واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


فتوی جاری کرنے کا اختیار کس کو ہے؟؟؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-08-11, 10:43 PM   #1
فتوی جاری کرنے کا اختیار کس کو ہے؟؟؟
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 16-08-11, 10:43 PM

ماہرین قانون، عدل کرنے والوں اور میڈیا سے ایک انتہائی اہم سوال !!!!!

جناب عالی۔ جامعہ بنوریہ نام کے ایک مدرسہ کے کچھ مولوی صاحبان نے اپنی ویب سائٹ پر ایک فتوی کی
تشہیر کی ہے جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ کے قرآن کریم کی آگاہی سے متعلق کورس کرنے والی خواتین میں مستقل بےچینی اور کوفت قائم ہے۔ کسی کے بارے میں فتوی دینے کا حق کسی شخص کا انفرادی معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک کورٹ پروسیجر ہے اس کے لئے فتوی کورٹ کو جاری کرنا ہے۔ اس وقت پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل اور شرعی عدالت موجود ہے جو کہ قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد اپنی رائے کے مطابق فیصلہ جاری کر سکتی ہے وہ بھی اپیل پر دوبارہ ریر غور آسکتا ہے۔ لیکن ان ملا لوگوں نے تو تمام قانون اپنے ہاتھ میں لیا ہوا ہے یہ جب چاہتے ہیں کسی کے خلاف فتوی داغ دیتے ہیں۔ جب کہ انہیں کسی قسم کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

ان کی ان حرکات کے نتیجہ میں کئی گھر تباہ ہو گئے اور کئی انسانی جانیں تباہ ہو گئیں۔ ایک مولوی نے عقیدہ کے اختلاف کی بنیاد پر فتوی دے دیا کہ یہ عقیدہ رکھنے سے اس کا نکاح اپنی بیوی سے فاسد ہو گیا ہے اور اس فتوی کی کاپی فتوی لینے والوں نے لڑکی کے میکہ والوں کو بجھوا دی کہ نکاح ختم ہو چکا ہے اور اب تمہاری بیٹی سے زنا ہو رہا ہے۔ اس پر لڑکی کے والد کو ہارٹ اٹیک ہو گیا اور اس کی والدہ کو فالج ہو گیا اور اس لڑکی کے بھائ اور دیگر رشتہ دار سارے علاقہ میں منہ چھپاتے پھر رہے تھے آخر کار علاقہ کی ایک با اثر شخصیت کی مداخلت پر معاملہ رفعہ دفعہ ہوا لیکن جونقصان ہوا اس کا ذمہ کسی پر نہ لگا۔

یہ صرف ایک گھرانے کی بابادی کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایسی کہانیاں ہر گلی محلہ میں بکھری پڑی ہیں۔

اگر کوئ کسی کے خلاف فتوی لینا یا دینا چاہے تو اس کو مجاز عدالت سے رجوع کرنا چاہئے جو کہ قانونی تقاضے پورے کرنے اور عدل کے مطابق فتوی دے اور اس سلسلہ میں مولوی عدالت کی معاونت کر سکتے ہیں۔ جناب سے درخواست یہ ہے کہ اس بارے میں قانونی صورت حال واضع فرمائیں کہ: کیا کوئی مولوی یا مدرسہ اس قسم کا فتوی جاری کرنے کا اختیار رکھتا ہے ؟؟؟ اور اگر نہیں تو ان کے خلاف کس طرح کی قانونی چارہ جوئی کی جائے؟؟؟ اس کے علاوہ جناب سے درخواست ہے کہ ایک عدد لیگل نوٹس کا ڈرافٹ عوام کی سہولت کے لئے مشہیر کیا جائے کہ جب بھی کوئی بغیر عدالتی کاروائی کے فتوی جاری کرے تو فوری طور پر متعلقہ لوگ اسے نوٹس دیں اور اس کے علاوہ ایک عدد درخواست کا ڈرافٹ بھی دیا جائے تاکہ متاثرہ شخص قانونی نکات کے حوالے سے اس ملا کے خلاف پولیس اسٹیشن میں رپورٹ دائر کر سکے اور اگر پولیس رپورٹ درج نہ کرے تو مجاز عدالت میں خود ہی درخواست دائر کر کے ایسے ملا کو کیفر کردار تک پہنچائے۔

جہاں تک میں نے سنا ہے کہ ہماری عدالتوں نے بھی اس قسم کے احکامات جاری کر رکھے ہیں جن کے مطابق بغیر مجاز عدالت کی کاروائی مکمل ہوئے اور اس کی اپیل کا وقت گذرے عدالتی فتوی بھی کارآمد نہیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش ہائی کورٹ نے بھی فیصلہ دیا ہوا ہے کہ فتوی صرف اور صرف مجاز عدالت ہی جاری کر سکتی ہے اور ایسے تمام فتاوی جو کہ قانونی تقاضوں کو پورا کئے بغیر جاجی کئے گئے ہیں وہ کلعدم ہیں۔

اس سلسلہ میں قانون دانوں، عدل کرنے والوں ، قانون نافز کرنے والوں، سماجی تنظیموں و اداروں اور خاص طور پر میڈیا سے تعلق رکھنے والوں سے اپیل ہے کہ اس بارے میں عوام کو آگاہی فراہم کریں اور ممکہ حد تک اپنا کردار ادا کریں۔

تحریر : شگفتہ علی
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 2107
Reply With Quote
17 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
shafresha (17-08-11), skjatala (17-08-11), فیصل ناصر (16-08-11), فاروق سرورخان (17-08-11), کنعان (17-08-11), پاکستانی (18-08-11), ھارون اعظم (17-08-11), نیلم خان (17-08-11), نبیل خان (21-08-11), احمد نذیر (20-08-11), حیدر (17-08-11), رضی (29-08-11), سیفی خان (18-08-11), شھزادباجوہ (23-08-11), شمشاد احمد (18-08-11), عبداللہ آدم (31-08-11), غلام خان (24-08-11)
پرانا 16-08-11, 10:49 PM   #2
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Aug 2011
مراسلات: 24
کمائي: 393
شکریہ: 12
17 مراسلہ میں 24 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ عقل سلیم عطا فرمائے
مبشررضا آف لائن ہے   Reply With Quote
مبشررضا کا شکریہ ادا کیا گیا
نیلم خان (17-08-11)
پرانا 16-08-11, 10:53 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرے خیال سے ان مولویوں کو ہے جن کو اس تن جا کرنا بھی نہیں آتا۔
پیارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (17-08-11), نیلم خان (17-08-11)
پرانا 16-08-11, 11:24 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,466
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میرے خیال سے ان مولویوں کو ہے جن کو اس تن جا کرنا بھی نہیں آتا۔
پیارا بھائی
پھر ان کو اس تن جا کون کرواتا ہے
جناب ادب کے دائرہ میں بات کریں
یہ علماء ہی ہیں جن کے بارے میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
علماء انبیاء کے وارث ہیں
اس لیے ان سے محبت کریں
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
نیلم خان (17-08-11), حیدر (17-08-11), حسن قادری (17-08-11), راجہ اکرام (16-08-11), سیفی خان (17-08-11), شھزادباجوہ (23-08-11)
پرانا 17-08-11, 01:43 AM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

كيا ہي اچھا ہوتا كہ شگفتہ صاحبہ خود اس تحرير ميں غير مولويانہ كردار ادا كرتے ہوئے اپني تحرير كو سنجيدہ اور پر از دلائل بناتيں۔۔۔۔ كم اكم كم اس زير بحث فتوے‌كو ہي نقل كر ديا جاتا جس پر اتنا سيخ پا ہوا جا رہا ہے۔۔۔اصل فتوي سامنے آنے كے بعد ہي كوئي تبصرہ كيا جا سكتا ہے اگر تبصرے كي ضرورت ہوئي تو۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-08-11), رضی (29-08-11)
پرانا 17-08-11, 03:16 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 201
کمائي: 2,381
شکریہ: 108
142 مراسلہ میں 285 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : نبیل خان مراسلہ دیکھیں
پیارا بھائی
پھر ان کو اس تن جا کون کرواتا ہے
جناب ادب کے دائرہ میں بات کریں
یہ علماء ہی ہیں جن کے بارے میں نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ
علماء انبیاء کے وارث ہیں
اس لیے ان سے محبت کریں
خان صاحب میرے جواب پر غور کریں لگتا ہے کافی روزہ لگا ہوا تھا۔
میں نے مولوی لکھا ہے علما نہیں اور راجہ اکرام صاحب نے اپ کی اس بات کا شکریہ بھی ادا کیا ہے واہ راجہ جی واہ
پیارا آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے پیارا کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (17-08-11), حیدر (17-08-11), شمشاد احمد (18-08-11), غلام خان (17-08-11)
پرانا 17-08-11, 04:54 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,595
کمائي: 31,028
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فتوی دینے کی بنیادی معانی ۔۔۔ ہیں ۔۔۔ قانون سازی۔

ملاء کا کردار۔ ۔۔۔۔ خالص یہودیوں کی ایجاد ہے ۔۔۔۔ جہاں اس کو ربائی، کہتے ہیں۔ یہی پیشہ اسلام میں -- ملاء‌--- بن گیا۔

بنیادہ طور پر ملاء کا کردار ۔۔۔۔ کسی ٹیچر یا پروفیسر کا نہیں ہے بلکہ ۔۔۔۔ ایک ایسے فرد کا کردا ر ہے جو کہ ---- آپ کے اور ---- اللہ تعالی کے درمیان ---- بروکر کا کردار ادا کرتا ہے ۔ باقی آپ خود غور کریں۔

یہ بروکر ،،،،، قانون سازی اپنے پاس رکھتا ہے اور فیصٌے بھی خود کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ان کی ٹکنالوجی یہ ہے کہ یہ اپنی طرف سے قوانین بناتے رہتے ہیں اور ان قوانین کو سیاسی مقاصد اور زمین میں فساد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی اپنی حکومت ہے جس سے یہ باز نہیں آتے۔۔

کوئی بھی قانون صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندے ہی بنا سکتے ہیں۔

لیکن ملاء‌ قانون سازی کے لئے عیارانہ حربے استعمال کرتا ہے کہ یہ تو اس کتاب میں‌لکھا ہے ، یا یہ کسی نبی سے منسوب ہے یا پھر یہ یہ کسی مرے ہوئے ملاء کا کا رنامہ ہے ۔۔۔۔

بھگوان گیری ، کی یہ ٹکنالوجی ہر ملک و مذہب میں‌پائی جاتی ہے۔ ہندو پنڈت کا کردار ہو، یا مسلم ملاء کا کردار یا یہودی ربائی کا کردار یا کرسچین پریسٹ کا کردار ۔۔۔ یہ سب بھگوان گیری میں‌بہت آگے ہیں۔ اور آپ کے اور بھگوان کے درمیان -- پاور بروکر --- کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنی مرضی کے قوانین بناتے ہیں اور مذہب کے اختلافات کی آڑ میں جیتے ہیں۔ یہ سب مذہبی سیاسی بازیگر ہیں ۔۔۔ ۔ان کی تمام تر آمدنی صرف اور صرف اسی --- بھگوان گیری ۔۔۔ فتوے بازی ۔۔۔۔ یا قانون سازی سے حاصل ہوتی ہے ۔۔

معصوم لوگوں کو بے وقوف بنانے کا راستہ۔۔ ملاء‌ ۔ پنڈت، ربائی، پریسٹ ، ٍفضل اللہ اور آیت اللہ

قرآن نہہیں‌ تو مسلمان نہیں ۔۔۔۔۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (17-08-11), فیصل ناصر (17-08-11), پیارا (17-08-11), پاکستانی (18-08-11), حیدر (17-08-11), عبدالقدوس (17-08-11), غلام خان (17-08-11)
پرانا 17-08-11, 05:35 AM   #8
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,337
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اگر تعصب کی عینک اتار کردیکھیں تو فاروق صاحب کی اب تک کی سب سے بہترین تحریر میرے خیال سے یہ ہوگی
نوٹ: مجھ پر تپنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کو میری تحریر سے اختلاف ہے تو اسے پڑھیں ہی نہیں۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
عبدالقدوس آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-08-11), فاروق سرورخان (17-08-11), نیلم خان (17-08-11), حیدر (17-08-11)
پرانا 17-08-11, 07:12 AM   #9
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالقدوس مراسلہ دیکھیں
اگر تعصب کی عینک اتار کردیکھیں تو فاروق صاحب کی اب تک کی سب سے بہترین تحریر میرے خیال سے یہ ہوگی
نوٹ: مجھ پر تپنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کو میری تحریر سے اختلاف ہے تو اسے پڑھیں ہی نہیں۔
شاوا بھئ شاوا
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 17-08-11, 07:12 AM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,595
کمائي: 31,028
شکریہ: 7,099
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ ہمارے پاس مولوی یا ملاء کی اصطلاح "مذہبی سیاسی بازیگروں" اور در اصل محترم استادوں دونوں‌کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ جناب علامہ سر محمد اقبال نے "ملاء " کا لفظ " خطرناک مذہبی سیاسی بازیگروں"‌ کے لئے استعمال کیا ۔ جو پارلیمانی قانون سازی اور عدالتی فیصلوں کے مخالف ہیں ۔ میں‌ تواتر سے یہی لفظ استعمال کرتا رہا ہوں۔۔ اس کے برعکس ۔۔ مولوی، نماز پڑھانے والے امام ، بہترین اساتذہ کرام جیسے جناب جسٹس مفتی تقی عثمانی بھی مولوی کہلاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں‌ کرداروں‌میں‌بہت فرق ہے۔

اساتذہ کرام نے کبھی "پاور بروکر"‌ کا کردار ادا نہیں‌کیا۔ اور نا ہی مذہبی سیاسی بازیگری دکھائی۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-08-11), عبدالقدوس (17-08-11), عبداللہ حیدر (17-08-11)
پرانا 17-08-11, 09:48 AM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,377
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

علامہ اقبال نے مُلا کا لفظ دونوں معانی میں استعمال کیا ہے۔
ہو سکتا ہے آپ کے پاس صرف منفی معانی میں استعمال پہنچا ہو ۔۔۔ مثبت استعمال کا شعر یہ ہے

افغان کی غیرت دیں کا ہے یہ علاج
ملا کو انکے کوہ و دمن سے نکال دو
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (17-08-11), نبیل خان (17-08-11), حسن قادری (17-08-11), راجہ اکرام (17-08-11), رضی (29-08-11), عبیداللہ عبید (17-08-11)
پرانا 17-08-11, 09:52 AM   #12
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,377
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,181 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالقدوس مراسلہ دیکھیں
اگر تعصب کی عینک اتار کردیکھیں تو فاروق صاحب کی اب تک کی سب سے بہترین تحریر میرے خیال سے یہ ہوگی
نوٹ: مجھ پر تپنے کا کوئی فائدہ نہیں اگر آپ کو میری تحریر سے اختلاف ہے تو اسے پڑھیں ہی نہیں۔
اگر پہلے اپنا نوٹ لکھتے اور پھر اپنی تحریر تو کوئی بات بھی بنتی تھی۔ یہ کیا بات ہوئی کہ پہلے دھوکے سے اپنی تحریر پڑھوا دی اور پھر کہہ رہے ہو کہ ساڈی کوئی ذمہ داری نہں
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (17-08-11), احمد نذیر (20-08-11), عبدالقدوس (17-08-11)
پرانا 17-08-11, 09:58 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مقام: پاکستان
مراسلات: 1,761
کمائي: 26,267
شکریہ: 911
1,266 مراسلہ میں 2,887 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبیداللہ عبید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبیداللہ عبید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فتویٰ دینے / جاری کرنے کا اختیار ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو مغربی علوم سے بہرہ ور ، جدید تہذیب کے تقاضوں سے مکمل طور پر آگاہ ، قدامت پسندی سے متنفر ،آزاد خیالی اور "روشن ضمیری " سے حصہ وافر پاتا ہو۔

چاہے وہ سربراہ مملکت کیوں نہ ہو(مثال کے طورپر سابق صدر اور اس جیسے دوسرے) اور اسے عربی اور دیگر اسلامی قدامت پسندانہ رویوں سے بھی سروکار نہ ہوں۔
عبیداللہ عبید آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبیداللہ عبید کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-08-11), سیفی خان (17-08-11), شھزادباجوہ (23-08-11)
پرانا 17-08-11, 02:34 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فاروق بھائی آپ نے صحیح فرمایا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
فتوی دینے کی بنیادی معانی ۔۔۔ ہیں ۔۔۔ قانون سازی۔

ملاء کا کردار۔ ۔۔۔۔ خالص یہودیوں کی ایجاد ہے ۔۔۔۔ جہاں اس کو ربائی، کہتے ہیں۔ یہی پیشہ اسلام میں -- ملاء‌--- بن گیا۔

بنیادہ طور پر ملاء کا کردار ۔۔۔۔ کسی ٹیچر یا پروفیسر کا نہیں ہے بلکہ ۔۔۔۔ ایک ایسے فرد کا کردا ر ہے جو کہ ---- آپ کے اور ---- اللہ تعالی کے درمیان ---- بروکر کا کردار ادا کرتا ہے ۔ باقی آپ خود غور کریں۔

یہ بروکر ،،،،، قانون سازی اپنے پاس رکھتا ہے اور فیصٌے بھی خود کرتا ہے ۔۔۔۔۔ ان کی ٹکنالوجی یہ ہے کہ یہ اپنی طرف سے قوانین بناتے رہتے ہیں اور ان قوانین کو سیاسی مقاصد اور زمین میں فساد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی اپنی حکومت ہے جس سے یہ باز نہیں آتے۔۔

کوئی بھی قانون صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندے ہی بنا سکتے ہیں۔ لیکن ملاء‌ قانون سازی کے لئے عیارانہ حربے استعمال کرتا ہے کہ یہ تو اس کتاب میں‌لکھا ہے ، یا یہ کسی نبی سے منسوب ہے یا پھر یہ یہ کسی مرے ہوئے ملاء کا کا رنامہ ہے ۔۔۔۔

بھگوان گیری ، کی یہ ٹکنالوجی ہر ملک و مذہب میں‌پائی جاتی ہے۔ ہندو پنڈت کا کردار ہو، یا مسلم ملاء کا کردار یا یہودی ربائی کا کردار یا کرسچین پریسٹ کا کردار ۔۔۔ یہ سب بھگوان گیری میں‌بہت آگے ہیں۔ اور آپ کے اور بھگوان کے درمیان -- پاور بروکر --- کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اپنی مرضی کے قوانین بناتے ہیں اور مذہب کے اختلافات کی آڑ میں جیتے ہیں۔ یہ سب مذہبی سیاسی بازیگر ہیں ۔۔۔ ۔ان کی تمام تر آمدنی صرف اور صرف اسی --- بھگوان گیری ۔۔۔ فتوے بازی ۔۔۔۔ یا قانون سازی سے حاصل ہوتی ہے ۔۔

معصوم لوگوں کو بے وقوف بنانے کا راستہ۔۔ ملاء‌ ۔ پنڈت، ربائی، پریسٹ ، ٍفضل اللہ اور آیت اللہ

قرآن نہہیں‌ تو مسلمان نہیں ۔۔۔۔۔
جناب فاروق بھائی آپ نے صحیح کہا کہ کہ قانون عوام کے منتخب نمائندے بناتے ہیں جناب والا اسی لیے اپ ھمارے لیے قانون بنارہے ہیں :
1- صدر زرداری
2- عبدالرحمن ملک
3- فردوس عاشق اعوان
4- الطاف حسین
5- اسفندیار ولی

یہ آپکے منتخب نمائندے ہیں ان کے قانون بنانے کی وجہ سے آج پورا پاکستان جس مشکل میں ہے وہ سب جانتے ہیں

باقی رہی بات علما اور مولویوں کی تو جناب مولوی فتوی دیں یا جوکرین لیکن ان مولویوں نے کبھی اس دھرتی سے بغاوت نہیں کیا ، ھمیشہ بے لوث خدمت کیا اور قوم کے منتخب نمائندوں نے تو ھماری عزت وآبرو، غرض ھر چیز کو یھود ونصاری کی جھولی مین دال دیا۔ کسی نے اپنی ذاتی عناد مین جہاز ھائیجیک کیا تو کسی نے ھم ادھر تم ادھر کے نعرے بلند کیے تو کسی نے اغیار کے گود میں بیٹھ کے اپنون کو لوٹا اور بہت کچھ ہے ھمارے عوامی نمائندون مین ۔
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (17-08-11), نبیل خان (17-08-11), احمد نذیر (20-08-11), سیفی خان (17-08-11), شھزادباجوہ (23-08-11)
پرانا 17-08-11, 03:32 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,466
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
تویٰ دینے / جاری کرنے کا اختیار ایسے شخص کو ہونا چاہیے جو مغربی علوم سے بہرہ ور ، جدید تہذیب کے تقاضوں سے مکمل طور پر آگاہ ، قدامت پسندی سے متنفر ،آزاد خیالی اور "روشن ضمیری " سے حصہ وافر پاتا ہو۔

چاہے وہ سربراہ مملکت کیوں نہ ہو(مثال کے طورپر سابق صدر اور اس جیسے دوسرے) اور اسے عربی اور دیگر اسلامی قدامت پسندانہ رویوں سے بھی سروکار نہ ہوں۔
بڑی علمی گفتگو ارشاد فرمائی ہے جناب نے
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کورس, پولیس, پاکستان, ویب, قرآن, لڑکی, مکمل, اسلامی, حال, خواتین, خلاف, درخواست, شخص, عوام, عقیدہ, علی, علاقہ, عدل, عدالت, عدالتی, عدالتوں, غور, صاحبہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
علامہ قرضاوی نے کرنل قذافی کے قتل کا فتوی دے دیا عبداللہ آدم عمومی بحث 1 01-03-11 09:32 AM
اگر آپ کو اپنی سب سے پسندیدہ چیز منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے؟؟؟/ راجہ اکرام گپ شپ 8 19-09-09 08:11 PM
زرداری اور نواز نے ججوں کی بحالی تک لندن کے دورے ملتوی کردیئے عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:54 PM
ملتوی امتحانات 10 جنوری سے ہونگے خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 10:27 AM
::: الیکشن کمیشن کا اہم اجلاس،انتخابات ملتوی ہونے کا امکان ::: ابو کاشان خبریں 0 01-01-08 12:20 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:25 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger