واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


غلطی در وضعِ علامتِ مد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-12-11, 11:13 PM   #1
غلطی در وضعِ علامتِ مد
سید شاہ رُخ کمال سید شاہ رُخ کمال آف لائن ہے 11-12-11, 11:13 PM

یہ موضوع میں نے نہیں سوچا بلکہ بادشاہِ سعودی عرب کے حکم سے چھپنے والے مستند قرآن کے پیچھے ہدایات میں درج ہے جس کو اس مضمون میں بھی شامل کیا گیا ہے اور اس کی تصدیق قرآن کے مطالعہ سے بھی ہو جاتی ہے۔ بایں ہمہ، یہ موضوع چونکہ نازک ترین موضوع ہے، اس لیے آپ لوگوں کی رائے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ علامتِ مد کے علاوہ بھی کافی ایسی چیزیں میری نظر سے گزری ہیں کہ جن کی وضع اکثر غلط کی جاتی ہے۔ اگر آپ احباب کی پذیرائی حاصل ہوئی تو ضرور ان چیزوں کو بھی ایک جگہ سمیٹنے کی کوشش کروں گا۔ مضمون مطالعہ فرمائیں:

تحریر: صاحبزادہ سیّد شاہ رُخ کمال گیلانی

معزز قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!آج جس غلطی کی نشاندہی کے لیے میں نے اپنا قلم اٹھایا، وہ گو کہ صرف اُردُو لکھنے والوں میں ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بے شمار مسلمان ممالک میں پائی جاتی ہے مگر اُردو لکھنے والوں میں اس غلطی کا پانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ یہ غلطی قرآنِ پاک کے نسخہ میں متعلقہ علامتِ مد ہے۔ ان شاء اللہ العزیز، میں اس مضمون میں اپنی ناقص عقل کے مطابق اس غلطی کی ممکنہ وجہ بھی تحریر کرنے کی کوشش کروں گا۔
مجھ پر بھی اس غلطی کا انکشاف بچپن سے نہیں ہوا بلکہ صرف چند سال پہلے ہی یہ اختلاف میری نظر سے گزرا۔ پچھلے سال (۱۴۳۱ھ؁ بمطابق 2010ء؁ میں) حج سے واپسی کے موقع پر اس کی اصل حقیقت سے واقفیت ہوئی۔ ’’اصل حقیقت‘‘ اس وجہ سے لکھا کیونکہ جب غلطی‘ غلط العام ہو جائے تو وہ بھی ایک حقیقت ہی بن جاتی ہے اور لغت میں ایک مقام بنا لیتی ہے کہ جس کا انکار کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ اور اگر زُبان میں یہ تبدیلیاں نہ ہوں اور زُبان ایک جگہ پر ٹھہر جائے تو اُسے زندہ نہیں بلکہ مردہ زُبان تسلیم کر لیا جاتا ہے۔
چند برس پہلے کی ہی بات ہے کہ جب میں نے مضامین لکھنے شروع کیے اور رسائل پڑھنے اور ان کی تصحیح کا کام شروع کیا۔ اب اس بات سے میں خود بھی بے خبر ہوں کہ میں ان چیزوں پر اتنا وقت کیوں ضائع کرتا ہوں مگر مجھے ان چیزوں نے کچھ نہ کچھ فائدہ تو پہنچایا ہی ہے۔ تو جب میں نے مضامین لکھنے شروع کیے تو اتفاقاً اُن کی کمپیوٹر پر کمپوزنگ بھی خود ہی کیا کرتا تھا۔ یوں تو میں بھی عام لوگوں کی طرح قرآن پڑھتا، چند آیات بمع ترجمہ یاد کرتا اور ان کو مخصوص اوقات پر بطورِ حوالہ پیش کر دیا کرتا۔ لیکن جب یہ حوالہ جات تحریر کا حصہ بننے لگے تو اب قرآن کی آیات کو شائع کرنے سے پہلے بار بار پڑھنا ہوتا تھا کہ کہیں کوئی اعراب بھی غلط نہ رہ جائے۔ اُس وقت میں نے یہ محسوس کیا کہ قرآن میں ایسے الفاظ بھی پائے جاتے ہیں کہ جن پہ عربی قرآن میں علامتِ مد نہیں پائی جاتی۔ یہاں ایک بات اور بھی تحریر کرتا چلوں کہ مد‘ عثمانی خط میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ جنوب ایشیا میں جو اعراب مستعمل ہیں اُن میں دو طرح کی الگ الگ مد نظر آتی ہیں؛ ایک کو چھوٹی مد کہا جاتا ہے جبکہ دوسری کو بڑی مد کہا جاتا ہے۔
اس سے پہلے کہ میں مد پر مزید کچھ لکھوں‘ میں چاہوں گا کہ قارئین بھی وہ عبارت پڑھ لیں کہ جس میں‘ عربی زُبان میں‘ مد کی اصل حقیقت واضح ہو جائے۔ حج سے واپسی کے موقع پر بادشاہِ سعودی عرب کی طرف سے قرآنِ کریم‘ بطورِ تحفہ‘ ہر حاجی کو دیا جاتا ہے۔ شاہ فھد کے زمانہ میں جب مرشدِ کریم حج کر کے آئے تو اُنہیں اُردو ترجمہ و تفسیر والا قرآنِ کریم ملا تھا۔ اس دفعہ حج پر صرف دو طرح کے قرآن دیئے گئے؛ ایک جنوب ایشیا کے اعراب اور خط کے مطابق تھا جبکہ دوسرا عثمانی خط و اعراب کے مطابق تھا۔ میں نے عثمانی خط و اعراب والا قرآن لیا اور لائونچ میں ہی بیٹھ کر مطالعہ شروع کر دیا۔ ورق گردانی کرتے ہوئے‘ آخر میں چند معلومات عربی زبان میں لکھی ہوئی تھیں۔ وہاں عثمانی اعراب کے استعمال کے بارے میں چند معلومات تھیں۔ وہاں میں نے علامتِ مد کے بارے میں جو عبارت پڑھی‘ وہ نیچے نقل کر رہا ہوں۔
وَ وَضَعَ ہٰـذِہ العَلامَۃ (( ٓ )): فَوقَ الْحَرفِ یَدُلّ علٰی لُزُوم مَدِّہ مَدًّا زَائِدًا عَلی المدِّ الطَّبیعِیّ الأَصْلِیّ: (الٓمٓ) (الطَّآمَّۃُ) (قُرُوٓءٍ) (سِیٓءَ بِہِمْ) (شُفَعَـٰٓـؤُا) (وَمَا یَعْلَمُ تَـأْوِیْلَہُوٓ اِلَّا اللّٰہُ) (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیٓ أَن یَضْرِبَ مَثَــلًا مَّا) (بِمَآ أُنزِل) علٰی تَفْصیلٍ یُعْلَم مِن فَنِّ التَّجْویدِ وَ لَا تُستعمَلُ ہٰـذِہ العَـلَامَۃ للدّلَالۃِ علٰی أَلِفٍ مَحذوفۃٍ بَعدَ أَلِفٍ مَکتُوبۃٍ مِثْلَ: (آمَنُوا) کما وُضعَ غَلَطًا فی بَعْضِ المَصَاحِفِ‘ بَلْ تُکْتَبُ (ءَ امَنُوا) بِہَمْزَۃٍ وَ أَلفٍ بَعْدَھَا۔
عربی سے بہت کم شناسائی کی وجہ سے یہ عبارت پڑھ کر سمجھ تو آ گئی لیکن اس کا ترجمہ کرنے کے لیے اپنے اسلامیات کے استاد محترم جناب بختیار احمد نبیل صاحب کو عبارت بھیجی۔ مزید میں نے فیس بُک پر اپنے عربی دوست سے اس عبارت کا مطلب معلوم کیا۔ ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔
اور حرف کے اوپر اگر یہ علامت آ جائے تو اصل زبر ’’طبیعی‘‘ پر زائد زبر کو کھینچنا لازم ہے: (الٓمٓ) (الطَّآمَّۃُ) (قُرُوٓءٍ) (سِیٓءَ بِہِمْ) (شُفَعَـٰٓـؤُا) (وَمَا یَعْلَمُ تَـأْوِیْلَہُوٓ اِلَّا اللّٰہُ) (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَسْتَحْیِیٓ أَن یَضْرِبَ مَثَــلًا مَّا) (بِمَآ أُنزِل)۔اگر تجوید کا علم پڑھا جائے تو اس کی بہت تفصیل ہو جاتی ہے۔ یہ علامت الف مکتوبہ کے بعد الف محذوفہ پر دلالت کرنے کے لیے استعمال نہیں ہوتی۔ مثلا: (آمَنُوا)۔ بعض مصاحف میں یہ غلط وضع کیا گیا ہے۔ بلکہ (ءَ امَنُوا)۔ ہمزہ اور بعد میں الف کے ساتھ لکھا جاتا ہے۔
اس غلطی کی ممکنہ وجہ کی طرف بڑھنے سے پہلے ذرا مد کی لمبائی کو سمجھ لیا جائے۔ ہم نے جب بچپن میں قاری صاحب سے قرآن پڑھا تھا تو انہوں نے ہمیں اس کے بارے میں بتایا تھا مگر آج کل اکثر قراء حضرات خود بھی اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ ہمیں بڑے ہو کر علم ہوا کہ دنیا میں مختلف علاقوں میں مختلف اعراب مستعمل ہیں اور عثمانی اعراب میں صرف ایک طرح کی مد ہوتی ہے۔ مگر پوری دنیا میں قرآن کی قریشی قرأت و لہجہ‘ تلفظ اور الفاظ ایک جیسے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے پوری دنیا میں اُس وقت موجود‘ قرآنِ کریم کے تمام نسخے منگوائے اور اتنے ہی قریشی لہجے میں یہ سوچ کر لکھوائے کہ قرآن قریشی عربی میں نازل ہوا تھا اور اِسے قریشی عربی میں ہی پڑھا جانا چاہیے۔ اور باقی تمام غلط نسخے جلوا دیئے گئے۔ اُس زمانہ میں قرآن جس خط میں لکھا گیا اُس کو عثمانی خط کہتے ہیں مگر اعراب حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں نہ لگے۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی حکومت زیادہ تر عثمانی خط میں قرآنِ کریم چھپواتی ہے۔
پاکستان میں جو اعراب عموماً مستعمل ہیں‘ اُن میں چھوٹی مد کی لمبائی تین الف تک اور بڑی مد کی لمبائی پانچ الف تک کھینچی جاتی ہے۔ مثلاً کہ الٓمٓ میں لام اور میم کی لمبائی کو پانچ الف تک کھینچا جائے گا۔ اِسی طرح اگر تو کسی لفظ کے اوپر کھڑا زبر یا کسی لفظ کے نیچے کھڑی زیر آ جائے تو اُسے دو الف تک کھینچا جائے گا جیسا کہ اٰمَنُوا میں۔ اب اگر آپ غور فرمائیں تو اٰمَنُوا اور ءَ امَنُوا میں بولنے کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں جبکہ آمَنُوا میں اگر چھوٹی مد بھی لگائی جائے تو اُس کی لمبائی دو الف سے بڑھ کر تین الف تک ہو جاتی ہے۔ شاید کچھ لوگ یہ سمجھتے ہوں کہ قراء حضرات خوبصورتی کے لیے ایسے مواقع پر اپنی مرضی سے طول دیتے ہوں لیکن بات یہ ہے کہ کافی زبانوں میں لفظ کو طول دینے سے الفاظ کے معنٰی بدل جاتے ہیں۔
Wikipedia Encyclopeida میں اِس کے متعلق لکھا ہوا ہے:
Many languages, for example, use stress, pitch, duration and tone to distinguish meanings.
اگر میں اِن تمام‘ اِدھر اُدھر کی‘ لمبی چوڑی باتوں کا خلاصہ کروں تو وہ یہ ہے کہ (آمنو) کی طرح بہت سے عربی الفاظ ایسے ہیں کہ جن کے اوپر اکثر مد ڈال دی جاتی ہے حالاں کہ اصل عربی لفظ میں مد موجود نہیں ہوتی۔ مثلا: (قرآن) وغیرہ۔ اوّلاً تو تمام مسلمانوں کو‘ بالخصوص عربی قرآن شائع کرنے والے افراد کو (خواہ وہ کسی رسالہ‘ کسی اخبار یا کسی کتاب میں چھپے) اِس غلطی کی اصلاح کا علم ہونا چاہیے تاکہ اِس غلطی سے عربی قرآن کو محفوظ رکھا جا سکے۔
ثانیاً یہ کہ میں نے بھی تو اپنے مضمون میں کئی جگہوں پر قرآن کے الف کے اوپر مد لگائی ہے۔ آخر ایسا کیوں؟
اِس جواب کو ڈھونڈنے کے لیے میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ کیا اُردو زُبان میں بھی عربی کی طرح مد کے چند خاص مطلب ہیں؟لفظ قرآن سے مجھے لفظ آم بھی یاد آ گیا جو کہ عربی تو دور‘ فارسی حرف بھی نہیں بلکہ ہندی حرف ہے۔ اسی طرح آج اگر اردو لغت اُٹھائیں تو اُس میں الف کے لیے ایک علیحدہ خانہ ہوتا ہے جبکہ الف ممدودہ کے لیے ایک علیحدہ خانہ ہوتا ہے۔ اگر آپ اردو لغت میں الف ممدودہ کی تعریف پڑھیں تو وہاں لکھا ہو گا کہ الف ممدودہ کو کھینچ کر پڑھتے ہیں اور اس کے اوپر مد ہوتا ہے۔ گویا اُردو زُبان میں ہر اُس لفظ کے اوپر مد آ جائے گی کہ جو ایک الف کی لمبائی سے زیادہ لمبا ہو۔ گو کہ اُردو زُبان میں بھی کھڑا زبر پایا جاتا ہے مگر وہ بھی چند عربی الفاظ پر پایا جاتا ہے مثلاً: فتویٰ‘ لہٰذا‘ اِلٰہی‘ حتیٰ وغیرہ۔
اب ایک سوال اور پیدا ہوتا ہے۔ اگر اُردو زبان میں کھڑا زبر والے الفاظ موجود ہیں تو پھر قرآن کے الف کے اوپر کھڑا زبر کیوں نہیں لگتا؟ تو اِس کا جواب جو میری ناقص عقل میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ الفاظ عربی سے نہیں بلکہ فارسی سے ہماری لغت میں شامل ہوئے ہیں۔ مد لگانا اصلاً تو اُردو کا قاعدہ نہیں۔ یہ الفاظ تو اُردو نے دوسری زُبانوں سے لیے ہیں اور فارسی زُبان کی تقلید کرتے ہوئے مد لگا دی ہے۔ حالاں کہ فارسی لغت میں بھی یہ عربی لغت سے شامل ہوئے تھے۔ لیکن چوں کہ فارسی زبان میں آنے کے بعد یہ غلطی‘ غلط العام ہو گئی تو اب ان کو واپس اصلی حالت میں لے کر جانا تھوڑا دشوار کام تھا۔ جیسا کہ آج اُردو لغت میں سوچ بطورِ مذکر بھی مستعمل ہے اور بطورِ مؤنث بھی جبکہ ایک وقت میں سوچ صرف بطورِ مذکر مستعمل تھا۔ اسی طرح آج لفظ (لیے/ لئے) کو دونوں میں سے کسی انداز میں بھی لکھا جا سکتا ہے۔
ان دو سوالوں سے مجھے ’’آخر ایسا کیوں؟‘‘ کا جواب یہی ملا کہ یہ کسی ایک شخص کی غلطی نہ تھی بلکہ پورے معاشرے کی غلطی تھی اور صرف ایک معاشرہ نہیں بلکہ کئی معاشروں کی غلطی تھی۔ عربیوں کو اپنی زُبان کی جامعیت پر شروع سے ہی ناز رہا ہے۔ عربی میں لفظ کی لمبائی کے کافی طریقے رائج تھے جبکہ دیگر معاشروں کی لغات اِس چیز سے خالی تھیں۔ لیکن جس جس طرح اسلام پھیلتا گیا، اُس اُس طرح مسلم ممالک اپنی لغات میں عربی اور فارسی کے الفاظ شامل کرتے رہے تاکہ اُن کو اسلام سمجھنے میں آسانی پیش آئے۔ اُردو کے علاوہ کئی ایسی زُبانیں ہیں کہ جو صفِ اوّل پہ نظر آتی ہیں۔ دولتِ عثمانیہ کے وقت میں جو تُرکی زُبان بولی جاتی تھی‘ وہ فارسی اور عربی سے لدی ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ آج کی تُرکی زُبان میں سے دیگر زُبانوں کے ہزاروں الفاظ نکالنے کے باوجود بھی بے شمار عربی و فارسی الفاظ موجود ہیں۔

سید شاہ رُخ کمال
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مقام: پنجاب
مراسلات: 11
شکریہ: 4
9 مراسلہ میں 35 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 97
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سید شاہ رُخ کمال کا شکریہ ادا کیا
compaq (11-12-11), shafresha (12-12-11), احمد نذیر (12-12-11)
جواب

Tags
کوشش, کمپیوٹر, کمال, پاک, قرآن, نظر, موقع, معاشرہ, آج, اللہ, اردو, اردو لغت, استاد, بچپن, جواب, حکم, حضرات, خبر, دوست, زمانہ, سال, شخص, عقل, صاحبزادہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger