واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


عمران خان کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-11-11, 10:23 PM   #1
عمران خان کے لیے مستقبل کا لائحہ عمل
یاسر عمران مرزا یاسر عمران مرزا آن لائن ہے 01-11-11, 10:23 PM

اس کالم کا عنوان تو کچھ اور ہی ہے تاہم متن کے حساب سے میں نے عنوان تبدیل کیا ہے۔ تحریک انصاف کے آفیشیلز اور عمران خان کو یہ ضرور پڑھنا چاہیے۔

عمران خان جب پانی پت ( لاہور) کا محاذ فتح کر کے فارغ ہوا، تو میرے ذہن میں جس شخص کا نام آیا کہ اسے مبارک دینی چاہیے ، وہ ٹاپ کے پاکستانی کالم نگار ہارون الرشید کا تھا۔ہارون الرشید نے اس وقت عمران پر اپنا پورا یقین برقرار رکھا جب ان کی اپنی بیوی جمائعہ خان بھی مایوس ہو کر ان سے طلاق لے کرلندن لوٹ گئی تھی۔ وہ تو عمران سے اتنی مایوس ہوئی کہ اپنے ساتھ اپنے دو بیٹے بھی لے گئی کہ اسے شک تھا کہ عمران ان کی پرورش کر سکے گا، ملک کے بچوں کا مستقبل بنانے کے دعوی کرنے تو دور کی بات تھی !
جب بندے پر بیوی ہی اعتماد نہ کرے ، تو پھر اور کسی سے کیا گلا۔ اگرچہ عمران نے اپنی تازہ آپ بیتی میں سیف اللہ نیازی کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ واحد شخص تھا جو 1997 کے انتخابات میں بری طرح شکست کے بعد بھی اس کے ساتھ کھڑا رہا۔ باقی سب یار دوست اور سیاسی ہمنوا عمران کو اپنے زخم اکیلے چاٹنے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ میرا خیال ہے کہ عمران خان بھول گئے تھے کہ ایک اور شخص بھی ان کے ساتھ پورے قد اور ایک طرح کی ضد کے ساتھ کھڑا تھا جس کو شروع دن سے یقین تھا کہ عمران ایک دن کچھ کر گزرے گا اور اس کا نام ہارون الرشید ہے۔

ہارون الرشید نے عمران خان کے نام پر جتنے طعنے سنے ہیں، گالیاں سہی ہیں اور ان کا اپنی ہی برادری کے لوگوں نے مذاق اڑایا ، وہ ایک اور لمبی داستان ہے۔ اتنے طعنے تو شاید عمران نے خود بھی نہ سنے ہوں گے جتنے ہارون صاحب کو سننے پڑے۔ ہارون الرشید کو طعنے دینے والوں میں، میں بھی شامل تھا۔
آج میں ہارون الرشید سے معذرت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کیونکہ ان کا کہا سچ ہوا ہے کہ انقلاب آرہا ہے یا بقول عمران خان کا انقلاب آگیا ہے ! لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہارون الرشید نے کسی کا ادھار بھی نہیں رکھا۔ انہوں نے بھی کسی کو معاف نہیں کیا اور اپنے قلم کی کاٹ سے ہر اس کالم نگار کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ، جس نے ان کا عمران کے حوالے سے مذاق اڑانے کی کوشش کی لہذا ہارون الرشید کے دل میں یہ کسک باقی نہیں رہی کہ ان پر تنقید ہوئی تو انہوں نے معاف کردیا۔ معاف ہارون الرشید صاحب کسی کو نہیں کرتے ہر ایک کو ان کے حصے کا دے کر گھر بھیجتے ہیں!
عمران کے تاریخ ساز جلسے کے باوجود میں ابھی بھی سمجھتا ہوں کی عمران کو کچھ اہم معاملات پر اپنے ساتھ ڈائیلاگ کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی پالیسی کی سمت بڑی حد تک درست ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ عمران کو فارن پالیسی کا کوئی علم نہیں اور شاید وہ ابھی اس بارے میں غور کرنا بھی نہیں چاہتا۔ اس لیے عمران نے کہا کہ ہندوستان سن لو کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں، تم اپنی فوجیں واپس بلا لو۔ ہوسکتا ہے کہ ہندوستان نے یہ نعرہ سن کر سکھ کا سانس لیا کہ عمران پہلا پاکستانی لیڈر ہے جس نے یہ نہیں کہا کہ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرت کر کے کشمیر کا مسلہ حل کرائیں گے۔ عمران سے توقع تھی کہ وہ ہندوستان کے ساتھ مسائل حل کرنے کے لیے نیا فارمولہ دیں گے لیکن وہ بھی 65 سال سے جاری روٹین نعرے کے علاوہ کچھ نہ دے سکے۔
اس طرح میری ہارون صاحب سے کئی دفعہ اس بات پر بحث رہی کہ بھلا عمران کو کون فارن پالیسی کے معاملات پر گائیڈ کرتا ہے۔شاید ہماری قابل احترام شیری مزاری جو پاکستان میں کسی کا ایکسڈنٹ بھی ہوجائے اس میں بھی امریکی ہاتھ دھونڈ لیتی ہیں۔
کیا عمران کو احساس ہے کہ وہ جس طرح سے انٹی امریکہ لائن لے کر اب چل رہے ہیں اور وہ کل کلاں کو اگر وہ وزیراعظم بن جاتے ہیں تو کیا وہ اس شدومد سے امریکہ کے ساتھ ٹکر لے سکیں گے جس کا وہ لوگوں کو یقین دلا رہے ہیں؟ اگر دنیا امریکہ کے بغیر نہیں چلتی تو بھلا ہم کیسے چل سکیں گے؟ تو اگر عالمی حالات کی مجبوریوں کے دباؤ میں آکر عمران کو امریکہ سے بھی اس طرح کے تعلقات رکھنے پڑے جیسے آج زرداری اور نواز شریف نے رکھے ہوئے ہیں، تو پھر عمران اپنے نوجوان اور پرجوش ووٹروں کو کیسے مطمن کرپائے گا کہ اس کا کمپرمائز نواز اور زرداری سے بہت مختلف ہے لہذا اس سے مایوس نہ ہوا جائے۔
کیا عمران کو ضرورت نہیں ہے کہ وہ امریکہ کے خلاف جذبات کو اس لیول پر نہ لے جائے کہ کل کلاں کو اسے بہت ساری جنیوئن مجبوریوں کے ہاتھوں مجبور ہو اگر یو ٹرن لینا بھی پڑے تو اس کی سیاسی ساکھ اور ذاتی کریڈبیلیٹی متاثر نہ ہو۔
تو پھر عمران کیا کرے گا کہ ایک طرف آپ نے بھارت سے ہزار سال جنگ لڑنے کی قسم کھائی ہوئی ہے اور اس کے لیے اسحلہ اور امداد امریکہ کی چاہیے اور دوسری طرف عمران خود بھی اس سوچ کا نمائندہ ہے جو افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ سمجھتے ہیں اور عمران خود بھی پٹھان ہونے کے ناطے طالبان کے حوالے سے وہ پالیسی نہیں رکھتا جو اس وقت ہے۔
تو پھر یا تو بھارت سے صلح کرلیں تو شاید امریکہ کے ساتھ کھل کر بات ہوسکتی ہے۔
یہ کام بھی آسان نہیں ہے کیونکہ بھارت کے ساتھ صلح کرنے والوں کا انجام ہم نے دیکھ لیا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے 1989 میں راجیوگاندھی کو اسلام اباد آنے کی دعوت دی تو سکیورٹی رسک قرار دے دی گئیں اور سکھوں کی لسٹیں دینے کا الزام لگا اور دو دفعہ حکومت ٹوٹی اور تیسری دفعہ قابل گردن زنی ٹھہریں۔
نواز شریف جو بے نظیر بھٹو پر سکیورٹی رسک کا نعرہ لگانے میں پیش پیش تھے، آخر مجبور ہو کر ہندوستان کے ساتھ دوستی پر تیار ہوئے تو ان کے اپنے جرنیلوں نے واجپائی کی لاہور یاترا کے بعد، کارگل شروع کردیا اور دس سال کے لیے ملک سے ہی نکال دیا۔
آصف زرداری نے صدر بنتے ہی ہندوستان ٹائمز کے زیراہتمام یہ کہہ دیا کہ ہر ہندوستانی کے دل میں پاکستانی اور ہر پاکستان کے دل میں ہندوستانی بستا ہے، تو پھر ایک قیامت آگئی۔ ایک ہفتے کے اندر ہندوستان میں ایسے بم دھماکے ہوئے کہ بھارت اپنی فوجیں پاکستانی سرحد پر لے آیا۔ وہ دن ہے کہ زرداری صاحب نے دوبارہ غلطی نہیں دہرائی اور وہی کچھ کرتے ہیں جو انہیں فوجی قیادت کہتی ہے۔
تو بھلا عمران یہ کیونکر کر سکیں گے جو کام بے نظیربھٹو، نواز شریف اور آصف زرداری نہ کر سکے۔ تو پھر امریکہ کے سامنے کیسے وہ ڈٹ جائیں گئے؟ ہو سکتا ہے جب تک عمران کی باری آئے اس وقت تک ڈرون حملوں کی ضرورت ہی ختم ہو چکی ہو۔
اس لیے ضروری ہے کہ عمران عالمی سیاست کو بھی تھوڑا سا سمجھنے کی کوشش کرے وگرنہ اس کے حامیوں کو اس سے مایوس ہونے میں دیر نہیں لگے گی کیونکہ عمران ہرگز بھٹو نہیں ہے جو بھارت سے ہزار سال جنگ کا نعرہ مارنے کے بعد بھی اندرا گاندھی سے کامیاب مذاکرت کر سکیں گے۔
ہو سکتا ہے بہت سارے لوگوں کے قریب میں بے وقت کی راگنی لے کر بیٹھ گیا ہوں کہ گاؤں ابھی بسا نہیں اور میں لیٹروں کی طرح پہنچ گیا ہوں۔ میں یہ باتیں اس لیے کررہاہوں کہ ہر لیڈر کی طرح عمران کچھ ایسے دعوے کررہا ہے جو پورے کرنا شاید اس کے بس میں نہ ہو۔ میں اس کی نیت پر شک نہیں کررہا۔ میں صرف اسے زمینی حقائق بتانے کی کوشش کررہا ہوں۔ امریکہ کے بغیر تو یورپ نہیں چلتا تو پاکستان جیسا ساٹھ ارب ڈالر کا مقروض ملک کیسے چلے گا۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسی قوتیں بھی امریکہ کے بغیر نہیں چلتیں۔ اور تو اور چین بھی بہت سارے معاملات پر امریکہ کا ساتھ دیتا ہے کیونکہ چین کی تیس ارب ڈالر سے زیادہ ایکسپورٹ امریکہ کو جاتی ہے۔ پاکستان سے بھی چھ سو ملین ڈالر کی ٹیکسٹائل چیزیں امریکہ کو جاتی ہیں اور امریکہ پاکستان آرمی کو سب سے زیادہ اسحلہ دینے والا ملک اور اس کے علاوہ سول امداد ہے۔
عمران کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غیرت کا تقاضا کچھ اور ہوتا ہے اور قومی مفادات بالکل مختلف چیز۔ اب غیرت اور ملکی مفاد کو عمران کیسے جوڑتا ہے، وہ دیکھنا ہوگا۔
جب بھٹو شملہ معاہدہ کرنے گئے تھے تو مذاکرات کی میز پر اندرا گاندھی نے پہلی بات یہ کہ تھی کہ جناب وزیراعظم بھٹو آپ اپنے ملک میں تو ہندوستان سے ہزار سال جنگ لڑنے کا نعرہ مارتے ہیں تو پھر اس سے نوے ہزار پاکستانی فوجی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے مزاکرات کیسے ہوسکتے ہیں۔ بھٹو مسکرایا تھا کہ میڈم پرائم منسٹر آپ بھی سیاست دان ہیں اور اس طرح کے نعروں کا مقصد خوب سمجھتی ہیں۔
اب اگر عمران نے بھی اقتدار میں وہ کچھ کرنا ہے جو ایک محاورے کے بقول روم میں کرنا چاہیے ، تو پھر وہ ٹھیک کررہا ہے کہ کسی نے موجودہ لیڈروں کا کیا بگاڑ لیا ہے اگر عمران نے امریکہ کے حوالے سے اپنی لائن بدل لی۔ تاہم اگر عمران اس بات پر سنجیدہ ہے تو اسے توازن سے کام لینا ہوگا کیونکہ انٹی امریکہ نعرے پر ووٹ تو گیارہ جماعتوں کے مولیوں کے اتحاد ایم ایم اے نے بھی گیارہ ستمبر کے بعد حملوں کی وجہ سے لے لیا تھا لیکن یہ ووٹ ایک دفعہ ملا تھا اور آج قاضی حسین احمد اور دوسرے لیڈروں کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ لہذا انٹی امریکہ نعرہ ایک دفعہ تو آپ کو اقتدار میں لا سکتا ہے، بار بار نہیں۔ اب یہ عمران پر منحصر ہے کہ وہ پاور پولٹیکس میں ٹیسٹ میچ کھلینے آیا ہے یا پھر ون ڈے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور کے جلسے کے بعد عمران کو پہلی دفعہ سیریس لیا گیا ہے وگرنہ تو ٹی وی انیکرز بھی ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ مجھے عمران کی وہ بے بسی نہیں بھولتی جب اسے حامد میر کے پروگرام میں نواز لیگ کے سینٹر پرویز رشید کے ساتھ بٹھا دیا گیا جس سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ وہ اتنے ہی پائے کا لیڈر ہے اس سے زیادہ کانہیں۔ بہت سارے لوگوں نے عمران کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دوسری پارٹیوں کی تیسرے درجے کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر پروگراموں میں شرکت نہ کیا کرے کیونکہ اس سے اس کا لیڈر کا تصور پیدا نہیں ہوتا جو اکیلے انٹرویو دینا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کی شان میں کوئی گستاخی نہ کرسکے۔ تاہم عمران نے یہ بات نہیں مانی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس نے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے اوروہ اس طرح کے موقع ضائع نہیں کر سکتا۔
یہ بات ضرور ہے کہ اب عمران کے اس جلسے کے بعد بہت بڑی تعداد میں لوگ اسے جوائن کریں گے۔ وہ سیاسی لوگ جو اب تک انتظار اور دیکھو کی پالیسی پر چل رہے تھے ، اب ان کے لیے لاہور کے جلسے کے بعد اب ان کے لیے فیصلہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔عمران کی سیاسی کریڈٹ رینٹگ بڑھ جائے گی۔ اب اس کے دروازے پر پارٹی جوائن کرنے کے لیے بڑے بڑے لوگوں کی قطاریں لگنا شروع ہو سکتی ہیں۔
عمران نے جو ایک اور اچھی چیز کی وہ یہ تھی کہ اس نے صدر زرداری اور شریف برادران کے خلاف کوئی نازیبا زبان استعمال نہیں کی حالانکہ یہ نواز لیگ ہی تھی جنہوں نے عمران کے خلاف 1997 کے انتخابات میں گالیاں ایجاد کی تھیں اور مشاہد حسین کی قیادت میں سیتا وائٹ کا سکینڈل سا منے لایا گیا۔ اس کی ’ناجائز بیٹی‘ کا ایشو سامنے آیا۔ اس کے بہکی ہوئی نوجوانی کی طلسم ہوشربا ٹائپ کہانیاں سامنے لائی گئیں۔ اور تو اور عمران کی گھریلو زندگی کو نشانہ بنایا گیا اور اس وقت تک چین نہیں آیا جب تک جمائمہ خان طلاق لے کر لندن واپس نہیں چلی گئیں۔ یہ بڑی حیران کن بات تھی کہ یہ سارا کچھ کرنے والی نواز لیگ تھی جس کے اپنے لیڈروں کے ایسے ایسے قصے مشہور تھے کہ آج جو کچھ حمزہ شہباز نے اپنی تیسری بیوی عائشہ ملک کے ساتھ کیا ہے، وہ موصوف نے اور کچھ اپنے بزرگوں کی روایت کو آگے بڑھایا ہے۔ اس لیے حمزہ شہباز سے مجھے تو کوئی گلہ نہیں اگر اس نے اپنی بیوی کو تھانے اٹھوا کر پولیس کے ہاتھوں پٹوایا۔
عمران کے خلاف جاری اس مہم سے ایک یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ پاکستان کے لوگوں کے نزدیک لیڈروں کے سیکس سکینڈلز اتنا بڑا مسلہ نہیں ہے کیونکہ عمران کو وہ ایک روایتی پاکستانی مرد سمجھتے ہیں جس پر گوریاں مرتی ہیں۔ عمران ان کا اس لیے بھی ہیرو ہے کہ وہ جوانی میں سب کچھ کرتا رہا جو آج کی نسل کرنا چاہتی ہے اور حسرت میں مر رہی ہے۔ لہذا ان کے لیے سیتا وائٹ سکینڈل کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ اس حوالے سے پاکستانیوں اور فرانس کے شہریوں میں ایک بات قدرے مشترک ہے۔ فرانسیی بھی اپنے اس لیڈر کو مرد سمجھتے ہیں جس کے سیکس سیکنڈل بنتے ہوں۔ انٹرنیشنل ٹریبون نے فرانسیی آئی ایم ایف کے سربراہ کے سکیس سکنڈل کے بعد لکھا تھا ہ جب بل کلنٹن پر مونیکا لیونسکی سکینڈل سامنے آیا تھا تو یورپ میں جس قوم نے بل کلنٹن کی مردانگی کی شان میں قیصدے پڑھے تھے، وہ فرانسیسی تھے کیونکہ ان کے خیال میں جنسی طور پر طاقت ورہونے کا مطلب تھا کہ لیڈر فٹ ہے ۔ لہذا اب عمران کے خلاف یہ ہتھیار بھی ناکام گیا ہے کیونکہ پاکستانی بھی یہی سمجھتے ہیں اور انتی بڑی تعداد میں لوگوں کا عمران کے لیے گھروں سے باہر نکلنا ا س بات کا ثبوت ہے کہ انہیں عمران کی ذاتی زندگی سے کوئی دلچپسی نہیں ہے!
تاہم نواز لیگ ابھی بھی پرانے دور میں زندہ ہے۔ اسلام آباد میں پچھلے ہفتے میں ایک ایسی جگہ موجود تھا جہاں پنجاب حکومت کے ایک اہم وزیر موجود تھے اور وہ اس بات پر ہماری رائے لے رہے تھے کہ اگر یہ ایشو بنایا جائے کہ بھلا جمائمہ طلاق کے بعد کیسے عمران کے ساتھ پاکستان میں گھو م پھر سکتی تھی تو کیسا رہے گا۔
جب دوسرے اپنی رائے دے چکے تو میں مسکرایا اور کہا حضور وقت بدل گیا ہے اور اب وہ عمران کا مقابلہ کرنے کے لیے کوئی اور طریقہ ڈھونڈیں کیونکہ بات اب جمائمہ خان کے طلاق کے باوجود پاکستان آکر عمران کے ساتھ رہنے سے آگے نکل چکی تھی۔ اگر سیکریٹ ایجینسوں کے بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کی ہاتھوں میں جام پکڑے ڈانس کرتی تصویریں جو اخبارات میں اشتہار کی شکل میں چھپوائی گئی تھیں تاکہ وہ 1988 کا انتخاب نہ جیت سکیں، ماں بیٹی کو اقتدار میں آنے سے نہیں روک سکیں تھیں تو بھلا اس بات پر کوئی قیامت نہیں آئے گی کہ طلاق کے بعد عمران کے بچوں کی ماں اس سے کیوں ملنے آئی تھی!!
آج وہی جائمہ خان لاہور آئی ہوئی تھی جو عمران کو اس لیے چھوڑ گئی تھی کہ اس کا خیال تھا کہ اس کا سیاست میں کوئی مسقبل نہیں تھا۔ عمران نے اپنی کتاب میں خود لکھا ہے کہ جمائمہ چاہتی تھی کہ وہ سیاست چھوڑ دے کیونکہ لوگ اسے کرکٹ ہیرو کے طور پر زیادہ عزت دیتے ہیں اور اس نے سیاست جوائن کرکے اپنے آپ کو ذلیل کرالیا تھا۔ میرا خیال ہے لاہوریوں نے جمائمہ کو غلط ثابت کیا ہے اور جمائمہ کو بھی احساس ہوا گا کہ وہ غلطی پر تھی اور اس نے عمران کو چھوڑنے میں کچھ جلدی کر دی تھی۔
جمائمہ خان کی طرح میرے سمیت بہت سارے لوگوں نے عمران کے اپنی ذات پر یقین کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے لہذا سارا قصور جمائمہ کا بھی نہیں۔ پندرہ سال قبل جب عمران خان سیف اللہ نیازی کے ساتھ میانوالی کے سنگلاخ پہاڑوں میں1997 کے انتخابات میں شاکنگ شکست کے بعد اکیلا سر پھوڑتا رہتا تھا، تو بھلا کس نے سوچا تھا کہ ایک دن وہ لاہور میں یوں ہزاروں کا مجمح اکھٹا کرلے گا ۔ میرا خیال ہے عمران اور سیف الللہ نیازی کے بعد اگر کسی کو اس بات کا یقین تھا، تو وہ صرف ہارون الرشید تھا !!!!

عمران خان سرخرو، مبارکباد کا حقدار صرف ہارون الرشید! | Top Story Online
__________________
عرفی تومیندیش ذغوغائے رقیباں - آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
میرا بلاگ | yasirimran.wordpress.com

 
یاسر عمران مرزا's Avatar
یاسر عمران مرزا
ذیلی ناظم
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,044 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 224
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا
amjad007 (02-11-11), قاسمی (02-11-11), محمدخلیل (01-11-11), محمدعدنان (03-11-11), احمد نذیر (02-11-11), حیدر (01-11-11), رضی (01-11-11), غلام خان (02-11-11)
پرانا 01-11-11, 10:47 PM   #2
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,850
شکریہ: 7,286
5,956 مراسلہ میں 15,117 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت شکریہ بھائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔شئیر کرنے کا۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
قاسمی (02-11-11), حیدر (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 11:19 PM   #3
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,337
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

لگتا ہے لکھنے والا بس موقع کی مناسبت سے خود کو کیش کروانے کی کوشش کر رہا ہے
اقتباس:
آج وہی جائمہ خان لاہور آئی ہوئی تھی
جب کے جمائما تو ایک رات قبل ہی برطانیہ واپس روانا ہوچکی تھیں‌
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
amjad007 (02-11-11), قاسمی (02-11-11), محمدخلیل (01-11-11), حیدر (01-11-11)
پرانا 01-11-11, 11:40 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,377
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے بھی ایسا ہی لگا ہے کہ موصوف عمران خان سے زیادہ ہارون الرشید کی حد سے زیادہ بلاوجہ کی تعریفوں کے پُل باندھ رہے ہیں۔
اور ان کے نزدیک عمران خان کا سب سے بڑا گناہ یا غلطی یہ ہے کہ وہ امریکہ کی مخالفت کر رہے ہیں اور اس مفروضے پر کر رہے ہیں کہ "اگر " عمران وزیر اعظم بن گیا تو پھر امریکہ کی مخالفت کیسے کرے گا۔

جبکہ میرے نزدیک عمران کا آئندہ کا لائحہ عمل یہ ہونا چاہیے کہ "وہ اِس جیسے افراد سے کیسے بچے گا؟"۔ اس جیسے افراد عمران کو لے ڈوبیں گے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
amjad007 (02-11-11), قاسمی (02-11-11), محمدعدنان (03-11-11), آبی ٹوکول (02-11-11), سحر (02-11-11), عبدالقدوس (02-11-11)
پرانا 02-11-11, 12:09 PM   #5
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,339
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,044 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

حیدر بھائی، امریکہ کی مخالفت کرنا کوئی چھوٹی سی بات ہے ؟ اس پر پہلے سے غور و فکر کی ضرورت نہیں؟
یاسر عمران مرزا آن لائن ہے   Reply With Quote
یاسر عمران مرزا کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-11-11)
پرانا 02-11-11, 01:36 PM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
وہ تو عمران سے اتنی مایوس ہوئی کہ اپنے ساتھ اپنے دو بیٹے بھی لے گئی کہ اسے شک تھا کہ عمران ان کی پرورش کر سکے گا، ملک کے بچوں کا مستقبل بنانے کے دعوی کرنے تو دور کی بات تھی
كيا واقعي ان كي طلاق كي وجہ يہي تھي
اقتباس:
اگر عالمی حالات کی مجبوریوں کے دباؤ میں آکر عمران کو امریکہ سے بھی اس طرح کے تعلقات رکھنے پڑے جیسے آج زرداری اور نواز شریف نے رکھے ہوئے ہیں، تو پھر عمران اپنے نوجوان اور پرجوش ووٹروں کو کیسے مطمن کرپائے گا کہ اس کا کمپرمائز نواز اور زرداری سے بہت مختلف ہے لہذا اس سے مایوس نہ ہوا جائے۔
كيا واقعي عمران بھي سابقہ حكمرانوں كي طرح مفاد پرستي اور لالچي ہے۔ اگر ہے تو پھر لمحہ فكريہ ہے
اقتباس:
بھلا عمران یہ کیونکر کر سکیں گے جو کام بے نظیربھٹو، نواز شریف اور آصف زرداری نہ کر سکے۔
كيا عمران بھي ان كي طرح نالائق اور قومي مفادات سے نابلد سياست دان ہے۔۔۔ اگر ہے تو واقعي نہيں كر پائے گا۔
اقتباس:
امریکہ کے بغیر تو یورپ نہیں چلتا تو پاکستان جیسا ساٹھ ارب ڈالر کا مقروض ملک کیسے چلے گا۔ برطانیہ، جرمنی اور فرانس جیسی قوتیں بھی امریکہ کے بغیر نہیں چلتیں۔ اور تو اور چین بھی بہت سارے معاملات پر امریکہ کا ساتھ دیتا ہے کیونکہ چین کی تیس ارب ڈالر سے زیادہ ایکسپورٹ امریکہ کو جاتی ہے۔ پاکستان سے بھی چھ سو ملین ڈالر کی ٹیکسٹائل چیزیں امریکہ کو جاتی ہیں اور امریکہ پاکستان آرمی کو سب سے زیادہ اسحلہ دینے والا ملک اور اس کے علاوہ سول امداد ہے۔
اس مقام تك پہنچنے كي وجہ حديث نبوي ميں حب الدنيا و كراية الموت بتائي گئي ہے۔۔۔۔ اور جب جب تاريخ ميں قوموں نے دنيا كي محبت لالچ اور موت كا خوف نكالا ہے تو كاميابي كي طرف ہي گئيں ہيں۔۔۔۔ آخر آج دنيا طالبان كي كاميابي كے گن گا رہي ہے اس كے پيچھے يہي عنصر شامل ہيں۔۔۔ انہيں حب الدنيا نہيں تھي اسي ليے حكومت قربان كر دي ليكن اصولوں پر سمجھوتا نہيں گيا۔۔۔موت كا ڈر انہيں كتنا ہے وہ دنيا نے ديكھ ہي ليا ہے۔۔۔۔
اقتباس:
اس میں کوئی شک نہیں کہ لاہور کے جلسے کے بعد عمران کو پہلی دفعہ سیریس لیا گیا ہے وگرنہ تو ٹی وی انیکرز بھی ان کا مذاق اڑاتے تھے۔ مجھے عمران کی وہ بے بسی نہیں بھولتی جب اسے حامد میر کے پروگرام میں نواز لیگ کے سینٹر پرویز رشید کے ساتھ بٹھا دیا گیا جس سے یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ وہ اتنے ہی پائے کا لیڈر ہے اس سے زیادہ کانہیں۔ بہت سارے لوگوں نے عمران کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ دوسری پارٹیوں کی تیسرے درجے کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر ٹی وی پر پروگراموں میں شرکت نہ کیا کرے کیونکہ اس سے اس کا لیڈر کا تصور پیدا نہیں ہوتا جو اکیلے انٹرویو دینا پسند کرتے ہیں تاکہ ان کی شان میں کوئی گستاخی نہ کرسکے۔ تاہم عمران نے یہ بات نہیں مانی کیونکہ اس کا خیال تھا کہ اس نے اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانا ہے اوروہ اس طرح کے موقع ضائع نہیں کر سکتا۔
ميں عمران كے اس فيصلے پر اسے كھڑے ہو كر سلوٹ پيش كرتا ہوں۔۔۔۔ يقينا اس قسم كے مشورے دينے والے ہي بانس پر چڑھا كر نيچے سے بانس ہلانا شروع كر ديتے ہيں۔۔۔
اقتباس:
دوسری طرف عمران خود بھی اس سوچ کا نمائندہ ہے جو افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ سمجھتے ہیں اور عمران خود بھی پٹھان ہونے کے ناطے طالبان کے حوالے سے وہ پالیسی نہیں رکھتا جو اس وقت ہے۔
عمران كو مفيد مشورے دينے كے عنوان كے تحت كس خوبصورتي سے ايك قومي ليڈر كو قوم پرست بنانے كي ناكام كوشش كي گئي ہے۔

مجموعي طور پر كالم نگار نے ميرے خيال ميں عمران كو كوئي خاص بات نہيں بتائي بس امريكہ سے ڈرايا ہے۔۔۔انتظار كيجئے پرنٹ اور اليكٹرانك ميڈيا ميں۔۔۔ ابھي ايسے بہت سے مفت كے مشير اس قسم كے مشورے ديتے نظر آئيں گے۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (02-11-11), قاسمی (02-11-11), محمدعدنان (03-11-11), آبی ٹوکول (02-11-11), احمد نذیر (02-11-11), حیدر (03-11-11), راجہ اکرام (02-11-11), سحر (02-11-11)
پرانا 02-11-11, 06:29 PM   #7
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کالم نگار نے بڑے ہی سائنٹفک انداز میں عمران خان اور پاکستانی قوم کی تضحیک کرنے کی بھی کوشش کی ہے خاص طور پر سیتا وائٹ جیسے اسکینڈلز کا حوالہ دیتے وقت پاکستانی قوم کی سوچ کو فرانس یا مغرب کی سوچ کا حامل بتلا کر جہاں ایک طرف پاکستانی قوم پر طعن کیا وہیں اس قسم، کے اسکینڈلز ان وقتوں میں ذکر کرے پاکستانی قوم کو یاداشت کے حوالہ سے بھی طعن کرنے کی ناکام کوشش کی گئی نیز کالم نگار کی طرفسے ایسے وقت میں ان معاملات کاذکر خاصامعنی خیز بھی ہے ۔ دیگر یاد رہے کہ عمران خان نے کبھی اوروں کی طرح علی الاطلاق امریکہ کی مخالفت نہیں کی یعنی وہ ہر معاملہ میں امریکہ کو قصور وار نہیں ٹھراتا بلکہ وہ ہمیشہ سے امریکی حکومت اور انکی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے جبکہ امریکی عوام کی تعریف،سو اسی بنا پر وہ ہمیشہ امریکہ سے دوستی کی بات کرتا ہے مگر برابری کی بنیاد پر یا کم از کم پاکستان کہ بہترین مفادات کی بنیاد پر سو اس حساب سے کالم نگار کا تبصرہ انتہائی بے خبری پر مبنی تھا نیز یہ بھی یاد رہے کہ عمران کی مقبولیت کبھی بھی امریکہ مخالفت نہیں رہی بلکہ ایں چیرے دیگر است ۔۔۔۔
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 02-11-11 at 06:41 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (02-11-11), محمدعدنان (03-11-11), حیدر (03-11-11), شمشاد احمد (02-11-11), عبدالقدوس (02-11-11)
پرانا 02-11-11, 06:33 PM   #8
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,337
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عمران پٹھان نہیں نیازی خان میری معلومات کے مطابق ہے
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (02-11-11), آبی ٹوکول (02-11-11), حیدر (03-11-11), شمشاد احمد (02-11-11)
پرانا 02-11-11, 06:35 PM   #9
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,337
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
ایں چیرے دیگر است ۔۔۔۔
فرشتگان در همه جا
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (02-11-11), آبی ٹوکول (02-11-11), حیدر (03-11-11)
پرانا 02-11-11, 06:57 PM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عمران کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے ۔۔۔؟؟؟؟؟
سب سے پہلی بات تو عمران خان کو اس کامیاب جلسہ کے بعد اوور کانفیڈینس نہیں ہونا چاہیے اورتحریک انصاف اور اسکے کارکنان کو کسی بھی خوش فہمی میں ہرگز نہیں رہنا چاہیے کامیاب جلسہ کرنا اورالیکشن میں کامیابی دو مختلف چیزیں ہیں ۔ یہ بات درست کہ پاکستان تحریک انصاف نے مینار پاکستان پر جلسہ کا اعلان کرکے ایک چیلنج زمہ داری خود پر لی اور ایک نہایت ہی کامیاب جلسہ کا انعقاد کرکے اس چیلنج کو کامیاب کر دکھایا باوجود اس کے تحریک انصاف کے کارکنان کا تجربہ اور عمر دونوں ہی کم ہیں اور اسکے علاوہ انکے پاس کوئی حکومتی ہتھ کنڈے نہیں تھے یعنی نہ انکا کوئی ایم این اے یا ایم پی اے تھا اور نہ ہی دیگر حکومتی لوازمات سو ایسے میں یہ کارنامہ واقعتا سراہنے کے لائق ہے لہذا سیاسی اعتبار سے اس جلسہ سے بہت سے مثبت اثرات اخذ کیے جاسکتے ہیں مگر آئندہ مستقبل میں اب یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف خود کو بالخصوص رورل ایریاز میں کیسے متحرک کرتی ہے اور کیسے تنظیم سازی کرتی ہے اور اب اس کے بعد اگلا جو جلسہ ہوگا وہ تحریک انصاف کے لیے اس سے بھی بڑا چیلنج ہوگا سو اس حساب سے اسکا وینیو طے کرنا نہایت ہی سمجھداری اور سیاسی بصیرت کا تقاضا کرتا ہے ۔ الیکشنز جسقدر دیر سے ہوں اتنا ہی تحریک انصاف کا فائدہ ہے لہذا تحریک انصاف کو چاہیے پاکستان کے گاوں گاوں شہہر شہر جاکر تحصیل اور یونین کاونسل لیول پر اپنی جماعت کی تنطیم سازی کرے اور اسے تیزی سے متحرک کرے تبھی وہ اگلے الیکشن میں وہ ایک مؤثر قوت کہ طور پر ابھر سکتے ہیں وگرنہ ایں خیال محال است ۔۔۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (02-11-11), محمدعدنان (03-11-11), حیدر (03-11-11), شمشاد احمد (02-11-11)
پرانا 02-11-11, 11:05 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,850
شکریہ: 7,286
5,956 مراسلہ میں 15,117 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
سائنٹفک انداز
ہاہاہاہاہاہاہاہاہہاہاہاہا
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-11-11)
جواب

Tags
کارگل, پولیس, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, چین, نواز شریف, موجودہ, مقابلہ, ماں, مسائل, معذرت, اللہ, الزام, امریکہ, اسلام, بے نظیر, بچوں, دیکھو, دوست, سیاست, طلاق, طالبان, عمران خان, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وکی لیکس کا بم پھٹ گیا ، آہستہ آہستہ سفارتی تباہی شروع ، پہلا نشانہ سعودی عرب بنا جاویداسد خبریں 10 29-11-10 07:51 PM
::: آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں‌ ::: سوال 7 ::: وہ راستہ کون ساہے جو اللہ کی رضا اور خوشنودی تک پہنچاتا ہے اور وہ راستہ کون ساہے جو اللہ تعالیٰ عادل سہیل اسلامی عقیدہ 1 23-06-10 05:13 PM
پاکستان کے مستقبل کے ساتھ ہماری وابستگی,,,, رابرٹ ایم گیٹس…امریکی وزیر دفاع راجہ اکرام سیاست 3 27-01-10 12:41 AM
پالکی / ڈولی کلچر جو آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہیں وجدان عمومی بحث 2 04-07-08 03:00 PM
شریف برادران کے اسلام آباد سے براستہ جی ٹی روڈ لاہور آنے پر لاہور میں ان کے استقبال کاروٹ جاری کردیا گیا،نواز شریف اور شہباز شریف مسجد شہد پاکستانی خبریں 1 09-09-07 09:31 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger