واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


فتوے بازوں کا جمعہ بازار (جاوید سومرو)بی بی سی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 27-11-10, 01:36 AM   #1
فتوے بازوں کا جمعہ بازار (جاوید سومرو)بی بی سی
shafresha shafresha آف لائن ہے 27-11-10, 01:36 AM

کافی برس پہلے کی بات ہے میں نے جنرل ضیاءالحق کے حمایتی ایک مولوی سے پوچھا کہ آپ حضرات ذوالفقار علی بھٹو کی جان کے دشمن کیوں بنے ہوئے ہیں؟ کیوں ایک کمزور مقدمے کی بنیاد پر ان کو پھانسی چڑھانے کے لیے اچھل کود کررہے ہیں؟ تو ان کا جواب بڑاہی سادہ تھا۔ موصوف نے فرمایہ وہ معاشرے میں فحاشی، عریانیت اور بے راہ روی کو فروغ دے رہے ہیں اور اسلامی مملکت میں غیر اسلامی رجحانات پیدا کر رہے ہیں۔

مجھے جواب پر بڑی حیرت ہوئی۔ پھر سوال کیا، ‘لیکن انہوں نے شراب پر پابندی لگائی، احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرایا اور ہندوستان سے ایک ہزار برس تک لڑنے کا نعرہ لگایا تب بھی آپ کو لگتا ہے وہ غیر اسلامی رجحانات پیدہ کر رہے ہیں؟‘

مولوی کو بڑا تاؤ آیا فورا فرمایا، ‘میاں اللہ اور ان کے رسول نے جو احکامات دیئے ہیں ان سے انحراف کی سزا موت ہے۔‘

میں ڈر گیا اور چپ سادھ لی۔

جنرل ضیاء کے زمانے سے پہلے دلیل اور بحث میں اللہ اور ان کے رسول کے احکامات کو ڈھال بنا کر عام طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا۔ لیکن جنرل صاحب کے بل بوتے پر، عقل اور علم کا خون پی کر پروان چڑھنے والے نیم حکیموں کی گُڈی ایسی چڑھی ہے کہ اب آپ نے دلیل، منطق، فلسفے اور سائنس کی بات زبان پر لائی نہیں کہ فتوابازوں کے تن بدن میں کھلبلی مچ جاتی ہے اور وہ اسلام دشمنی اور رسول دشمنی کے نعرے لگاتے آپ پیچھے پڑجاتے ہیں۔

جنرل ضیاء کے زمانے سے پہلے دلیل اور بحث میں اللہ اور ان کے رسول کے احکامات کو ڈھال بنا کر عام طور پر استعمال نہیں کیا جاتا تھا

آپ نے کہا کہ بھائی پاکستان میں لگ بھگ تمام توہین رسالت کے مقدموں کا پیغمبرِ اسلام کی توہین سے دور دور کا تعلق نہیں ہوتا بلکہ لوگ ذاتی دشمنیوں کی بنیاد پر اس قانون کا استعمال کرتے ہیں اس لیے قانون کو تبدیل کیا جانا چاہیے، تو ایک دم سے جذباتیوں کا جمعہ بازار لگ جاتا ہے اور دین دشمنی کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں۔

پاکستان میں آج تک کسی بھی شخص کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے میں موت کی سزا پر علمدرآمد نہیں ہوا اور تقریباً تمام ملزمان مقامی عدالتوں میں سزا پانے کے بعد، اعلیٰ عدالتوں سے بری ہوجاتے ہیں (یہ اور بات ہے کہ ان میں سے کئی کو زیادہ عرصہ جینے نہیں دیا جاتا)۔ ان حالات میں کیا یہ تجویز غلط ہے کہ یا تو اس قانون کو ختم کیا جائے یا تبدیل کیا جائے۔

چار بچوں کی ماں آسیہ بی بی کو ابھی صدارتی معافی ملی بھی نہیں کہ مذہبی منافرت کے دلدادہ افراد نے ملک میں دھمکیوں کا بازار گرم کردیا ہے۔ کوئی بولے تو ٹھک سے اسلام اور دین دشمن قرار۔

پاکستان میں جو لوگ مسیحیوں یا دوسری اقلیتوں کے افراد کو جانتے ہیں ان کو اندازہ ہوگا کہ وہ بے چارے کس قدر سہمے ہوئے ہوتے ہیں، کیا ان کو اپنی جان گنوانی ہوگی کہ وہ مسلمانوں کے پیغمبر کے خلاف زبان درازی کریں؟

آپ کہیں کہ ملک میں شدت پسندی، قتل و غارت گری، مذہبی اور لسانی فسادات نے معاشرے کو انتہائی پژمردہ کردیا ہے ایسے میں کچھ نہ کچھ ثقافتی اور فنون لطیفہ کی سرگرمیاں جاری رہنی چاہئیں تو سڑکوں پر اور میڈیا میں مصروف ‘جہادی بریگیڈ‘ اللہ اور رسول کے احکامات سے انحراف کی تلوار لیکر میدان میں کود پڑتی ہے۔ کہتے ہیں آپ بے حیائی اور عریانیت پھیلا رہے ہیں اور یہ مملکت خداداد میں ہونے نہیں دیا جائے گا۔

حال میں ایک بڑے اخبار کے ’توپ صحافی‘ کا ‘عریانیت اور فحاشی‘ کے خلاف کالم پڑھا جو پڑھ کر کچھ ایسے ہی خیالات اور جذبات ابھرے جیسے پاکستان کے اخبارات میں آئے دن پاکستانی فلموں میں عریانیت کے موضوع پر چھپنے والے ان لاتعداد مضامین سے ابھرتے ہیں جن میں پاکستانی ہیروئنوں کی بڑی بڑی تصاویر چھاپی جاتی ہیں اور ان تصاویر میں ہیروئنیں کے جسم کے متعدد حصوں کو سیاہ دھاریاں لگا دی جاتی ہیں۔

کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں اسلام اور دین کے احکامات کے خودساختہ ٹھیکیدار، لوگوں کے ذہنوں میں ابھرنے والے تمام خیالات کو بھی اسی طرح سیاہ دھاریاں لگا دینا چاہتے ہیں۔

بی بی سی اُردو
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!

 
shafresha's Avatar
shafresha
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 441
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (27-11-10), ھارون اعظم (27-11-10), محمدعدنان (27-11-10), مرزا عامر (27-11-10), احمد بلال (27-11-10), حیدر (27-11-10)
پرانا 27-11-10, 08:43 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ہاں کافی حد تک درست کہا ۔ لیکن مسئلہ صرف اعتماد کے فقدان کا ہے۔ اگر دینی ٹھیکیداروں کا یہ کردار ہے تو لادینی ٹھیکیدار بھی خاصے بدنام ہیں۔ وہ ایک ایشو کو بنیاد بنا کر قانون میں ایسی ترامیم کر دیتے ہیں کہ وہ قانون موثر ہی نہیں رہتا۔ اس ملک میں صرف توہین رسالت کا قانون ہی ایسا قانون نہیں ہے جس کا بے محابہ غلط استعمال کیا جا رہا ہوبلکہ توہین رسالت کے قانون کا ستعمال تو سال میں ایک آدھ بار ہوتا ہے۔لیکن دیگر منفی قوانین کا منفی استعمال تو روزانہ ہو رہا ہے۔۔ ہر طاقتور کسی غریب کو دبانے کے لیے قانون کی کسی نہ کسی شق کا استعمال کر ڈالتا ہے۔ توہین رسالت کے قانون میں فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ طاقتور کوئی نہ کوئی مسلمان ہوتا ہے۔ جبکہ دیگر معاملات میں طاقتور و کمزور دونوں فریقین ہی مسلمان ہوتے ہیں۔
چناچہ توہین رسالت کے قانون میں بہتر ترامیم ضرور کی جائیں۔لیکن اس کے خلاف شور ڈالنے والے ہمیں یہ بتائیں تو سہی کہ اس میں خامی کیا ہے؟ کوئی دلیل تو لائیں۔
یا یہ شور ڈالنے والے سمجھتے ہیں کہ اس ملک کی 100 فیصد آبادی جاہلِ محض ، متعصب اور لادین ہے جو انکا موقف کوئی نہیں مانے گا؟
میں تو دین کے ٹھیکیداروں کے ساتھ ساتھ لادینی ٹھیکیداروں دونوں کے خلاف ہوں۔ ان دونوں کا طرز عمل ٹھیک نہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-11-10), فیصل ناصر (27-11-10), ھارون اعظم (27-11-10), مرزا عامر (27-11-10), آبی ٹوکول (29-11-10), احمد بلال (27-11-10)
پرانا 27-11-10, 03:15 PM   #3
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
چناچہ توہین رسالت کے قانون میں بہتر ترامیم ضرور کی جائیں۔لیکن اس کے خلاف شور ڈالنے والے ہمیں یہ بتائیں تو سہی کہ اس میں خامی کیا ہے؟ کوئی دلیل تو لائیں۔
قانون چاہے کوئی بھی ہو۔ اس کی سزا ہلکی ہو یا بھاری ۔ جب تک معاشرے میں مساوات اور انصاف کی کمی رہے گی مسلم اور غیر مسلم دونوں کے ساتھ ، کسی قسم کے قانون کی بات کرنا ہی فضول ہے ۔ اس صورت میں سخت قانون کے فائدے کی بجائے الٹا نقصان ہو جاتا ہے ۔
آپ پاکستانی عدالتوں میں عدل اور مساوات سے تو بخوبی واقف ہوں گے ۔ اچھا وکیل کرنے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے جج صاحب کو اچھی سی گاڑی خرید کر دے دو ۔ قتل کے مقدمے کے تمام ثبوت ہونے کے با وجود باعزت بری کر دیئے جائیں گے۔
عدل و مساوات کی عدم موجودگی میں اسلامی قوانین انتہائی خطرناک ثابت ہوتے ہیں ۔
تو ہبن رسالت کے نام پر غیر منصفانہ قتل اللہ کو کیسا لگے گا ؟؟؟؟ یہ اللہ ہی جانے ۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-11-10), فیصل ناصر (28-11-10), حیدر (28-11-10)
پرانا 27-11-10, 03:17 PM   #4
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قانون کے بغیر وہ انصاف اور مساوات کیسے قائم ہوسکتا ہے جس کی کمی کا آپ رونا رو رہے ہیں؟
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-11-10), فیصل ناصر (28-11-10), مرزا عامر (27-11-10), حیدر (28-11-10)
پرانا 27-11-10, 03:25 PM   #5
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
قانون کے بغیر وہ انصاف اور مساوات کیسے قائم ہوسکتا ہے جس کی کمی کا آپ رونا رو رہے ہیں؟
عدل و مساوات کسی قانون کے محتاج نہیں ۔ یہ معاشرتی اقدار ہیں جن کا اداروں میں شدید فقدان ہیں ۔ مثلاً آپ چور کی سزا جیل کے بجائے ہاتھ کاٹنا مقرر کر لیتے ہیں اب کیا ہو گا اصل مجرم بچ گیا اور دوسرے کو پھنسا دیا گیا ۔ بے قصور کا ہاتھ کٹ گیا اور ساری زندگی کے لیئے محتاج ہو گیا ۔ اگر جیل ہو جاتی تو پھر سے اپنی زندگی شروع کر سکتا تھا۔
لیکن اگر اصل چور کو سزا ہو تو معاشرے میں سدھار شروع ہونے میں دیر نہیں لگے گی ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-11-10), فیصل ناصر (28-11-10), ھارون اعظم (27-11-10), حیدر (28-11-10)
پرانا 27-11-10, 03:31 PM   #6
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تو اس میں قانون کا کیا قصور ہے؟
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-11-10), فیصل ناصر (28-11-10), مرزا عامر (27-11-10), حیدر (28-11-10)
پرانا 27-11-10, 03:53 PM   #7
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ھارون اعظم مراسلہ دیکھیں
تو اس میں قانون کا کیا قصور ہے؟
شاید میں اپنی بات صحیح سے سمجھا ہی پا رہا ہوں ۔ میں قانون کو برا نہیں کہنا چاہ رہا ۔
اس پر انصاف اور مساوات کی بنیادوں پرعمل درآمد کی بات کرنا چاہ رہا ہوں اداروں کی طرف سے بھی اور عوام کی طرف سے بھی ۔
تب جا کر کسی بھی قانون کا فائدہ حاصل ہو گا ورنہ نا انصافی سے نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔
شاید اس مرتبہ میں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے میں کاماب ہو گیا ہوں ۔
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-11-10), فیصل ناصر (28-11-10), حیدر (28-11-10)
پرانا 28-11-10, 08:23 AM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مرزا عامر مراسلہ دیکھیں
شاید میں اپنی بات صحیح سے سمجھا ہی پا رہا ہوں ۔ میں قانون کو برا نہیں کہنا چاہ رہا ۔
اس پر انصاف اور مساوات کی بنیادوں پرعمل درآمد کی بات کرنا چاہ رہا ہوں اداروں کی طرف سے بھی اور عوام کی طرف سے بھی ۔
تب جا کر کسی بھی قانون کا فائدہ حاصل ہو گا ورنہ نا انصافی سے نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔
شاید اس مرتبہ میں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے میں کاماب ہو گیا ہوں ۔
جی ہاں اس بار آپ اپنا نقطہ نظر بیان کرنے میں واقعی کامیاب ہو گئے ہیں۔ ورنہ اپکے پہلے مراسلے سے مجھے ایسا لگا تھا ک اگر "عدل و انصاف" نہیں لا سکتے تو تمام اسلامی قوانین ختم کر دو۔اور چونکہ عدل و انصاف آنا نہیں اس ملک میں اس لیے کسی اسلامی قانون کی ضرورت نہیں۔

میں کفیں چڑھانے ہی والا تھا آپکی اس بات پر کہ آپکی وضاحت آ گئی

چناچہ ضرورت قوانین کے خاتمے کی نہیں بلکہ عدل و انصاف لانے کی ہے۔ اگر اس ملک میں عدل و انصاف آ جائے تو کسی بھی قانون کا غلط استعمال نہیں ہو سکے گا۔ اسی بات کا رونا تو میں اپنے پہلے مراسلئے میں رو رہا ہوں کہ ہمارے اکثر دانشور کان کو ہاتھ گُھما کر پکرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ کہ چونکہ اس قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہے اس لیے اس قانون کو ختم کر دو۔ ارے بھائی انصاف لے آوایسئے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ ورنہ کونسا قانون ہے جس کا غلط استعمال ممکن نہیں۔

ہم اس قانون کو بہتر بنانے کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ لیکن غیر موثر بنانے کے لیے نہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (28-11-10), فیصل ناصر (28-11-10), احمد بلال (28-11-10)
پرانا 28-11-10, 03:34 PM   #9
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انسان کو بنانے والے کے دیے گئے قانون کے علاوہ کسی انسان کا بنایا ہوا کوئی بھی قانون انصاف نہیں ہو سکتا نہ ہی ہے................
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (29-11-10)
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, لوگ, لطیفہ, موت, ماں, آج, اللہ, اسلامی, اعلیٰ, بھائی, بچوں, تصاویر, جواب, حضرات, خون, خلاف, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, سائنس, شخص, عقل, علی, عدالت, صدارتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سومنات کا مندر کس نے توڑا؟ راشد احمد سیاست 27 28-10-10 05:57 PM
دہشت گردی ہے توکیا ہوا آئی سی سی ورلڈ الیون پاکستان میں کھیلے گی جاویداسد خبریں 0 17-08-10 04:53 PM
مسخروں سے معجزوں کی توقع,, تفسیر حیدر اپکے کالم 2 02-06-08 04:45 PM
پاکستان کی خاتون خلا باز کو خلاء میں لے جانے والے خلائی جہازوں کے ماڈلز کی نمائش وجدان خبریں 0 29-01-08 10:01 AM
نہ تڑپ اے دل توُ، چل کسی ویرانے میں Zullu230 ذوالفقار احمد خان 6 26-08-07 09:23 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:25 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger