واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-11-11, 04:27 PM   #1
عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 28-11-11, 04:27 PM

اجمل شاہ دین ایک منجھے ہوئے صحافی ہیں، آج کا کالم ان کے ارشادات کی نظر ہے، ملاحظہ فرمائیں:
برادرم قاسمی صاحب، سلام مسنون! آپ کے کالم کی وساطت سے چند گزارشات پیش کرنا چاہتاہوں، گزارش یہ ہے کہ جناب عمران خان تبدیلی لانے کے داعی ہیں اور انہیں کون نہیں جانتا۔

وہ مشہور کرکٹر اور سوشل ورکر ہیں، بجا طورپر انہوں نے شوکت خانم کینسر ہسپتال کے قیام کا کارنامہ قوم سے مل کر سرانجام دیامگر جب ہم پیچھے مڑ کر پس منظر کی طرف دیکھتے ہیں تویاد آتا ہے کہ جوہر ٹاؤن میں اتنی وسیع اراضی میاں محمد نواز شریف نے انہیں اس نیک کام کے لئے الاٹ کی۔ 1991ء کے اوائل میں اس کا سنگ بنیاد بھی میاں صاحب نے رکھا، یہ پتھر 1996ء تک موجود رہا اورانصاف کے علمبردار نے ادھر تحریک انصاف کی بنیاد رکھی، ادھر نوازشریف کے نام کا یہ سنگ بنیاد اکھاڑ پھینکا۔ بعد میں بھی میاں صاحب نے ذاتی حیثیت میں بھی ہسپتال کی مقدور بھر خدمت کا سلسلہ جاری رکھا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے اپنی سیاست کی بنیاد کبھی اپنی فلاحی اور غریبوں کی مدد جیسے اچھے کاموں کو نہیں بنایا کہ ان کو وہ اپنا اخلاقی، انسانی اور دینی فرض سمجھتے ہیں۔ یہاں صبح و شام تکرار ہوتی ہے کہ چونکہ عمران خان نے ہسپتال بنایا اس لئے اسے ووٹ بھی ملنے چاہئیں، اگر فلاحی خدمات ہی ملک کے اہم لیڈرکے چناؤ کا پیمانہ ہونا چاہئے تو پھر اصولاً یہ حق جناب عبد الستار ایدھی کا ہے جن کی فلاحی خدمات کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔

جناب خان صاحب کے نظریاتی تسلسل پر نظر ڈالی جائے تو سرے سے تسلسل ملتا ہی نہیں، 1997ء کے الیکشن میں آپ کچھ فرما رہے تھے، 1999ء میں جب مشرف نے پاکستان پر شب خون مارا تو ”قائد جمہوریت“ اورقائداعظم کے سچے پیروکار جناب عمران خان خیر مقدم میں پیش پیش تھے۔ اس سے ذرا پہلے جب جنرل حمید گل صاحب اور عبدالستار ایدھی جیسی نمایاں شخصیات نے فوج کو ٹیکنو کریٹس حکومت کا فارمولا پیش کیا تو اس وقت بھی جناب عمران خان اسکا حصہ تھے، مشرف نے بدنام زمانہ ریفرنڈم کرایا تو جناب عمران خان وزارت عظمیٰ کا خواب آنکھوں میں سجائے مشرف کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر کھڑے تھے۔ اس وقت کے اخبارات اور ٹی وی چینل کی ریکارڈنگ نکالئے تو دونوں ایک دوسرے کی محبت میں باہم سرشار نظر آئیں گے مگر افسوس چوہدریوں کا ”کلہ“ مضبوط نکلا۔ اس کے بعد عمران خان پرویز مشرف مخالف ہوگئے اور ان پران کی ساری خامیاں کھل گئیں جب مشرف لوکل اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے لئے بے کارہوگئے توپاکستان کے لئے نیا ورلڈ آرڈر تشکیل دیا گیا۔

اگر اے پی ڈی ایم مشترکہ طور پرالیکشن لڑتا تو سادہ اکثریت ضرور حاصل کرلیتا مگر جناب عمران خان اور سابق پاکستان اسلامی فرنٹ کے سربراہ قاضی حسین احمد نے دوسری قوم پرست جماعتوں سے بھی بائیکاٹ کرا دیا۔ نتیجتاً امریکی سکرپٹ کے عین مطابق پیپلز پارٹی اور دوسری اتحادی جماعتیں سادہ اکثریت میں آگئیں۔ حتیٰ کہ آصف زرداری پاکستان کے صدربن گئے۔ آج بھی حیرت ہوتی ہے کہ اس ملک میں یہ کچھ بھی ہوا لیکن عمران خان کہتے ہیں کہ زرداری ، نواز شریف کی وجہ سے صدر ہے۔

راستہ تو آپ نے صاف کیا اور کمال مہارت سے اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک کے عوام پرزرداری کو مسلط کر دیا اور پھر خود بھی توسیع لے گئے۔ زرداری کو لانے کے سب سے بڑے مجرم تو آپ ہوئے۔ خان صاحب کا ذرا یہ انداز بھی ملاحظہ ہو:
کہ حکومت زرداری صاحب کی ہے گرجتے وہ نوازشریف پر ہیں، کرپشن کی غلاظت سے اسلام آباد لتھڑا ہواہے مگربرستے وہ نوازشریف پرہیں ، کراچی میں لاشیں گرتیں ہیں تب بھی عمران خان کی توپوں کا رخ مسلم لیگ (ن) کی جانب ہی ہے۔ کوئی اندھا آدمی بھی میاں نواز شریف اور زرداری میں امتیاز کر سکتا ہے اور گوجر خان کا کوئی دیہاتی بھی۔ مگر موصوف تو وہی کریں گے جسکا انہیں اشارہ ملا ہے۔ وہی ڈیوٹی پوری کریں گے جوان کے ذمے لگائی گئی ہے اوروہ ہے میاں نوازشریف کا راستہ روکنا جو اس ملک کے سٹیٹس کو اور مافیا سٹائل کے لئے خطرہ ہے۔ دور نہ جایئے اسی پر غور کیجئے جناب الطاف حسین نے زندگی کی مختصر ترین تقریر کیوں کی تاکہ عمران خان کے جلسے کوبھرپور کوریج مل سکے؟ جناب الطاف حسین، چوہدری شجاعت حسین اور وفاقی و زراء کی اس جلسے پرخوشی کے مارے باچھیں کھل جانا کیا اب بھی معاملہ واضح نہیں ہوا؟

پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی سازش کو سمجھنے کے لئے آیئے جناب عمران خان کی ٹیم پر بھی غور کرتے ہیں تحریک انصاف کے سب سے قابل ذکر رہنما میاں اظہر جو نواز شریف حکومت گرنے سے پہلے ہی ایجنسیوں سے رابطے میں تھے، مشرف مارشل لاء لائے تومٹھائیاں بانٹیں، اگلے دن ہی مشرف کے با اعتمادساتھی کے طورپر مسلم لیگ ہم خیال، موجودہ ق لیگ کے قیام کا اعلان کیا اور خفیہ ادارے لوگوں کو ڈرا دھمکاکر مسلم لیگ ن توڑنے پر معمور ہوئے اور انہیں توڑ کر ق لیگ کا حصہ بنایا جاتا رہا۔ اچانک اتنے برسوں بعد میاں اظہر کو کون تحریک انصاف میں لایا؟ آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی جانتا ہوں، عوام بھی جانتے ہیں۔ دوسرے رہنما جولاہور سے تعلق رکھتے ہیں اور لاہور کے جلسوں کے لئے سینکڑوں نوجوان فراہم کرتے ہیں وہ ہیں ملک ظہیر عباس کھوکھر، موصوف پیپلز پارٹی میں تھے کہ ان کے سسر ملک کرامت کھوکھر پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما ہیں۔ 2002ء میں ایم پی اے بنے، جب ایجنسیوں نے پیٹریاٹ بنائی تو فوراً اس میں شامل ہوگئے۔ پھر ق لیگ کے ٹکٹ سے الیکشن لڑے اور ہار گئے۔ ان کے سسر اب بھی پیپلز پارٹی میں ہی ہیں۔ دونوں کاحلقہ اثر اور کارکنان ایک ہی ہیں لہٰذا تحریک انصاف کے جلسے میں اگر پیپلز پارٹی کے لوگ بھی چلے گئے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ تیسرے اہم شاہد اکرم بھنڈر ہیں یہ صاحب ق لیگ کے ایم این اے تھے اور عدلیہ بحالی تحریک کے دوران مشہور زمانہ جناب وصی ظفر صاحب کے ساتھ وزیر مملکت برائے قانون تھے جب پرویز مشرف نے جسٹس افتخار چودھری کومعزول کر رکھا تھا اور تمام قوم واضح طور پر چیف جسٹس کے پیچھے کھڑی تھی، اسکے باوجود شاہد اکرم بھنڈر صاحب نے عہدہ اور پارٹی چھوڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ 2008ء کے الیکشن میں وہ مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سے واضح فرق سے ہار گئے۔ چوتھا قابل ذکر نام راؤ جہانزیب کا ہے جو 2002ء میں ان معدودے چند ایم پی ایز میں شامل تھے جو مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے لیکن کچھ ہی دیر بعد کنگز پارٹی یعنی مسلم لیگ (ق) میں شامل ہوگئے ۔ پچھلے الیکشن میں عوام نے انہیں اس بے وفائی کی سزا دی۔ پانچواں نام فیروزوالہ کے سابق تحصیل ناظم انوار الحق کاہے اور سبھی لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ مشرف دور میں ضلع ناظم اور تحصیل ناظمین کا انتخاب کون سی خفیہ ایجنسی کیا کرتی تھی…اب تو خفیہ ایجنسی کے سربراہ مسعود مشریف بھی ”تبدیلی“ لانے کے لئے عمران خان کی ٹیم میں شامل ہوگئے ہیں یقینا کچھ اچھے لوگ بھی ہوں گے جو تبدیلی کے لئے شامل ہوئے لیکن کیا یہ محض اتفاق ہے کہ تحریک انصاف کو جلسہ گاہ کے لئے افرادی قوت مہیا کرنے والے قابل ذکر ناموں کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے رہا ہے اوروہ اس کی منشاء کے مطابق ناچتے آئے ہیں۔ کیا ان کڑیوں کو ملانے سے تصویر مکمل نہیں ہوتی؟ چلئے ایک اور واضح ثبوت بیان کرتے ہیں۔ محترم عمران خان نے اپنی ایڈکمپین اور امیج بلڈنگ کے لئے جس ایڈورٹائزنگ ایجنسی کی خدمات حاصل کی ہیں اس کے مالک اکثر و بیشتر ایوان صدر میں پائے جاتے ہیں اور وفاقی حکومت کی زیادہ تر ایڈ کمپینز بھی اسی ایجنسی کے پاس ہیں۔ اب بھی اس امر میں کوئی شک ہے کہ ڈائریکشن کہاں سے ہو رہی تھی؟ حقیقت یہ ہے کہ کہ تحریک انصاف کنگز پارٹی یعنی مسلم لیگ (ق) کا دوسرا جنم ہے اوراس کے لئے مقتدر حلقوں کو داد دی جانی چاہئے کہ وہ کنگز پارٹی کی تخلیق میں بے مثال مہارت رکھتے ہیں۔ اگر اس سلسلے میں کسی کو سب سے بڑا ایوارڈ دیا جاسکتا ہے تو آب پارہ کے مکین ہی سب سے زیادہ مستحق ہیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 171
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (28-11-11), بنت حوا (28-11-11), تبتیلا انجم (29-11-11)
پرانا 28-11-11, 07:41 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی بغیر ایجینسوں کی مدد کے کوئی بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ ایک مرتبہ عمران خان کو بھی چانس ملنا چاہیئے ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ بہتر انسان ثابت ہو۔ اگر عمران خان کے خلاف پرپیگینڈا جاری رہا تو پھر شرفاء اور آری آ جائیں گے ۔ اور اسی طرح دال اور چینی کا بھاؤ پتا چلتا رہے گا۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-11, 07:58 PM   #3
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,339
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,044 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر ایجنسیوں کے بندے نے ہی کامیاب ہونا ہے تو پھر یہ ساری بحث بے معنی ہے، چپ کر کے اپنی تقدیر کے فیصلے کا انتظار کریں۔
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-11-11, 08:37 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بس اب اندازہ کر لیں کہ کون کیا کر رہا ہے اور کیسے کر رہا ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کمال, کراچی, پاکستان, وزیر, چینل, نواز شریف, نظر, مکمل, موجودہ, محبت, آج, آدمی, آصف زرداری, اسلامی, تصویر, خون, خان, زندگی, زمانہ, زرداری, سیاست, شام, عمران خان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن خالی کرائے جانے کا امکان: ناسا زبیرافتحار خبریں 1 01-09-11 10:50 PM
کانسٹیبل شیراز احمد قہقہے ہی قہقے 2 27-02-09 07:36 AM
لاہور: سٹیج رقص پر پابندی معطل فیصل ناصر خبریں 6 10-12-08 07:01 AM
جاپانی لیب خلائی سٹیشن سے جڑ گئی محمدعدنان ملٹری سائنس 1 05-06-08 10:31 PM
دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم اس کے کردار Real_Light گپ شپ 12 17-05-08 11:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:17 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger