واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


قوموں کی زندگی اور اللہ کی سنت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-09-10, 03:35 PM   #1
قوموں کی زندگی اور اللہ کی سنت
Aurangzeb Yousaf Aurangzeb Yousaf آف لائن ہے 04-09-10, 03:35 PM

آج ہم بحیثیت قوم انتہائي مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ اور اس معاملےمیں لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ آئيے ہم قرآن سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے بچاؤ کی کیا صورت ہو سکتی ہے۔ اورکائنات کا اکیلا حکمران قوموں کی زندگی کے فیصلے کس طرح فرماتا ہے اس معاملے میں اللہ کی سنت اورطریقہ کار کیا ہے ۔وہ کب قوموں پر تباہی لاتا ہے اور کس طرح ان کوزندگی دیتاہے۔
آئيے ہم قرآن سے یہ جانتے ہیں کہ ہم اپنی قوم کو زندگی کیونکر دے سکتےہیں۔
قرآن حکیم کی ان آیا ت پر ‏‏غور کیجیے:
سورة القصص ( 28 )
۔۔۔وَمَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرَى إِلَّا وَأَهْلُهَا ظَالِمُونَ {59}

اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔
پہلی بات یہ کہ ظلم چھوڑ دیجیےہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ وہ غور کرے کہ کہیں اس کے ہاتھوں ظلم تو نہیں ہو رہا اور اگر ایسا ہے تو جو بھی ظلم وہ کر رہا ہے یاجس ظلم میں بھی حصہ دارہے اسے چھوڑ دے ورنہ قوم کو تباہی کے دھانے پر لانے میں وہ اپنے اختیار کے مطابق برابر کا حصہ دار ہے۔ بے شک اقتدار کا صالح ہاتھوں میں ہونا ضروری ہے لیکن بدکاروں اور فاسق لوگوں کے سربراہ نیک لوگ تو نہیں ہو سکتے اور نیکوکاروں کے معاملات بھی اللہ لٹیروں کے ہاتھ میں نہیں دیا کرتا۔حکمرانوں پر تنقید بجا ، دوسروں کی خامیاں تلاش کرنا بہت آسان ،مگر اپنے اپنے گریبان میں کون جھانکے گا؟ ہم یہ تو دیکھیں کہ ہماری جیبوں میں جو مال آرہا ہے اس میں کتنا باطل ہے اور اس میں کس کس کا نچوڑا ہوا خون شامل ہے؟
شعیب علیہ السلام کی اپنی قوم کو کی گئي یہ نصیحت بھی یاد رکھیے۔ اور اس آئينے میں اپنی صورت بھی دیکھ لیجیے کہ کہیں ہم بھی زندگی کےکسی راستے پر بیٹھے ہوئے راہزن تو نہیں ہیں؟
الاعراف-86 "ولا تقعدوا بکل صراط"
اور زندگی کے ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاؤ۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ قرآن شرک کو ظلم عظیم قرار دیتاہے۔
دوسری بات یہ کہ اصلاح یعنی دعوت الی اللہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام شروع کرد یجیے۔معاشرے کے صالح افراد کو چاہیے کہ وہ معذرت خواہانہ رویہ چھوڑ کر میدان میں آئيں اور جو لوگ اصلاح کا کام کرنے کے دعویدار ہیں وہ بھی اپنے کام اور اس کے معیار پر غور کریں اور اپنی اصلاح کریں۔کہیں ہم اپنےمسلک اور چند طریقوں کی پرستش اور دعوت کو اللہ کی بندگی اور دعوت دین تو نہیں سمجھ رہے ؟کہیں ہم نے ‍ قرآن کی دعوت کو پس پشت ڈال کر اپنے علماء کی کتابوں، بے سند باتوں اور قصے کہانیوں کی دعوت تو نہیں شرو‏ع کردی؟ یا ہم نے اقامت دین کی تحریکوں کو چھوٹے موٹے فلاحی کام کرنے والی این جی اوز میں تو نہیں بدل دیا؟
کیونکہ:
سورة هود ( 11 )
وَمَا كَانَ رَبُّكَ لِيُهْلِكَ الْقُرَى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا مُصْلِحُونَ {117}

تیرا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔
یقینا رب کی بات سچی ہے اصلاح کرنے والے ہی کسی قوم کی زندگی کی ضمانت ہوا کرتے ہیں تو پھر ہم پر یہ عذاب کیوں آرہے ہیں؟ غور کیجیے۔ کہاں ہیں اصلاح کرنے والے؟ خدا اگر نوح علیہ السلام کی قوم کو ان کی اور ان کے اسی یا تراسی ساتھیوں کی وجہ سے ساڑھے نو سو سال مہلت دے سکتا ہے تو ہماری چند سالہ مہلت کیوں گھٹتی جا رہی ہے؟
بنی اسرائیل کا ایک جرم قرآن کی نظر میں یہ بھی تھا:
سورة المائدة ( 5 )
لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُودَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوا وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ {78} كَانُواْ لاَ يَتَنَاهَوْنَ عَن مُّنكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُواْ يَفْعَلُونَ {79}

بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داؤدؑ اور عیسیؑ ابنِ مریم کی زبان میں لعنت کی گئي، کیونکہ وہ سرکش ہو گئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، اُنہوں نےایک دوسرے کو برُے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، بُرا طرز عمل تھا جو اُنہوں نے اختیار کیا
اور یہ بنی اسرائیل کا انجام:
سورة الأعراف ( 7 )
وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَن يَسُومُهُمْ سُوءَ الْعَذَابِ۔۔۔ {167}

اور یاد کرو جبکہ تمھارے رب نے اعلان کردیا کہ"وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے۔"
ہم بھی حاملین کتاب اللہ ہیں،کہیں ہمارے ساتھ بھی یہی تو ہونا نہیں شروع ہو چکا۔۔۔؟
خدارا نیکی کا پرچار اور برائی سے روکنا آج ہی سے شرو‏ع کر دیجیے۔آپ اس عمارت کے بارے میں کیا کہیں گے کہ جس کے فلیٹس میں رہنے والے انیس خاندان اپنا اپنا کوڑاکرکٹ دروازوں پر ہی ڈال دیتے ہیں اور ایک خاندان اپنا کوڑا جا کر کوڑے کے ڈرم میں ڈالتاہے اور اس طرح یہ سمجھتاہے کہ اس کا فرض پورا ہو گيا دوسروں کو سمجھانا اس کا کام نہیں۔ کیا جب وہاں بیماریاں پھوٹیں گی تو وہ ایک خاندان ان سے بچ سکے گا؟ ہمارا ملک بھی ہمارا گھر ہے، اس میں گندگی پھیلانے والوں کو روکیے اورقرآن سے سبت والوں کا قصہ پڑھ کر دیکھ لیجیے کہ معذرت خواہانہ رویہ اپنانے والوں کا انجام کیا ہوا، اور کن لوگوں کو بچایا گيا؟ ‍ قرآن ہاتھ میں لے کراصلاح کا کام خودشروع کیجیے ، دوسروں کی طرف مت دیکھیے ورنہ قرآن یہ بھی کہتا ہے:
سورة الأنفال ( 8 )
وَاتَّقُواْ فِتْنَةً لاَّ تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنكُمْ خَآصَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ {25}

اور بچو اُس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف اُنہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو۔ اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
تیسری بات یہ کہ انفرادی اور اجتماعی استغفار کیجیے، دوسروں کو اس کی ترغیب دیجیے، علماء اور خطباء کو چاہیے کہ وہ جمعہ کے اجتماعات میں لوگوں سے استغفار کروائیں شاید کہ اس طرح قوم یونس علیہ السلام کی طرح ہمیں اور مہلت مل جائے۔
اپنی خطاؤں کی معافی مانگیے۔ استغفار کو اپنی عادت بنا لیجیے کیونکہ ہمارے رسولﷺ دن میں ستر اور سو سے زیادہ مرتبہ استغفار کیاکرتے تھے۔
کہہ دیجیے
استغفراللہ العظیم
اور یاد رکھیے کہ
سورة الأنفال ( 8 )
۔۔۔ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ {33}

اور اللہ کا یہ قاعدہ نہیں ہے کہ لوگ استغفار کر رہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دیدے۔
اور یہ وہ نعمتیں ہیں جو استغفار سے ہم کو مل سکتی ہیں۔
سورة نوح (71 )
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا {10} يُرْسِلِ السَّمَاء عَلَيْكُم مِّدْرَارًا {11} وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا {12}

میں(نوحؑ) نے (اپنی قوم سے)کہا اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا ، تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا ، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کر دے گا۔
سورة هود ( 11 )
وَأَنِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَيْهِ يُمَتِّعْكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ وَإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنِّيَ أَخَافُ عَلَيْكُمْ عَذَابَ يَوْمٍ كَبِيرٍ {3}

اور یہ کہ تم اپنے رب سے معافی چاہو اور اس کی طرف پلٹ آؤ تو وہ ایک مدتِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا ۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
آج ہی ظلم چھوڑ دیجیے، اصلاح معاشرہ کا کام شروع کیجیے اور دن رات استغفار کیجیےورنہ یاد رکھیے ہم تباہی کے دھانے پر کھڑے ہیں۔ ہمیں خدا نےاسلام کے نام پر آزادی کی نعمت عطا کی تھی مگرہمارےزائرین حریم مغرب امپورٹڈ نام نہاد دانشوروں نے ٹی وی پروگراموں میں شعائر اسلام کا مذاق اڑایا۔غور کیجیے کہ" آزاد "میڈیا کے باوجودجوعوام کو ایک ایک چیز کے بارے میں "ایجوکیٹ" کر رہا ہے ہماری حالت بد سے بدتر کیوں ہوتی جا رہی ہے۔سوچئےکہ ہمارے فکری رہبر کون لوگ بن گئے ہیں ؟اقبال رحمہ اللہ کےا شعار ملاحظہ ہوں۔
کل ایک شوریدہ خواب گاہ نبی سے رو رو کے کہہ رہا تھا
کہ مصرو ہندوستاں کے مسلم بنائے ملت مٹا رہے ہیں
یہ زائرین حریم مغرب، ہزار رہبر بنیں ہمارے
ہمارا ان سے ہے واسطہ کیا، جو تجھ سے ناآشنا رہے ہیں

اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنا طرز عمل بدل چکے ہیں۔ اور
سورة الأنفال ( 8 )
ذَلِكَ بِأَنَّ اللهَ لَمْ يَكُ مُغَيِّرًا نِّعْمَةً أَنْعَمَهَا عَلَى قَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنفُسِهِمْ وَأَنَّ اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ {53} كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَذَّبُواْ بآيَاتِ رَبِّهِمْ فَأَهْلَكْنَاهُم بِذُنُوبِهِمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَونَ وَكُلٌّ كَانُواْ ظَالِمِينَ {54}

یہ اللہ کی اِس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرزِ عمل کو نہیں بدل دیتی۔ اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ آلِ فرعون اور ان سے پہلے کے قوموں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اِسی ضابطہ کے مطابق تھا۔ انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کیا اور آل فرعون کو غرق کر دیا۔ یہ سب ظالم لوگ تھے۔
اور یہ بھی یاد رہے کہ
سورة الرعد ( 13 )
۔۔۔إِنَّ اللهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ وَإِذَا أَرَادَ اللهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَمَا لَهُم مِّن دُونِهِ مِن وَالٍ {11}

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کر لے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی، نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مدددگار ہو سکتا ہے۔
اللہ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔آمین


Last edited by Aurangzeb Yousaf; 02-10-10 at 12:14 AM..

Aurangzeb Yousaf
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 84
شکریہ: 103
78 مراسلہ میں 284 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 136
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے Aurangzeb Yousaf کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-09-10), فیصل ناصر (04-09-10), نورالدین (04-09-10), مرزا عامر (04-09-10), راجہ اکرام (04-09-10)
پرانا 04-09-10, 05:11 PM   #2
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,713
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,065 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لا الٰہ الا انت سبحٰنک انی کنت من الظٰلمین
مرزا عامر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (05-09-10), shafresha (04-09-10), فیصل ناصر (04-09-10)
پرانا 04-09-10, 05:35 PM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,566
کمائي: 315,063
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم برادر مکرم
بہت ہی خوبصورت، جامع اور مختصر انداز سے آپ نے موجودہ سخت حالات کی وجوہات اور بچاؤ کا راستہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
اللہ آپ کی قرآن و سنت سے وابستگی میں اضافہ فرمائے اور ہر عمل خیر کو قبولیت عطا فرمائے۔، آمین

یقینا مذکورہ برائیاں اور کوتاہیاں ہم میں سرایت کر چکی ہیں۔ اور اگر ہم اپنے رب کی طرف نہ پلٹے تو حالات بدلنا مشکل ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
Aurangzeb Yousaf (05-09-10), مرزا عامر (04-09-10)
جواب

Tags
color, red, size, فرمائے, کوشش, قرآن, لا, چکی, موجودہ, مختصر, مشکل, اپنے, الا, السلام, انت, انداز, اضافہ, بیان, بچاؤ, جامع, حالات, خیر, راستہ, سنت, سخت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:38 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger