واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


غیر ملکی جہادی اور پاکستان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  2 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 15-12-11, 06:12 PM   #1
غیر ملکی جہادی اور پاکستان
riaz ahmad riaz ahmad آف لائن ہے 15-12-11, 06:12 PM
درجہ بندی: (2 votes - 5.00 average)

غیر ملکی جہادی اور پاکستان

شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ اور حقانی نیٹ ورک و القائدہ کا مسکن ہے۔ وزیرستان کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی مربع کلومیٹر پر پھیلا ہواہے اور یہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں منقسم ہے۔ان علاقوں کی آبادی کا تخمینہ بالترتیب چھ اور آٹھ لاکھ لگایا گیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کا علاقہ دریائے ٹوچی اور دریائے گومل کے درمیان پشاور کے مغرب و جنوب مغرب میں آتا ہے ۔ شمالی او ر جنوبی وزیرستان کی سرحدیں آپس میں بھی ملتی ہیں۔ میران شاہ ، شمالی وزیرستان کا صدر مقام ہے۔
شمالی وزیرستان کا علاقہ پشتون اتمان زئی وزیر اور دایور قبایل کا مسکن ہے، ان کے علاوہ یہاں دوسرے چھوٹے قبائل گرباز ،خارسنز ، سادجیsaidgi)) اور محسود (Malakshis Mahsuds) بھی آباد ہین۔ شمالی وزیرستان کے بڑے شہر رزمک،میر علی،دتا خیل اور میراں شاہ ہیں۔ دور دورتک دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے پھیلا ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان القاعدہ ، ازبک ،چیچن ،طالبان، پنجابی طالبان،لشکر ظل( الیاس کشمیری)، جیش محمد، حرکت جہاد اسلامی،لشکر جھنگوی، لشکر جھنگوی العالمی، گلبدین حکمت یار حقانی اور دوسرےغیر ملکی جنگجووں کا محفوظ ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے، جہان سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں مین باآسانی کاروائیاں کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق القائدہ کے مرکزی لیڈر بھی اسی علاقہ مین روپوش بتائے جاتے ہیں۔ یہ تمام گروپس اگرچہ علیحدہ علیحدہ ہیں مگرمل کر کام کرتے ہیں۔ القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک سب سے بڑا اور خطرناک گروپ ہے اور یہ دوسرے دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا ہے۔ حقانی کا گھر جو میران شاہ سے چند میل کے فاصلے پر داندے درپہ خیل میں واقع تھا، میں پہلے ایک مدرسہ تھا جس میں ایک ہزار کے قریب طلبا زیر تعلیم تھے ۔
جب حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں نے افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی جانب رجوع کیا تو انہیں یہا ں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا ۔ عسکریت پسندوں نے قبائلی لوگوں کی روایتی مہمان نوازی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جبکہ ان غیر ملکیوں کی موجودگی نے ریاست کے لیے امن و امان کے مسائل جنم دینے شروع کر دیے۔ بیرونی عسکریت پسندوں نے اپنی موجودگی کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر خاص طور پر مقامی اور غیر ملکی جہادیوں کو فوجی تربیت فرایہم کرنا شروع کی اور ان مقاصد کی راہ میں مزاحم ہونے والی کسی بھی عسکر ی طاقت کے خلاف نمٹنے کی ترغیب و تربیت فراہم کی۔
حقانی نیٹ ورک کا بانی ،جلال الدین حقانی خوست،افغانستان کا رہنے والا ہے اور سلطان خیل میزائی ،زدران قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ افغانستان سے طالبان کی حکومت کے خاتمہ پر ہجرت کر کے شمالی وزیرستان میں آ گیا اور میران شاہ مین آباد ہو گیا جہان بڑے حقانی نے مدرسہ منباء العلوم قائم کیا۔ اور اس نے شمالی وزیرستان میں ہی اپنا ہیڈ کوارٹرز قائم کررکھا ہے۔ افغانستان کے صوبہ خوست میں رہنے والے زدران قبائل حقانی نیٹ ورک کے حمایتی ہیں۔ اس گروہ کو قبائلی 1979ء میں افغانستان پر سوویت فوجوں کے حملے کے وقت سے ہی مجاہدین کا سب سے طاقتور گروہ تسلیم کرتے ہیں اور اس کا قبائل میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ اطلاعات کے مطابق القاعدہ اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تحریک طالبان اور ملا عمر سے بھی رابطے ہیں۔
حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے"خوست کا پیالہ" کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔۔حقانی نیٹ ورک کا طالبان سے الحاق ہے۔ القائدہ سے تعلق رکھنے والا یہ گروپ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب پھیلا ہوا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی قیادت جلال الدین حقانی کے ہاتھ مینں ہے مگر جلال الدین حقانی کی مسلسل علالت اور پیرانہ سالی کے باعث ، سراج الدین حقانی، جو خلیفہ بھی کہلاتا ہے، اس گروپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی طالبان کے درمیان رابطہ موجود ہے"، ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے بتایا جو کہ پاکستان کے لاقانونیت کا شکار قبائلی علاقوں میں سلامتی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے غیر ملکی دہشت گردوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہر گروپ دوسرے سے استفادہ کرتا ہے۔ اور بالآخر اس تعلق سے سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ کو پہنچتا ہے کیونکہ حقانی اور تحریک طالبان پاکستان دونوں ہی اسے سرحدوں کے دونوں جانب سہولیات اور دیگر امداد فراہم کرتے ہیں۔
قبائلی صحافی عمر دراز وزیر کا کہنا ہے۔ کہ "عسکریت پسندی بہت سے بے روزگار قبائلی نوجوانوں کے لئے ایک متبادل ذریعہ روزگار ثابت ہوئی ہے"۔ حقانی نیٹ ورک فاٹا کے نوجوانوں اور عورتوں کو فوجی و عسکری تربیت دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہین اور انہیں دہشت گرد و خود کش بمبار بنا رے ہیں۔
چونکہ جغرافیائی اعتبار سے کرم ایجنسی کا علاقہ اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا یہ علاقہ افغان صوبوں پکتیا، ننگرہار اور خوست کے سامنے واقع ہے۔ اسے شمالی وزیرستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کا مرکزی ٹھکانہ ہے۔
ماہرین کے مطابق کرم ایجنسی سے راستہ یقینی طور پر طلب کیا جائے گا اور اس کے ذریعے حقانی گروپ کے شدت پسند سرحدی علاقے کی اہم بلند چوٹیوں پر براجمان ہونے کے خواہشمند ہیں۔ حقانی گروپ ایک خبر کے مطابق کرم ایجنسی منتقل ہو چکا ہے۔ شمالی وزیرستان کےعلاقہ میں موجود طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ ، حقانی گروپ کی حمایت کرتا ہے۔
حقانی نیٹ ورک پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کا ذمہ دار ہے ۔ یہ لوگ غیر ملکی ہیں اور فاٹا کے علاقہ کا سکون غارت کر رہے ہیں۔حقانی نیٹ ورک پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بڑی پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے ہے۔ ان کارروائیوں میں کابل کا وہ حملہ بھی شامل ہے جو بیس گھنٹے تک جاری رہا۔حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مغرب، بھارت اور افغانستان میں ہونے والے ہائی پروفائل حملوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے حامی عسکریت پسندوں کی قیادت کرنے والے حقانی نے ہی خودکش بم دھماکے متعارف کرائے۔
حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں شدت پسندوں کے مضبوط مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
پاکستان مین مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ مین قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہین اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں، اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہین۔ القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو عسکری تربیت و پناہ مہیا کر رہے ہین۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیرستان مین دہشت گردی کے ۹ تربیتی کیمپ ہین جہان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ میر علی ،وزیرستان کے ایک کیمپ میں سنگین خان کمانڈر کی زیر نگرانی، ۳۵۰ بچے ،خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ حقانی ناقابل بھروسہ ہیں۔
حقانی نیٹ ورک نے علاقہ اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور یہ تجارت پر ٹیکس وصول کرتے ہین۔ ٹرک کمپنوں سے زبردستی بھتہ وصول کرنا اور باڈر کے پار لکڑی کی اور دوسری اشیا کی سمگلنگ کے کاروبار سے رقم بناتے ہین۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور لوئی پکتیا کے علاقہ مین ٹھیکہ دار اور ضلعی بزرگ ،حقانیوں کو "حفاظتی رقم( Protection Money)" ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسجدوں میں چندہ وصول کرنا اور خلیجی ریاستوں سے حاصل شدہ عطیات ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہین۔
حقانیوں کے پاس ۱۲ ہزار سے زیادہ تربیت یافتہ جنگجو ہین اور یہ مہمان ہونے کے باوجود غیر قانونی وغیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہین۔ امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل ‘ کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے پانچ ہزار جنگجو ورلڈ کلاس تربیت یافتہ ہیں اور وہ ہرطرح کی کارروائی کرنا جانتے ہیں انہوں نے افغانستان مین امریکی فورسز کو بہت نقصان دیا۔ امریکی دفاعی حکام حقانی نیٹ ورک جنگ جووں کی دلیر ی اور تربیت سے متاثر ہیں اور وہ اپنی فوج کے مقابلے ان عسکریت پسندوں کو ورلڈ کلاس سمجھتے ہیں۔اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کچھ اعلیٰ ارکان جنوبی وزیرستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔
عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔
• 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
• 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
• 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
• 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔ (قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہین۔

حقانی نیٹ ورک اور دوسرے جنگجو اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام ،سالمیت،خودمختاری اور معیشت کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا تمام غیر ملکیوں جہادیوں کو شمالی وزیرستان سے نکال باہر کیا جانا چاہئیے۔

riaz ahmad
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 11
شکریہ: 25
4 مراسلہ میں 7 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 411
Reply With Quote
پرانا 08-01-12, 12:44 AM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام میں ملکی اور غیر ملکی کا کوئی تصور نہیں ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (14-01-12), محمد عاصم (13-01-12), راجہ اکرام (09-01-12), رضی (14-01-12), طاھر (19-01-12), عبداللہ آدم (14-01-12), عبداللہ حیدر (26-01-12)
پرانا 10-01-12, 06:03 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,060
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default typpo's

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
اسلام میں ملکی اور غیر ملکی کا کوئی تصور نہیں ۔
بھائی صاحب:
کھل کر وضاحت فرما دیجیئے، قران اورحنفی و دوسرے فقہیوں و تاریخ کے حوالہ جات کے ساتھ، کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟
نیز یہ بھی فرما دیجئے کہ آیا پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے؟
اگر آپ کا یک سطری فیصلہ مان لیا جائے تو یہ پاکستان میں جہادیوں کا ایک فلڈ گیٹ کھول دے گا۔
شکریہ

Last edited by A Nawaz Khan; 10-01-12 at 06:06 PM.
A Nawaz Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
A Nawaz Khan کا شکریہ ادا کیا گیا
riaz ahmad (13-01-12)
پرانا 11-01-12, 01:23 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ بے پرکی اڑانے کی لوگوں کی عادت ہے۔ ایسے ہی مفروضے پیش کر کے لوگوں کو ورغلانے کی ایک روایت سی بن گئی ہے۔ اسلام میں ملکی اور غیر ملکی کا تصوّر کسی اور حوالے سے نہیں ہے۔ مسلمان ایک امت ہے۔ امت ایک بہت بڑا گروہ ہے جو مختلف ممالک اور معاشروں کے رنگوں سے مل کر بنتا ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی معاشرے سے منسوب ہوتا ہے اور معاشرہ قوم سے بنتا ہے ، کسی ملک کے اندر، شہر کے اندر۔ مثال کے طور پر دنیا میں عربی مسلمان ہیں ، جو عرب سے ہیں، انڈین مسلمان ہیں جو انڈیا سے ہیں، مغربی مسلمان ہیں جو کسی مغربی ملک سے ہیں۔ ان سب مسلمانوں کی ایک پہچان ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہر مسلمان کے مزہبی اعتقادات مترادف ہوتے ہیں لیکن معاشرتی اقدار مختلف ہو تے ہیں، جو ایک امت کہلاتے ہیں۔ اس طرح سے (جس طرح سے آپ کہہ رہے ہیں ) تو ضرورت کیا ہے کسی سرحد کی، کسی قانون کی، کسی حد کی۔

میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ پاکستان سے باہر جا کر بھی وہی نظریات پھیلاتے ہیں، جو شاید کسی فساد کا ذمّہ دار بن جائے
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں

اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا گیا
riaz ahmad (13-01-12)
پرانا 14-01-12, 01:19 AM   #5
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جناب نواز بھائی جان !

یہ بتایا جائے کہ پاکستان اسلامی کی بنیاد پر بنا تھا یا نہیں؟؟

اگر ہاں تو کیا یہ اب تک اسلام ہی کی بنیاد پر ہے؟؟ اگر ہے تو اسلام کی بنیاد پر افراد کو لینے سے کیا عذ شرعی مانع ہے اس اسلامی ریاست کو؟؟

اگر یہ اسلامی ریاست نہیں ہے تب بھی بتا دیں.

جزک اللہ
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (14-01-12), رضی (14-01-12)
پرانا 14-01-12, 06:53 AM   #6
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : riaz ahmad مراسلہ دیکھیں
غیر ملکی جہادی اور پاکستان

شمالی وزیرستان جہادیوں کا مرکز و گڑہ اور حقانی نیٹ ورک و القائدہ کا مسکن ہے۔ وزیرستان کا دشوار گزار پہاڑی علاقہ گیارہ ہزار پانچ سو پچاسی مربع کلومیٹر پر پھیلا ہواہے اور یہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان ایجنسیوں میں منقسم ہے۔ان علاقوں کی آبادی کا تخمینہ بالترتیب چھ اور آٹھ لاکھ لگایا گیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کا علاقہ دریائے ٹوچی اور دریائے گومل کے درمیان پشاور کے مغرب و جنوب مغرب میں آتا ہے ۔ شمالی او ر جنوبی وزیرستان کی سرحدیں آپس میں بھی ملتی ہیں۔ میران شاہ ، شمالی وزیرستان کا صدر مقام ہے۔
شمالی وزیرستان کا علاقہ پشتون اتمان زئی وزیر اور دایور قبایل کا مسکن ہے، ان کے علاوہ یہاں دوسرے چھوٹے قبائل گرباز ،خارسنز ، سادجیsaidgi)) اور محسود (Malakshis Mahsuds) بھی آباد ہین۔ شمالی وزیرستان کے بڑے شہر رزمک،میر علی،دتا خیل اور میراں شاہ ہیں۔ دور دورتک دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے پھیلا ہونے کی وجہ سے شمالی وزیرستان القاعدہ ، ازبک ،چیچن ،طالبان، پنجابی طالبان،لشکر ظل( الیاس کشمیری)، جیش محمد، حرکت جہاد اسلامی،لشکر جھنگوی، لشکر جھنگوی العالمی، گلبدین حکمت یار حقانی اور دوسرےغیر ملکی جنگجووں کا محفوظ ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے، جہان سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں مین باآسانی کاروائیاں کرتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق القائدہ کے مرکزی لیڈر بھی اسی علاقہ مین روپوش بتائے جاتے ہیں۔ یہ تمام گروپس اگرچہ علیحدہ علیحدہ ہیں مگرمل کر کام کرتے ہیں۔ القاعدہ اور طالبان سمیت دیگر دوسرے گروپوں کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ حقانی نیٹ ورک سب سے بڑا اور خطرناک گروپ ہے اور یہ دوسرے دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتا ہے۔ حقانی کا گھر جو میران شاہ سے چند میل کے فاصلے پر داندے درپہ خیل میں واقع تھا، میں پہلے ایک مدرسہ تھا جس میں ایک ہزار کے قریب طلبا زیر تعلیم تھے ۔
جب حقانی نیٹ ورک کے عسکریت پسندوں نے افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی جانب رجوع کیا تو انہیں یہا ں گرم جوشی سے خوش آمدید کہا گیا ۔ عسکریت پسندوں نے قبائلی لوگوں کی روایتی مہمان نوازی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا جبکہ ان غیر ملکیوں کی موجودگی نے ریاست کے لیے امن و امان کے مسائل جنم دینے شروع کر دیے۔ بیرونی عسکریت پسندوں نے اپنی موجودگی کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر خاص طور پر مقامی اور غیر ملکی جہادیوں کو فوجی تربیت فرایہم کرنا شروع کی اور ان مقاصد کی راہ میں مزاحم ہونے والی کسی بھی عسکر ی طاقت کے خلاف نمٹنے کی ترغیب و تربیت فراہم کی۔
حقانی نیٹ ورک کا بانی ،جلال الدین حقانی خوست،افغانستان کا رہنے والا ہے اور سلطان خیل میزائی ،زدران قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ افغانستان سے طالبان کی حکومت کے خاتمہ پر ہجرت کر کے شمالی وزیرستان میں آ گیا اور میران شاہ مین آباد ہو گیا جہان بڑے حقانی نے مدرسہ منباء العلوم قائم کیا۔ اور اس نے شمالی وزیرستان میں ہی اپنا ہیڈ کوارٹرز قائم کررکھا ہے۔ افغانستان کے صوبہ خوست میں رہنے والے زدران قبائل حقانی نیٹ ورک کے حمایتی ہیں۔ اس گروہ کو قبائلی 1979ء میں افغانستان پر سوویت فوجوں کے حملے کے وقت سے ہی مجاہدین کا سب سے طاقتور گروہ تسلیم کرتے ہیں اور اس کا قبائل میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ اطلاعات کے مطابق القاعدہ اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے تحریک طالبان اور ملا عمر سے بھی رابطے ہیں۔
حقانی نیٹ ورک، پاکستان کے علاوہ افغانستان میں اس علاقے پر کاروائیاں کرتےہے جسے"خوست کا پیالہ" کہا جاتا ہے اور جس میں پکتیکا، پکتیا اور خوست شامل ہیں۔۔حقانی نیٹ ورک کا طالبان سے الحاق ہے۔ القائدہ سے تعلق رکھنے والا یہ گروپ پاک افغان سرحد کے دونوں جانب پھیلا ہوا ہے۔ حقانی نیٹ ورک کی قیادت جلال الدین حقانی کے ہاتھ مینں ہے مگر جلال الدین حقانی کی مسلسل علالت اور پیرانہ سالی کے باعث ، سراج الدین حقانی، جو خلیفہ بھی کہلاتا ہے، اس گروپ کو کنٹرول کرتے ہیں۔
یہ بات شک و شبے سے بالاتر ہے کہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستانی طالبان کے درمیان رابطہ موجود ہے"، ریٹائرڈ بریگیڈیر محمود شاہ نے بتایا جو کہ پاکستان کے لاقانونیت کا شکار قبائلی علاقوں میں سلامتی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے مبصرین کا کہنا ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان اور دوسرے غیر ملکی دہشت گردوں کے ساتھ گہرے روابط ہیں۔ سرحد کے دونوں جانب ہر گروپ دوسرے سے استفادہ کرتا ہے۔ اور بالآخر اس تعلق سے سب سے زیادہ فائدہ القاعدہ کو پہنچتا ہے کیونکہ حقانی اور تحریک طالبان پاکستان دونوں ہی اسے سرحدوں کے دونوں جانب سہولیات اور دیگر امداد فراہم کرتے ہیں۔
قبائلی صحافی عمر دراز وزیر کا کہنا ہے۔ کہ "عسکریت پسندی بہت سے بے روزگار قبائلی نوجوانوں کے لئے ایک متبادل ذریعہ روزگار ثابت ہوئی ہے"۔ حقانی نیٹ ورک فاٹا کے نوجوانوں اور عورتوں کو فوجی و عسکری تربیت دے کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہین اور انہیں دہشت گرد و خود کش بمبار بنا رے ہیں۔
چونکہ جغرافیائی اعتبار سے کرم ایجنسی کا علاقہ اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان کا یہ علاقہ افغان صوبوں پکتیا، ننگرہار اور خوست کے سامنے واقع ہے۔ اسے شمالی وزیرستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ اسی شمالی وزیرستان میں حقانی گروپ کا مرکزی ٹھکانہ ہے۔
ماہرین کے مطابق کرم ایجنسی سے راستہ یقینی طور پر طلب کیا جائے گا اور اس کے ذریعے حقانی گروپ کے شدت پسند سرحدی علاقے کی اہم بلند چوٹیوں پر براجمان ہونے کے خواہشمند ہیں۔ حقانی گروپ ایک خبر کے مطابق کرم ایجنسی منتقل ہو چکا ہے۔ شمالی وزیرستان کےعلاقہ میں موجود طالبان کا حافظ گل بہادر گروپ ، حقانی گروپ کی حمایت کرتا ہے۔
حقانی نیٹ ورک پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات کا ذمہ دار ہے ۔ یہ لوگ غیر ملکی ہیں اور فاٹا کے علاقہ کا سکون غارت کر رہے ہیں۔حقانی نیٹ ورک پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں حالیہ دنوں میں ہونے والی بڑی پرتشدد کارروائیوں کے پیچھے ہے۔ ان کارروائیوں میں کابل کا وہ حملہ بھی شامل ہے جو بیس گھنٹے تک جاری رہا۔حقانی نیٹ ورک کے جنگجوؤں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مغرب، بھارت اور افغانستان میں ہونے والے ہائی پروفائل حملوں میں ملوث ہیں۔ پاکستان اور افغانستان میں طالبان کے حامی عسکریت پسندوں کی قیادت کرنے والے حقانی نے ہی خودکش بم دھماکے متعارف کرائے۔
حقانی نیٹ ورک کو افغانستان کے شمال مشرقی صوبوں کنڑ اور ننگرہار اور جنوب میں زابل، قندھار اور ہلمند میں شدت پسندوں کے مضبوط مرکز کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔
پاکستان مین مہمان بن کر آئے اور مالک بن کر بیٹھ گئے۔ یہ علاقہ مین قبائلی عمائدین کو قتل کر اکے قبائلی معاشرہ کی ساخت کو کمزور کر رہے ہین اور قبائلیوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں، اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لئے۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں، عوتوں اور بچوں کے قتل میں ملوث ہین۔ القائدہ دوسرے ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کو عسکری تربیت و پناہ مہیا کر رہے ہین۔ ایک اطلاع کے مطابق وزیرستان مین دہشت گردی کے ۹ تربیتی کیمپ ہین جہان دہشت گردوں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ میر علی ،وزیرستان کے ایک کیمپ میں سنگین خان کمانڈر کی زیر نگرانی، ۳۵۰ بچے ،خودکش بمبار بننے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ حقانی ناقابل بھروسہ ہیں۔
حقانی نیٹ ورک نے علاقہ اپنی متوازی حکومت قائم کر رکھی ہے اور یہ تجارت پر ٹیکس وصول کرتے ہین۔ ٹرک کمپنوں سے زبردستی بھتہ وصول کرنا اور باڈر کے پار لکڑی کی اور دوسری اشیا کی سمگلنگ کے کاروبار سے رقم بناتے ہین۔ اس کے علاوہ اغوا برائے تاوان اور لوئی پکتیا کے علاقہ مین ٹھیکہ دار اور ضلعی بزرگ ،حقانیوں کو "حفاظتی رقم( Protection Money)" ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مسجدوں میں چندہ وصول کرنا اور خلیجی ریاستوں سے حاصل شدہ عطیات ان کی آمدنی کا بڑا ذریعہ ہین۔
حقانیوں کے پاس ۱۲ ہزار سے زیادہ تربیت یافتہ جنگجو ہین اور یہ مہمان ہونے کے باوجود غیر قانونی وغیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہین۔ امریکی اخبار’وال اسٹریٹ جرنل ‘ کے مطابق حقانی نیٹ ورک کے پانچ ہزار جنگجو ورلڈ کلاس تربیت یافتہ ہیں اور وہ ہرطرح کی کارروائی کرنا جانتے ہیں انہوں نے افغانستان مین امریکی فورسز کو بہت نقصان دیا۔ امریکی دفاعی حکام حقانی نیٹ ورک جنگ جووں کی دلیر ی اور تربیت سے متاثر ہیں اور وہ اپنی فوج کے مقابلے ان عسکریت پسندوں کو ورلڈ کلاس سمجھتے ہیں۔اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ حقانی نیٹ ورک کے کچھ اعلیٰ ارکان جنوبی وزیرستان کے علاوہ پاکستان میں بھی اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں ۔
عام خیال یہ ہے کہ غیر ملکی جہادیوں کو پختون قبائلی اپنا مہمان سمجھتے ہیں۔اور ان کو وہاں سے نکالنے کے سخت خلاف ہیں۔ لیکن یہ سروے رپورٹ بتاتی ہے کہ لگ بھگ 68 فیصد لوگ ان جہادیوں کو نکالنے کے حق میں ہیں۔
• 25 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں سے نکال دینا چاہئے۔
• 43 فیصد لوگوں کا خیال ہےکہ انہیں پاک فوج زبردستی قبائلی علاقوں سے بے دخل کر دے۔
• 11 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ اگر وہ شر پسندی چھوڑنے کا عہد کریں تو پھر انہیں قبائلی علاقوں میں رہنےکی اجازت دے دی جائے۔
• 3 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ انہیں قبائلی علاقوں میں رہنے دیا جائے۔ (قبائلی علاقوں کے لوگ کیا چاہتے ہین۔

حقانی نیٹ ورک اور دوسرے جنگجو اپنی تخریبی کاروائیوں سے پاکستان کے استحکام ،سالمیت،خودمختاری اور معیشت کو کمزور کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں، وہ پاکستان کی اقتصادیت ، سیکورٹی اور سالمیت کو براہ راست خطرہ ہیں،جس کی ان لوگوں کو اجازت نہیں دی جاسکتی لہذا تمام غیر ملکیوں جہادیوں کو شمالی وزیرستان سے نکال باہر کیا جانا چاہئیے۔
سر جب جوائننگ کب دی اور کتنی تخواہ پر استاد بھرتی ھوئے ہیں۔
اللہ آپکو صحت دے لگتا ہے بخار چڑھ گیا ہے
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (14-01-12)
پرانا 14-01-12, 07:39 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,595
کمائي: 31,028
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
جناب نواز بھائی جان !

یہ بتایا جائے کہ پاکستان اسلامی کی بنیاد پر بنا تھا یا نہیں؟؟

اگر ہاں تو کیا یہ اب تک اسلام ہی کی بنیاد پر ہے؟؟ اگر ہے تو اسلام کی بنیاد پر افراد کو لینے سے کیا عذر شرعی مانع ہے اس اسلامی ریاست کو؟؟

اگر یہ اسلامی ریاست نہیں ہے تب بھی بتا دیں.

جزک اللہ
اسلام کی بنیاد ہے دوسرے کے مذہب کو تسلیم کرنا اور اس کو حفاظت فراہم کرنا۔۔۔

پاکستان بنانے کے لئے پاکستانیوں (مسلم ہو یا غیر مسلم)‌ درج ذیل قرارد اد کو منظور کیا اور پاکستان بنایا۔

قراردا د پاکستان

آئیے ایک نظر قرارداد لاہور کے اس اہم حصے پر نظر ڈالتے ہیں ، جس کو قراردا د پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مسلمان ہندوستان میں ایک اقلیت تھے ، اور اپنے اوپر ہوئے مظالم کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ایک ایسے ملک کا قیام چاہتے تھے جہاں اقلیتوں کو تکلیف نا ہو بلکہ مساوی حقوق حاصل ہوں۔


That adequate, effective and mandatory safeguards shall be specifically provided in the constitution for minorities in the units and in the regions for the protection of their religious, cultural, economic, political, administrative and other rights of the minorities,

آئین (پاکستان)‌ میں مناسب، زود الاثر اور لازمی محافظ نکات ، خصوصی طور پر اقلیتوں کے لئے فراہم کئے جائیں گے جو صوبوں اور علاقے میں ان کے مذاہب، ثقافت، معیشیت، سیاست ، انتطامی اور دوسرے حقوق کی حفاظت کریں گے۔


یہ ان جملوں میں سے ایک جملہ ہے جس پر پاکستان بنانے کے لئے اس علاقے کے ہر مذہب کے باشندے نے قسم کھائی ۔ آج ہم اس اہم اصول کو نظر اندا ز کر کے کہنے لگیں کہ مندر کے پروہت کو حکومت کا حق حاصل ہے تو کیا یہ انصاف ہو گا؟ یا پھر وعدہ خلافی اور دھوکہ بازی؟ کوئی ملاء، کوئی پروہت، کوئی لیکچرر، صرف اور صرف اپنے علم کی بنیاد پر حکومت کا اہل نہیں۔ حکومت کے اہل ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کو پاکستان کے عوام کے منتخب کئے ہوئے نمائندوں نے منتخب کیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ تمام قانون سازی کا حق صرف اور صرف عوام کی منتخب قانون ساز اسمبلی کو ہو۔ اور حکومت کی انتظامیہ کا حق اس قانون ساز اسمبلی سے منتخب منتظم اعلی ، یعنی صدر و وزیر اعظم کو ہو۔

اس نظام سے انحراف ، یعنی کسی پروفیسر کو اس کے تعلیمی معیار کی بنیاد پر قومی اسمبلی میں‌لے جانے کے معانی ہے ، مساوات کی موت ۔۔۔۔ حق رائے دہی کی موت، اسلامی اصولوں‌کی موت۔

جزاک اللہ۔۔۔ لکم دینکم ولی دین ؟؟؟؟ کیا ہو ا اللہ تعالی کے اس فرمان کو؟

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 14-01-12, 07:32 PM   #8
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سوال گندم تھا جناب !!!

دوبارہ پڑھیں اور پھر جواب دیں
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (14-01-12), رضی (18-01-12)
پرانا 14-01-12, 08:27 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,466
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
شمالی وزیرستان القاعدہ ، ازبک ،چیچن ،طالبان، پنجابی طالبان،لشکر ظل( الیاس کشمیری)، جیش محمد، حرکت جہاد اسلامی،لشکر جھنگوی، لشکر جھنگوی العالمی، گلبدین حکمت یار حقانی اور دوسرےغیر ملکی جنگجووں کا محفوظ ٹھکانہ تصور کیا جاتا ہے، جہان سے دہشتگرد مقامی پاکستانی اور دوسرے غیر ملکی علاقوں مین باآسانی کاروائیاں کرتے ہیں
جناب آپنے یہ تو لکھا کہ یہ سب دہشت گرد ہیں ۔ ۔ ۔ اپنے دل کی بات بھی لکھ دیں کہ اس دور میں اگر کوئی امن کا داعی ہے تو وہ صرف امریکہ ہے ۔
عجیب منطق ہے جناب کی ۔ جو اپنے دفاع میں لڑ رہے ہیں وہ دہشت گرد اور جو ظلم کا بازار گرم کئے ہوئے ہے ”امریکہ “ اس کی مزمت میں ایک آدھا جملہ کہنا بھی آپ کو گوارا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شاید آپ بھول رہے ہیں جن کو آپ اور امریکہ دہشت گرد کہتے نہیں تھکتے کل انہیں لوگوں کو عظیم مجاہدین کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور اس چاپلوسی میں امریکہ پیش پیش تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جناب امریکہ نہ تو آپ سے خائف ہے اور نہ آپ کی افوج سے وہ اگر ڈرتا ہے تو لفظِ جہاد اورمجاہدین سے ۔ ۔ ۔ ۔
اور کفر کا بیڑہ بھی ان لوگوں ”مجاہیدن “ نے ہی غرق کرنا ہے ۔ ۔۔ ان شاءاللہ

Last edited by نبیل خان; 14-01-12 at 08:30 PM.
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (18-01-12)
پرانا 16-01-12, 11:59 PM   #10
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-01-12), نبیل خان (20-01-12), اجمل (23-01-12)
پرانا 17-01-12, 06:01 AM   #11
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اداس ساحل مراسلہ دیکھیں
یہ بے پرکی اڑانے کی لوگوں کی عادت ہے۔ ایسے ہی مفروضے پیش کر کے لوگوں کو ورغلانے کی ایک روایت سی بن گئی ہے۔ اسلام میں ملکی اور غیر ملکی کا تصوّر کسی اور حوالے سے نہیں ہے۔ مسلمان ایک امت ہے۔ امت ایک بہت بڑا گروہ ہے جو مختلف ممالک اور معاشروں کے رنگوں سے مل کر بنتا ہے۔ ہر مسلمان کسی نہ کسی معاشرے سے منسوب ہوتا ہے اور معاشرہ قوم سے بنتا ہے ، کسی ملک کے اندر، شہر کے اندر۔ مثال کے طور پر دنیا میں عربی مسلمان ہیں ، جو عرب سے ہیں، انڈین مسلمان ہیں جو انڈیا سے ہیں، مغربی مسلمان ہیں جو کسی مغربی ملک سے ہیں۔ ان سب مسلمانوں کی ایک پہچان ہے۔ لیکن مجموعی طور پر ہر مسلمان کے مزہبی اعتقادات مترادف ہوتے ہیں لیکن معاشرتی اقدار مختلف ہو تے ہیں، جو ایک امت کہلاتے ہیں۔ اس طرح سے (جس طرح سے آپ کہہ رہے ہیں ) تو ضرورت کیا ہے کسی سرحد کی، کسی قانون کی، کسی حد کی۔
میرا خیال ہے کہ کچھ لوگ پاکستان سے باہر جا کر بھی وہی نظریات پھیلاتے ہیں، جو شاید کسی فساد کا ذمّہ دار بن جائے
جي درست فرمايا آپ‌نے كوئي ضرورت نہيں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (20-01-12), عبداللہ آدم (17-01-12)
پرانا 17-01-12, 06:51 AM   #12
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,595
کمائي: 31,028
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شاید آپ بھول رہے ہیں جن کو آپ اور امریکہ دہشت گرد کہتے نہیں تھکتے کل انہیں لوگوں کو عظیم مجاہدین کے نام سے یاد کیا جاتا تھا اور اس چاپلوسی میں امریکہ پیش پیش تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
آپ کا شکریہ کہ جنا ب نے امریکہ کی اس فاش غلطی کی طرف اشارہ کیا۔ کیا اچھا ہوتا کہ امریکہ افغانیوں کی مدد نہیں‌کرتا، سٹنگر میزائیل نا دیتا۔۔ بلکہ روس کو ان کا صفایا کرنے دیتا ، ۔۔۔ تو پھر یہ مسئلہ ہی نہیں‌ہوتا۔۔۔۔۔ خلیجی ممالک الگ کانپتے رہتے
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
A Nawaz Khan (19-01-12)
پرانا 19-01-12, 04:25 PM   #13
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2012
مقام: Lahore
مراسلات: 23
کمائي: 322
شکریہ: 25
8 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رضی مراسلہ دیکھیں
سر جب جوائننگ کب دی اور کتنی تخواہ پر استاد بھرتی ھوئے ہیں۔
اللہ آپکو صحت دے لگتا ہے بخار چڑھ گیا ہے
بھائی:
ہمارے ہان یہ بڑی غلط روایت ہے کہ ہم ہر کسی کی کردار کشی پر اتر آتے ہین۔
Do not shoot the messenger ,attack the message.
Mohammad Abdullah آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-01-12, 06:40 AM   #14
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Mohammad Abdullah مراسلہ دیکھیں
بھائی:
ہمارے ہان یہ بڑی غلط روایت ہے کہ ہم ہر کسی کی کردار کشی پر اتر آتے ہین۔
Do not shoot the messenger ,attack the message.
کردار کشی کس نے ایک سوال پوچھا ۔ کیا ان حضرات سے سوال پوچھنا بھی جرم ہے۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 23-01-12, 06:34 PM   #15
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2012
مقام: Lahore
مراسلات: 23
کمائي: 322
شکریہ: 25
8 مراسلہ میں 10 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رضی مراسلہ دیکھیں
کردار کشی کس نے ایک سوال پوچھا ۔ کیا ان حضرات سے سوال پوچھنا بھی جرم ہے۔
اس سادگی پر کون نہ مر جائے

غالبا، مرزا غالب نے آپ کے لئے ہی کہا تھا۔
یہ رہا آپ کا سوال، اس فورم کے ممبران یہ فیصلہ کریں کہ یہ کیا ہے؟:
"سر جب جوائننگ کب دی اور کتنی تخواہ پر استاد بھرتی ھوئے ہیں۔
اللہ آپکو صحت دے لگتا ہے بخار چڑھ گیا ہے۔"
کیا ہے تو صاف کہیں کیا ہے،آپ تو توجیحات پیش کرنا شروع ہو گئے۔ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کیا ہوتا؟
Mohammad Abdullah آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, واقعات, منتقل, متعارف, مسائل, معاشرہ, آبادی, الزام, اعلیٰ, اغوا, بچوں, تعلیم, خودکش, خوش, خلاف, خان, خبر, راستہ, شہر, طاقتور, عہد, صوبہ, صحافی, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا تحقیقات کے بغیر پاکستان پر الزام لگا دیا جائے؟ منموہن نے صحافی کو جھاڑ دیا گلاب خان خبریں 1 08-09-11 06:24 AM
پاکستان اورافغانستان میں غیرقانونی امریکی نیٹ ورک کی تصدیق ہو گئی: نیو یارک ٹائمز جاویداسد خبریں 3 14-01-11 08:50 PM
بغیر پائلٹ کا پاکستانی جہاز چاچا کمال میرا پاکستان 1 22-03-08 01:54 AM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
غیر ملکی اخبارات کے مفروضے مسترد، جوہری اثاثے محفوظ ہیں، پاکستان عبدالقدوس خبریں 0 03-12-07 02:42 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:24 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger