے ۔ یہ دنیاوی علم یہی علم الاسماء ہے ۔ آپ دنیاوی علم دیکھیں کوئی بھی سیبجیکٹ کو لیں ، وہ دراصل ناموں کا علم ہی ہے ۔
میں چونکہ ڈاکٹر ہوں اس لیے علم طب کی بات کروں گی ۔ anatomy تو ہے ہی انسان کے اجزاء کے ناموں کا علم ، فزیالوجی ۔ انسان کے اجزاء کے فنکشن کا علم ہے لیکن اگر ہم تفصیل میں جائیں تو کسی بھی چیز کا فنکشن بھی ہم اور مختلف چیزوں کے ناموں کے علم سے ہی سیکھتے ہیں ۔
اسی طرح باقی تمام علم ، ناموں کا ہی علم ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو سکھایا ، اور آہستہ آہستہ تمام انسانیت میں منتقل ہورہا ہے ۔ دنیاوی علم انسان کا پیدا کردہ نہیں ، بلکہ انسان اتنا ہی سیکھ سکتا ہے جتنا اللہ نے یہ علم دنیا میں اتارا ۔
دوسرا علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے انسان تک پہنچایا ، اس کو روحانی علم بھی کہا جاسکتا ہے ۔
قرآن کا علم ، علم الاسماء نہیں ، اس علم کا تعلق انسان کی روح سے ہے ۔ قران میں اللہ نے علم الاسماء کا ذکر تو کیا ہے لیکن ناموں کا علم قرآن میں نہیں ہے ۔
مثال کے طور پر ۔ دل کو گناہوں سے پاک کرنے کا طریقہ تو قرآن مین ملے گا لیکن دل کے چار حصے ہوتے ہیں اور ان حصوں کو کیا کہتے ہیں یہ ہم کو قرآن میں نہیں ملے گا ۔
دونوں علم ہی اللہ کے عطا کردہ ہیں ۔
لیکن اللہ کی نظر میں بھی افضل علم قرآن کا علم ہے ۔
حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا مفہوم ہے ۔ تم میں بہترین انسان وہ ہے جو قرآن پڑھے اورقرآن پرھائے ۔
علم دونوں ہیں اور عالم بھی دونوں ہیں ۔ لیکن قرآن کے عالم کو عام دنیاوی عالم پر فضیلت حاصل ہوگی ۔
بہنا یہی تو ہم نے گزارش کی تھی کہ اللہ تعالی نے ہمیں سائنسی علوم یا علم الاسما پر غور و فکر کی بار ہا قرآن میں دعوت دی ہے ۔ اور قرآن میں کئی جگہ علم الاسما کے حوالے موجود ہیں ۔ اگر اس علم کی اہمیت نہ ہوتی تو اللہ تعالی اسے حضرت آدم کو نہ سکھاتے ۔ گویا کہ یہ علم اللہ تعالی کی طرف سے انسان کے لیئے تحفہ ہے ۔ تو اب جب کہ انسان کو اس علم کی پہلے سے کہیں اشد ضرورت ہے ۔ ایسے حالات میں ہم سملمانوں کا کام بنتا ہے کہ ہر دو اقسام کے علوم کو یکساں اہمیت کی نظر سے دیکھیں نہ کہ ایک کو کمتر اور دوسرے کو برتر کیوں کہ علم بحر حال دونوں ہیں اور انہیں حاصل کرنے والوں کی فضیلت بھی برابر ہے ۔
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 08-04-10, 11:47 PM   #12
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اور جہاں تک روحانی علم کا تعلق ہے تو یہ بھی انسان کی تذکیہ نفس ہی کرتا ہے ۔ اگر آپ غور کریں تو اللہ کے ہر روحانی حکم میں بھی علم الاسما کی رو سے فائدے چھپے ہوے ہیں ، اس طرح میری سمجھ کے مطابق تو یہ ہر جگہ کو ریلیٹ کرتے ہیں ان میں حد تو وہی قائم کی جا سکتی ہے جو ہم نے بیان کر دی یعنی فقہ ، کا علم قرآن کا علم ، وغیرہ اور پھر مزید تمام اس کی شاخیں ہیں ، اور اللہ تعالی نے قرآن میں واضھ طور پر فرما دیا کہ تمام علوم اللہ تعالی کے پاس ہیں اور وہ جس کو چاہے اس میں سے کچھ عطا فرما دے ۔ تو اللہ کی عطا ہمارے خیال میں تو ہر حالت میں یکساں اہمیت کی حامل ہے ۔ ہم خدا نخواستہ علمائے دین کی اہمین اور توقیرکو ہر گز گھٹانا نہیں چاہتے بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ بقول آپ کے علم الاسما کے حامل افراد کو بھی قابل احترام گردانا جائے اور ان کو علمائے دین کے برابر توقیر دی جائے ، تا کہ مسلمانوں کا رحجان ایک بار پھر سے ان علوم کی جانب ہو سکے جن میں‌پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ہم آج ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
حیدر (08-04-10), حیدر Rehan (09-04-10)
پرانا 09-04-10, 12:00 AM   #13
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی بھائی
میں آپ کی تمام باتوں سے متفق ہوں سوائے ، دو باتوں کے ۔
پہلی قرآن کو تمام کتابون پر فضیلت حاصل ہے اسی طرح قرآن کے علم کو بھی تمام علم پر فضیلت حاصل ہے ۔
بے شک تمام علم اللہ کا عطا کردہ ہے لیکن قرآن کلام اللہ ہے ، اس کو ہم باقیوں کے برابر نہیں کرسکتے ۔
دوسری بات ۔
مسلمانوں کے ذلیل و خوار ہونے کی وجہ سائنس نا پڑھنا نہیں بلکہ قرآن کو نا سمجھنا اور اس پر عمل نا کرنا ہے ۔
ہم اپنے سب سے ذہین بچے کو ڈاکٹر انجینیر بناتے ہیں اور جو بچہ کچھ نہیں کرپاتا اس کو مدرسے میں ڈال دیتے ہیں ۔
یا مدرسوں میں ذیادہ تر بچے غریب گھرانوں کے ہوتے ہیں ۔
اپر کلاس کے بچوں نے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں کیا تیر مار لیا یا مسلمانوں کا کیا نام روشن کیا ۔ ان کو تو مواقع بھی بہت میسر ہوتے ہیں ۔
شکریہ
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (09-04-10), مسٹر شیف (10-04-10), حیدر (09-04-10), حیدر Rehan (09-04-10), راجہ اکرام (09-04-10), شاہ جی 90 (09-04-10), عبداللہ آدم (09-04-10), عبداللہ حیدر (09-04-10)
پرانا 09-04-10, 12:14 AM   #14
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,377
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

محترمہ سحر نے کہا کہ "علم دونوں ہی ہیں تاہم قرآن کے عالم کو اسما کے عالم (یعنی دنیاوی علوم کے عالم )پر سبقت حاصل ہو گی"

ہم زیادہ جھمیلوں میں نہیں پڑتے ۔ فرض کیے لیتے ہیں کہ سب کچھ اچھا ہے۔ بُرا کچھ نہیں مسلمانوں میں۔
اب کیس فرض کریں کہ ایک طرف قران کا عالم ہے مثلاً مولانا وغیرہ۔ اچھے عالم ہیں۔ مسلمانوں کی دینی معاملات میں اچھی رہنمائی کرتے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیں جن کے کارنامے ایٹم بم، میزائل، تعلیمی خدمات کی وجہ سے مشہور عام ہیں۔ دونوں نے مسلمانوں اور اسلام کے دفاع میں نہایت اہم کام کیا ۔ ایک نے رہنمائی کی جو قرآن کا ایک حکم ہے۔ دوسرے نے جہاد کے لیے ہتھیار فراہم کیا جو قرآن کا دوسرا حکم ہے۔
کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ داکٹر عبدالقدیر خان کا کام چھوٹے درجے کا ہے (اسی بات کو الٹ کر کہہ لیں کہ داکٹر عبدالقدیر چھوٹے درجے کا عالم ہے کیوں کہ اسکے پاس چھوٹے درجے کا علم ہے)یاد رہے کہ بعضے احادیث کی روشنی میں جہاد کو سب کاموں پر فضلیت دی گئی ہے۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟/
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
حیدر Rehan (09-04-10), رضی (09-04-10), شاہ جی 90 (09-04-10)
پرانا 09-04-10, 02:29 AM   #15
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اور جو بچہ کچھ نہیں کر پاتا اس کو مدرسے میں ڈال دیتے ہیں ۔
یا مدرسوں میں ذیادہ تر بچے غریب گھرانوں کے ہوتے ہیں ۔
السلام علیکم

یہ باتیں آپ نے بہت اچھی پیش کی ہیں، لاہور میں ہماری لوکل مسجد میں علامہ صاحب بھی یہ فرمایا کرتے تھے کہ جو بچہ اپاہج ہوتا ھے یا کچھ نہیں کر پاتا اسے مدرسہ میں داخل کروا دیتے ہیں،

یہ بھی درست ھے کہ مدرسوں میں زیادہ تر غریب گھرانوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

مگر

اب کچھ تبدیلی ہو رہی ھے جیسا ایک فارم میں کسی نے سعودی عرب میں دینی تعلیم کے لئے کالج کے بارے میں معلومات حاصل کرنی تھی تو کسی نے بتایا تھا کہ میڑک سائنس کے ساتھ 60 فی صد نمبر ہیں تو اس پر وہ چھوٹا سا دینی ٹیسٹ لیتے ہیں اگر پاس ہو گئے تو داخلہ مل جاتا ھے۔
میری رائے کے مطابق عالم بننے کے لئے اتنی تعلیم ہونا ضروری ھے۔ باقی پاکستان میں بھی جو مکمل دینی تعلیم دی جاتی ھے تو اس کا سرٹیفیکیٹ بھی ڈگری لیول کا ہی ہوتا ھے۔

میری ایک کزن نے اپنے بیٹے کو سعودی عرب میں رہ کر قرآن مجید حفظ کروایا پھر اس کے بعد سکول کی تعلیم اور اب وہ آئی۔ٹی کر رہا ھے۔ اسطرح بہت سے لڑکے لڑکیوں نے بھی قرآن مجید حفظ کئے ہوئے ہیں ہماری فیملی میں مگر اس کے بعد کوئی پراگرس نہیں، دنیاوی تعلیم کے پیچھے ہی بھاگ رہے ہیں۔

والسلام
کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-04-10), حیدر (09-04-10), حیدر Rehan (09-04-10), سحر (09-04-10), شاہ جی 90 (09-04-10)
جواب

Tags
color, green, system, ہے۔, کس, وضاحت, نظر, منتقل, آج, ایمان, اللہ, انسان, اسلامی, جواب, حدیث, رفتار, سال, سائنس, علوم, علم, علاج, عالم, غیب, صدیوں, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:14 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger