واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


قوم رسول ہاشمی صل: کی زبوں حالی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-10-11, 09:49 PM   #1
قوم رسول ہاشمی صل: کی زبوں حالی
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 06-10-11, 09:49 PM

امت مسلمہ ایک جسد واحد کی مانند ہے۔ مسالک کا اختلاف فروعات میں ہے۔ دین کی اساسی تعلیمات تو سب کے درمیان قدر مشترک ہیں۔
کفر امتِ مسلمہ کے کسی خاص مسلک کو دوسرے سے الگ نہیں سمجھتا۔ آنحضور نے اسی لیے ”الکفر ملة واحدة“ فرمایا تھا یعنی کفر کی جتنی بھی مختلف شکلیں اور چہرے ہوں، ملتِ اسلامیہ کے مقابلے پر وہ آپس میں ایک اور متحدہ موقف پر قائم رہتے ہیں۔

آج عالمِ اسلام کے مقابلے پر جو کافر قوتیں برسر پیکار ہیں ان میں صفِ اوّل میں امریکہ، بھارت اور اسرائیل کی تثلیثِ خبیثہ ہے۔ ان تینوں قوتوںکا آپس میں گٹھ جوڑ اور باہمی محبت اپنے مفادات کے ساتھ اسلام دشمنی کی مشترکہ سوچ پر مبنی ہے۔ عالم اسلام کا المیہ یہ ہے کہ یہ چھوٹے چھوٹے مسائل، مفادات اور تعصبات کی بنیاد پر ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں۔ اس تلیثِ خبیہ کا مقابلہ بڑی آسانی سے کیا جاسکتا ہے، اگر عالمِ اسلام کی صفوں میں اتحاد و یکجہتی پیدا ہوجائے۔ ہمارا انحطاط تو صدیوں قبل سقوطِ بغداد کے ساتھ ہی شروع ہوگیا تھا مگر جس پستی تک آج امتِ مسلمہ آن پہنچی ہے اس کا ماضی کے دورِ انحطاط میں بھی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔


ہم یہاں ایک تازہ ترین واقعہ، جو عام لوگوں کی نظروں میں یقینا معمولی نوعیت کا ہوگا، قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں مگر اس کا تذکرہ کرنے سے پہلے ماضی کے دورِ انحطاط ہی کی ایک مثال کو بھی بطورِ تذکیر ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں۔

انگریز برصغیر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے جھنڈے تلے بطور تُجار وارد ہوئے۔ ان مکار اور شیطان تاجروں نے تجارت کا تو محض لبادہ اوڑھ رکھا تھا،اصل مقاصد اور تھے۔ سترھویں صدی میں مغرب کے استعمار اور توسیع پسندانہ عزائم کے تحت برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی، ہالینڈ اور پرتگال وغیرہ نے افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکہ کے کئی خطوں پر قبضے کرنا شروع کر دئیے تھے۔ برصغیر پر بھی آہستہ آہستہ انھوں نے اپنی سازشوں کے ذریعے استعمار قائم کرنا شروع کیا اور ایک صدی کے اندر اندر کم و بیش پورا برصغیر ان کے زیر تسلط تھا۔ تاہم پاکستان کے شمال مغربی خطے میں قبائلی علاقہ جات پر انگریزوں کی فوج کشی کبھی کامیاب نہ ہوسکی۔ قبائل نے نہ تو انگریزوں کی بالا دستی کو قبول کیا، نہ ہی ان کے اسلحے کی برتری کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ بہت سے قبائلی عمائدین نے مختلف اوقات میں اپنے اپنے علاقوں میں انگریز افواج کو ناکوں چنے چبوائے۔


ان قبائلی عمائدین میں ایک شخصیت حاجی صاحب ترنگزئی کی ہے، جن کا نام عبد الواحد تھا مگر وہ حاجی صاحب ترنگزئی کے نام سے ہی معروف تھے۔ انگریز جب ان کے مقابلے پر بے بس ہوگئے تو انھوں نے تحریص کا جال پھیلایا۔ بہت بڑی مالی پیشکش کی، پورے علاقے کو لندن و پیرس بنانے کے وعدے کیے اور جنگ بندی پر حاجی صاحب کو آمادہ کرنا چاہا۔ حاجی صاحب نے ان کی بہت بڑی بڑی مالی پیشکشوں کو ٹھکرا دیا۔ یہ وہ دور تھا جب جنگ عظیم اول میں ترکی اتحادی فوجوں کے مقابلے پر محوری قوتوں یعنی جرمنی و اٹلی کے ساتھ مل کر برطانیہ و فرانس کے مقابلے پر لڑ رہا تھا۔ قبائلی عمائدین کا جرگہ حاجی صاحب کے پاس آیا اور انھوں نے حاجی صاحب کو انگریز کی پرکشش پیشکش ٹھکرا دینے پر سخت سست کہا۔ اس کے جواب میں حاجی صاحب نے فرمایا: ”اے مشعرانِ قوم! ذرا ہوش کے ناخن لو۔ دشمن بڑا شاطر و مکار ہے۔ ان کی چال یہ ہے کہ جنگ عظیم میں بری طرح پھنسی ہوئی ان کی فوج کو کچھ ریلیف ملے۔ یہاں ان کی ایک دو ڈویژن فوج ہمارے مقابلے کے لیے موجود رہتی ہے۔ اگر ہم نے سمجھوتہ کرلیا تو یہ فوج یہاں سے فارغ ہو کر ترک خلیفہ کی افواج کے مقابلے پر چلی جائے گی، اس لیے میں کبھی یہ سمجھوتہ نہیں کروں گا۔ ترک خلیفہ کی طرف سے حاجی صاحب کوکوئی مالی مفاد نہ ملا تھا نہ مل سکتا تھا مگر یہ محض اسلامی اخوت کا شعور و احساس تھا، جس نے انھیں اس عظیم الشان انقلابی فیصلے پر قائم رکھا۔ آج تاریخ حاجی صاحب کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے اور ان کے دشمن بھی ان کی عظمت کا انکار نہیں کرسکتے۔


اب آئیے موجودہ صورتِ حال کی طرف۔ ایران اور سعودی عرب دونوں امتِ مسلمہ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں۔ ایران عالمی پابندیوں کی زد میں ہے مگر سعودی عرب اللہ کے فضل و کرم سے ایسی تمام پابندیوں سے محفوظ ہے۔ ایران نیو کلیئر قوت بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اس کے شدید مخالف ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب کے سابق سفیر متعینہ واشنگٹن و سابق سربراہ انٹیلی جنس شہزادہ ترکی الفیصل نے ایک بیان میں ایران کے نیو کلیئر پروگرام پر بہت تابڑ توڑ حملے کیے ہیں۔ انھوں نے ایران کو دھمکی دی کہ اگر اس نے اپنا یہ پروگرام بند نہ کیا تو سعودی عرب بھی ایٹمی ہتھیار بنانے پر مجبور ہوجائے گا۔ گویا مقابلہ اسرائیل سے نہیں، ایران اور سعودی عرب کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ یہ یقینا منفی سوچ ہے۔ شہزادہ ترکی الفیصل کے اس بیان کو برطانیہ کے اخبار ”گارجین“ نے نمایاں طور پر شائع کیا اور دیگر مغربی ذرائع ابلاغ نے بھی اسے بڑی اہمیت دی۔ ظاہر ہے ان کے لیے تو یہ بہت خوش آیند موضوع تھا۔ اندریں حالات ایران کو چاہیے کہ وہ دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان کرے کہ اگر وہ نیو کلیئر قوت بنے گا تو اس سے کسی مسلمان ہمسائے کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ سعودی عرب کو بھی سوچنا چاہیے کہ اس کا کوئی ذمہ دار آدمی ایسی بولی تو نہ بولے جو اسرائیلی صہیونی بولتے ہیں۔ ایران، بھارت کا تجارتی شراکت کار ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے۔


ایران سے بھارت کو برآمد ہونے والی سب سے بڑی مد ایرانی خام تیل ہے۔ بھارت کو اس کی خام تیل برآمدات کا بارہ فیصد ایران فراہم کرتا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے اس خام تیل کی سالانہ قیمت بارہ ارب ڈالر تک ہوتی تھی۔ ایران کی نیشنل ایرانین آئل کمپنی کو بھارت نے کافی عرصے سے ادائیگیاں نہیں کیں۔ آخر کئی نوٹس دینے کے بعد ایرانی کمپنی نے بھارتی حکومت کو آخری دھمکی دی ہے کہ اگر اس کی سابقہ ادائیگیاں نہ ہوئیں تو وہ اگست سے تیل کی فراہمی بند کر دے گا۔ 27 جون کو یہ خط لکھا گیا۔ اس کے جواب میں بھارت اپنی روایتی بنیا ذہنیت کے مطابق لیت و لعل سے کام لے رہا ہے۔ بھارت نے اس وقت دو ارب ڈالر ایران کو ادا کرنے ہیں۔ بھارت کو اس ادائیگی میں، رائٹرز کی خبر کے مطابق امریکی دباﺅ ہی رکاوٹ بن رہا ہے۔ سعودی عرب نے اس موقع پر بھارت کو زاید خام تیل فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ تجارت کے میدان میں اپنا فاضل مال بیچنے کی فکر ہر پارٹی کی ہوتی ہے لیکن حاجی صاحب ترنگزئی کی مثال کو سامنے رکھیں تو یہ چھوٹے چھوٹے مفادات اور ان پر اصرار بڑا عجیب لگتا ہے۔


[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]عالم اسلام کا المیہ ہی یہ ہے کہ ہم اخوتِ اسلامی کو بھول چکے ہیں۔ اگر عالمِ اسلام آپس میں متحد ہوجائے تو کفر کی تمام طاقتیں اور بالخصوص تثلیثِ خبیثہ بالکل بے بس ہوجائیں[/COLOR]۔

ترکی سے اچھی خبریں یقینا موصول ہو رہی ہیں۔ ترک حکومت نے خالص اسلامی جذبے کے تحت اپنے وقتی مفادات و مصالح سے بالا تر ہو کر محصورینِ غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے جو منصوبہ عمل بنایا ہے وہ گھٹن کے ماحول میں ہوا کا تازہ جھونکا ہے۔ اللہ کرے کہ تمام مسلمان ممالک ان جذبات کا اظہار کرسکیں۔ واضح رہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنی جنگ میں بری طرح سے رگید رہا ہے، پاکستان امریکہ کا فرنٹ لائن اتحادی بھی ہے مگر ایران، پاکستان، انڈیا گیس پائپ لائن معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور بھارت کو اس سے خارج کرنے کے لیے امریکہ نے اپنی شیطانی چال چلی۔ اس کے نتیجے میں بھارت اس معاہدہے سے الگ ہوگیا۔ اس کے بعد پاکستان پر بھی امریکہ نے دباﺅ ڈالا اور بزدل و بے حمیت حکمرانوں نے کافی عرصے تک یہ اہم معاملہ التوا میں ڈالے رکھا، حالانکہ اس کا زیادہ فائدہ پاکستان کی معیشت کو تھا اگرچہ ایران کو بھی اس معاہدے سے یقینا فائدے پہنچے گا۔ اب خدا خدا کرکے اس معاہدے پر دستخط تو ہوئے ہیں اور ایران اپنے حصے کا کام بھی کر رہا ہے مگر پاکستان کی طرف سے ابھی تک پیش رفت عملاً نظر نہیں آرہی۔ یہی حالات ہیں، جس کی طرف نبی اکرم نے اشارہ فرمایا تھا کہ [COLOR="rgb(255, 0, 255)"]ایک وقت آئے گا جب دنیا کی قومیں تم پر یوں جھپٹیں گی جس طرح بھوکے دسترخوان پر جھپٹتے ہیں[/COLOR] اور اس کی وجہ بھی آپ نے بیان فرمائی تھی کہ تعداد تو بہت زیادہ ہوگی مگر کوئی وزن نہیں ہوگا نہ کوئی قدرو منزلت۔ آپ نے فرمایا تمھاری حالت اس جھاگ کی سی ہوگی جو سیلابی پانی کی سطح پر نظر آتا ہے۔

افسوس صد افسوس کہ آج ہمارا یہی حال ہے۔ اے کاش! کہ ہم اس صورت حال سے نکل سکیں۔ اس صورتِ حال سے نکلنا یقینا ممکن ہے مگر اس کے لیے خود کو بدلنا ہوگا۔ اللہ کی رحمت تو ہر وقت دروازے کھلے رکھتی ہے مگر سائل ہی نہ ہو تو رحمت کا کیا قصور!!


ہم تو مائل بہ کرم ہیں ، کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے ، کوئی رہروِ منزل ہی نہیں!

حافظ محمدادریس
ڈائریکٹرادارہ معارف اسلامی
قوم رسول ہاشمی کی زبوں حالی
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 120
Reply With Quote
سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (07-10-11)
جواب

Tags
color, com, php, کوشش, کلیئر, پاکستان, واشنگٹن, لندن, موقع, موجودہ, مقابلہ, منصوبہ, ممکن, محبت, مسائل،, آدمی, ایران, اللہ, جواب, حال, خوش, خبر, خدا, غزہ, صدیوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میں اس حصار سے نکلوں تو اور کچھ سوچوں سیفی خان شعر و شاعری 5 13-08-11 05:30 AM
میں سوچتا ہوں بیٹھ کے بغور ان دنوں جواد رضا خان جامی جواد رضا خان جامی 4 09-06-10 06:22 PM
ابلیس : سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کرلوں ! فاروق سرورخان اپکے کالم 5 19-11-09 09:20 AM
سوکھے ہوئے لبوں کی صدا کا اسیر ہوں خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 11:59 AM
مولانا حسن جان ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک پاکستانی خبریں 0 16-09-07 01:56 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:39 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger