واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


عمر خیام کون تھا؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-02-10, 11:32 PM   #1
عمر خیام کون تھا؟
عارف اقبال عارف اقبال آف لائن ہے 18-02-10, 11:32 PM

عمر خیام کون تھا؟



حکیم ابوالفتح غیاث الدین عمر بن ابراهیم خیام نیشابوری پیدائش: 1048ء ،وفات: 1131ء
نیشابور میں پیدا ہوا جو ایران کے ایک شہر کا نام ہے ۔ علوم نجوم و ریاضی کا بہت بڑا عالم تھا۔ تصنیفات ما الشکل من مصادرات اقلیدس ، زیچ ملک شاہی ، رسالہ مختصر در طبیعات ، میزان الحکم ، رسالۃ اکلون و التکلیف ، رسالہ موضوع علم کلی وجود ، رسالہ فی کلیات الوجود ، رسالہ اوصاف یا رسالۃ الوجود ، غرانس النفائس ، نوروزنامہ ، رعبایات خیام ، بعض عربی اشعار ، مکاتیب خیام فارسی ’’ جو اب ناپدید ہے‘‘۔


عمر خیام کا شمار بلا مبالغہ دنیا کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ تاہم جدید دور میں شاعر عمر خیام نے عالم عمر خیام کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آج ان کا نام دنیا کے مشہور ترین شاعروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1970ء میں چاند کے ایک گڑھے کا نام، جب کہ 1980ء میں ایک سیارچے کا نام عمر خیام کے نام پر رکھا گیا۔
یوجین اونیل، اگاتھا کرسٹی اور سٹیون کنگ جیسے مشہور ادیبوں نے اپنی کتابوں کے نام عمر خیام کے اقتباسات پر رکھے ہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ خیام کو زمانہ آج شاعر کی حیثیت سے جانتا ہے لیکن اس کے اپنے دور میں اور بعد میں کئی صدیوں تک انھیں ایک نابغہ ٴ روزگار عالم کی حیثیت سے زیادہ شہرت حاصل تھی۔
شبلی نعمانی اپنی کتاب شعر العجم میں لکھتے ہیں کہ خیام فلسفہ میں بو علی سینا کا ہم سر اور مذہبی علوم اور فن و ادب اور تاریخ میں امامِ فن تھا۔ جب کہ جی سارٹن نے اپنی سائنس کی تاریخ کی کتاب میں خیام کو ازمنہ ٴ وسطیٰ کے عظیم ترین ریاضی دانوں میں شمار کیا ہے۔

ویسے تو خیام کی اکا دکا رباعیاں کئی تذکروں اور دوسری کتابوں میں بکھری ہوئی مل جاتی ہیں،
ان کا رباعیات کا پہلا نسخہ 1423ء میں مرتب ہوا، یعنی خیام کی وفات کے تقریباً تین سو برسوں بعد۔ اس کی وجہ سے مسائل یہ پیدا ہوئے کہ خیام کے نسخوں میں بہت سی رباعیاں ایسی بھی شامل ہو گئیں، جو اس کی کہی ہوئی نہیں تھیں۔

جدید دور میں اس موضوع پر بڑی دادِ تحقیق دی گئی ہے لیکن خیام کی رباعیوں کا اب تک کوئی غیر متنازعہ نسخہ سامنے نہیں آیا۔ خیام کے مشہور ایرانی محقق ڈاکٹر صادق ہدایت نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ایسی رباعیوں کی تعداد صرف 15 ہے جن کے بارے میں مکمل یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ خیام کی ہیں۔ جب کہ دوسرے اصحاب کے ہاں اس تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔

خیام کی بین الاقوامی شہرت کا زیادہ تر دار و مدار انگریز شاعر ایڈورڈ فٹز جیرالڈ کے اس ترجمے پر ہے جو اس نے رباعیاتِ عمر خیام کے نام سے 1859ء میں کیا۔ اس ترجمے کو انگریزی شاعری کے اعلیٰ ترین شاہ کاروں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ نہ صرف انگریزی شاعری کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے، بلکہ سب سے زیادہ نقل کی جانے والی کتاب بھی یہی ہے۔
آکسفرڈ ڈکشنری آف کوٹیشنز میں اس کتاب سے 130 اقوال درج کیے گئے ہیں۔

یہ وہ کتاب ہے جس کی اشاعت کے بعد خیام کی شہرت جنگل کی آگ کی طرح چار دانگِ عالم میں پھیل گئی اور اس ترجمے کے ترجمے دنیا کی بیشتر بڑی زبانوں میں ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ خیام کے کئی اردو مترجمین نے بھی اصل فارسی کی بجائے اسی ترجمے کو مدِ نظر رکھا۔

لیکن خیام کا سب سے پہلا ترجمہ اس وقت ہوا جب فٹزجیرالڈ نے خیام کا نام بھی نہ سنا ہو گا۔ راجا مکھن لال دربارِ دکن سے وابستہ تھے اور نظام نصیر الدولہ نے انھیں راجہ کا خطاب عطا کیا تھا۔ مکھن لال نے 1842ء میں رباعیاتِ خیام کا ترجمہ کیا، یعنی فٹزجیرالڈ سے 17 برس قبل۔ اس ترجمے کے دیباچے میں راجا صاحب فرماتے ہیں:
اس نومشقِ سخن، خوشہ چینِ اربابِ کمال راجا مکھن لال کو مدت سے تمنا یہ تھی کہ عند الفرصت اپنے ترجمہ فارسی رباعیات حضرت عمر خیام کا کہ اس بزرگ کے کلام میں سراسر معرفت اور حقیقت روشن کرتے ہیں، خلاصہ اس کا زبانِ ریختہ میں موافق اپنی استعداد کے رشتۂ تحریرِ نظم میں لاوے۔ (دکن میں اردو، نصیر الدین ہاشمی۔ نظامِ دکن پریس۔)

فٹزجیرالڈ کے ترجمے کی طرح راجا صاحب کا ترجمہ بھی خاصا آزاد ہے جس کی وجہ سے ان کی اردو رباعیوں کو خیام کی رباعیوں سے ملانے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ایک رباعی ملاحظہ کیجیئے:



ہو فصلِ بہار میں وہ حور سرشت
یک کوزۂ مے پاس ہو اور ہو لبِ کشت
واللہ نہ پھر خیالِ جنت آوے
سمجھیں گے اس کو دوست گلزارِ بہشت

یہ رباعی ہے جو فٹزجیرلڈ کے ترجمے کی مشہور ترین رباعیوں میں سے ایک ہے:

Here with a Loaf of Bread beneath the Bough,

A Flask of Wine, a Book of Verse -- and Thou

Beside me singing in the Wilderness --

And Wilderness is Paradise enow



راجا صاحب کی چند اور رباعیاں دیکھیئے، جس میں انھوں نے سبکِ ہندی عناصر کو بھی ملا لیا ہے:



پہلے غمِ ہجر گرمیِ محفل تھا

چندے برکابِ شوقِ ہم منزل تھا

اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری

یہ مشتِ غبار کچھ دنوں میں دل تھا



افسوس کہ غم میں یہ جوانی گزری

یک دم نہ کبھی یہ شادمانی گزری

اب پیری میں ہو گی کیا عبادت ہم سے

بے یادِ خدا کے زندگانی گزری
__________________
اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

 
عارف اقبال's Avatar
عارف اقبال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 417
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (19-02-10), محمدخلیل (19-02-10), عدنان دانی (19-02-10), عروج (14-10-10)
پرانا 19-02-10, 04:51 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (14-10-10)
پرانا 19-02-10, 02:47 PM   #3
Senior Member
 
محمد الیاس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: چترال
مراسلات: 598
کمائي: 9,475
شکریہ: 190
352 مراسلہ میں 744 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد الیاس کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راجہ صاحب کی پہلی اور آخری رباعی اور فیٹز جیرالڈ کی انگریزی والی جو آپ نے یہاں لکھی ہے حکیم محمد عمر خیام کی جن رباعیوں‌ سے لی گئی ہے وہ علاقائی زبانوں کے خانے میں‌ میں‌ترجمے کے ساتھ لکھتا ہوں آپ دیکھ لیجئے اور موازنہ کیجئے۔
محمد الیاس آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے محمد الیاس کا شکریہ ادا کیا
shafresha (19-02-10), عروج (14-10-10)
پرانا 14-10-10, 02:17 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اچھا انتخاب ھے۔ آپکا شکریہ،
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کیجئے۔, کریں۔, گئی, پہلی, والی, لکھی, لکھتا, لیجئے, میں‌, موازنہ, محمد, اپلائی, انگریزی, انتخاب, جن, حکیم, خیام, خانے, دیکھ, راجہ, رباعی, زبانوں, ساتھ, سرورق, علاقائی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جو بھی تھا کیا تھوڑا تھا ؟ طاھر دیس ہوئے پردیس 22 26-08-10 03:03 AM
ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا محمدعمر شعر و شاعری 2 14-11-09 09:35 AM
ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 11:25 AM
وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا Ashfaq Ahmed شعر و شاعری 0 22-09-07 07:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:19 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger