عمران خان،جناب عطاء الحق قاسمی اور جناب عرفان صدیقی کی عدالت میں
یکم نومبر ١ ٢٠١ء کو قاسمی صاحب نے لکھا ۔ ''عمران خان کا جلسہ''
٢نومبر کو صد یقی صاحب نے لکھا۔ ''اصل چیلنج کچھ اور ہے''
عرصہ ہوا قاسمی صاحب نے سرگودھا میں ایک مشاعرہ کی بڑی دل کش روداد لکھی جس میں ایک مقامی شاعر مولوی محمداسلم کی دو غزلوں کے آٹھ اشعار لکھے تھے۔
غزلوں کے صرف چار اشعار قاسمی صاحب کے حضور پیش کرتا ہوں۔
١
جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر
جہاں میں مانگنے والوں کے سراونچے نہیں رہتے
یقینا یہ رعایا بادشاہ کو قتل کردے گی
مسلسل جبر سے اسلم دلو ں میں ڈر نہیں رہتا
٢
روِشنی پھیلانے والے کو سزادی جائے گی
جب اندھیرا شہر کا فر نبردار ہو جائے گا
آدمی کو آدمی رہنے د و بہتر ہے یہی
جس کی تم پو جا کرو گے وہ خداہو جائے گا۔
کشمیر میں زلزلہ کے بعد ٢٤ اکتوبر ٢٠٠٥ ء کو صد یقی صاحب نے کالم میں فرمایا۔
متاثرین کی خد مت کرنے میں سب تنظیموں سے زیادہ جہادیوں نے بے مثال کار کردگی دکھائی ہے۔
ان جہادی تنظیموں کی فہرست میں لشکرہ سپاہ جھنگوی کو بھی لکھا۔ جہادی تنظیموں کے بارے میں بھی دو آ راء ملک میں موجود ہیں۔
لیکن لشکرہ سپاہ جھنگوی کا ایک دہشت گرد گروہ ہونے کے بارے میں تو ایک ہی رائے ہے۔
تاریخ یاد نہیں غالبًا ٢٠٠٨ء کے انتخاب کے موقع پر اور ٢٠٠٩ء سے پہلے کسی کالم میں نواز شریف کو ملک کا بہت بڑا دانشور اور ان کی سیاسی فر است ثابت کرنے کے لئے آپ نے خوب قلمی جوہردکھائے۔
اصل حقائق کو خوب صورت الفاظ کے پردہ میں چھپانے کی ناکام کوشش کی ۔ہمارے ملک کے یہ عظیم دانشور جناب نواز شریف دو فقر ے ڈھنگ سے نہیں بول نہیں سکتے !جب تک ان کے کندھے کے ساتھ کوئی مشاہد حسین کھڑا نہ ہو۔ ان کا ہر دوسرا لفظ ان کے قریب کھڑے کسی دوسر ے شخص کا ہو تا ہے۔
ہمارے بادشاہ سلامت پڑھنا اور لکھنااپنی شان اعلی کے خلاف یا توہین خیال کرتے ہیں۔یہ دونوں کام شاہ معظم نے قاسمی اور صد یقی صاحب کے ذمہ کر رکھے ہیں۔
صدیقی صاحب نے تیسرا کالم عمران خان کے جلسے کے بعد ٢نومبر کو لکھا۔
فرماتے ہیں ۔ '' عمران خان صرف ن لیگ کے ووٹ تقسیم کرکے ن لیگ کی حکومت کی بجائے زرداری کی حکومت کا راستہ ہموار کررہاہے۔''
صدیقی صاحب کے الفاظ ہیں '' یہ ہے ا صل نکتہ جس کے باعث نہ صرف خان صاحب بلکہ ہر اس سیاسی جماعت کا جلسہ اور جلوس جناب آصف علی زرداری کی شطرنجی سیاست پر ابر نو بہار کی طرح برسے گا۔ ' '
قوم کو خو ب یاد ہے کہ لندن میںآل پاکستان پارٹی کنونشن کے بعد الیکشن کا بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔
محتر مہ بے نظیر بھٹو نے کمال دانشمندی سے میا ں صاحب کو انتخاب میں حصہ لینے پر آمادہ کرلیا۔
میاں صاحب کی دانشمندی کا نتیجہ ہے۔ لیگ کے ووٹ تقسیم ہو ئے ن لیگ کی بجائے زرداری کی حکومت و جود میں آئی۔
مزید اگلے ساڑھے تین سال زرداری صاحب کی شطرنجی سیاست کے سامنے میا ں صاحب کی دانشمندی ن لیگ کے کام نہ آئی۔
پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ہے۔ذرا فرمائیں گا۔انہوں نے کیا اچھا اور کو ن ساکام سیدھا کیا ہے؟
اس کے برعکس ق لیگ (کر پٹ مافیا) نے ١١٢٢ کی سروس قوم کو دی۔اور یہ زندہ مثال ہے۔صدیقی صاحب کے پاس ن لیگ کے ان دوکارناموں پر لکھنے کو کچھ ہے؟
١۔خزانہ کے اربوں روپے تندورں میں جھونک دئیے۔؟
٢۔پھر دوبارہ بدنام زمانہ پیلی ٹیکسی کا ناکام منصوبہ؟
ہمارے ملک کے سیا ستدانوں نے ہمیں تو کولہو کے بیل سمجھتے رہے اور ہم بنے رہے
مگر یہ ہمارے نوجوان بچے بچیاں ان کے بیل ہر گز نہ بنیں گے
اگر خدانخواستہ عمران خان بھی دھوکہ دے گا۔ تو یقینا نوجوان اسے بھی مسترد کردیں گے ان شاء اللہ
کیا خو ب ہیں صدیقی صاحب کے دانشور کی دانشمندی کی روایات !
قیمت سے خریدو اگر کوئی بکنے پر تیار نہیں ہے تو طاقت سے میدان صاف کرنے کی تدبیریں کرو۔
اس میدان میں موصوف نے بڑے بڑے میدان مارے ہیں۔حتی کہ سپر یم کورٹ پر حملہ کر کے بھی فاتح رہے۔
پھر وہی کچھ اس عظیم فاتح کے ساتھ ہوا۔ ہر اس فاتح کا مقد رہوتا ہے۔جوخواہش کرتا ہے کہ ساری دنیا کو فتح کر کے غلام بنانا ہے۔
عمران خان،جناب عطاء الحق قاسمی اور جناب عرفان صدیقی کی عدالت میں
یکم نومبر ١ ٢٠١ء کو قاسمی صاحب نے لکھا ۔ ''عمران خان کا جلسہ''
٢نومبر کو صد یقی صاحب نے لکھا۔ ''اصل چیلنج کچھ اور ہے''
عرصہ ہوا قاسمی صاحب نے سرگودھا میں ایک مشاعرہ کی بڑی دل کش روداد لکھی جس میں ایک مقامی شاعر مولوی محمداسلم کی دو غزلوں کے آٹھ اشعار لکھے تھے۔
غزلوں کے صرف چار اشعار قاسمی صاحب کے حضور پیش کرتا ہوں۔
١
جھکا دے گا تیری گردن کو یہ خیرات کا پتھر
جہاں میں مانگنے والوں کے سراونچے نہیں رہتے
یقینا یہ رعایا بادشاہ کو قتل کردے گی
مسلسل جبر سے اسلم دلو ں میں ڈر نہیں رہتا
٢
روِشنی پھیلانے والے کو سزادی جائے گی
جب اندھیرا شہر کا فر نبردار ہو جائے گا
آدمی کو آدمی رہنے د و بہتر ہے یہی
جس کی تم پو جا کرو گے وہ خداہو جائے گا۔
کشمیر میں زلزلہ کے بعد ٢٤ اکتوبر ٢٠٠٥ ء کو صد یقی صاحب نے کالم میں فرمایا۔
متاثرین کی خد مت کرنے میں سب تنظیموں سے زیادہ جہادیوں نے بے مثال کار کردگی دکھائی ہے۔
ان جہادی تنظیموں کی فہرست میں لشکرہ سپاہ جھنگوی کو بھی لکھا۔ جہادی تنظیموں کے بارے میں بھی دو آ راء ملک میں موجود ہیں۔
لیکن لشکرہ سپاہ جھنگوی کا ایک دہشت گرد گروہ ہونے کے بارے میں تو ایک ہی رائے ہے۔
تاریخ یاد نہیں غالبًا ٢٠٠٨ء کے انتخاب کے موقع پر اور ٢٠٠٩ء سے پہلے کسی کالم میں نواز شریف کو ملک کا بہت بڑا دانشور اور ان کی سیاسی فر است ثابت کرنے کے لئے آپ نے خوب قلمی جوہردکھائے۔
اصل حقائق کو خوب صورت الفاظ کے پردہ میں چھپانے کی ناکام کوشش کی ۔ہمارے ملک کے یہ عظیم دانشور جناب نواز شریف دو فقر ے ڈھنگ سے نہیں بول نہیں سکتے !جب تک ان کے کندھے کے ساتھ کوئی مشاہد حسین کھڑا نہ ہو۔ ان کا ہر دوسرا لفظ ان کے قریب کھڑے کسی دوسر ے شخص کا ہو تا ہے۔
ہمارے بادشاہ سلامت پڑھنا اور لکھنااپنی شان اعلی کے خلاف یا توہین خیال کرتے ہیں۔یہ دونوں کام شاہ معظم نے قاسمی اور صد یقی صاحب کے ذمہ کر رکھے ہیں۔
صدیقی صاحب نے تیسرا کالم عمران خان کے جلسے کے بعد ٢نومبر کو لکھا۔
فرماتے ہیں ۔ '' عمران خان صرف ن لیگ کے ووٹ تقسیم کرکے ن لیگ کی حکومت کی بجائے زرداری کی حکومت کا راستہ ہموار کررہاہے۔''
صدیقی صاحب کے الفاظ ہیں '' یہ ہے ا صل نکتہ جس کے باعث نہ صرف خان صاحب بلکہ ہر اس سیاسی جماعت کا جلسہ اور جلوس جناب آصف علی زرداری کی شطرنجی سیاست پر ابر نو بہار کی طرح برسے گا۔ ' '
قوم کو خو ب یاد ہے کہ لندن میںآل پاکستان پارٹی کنونشن کے بعد الیکشن کا بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔
محتر مہ بے نظیر بھٹو نے کمال دانشمندی سے میا ں صاحب کو انتخاب میں حصہ لینے پر آمادہ کرلیا۔
میاں صاحب کی دانشمندی کا نتیجہ ہے۔ لیگ کے ووٹ تقسیم ہو ئے ن لیگ کی بجائے زرداری کی حکومت و جود میں آئی۔
مزید اگلے ساڑھے تین سال زرداری صاحب کی شطرنجی سیاست کے سامنے میا ں صاحب کی دانشمندی ن لیگ کے کام نہ آئی۔
پنجاب میں ن لیگ کی حکومت ہے۔ذرا فرمائیں گا۔انہوں نے کیا اچھا اور کو ن ساکام سیدھا کیا ہے؟
اس کے برعکس ق لیگ (کر پٹ مافیا) نے ١١٢٢ کی سروس قوم کو دی۔اور یہ زندہ مثال ہے۔صدیقی صاحب کے پاس ن لیگ کے ان دوکارناموں پر لکھنے کو کچھ ہے؟
١۔خزانہ کے اربوں روپے تندورں میں جھونک دئیے۔؟
٢۔پھر دوبارہ بدنام زمانہ پیلی ٹیکسی کا ناکام منصوبہ؟
ہمارے ملک کے سیا ستدانوں نے ہمیں تو کولہو کے بیل سمجھتے رہے اور ہم بنے رہے
مگر یہ ہمارے نوجوان بچے بچیاں ان کے بیل ہر گز نہ بنیں گے
اگر خدانخواستہ عمران خان بھی دھوکہ دے گا۔ تو یقینا نوجوان اسے بھی مسترد کردیں گے ان شاء اللہ
کیا خو ب ہیں صدیقی صاحب کے دانشور کی دانشمندی کی روایات !
قیمت سے خریدو اگر کوئی بکنے پر تیار نہیں ہے تو طاقت سے میدان صاف کرنے کی تدبیریں کرو۔
اس میدان میں موصوف نے بڑے بڑے میدان مارے ہیں۔حتی کہ سپر یم کورٹ پر حملہ کر کے بھی فاتح رہے۔
پھر وہی کچھ اس عظیم فاتح کے ساتھ ہوا۔ ہر اس فاتح کا مقد رہوتا ہے۔جوخواہش کرتا ہے کہ ساری دنیا کو فتح کر کے غلام بنانا ہے۔
افتخار احمد
خانیوال