واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


لائنوں میں‌لگی عوام

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-05-09, 06:26 PM   #1
لائنوں میں‌لگی عوام
راشد احمد راشد احمد آن لائن ہے 20-05-09, 06:26 PM

میرا آفس بوائے چھٹی لے کر شناختی کارڈ بنوانے نادرا کے دفتر گیا۔دوسرے دن دفتر آیا تو میں نے پوچھا کہ تمہارا شناختی کارڈ بن گیا ہے۔ کہنے لگا نہیں۔ کچھ توقف کے بعد اس نے وہاں کی صورتحال سنائی جو آپ کی نذر کرتا ہوں۔

وہاں بہت زیادہ رش تھا۔ میں صبح 8 بجے وہاں گیا تو دیکھا کہ ایک بہت بڑی قطار لگی ہوئی ہے۔ 9 بجے دفتر کھلتا ہے لیکن ٹوکن والا صاحب نہیں‌آیا تھا۔ 11 بجے وہ آیا لیکن لائن پھر بھی آگے نہیں جارہی تھی۔ کچھ لوگ آتے تھے، وہ یا تو لمبی لائن دیکھ کر گھبرا کر واپس چلے جاتے تھے یا پھر وہ 1000 روپیہ رشوت دیکر ٹوکن حاصل کرلیتے تھے۔ 1 بجے ٹوکن دینے والے صاحب کا لنچ کا وقت ہوجاتا تھا آدھا گھنٹہ اسی میں‌لگ جاتا تھا۔ اپنی ڈیوٹی کے دوران وہ کبھی اپنے ساتھیوں سے خوش گپیوں میں‌مصروف ہوجاتے تو کبھی چائے پینے میں۔ ڈھائی بجے ٹوکن والے صاحب کی ڈیوٹی کا وقت ختم ہوجاتا ہے اس لئے ڈھائی سے تین بجے تک کاؤنٹر بند کردیتے ہیں۔ اس کے بعد تین بجے دوسرے صاحب آتے ہیں وہ بھی پہلے 1000 روپے دینے والوں کو ترجیح دیتے ہیں پھر وہ کبھی اپنی سیٹ سےاٹھ کر چائے پینے چلے جاتے ہیں اور گپیں مارنے۔ رات کو دس بجے نادرا کا دفتر بند ہوجاتا ہے لیکن ابھی میرا پانچواں نمبر تھا کہ دفتر بند ہوگیا میں 13 گھنٹے کھڑا ہوا لیکن باری نہیں آئی۔

میں نے پوچھا کہ اب تمہارا کیا پروگرام ہے؟ کہنے لگا کہ آپ کی نادرا میں کوئی واقفیت ہے میں نے کہا نہیں۔ وہ مایوسی سے کہنے لگا کہ میں 1000 روپیہ رشوت تو نہیں‌دے سکتا۔بڑی مشکل سے گزر بسر ہوتی ہے لیکن کوشش کروں گا کہ صبح اذان ہوتے ہی اٹھ کر نادرا کے دفتر چلا جاؤں تاکہ مجھے ٹوکن مل سکے۔ میں نے پوچھا کہ ٹوکن حاصل کرنے کے بعدشناختی کارڈ کتنے دنوں کے بعد حاصل ہوگا تو وہ کہنے لگا کہ پندرہ دن لگیں گے۔ لیکن پھر دوبارہ شناختی کارڈ حاصل کرنے کے لئے لائن میں لگنا پڑے گا۔

اچانک میرے ذہن میں خیال ‌آیا کہ جب یہ آیا تھا تو اس وقت اس نے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی تو دی تھی۔ میں نے پوچھا کہ تمہارا شناختی کارڈ تو پہلے سے موجود ہے؟ تو وہ کہنے لگا کہ ہاں وہ تو اب بھی ہے لیکن ایکسپائر ہوگیا ہے۔ اس کی بات سن کر میں‌نے جیب سے اپنا شناختی نکالا تو پتہ چلا کہ میرا شناختی کارڈ بھی ایکسپائر ہونے والا ہے یا یوں کہنئے کہ میری پاکستان کی شہریت بھی منسوخ ہونے والی ہے۔میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں‌بھی شناختی کارڈ کی تجدید کرالوں۔ کچھ دن بعد میں بھی شناختی کارڈ کے دفتر پہنچا کہ تودیکھا کہ چار لائنیں لگی ہوئی ہے۔ ایک لائن خواتین کی جو شناختی کارڈ بنوانے یا تجدید کرانے آئی تھی۔ دوسری لائن مردحضرات کی جو شناختی کارڈ بنوانے کے لئے آئے تھے۔ تیسری لائن خواتین کی جو شناختی کارڈ کے حصول کے لئے آئی تھیں اسی طرح چوتھی لائن مردحضرات کی جو شناختی کارڈ کے حصول کے لئے آئے تھے۔ یہ منظر میرے لئے انتہائی ڈراؤنا تھا کہ خواتین وحضرات سخت گرمی اور سخت دھوپ میں لمبی لمبی قطاروں میں‌لگے ہوئے تھے اور اپنی اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔خیر میں بھی چند گھنٹے لائن میں کھڑا ہوگیا اور اپنی باری کا انتظار کرنے لگا لیکن لائن تھی کہ ٹس سے مس نہیں ہورہی تھی اور اوپر سے گرمی اتنی کہ خدا کی پناہ۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ کسی چھاؤں والی جگہ پر سستا لیا جائے۔ میں لائن سے نکلا تو نادرا کے دفتر کے دروازے پر دیکھا جس پر ایک نوٹس لگا ہوا تھا کہ

اقتباس:
نادرا کی طرف سے خصوصی سہولت: جو خواتین وحضرات لمبی لائنوں سے بچنا چاہتے ہیں نادرا نے ان کے لئے ایگزیگیٹو سروس شروع کی ہے۔ شناختی کارڈ کے ٹوکن کی ایگزیکٹیو فیس 1000 روپیہ ہے جبکہ ب فارم کی پانچ سو روپے ہے۔
نادرا
یہ نوٹس میرے لئے چونکا دینے والا تھا۔ کہ نادرا کے اہلکاران کھلے عام رشوت طلب کررہے ہیں۔ میں‌نے وہاں ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی گارڈ سے استفسار کیا تو وہ کہنے لگا کہ یہاں‌ رش بہت ہوتا ہے۔ ہر شخص بے صبری سے اپنی باری کے انتظار میں رہتا ہے۔اور یہاں اکثر لڑائی جھگڑا رہتا ہے اس لئے نادرا کو یہ اقدام اٹھانا پڑا۔ تھوڑی دیر بعد آرام کرنے کے بعد واپس لائن میں اپنی جگہ پر لگنے لگا تو میرے پیچھے کھڑے لوگوں نے احتجاج کرنا شروع کردیا کہ تم ابھی آئے ہو اور لائن میں گھس رہے ہو۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ بھائی میں یہاں پہلے سے موجود تھا، تھک گیا تھا اس لئے کچھ دیر آرام کرنے سامنے والے درخت کے نیچے بیٹھ گیا تھا۔ چند لوگوں نے میرے حق میں گواہی بھی دیدی۔ شام پانچ بجے تک لائن تھوڑی سی آگے ہوئی تو میں نے سوچا کہ وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، چلتے ہیں گھر کو۔

قارئین کرام ! یہ ہمارے ملک کے صرف ایک ادارے نادرا کی صورت حال ہے۔ نادرا کا یہ دفتر بٹ چوک، ٹاؤن شب لاہور میں واقع ہے۔ یہ دفتر آس پاس کے تمام علاقوں جن میں فیصل ٹاؤن، ٹاؤن شپ، گرین ٹاؤن، جوہر ٹاؤن، واپڈا ٹاؤن، کوٹ لکھپت، چونگی امرسدھو، گارڈن ٹاؤن اور دیگر علاقوں کو بھگتاتا ہے۔ یہ لاہور کے اہم علاقے ہیں جہاں آبادی لاکھوں میں ہے۔لیکن نادرا کا سنٹر صرف ایک ہے۔ میں نےدفتر واپس آکر نادرا کے ہیڈ آفس آکر شکایت کرنے کی کوشش بھی کی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا۔ میں نے اس سلسلے میں اپنے ایک دوست سے جو نجی ٹی وی میں‌ملازم ہے فون پر رابطہ کیا اور ساری صورت حال سمجھانے کے بعد درخواست کی کہ وہ اس خبر کو میڈیا پر چلا دے۔ تو وہ قہقہے لگانے لگا اور کہنے لگا کہ کوئی نجی ٹی وی چینل یہ خبر نہیں‌چلائے گا۔ وہ سب تو بڑے بڑے لوگوں کی خبریں چلاتے ہیں

اوباما، زرداری، نوازشریف، گورڈن براؤن۔ غریب لوگوں کی خبر چلا کر انہیں‌کیا ملے گا۔ اس کی بات درست تھی۔ ہمارے میڈیا کو ٹاک شوز، تجزیوں، تبصروں، حکومت کی خبروں سے فرصت ملے تو ان لوگوں کے بارے میں سوچے۔ دوسری طرف حکومت ہے جو یہ دعوٰی کرتی ہے کہ وہ عوام دوست پالیسیاں اپنا رہی ہے۔ حکومت چاہے تو نادرا کے مزید سنٹرز بنوا سکتی ہے تاکہ لوگوں کو سہولت مل جائے ان کا قیمتی وقت ضائع نہ ہو، کسی مزدور کی دیہاڑی نہ ٹوٹے لیکن لائن میں لگائے رکھنا حکومت کی عادت بن چکی ہے کبھی عوام بلوں کے لئے لائن میں لگتی ہے، کبھی‌آٹے ، کبھی پاسپورٹ، کبھی شناختی کارڈ کے لئے۔ حکومت اس بات پر غور نہیں‌کرتی کہ اتنی لمبی قطاریں‌سیکیورٹی کا مسئلہ بھی بن سکتی ہیں۔

وزیر اعلٰی پنجاب جنہیں خادم اعلٰی پنجاب کا لقب دے دیا گیا ہے میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ یہ کیسی خدمت ہے کہ عوام لائنوں میں لگا کرکونسی خدمت کی جارہی ہے۔ دو روپے کی روٹی کردینے سے کوئی خادم نہیں بن جاتا۔ روٹی بندہ تب خریدے جب بندے کے پاس پیسے ہوں، پیسوں کے لئے ضروری ہے کہ محنت مزدوری کی جائے۔ اس طرح لائن میں لگنے سے انسان محنت مزدوری سے رہ جاتا ہے۔ عوام ٹیکس دیتی ہے، وہ آپ کی عیاشیوں کے لئے نہیں‌دیتی بلکہ اس لئے دیتی ہے کہ آپ ان کو سہولتیں اور بہتر زندگی کے مواقع دے سکیں۔ کسی ترقی یافتہ ملک میں سب سے معزز شہری وہ شمار کیا جاتا ہے جو ٹیکس دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں سسٹم ہی الٹ ہے سب سے حقیر وہ شخص ہے جو ٹیکس دیتا ہے۔ اس کی کوئی عزت نہیں۔قوم کو لائنوں میں لگانے سے کوئی ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

اگر آپ چاہتے ہیں‌کہ ملک سوات نہ بنے تو انصاف اور قانون کی بالادستی قائم کریں۔ عوام کو بہتر سہولتیں دیں۔ اگر عوام آپ کو ٹیکس دیتی ہے تو عوام کو سہولیات بھی دے دیں۔ عوام سو روپے کی کوئی چیز خریدتی ہے تو اس پر پندرہ روپے ٹیکس لیتی ہے۔ ورنہ دنیا میں جن حکمرانوں نے عوام پر ظلم کیا، ناانصافی، لاقانونیت کو فروغ دیا وہ عبرت بن گئے ہیں اور کوئی انہیں‌اچھے لفظوں میں یاد نہیں کرتا لیکن جن حکمرانوں نے عوام کی خدمت کی ہے وہ لوگ آج بھی ان کی عوام کے دلوں میں‌زندہ ہیں۔ ملک یا صوبے پر نہیں لوگوں کے دلوں پر حکومت کریں‌۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔

راشد احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 547
Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
rabab (18-04-10), Real_Light (21-05-09), فیصل ناصر (20-05-09), ھارون اعظم (17-04-10), ایس اے نقوی (20-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), رانا امر (21-05-09), رضی (22-05-09), سحر (20-05-09), شریف (17-04-10), عبداللہ آدم (17-04-10)
پرانا 20-05-09, 07:26 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اندھیر نگری چوپٹ راج !
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (20-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), راشد احمد (20-05-09), رضی (22-05-09), عبداللہ آدم (17-04-10)
پرانا 20-05-09, 08:25 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

انتہائی معذرت راشد صاحب کے بڑا لمبا چوڑا تبصرہ لکھا تھا مگر کمبخت ایک اہم خبر آگئی وہ لکھنے لگ پڑا واپس آیا تو دوسرا ساتھی سسٹم پر بیٹھ چکا تھا اور میرا تبصرہ ہوا ہو گیا
خیر کوئی بات نہیں
اچھا تو راشد صاحب سب سے پہلی بات کہ آپ کی یہ تحریر سچ میں حکمرانوں کے منہ پر زور کا طمانچہ ہے مگر افسوس کہ ایسے طمانچوں کی پرواہ کوئی نہیں
اور آپ نادراہ سمیت کسی بھی ادارے میں چلے جائیں آپ کو ہر جگہ پر ایسے ہی حالات دیکھنے کو ملے گے چاہے وہ نادرا ہو ،یوٹیلٹی سٹور ہوں،سوئی گیس بجلی ٹیلفون کا بل جمع کروانا مقصود ہو ہر جگہ لائن اور تو اور سوات سمیت دیگر علاقہ جات میں بھی غریب پسی ہوئی لاچار قوم کو لائنوں میں لگ کر کھانا ملتا ہے کپڑے ملتے ہیں
ہمارا حال اب یہ ہو چکا ہے کہ ہم لوگ (معذرت کے ساتھ) بے حس ہو چکے ہیں ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں ہم زیادہ سے زیادہ آنسو بہا سکتے ہیں کچھ کر نہیں سکتے حالانکہ اگر کرنا چاہیں تو بہت کچھ مگر نہیں ۔ہم کیوں کریں یہ کام تو حکمرانوں کا ہے، اور کبھی تو ہم یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اپنے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں سارا دن گھر سے باہر محنت مزدوری کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیت پالنے کےلئے ہم کیوں ایسےوختوں میں پڑیں
شکایات کے‌حوالے سے آپ شکایات سیل وزیر اعلی لکھ کر لفافہ پوسٹ کر دیں چند دنون بعد صرف چند ہی دنوں کے لئے حالات ٹھیک ہوں گے پھر وہی لوگ وہی دنیا اور وہی ہم
نجی ٹی وہ والے دوست کی بات تو
ہم خبر لگاتے ہیں تو کاروائی کرنا متعلقہ حکام کا ہوتا ہے ہمارا کام نشاندہی کرنا ہوتا ہے اور موجودہ حالات کے مطابق تو ہم لوگ خبر کی اشاعت کے بعد وزیراعلی اور چیف جسٹس آف پاکستان کو خبر کا تراشہ بجھواتے ہیں برائے کاروائی اور اللہ کا شکر ہے کہ موجودہ دور میں ،میں نے جتنی بھی خبریں لگائی ہیں سب پر زبردست کاروائی عمل میں لائی گئی ہے
جیسے ابھی جو خبر آئی وہ کل کے اخبارات میں شائع ہوگی کہ سیالکوٹ کے تھانہ پھلورہ کے علاقہ میں آٹھ ملزمان کی ایک لڑکی سے اجتماعی زیادتی پولیس ملزمان کے ساتھ مل گئی متاثرین کو تھانہ سے دھکے دے کر نکال دیا گیا اس خبر میں میرے ایک دوست ایس ایچ او کا بھی ذکر تھا جو تھانہ صدر سیالکوٹ میں تعینات ہے میں نے اس کو فون کیا تو پتہ چلا کہ اس کا نام صرف اس لئے لیا جا رہا ہے کہ اس نے متاثرین کے‌کلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا جو 4 سال قبل کا تھا
اب میری کوشش یہ ہے کہ مذکورہ خبر کو چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعلی تک پہنچا دوں
آپ اپنے نجی ٹی وی والے دوست کو کہیں کہ تم خبر اخبار میں لگوا دو عوامی شکایات پر فلاں اخبار کی تیم نے نادرہ سنٹر کا دورہ کیا اور متاثرین کے نام خود سے لکھ دے اور ساتھ ذرائع کا ذکر کرے کہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ وہاں فی‌توکن 1000 روپے وصول کئے جاتے ہیں
اور اس کی کٹنگ انکوئری کےلئے بجھوا دے
شکریہ
اور ایک اچھی تحریر پر میری طرف سے مبارکباد وصول ہو امید ہے کہ آپ ہمارے منہ پر ایسے طمانچے روزانہ مارتے رہے گے اللہ آپ کو توفیق دے اور ہمیں شرم دے آمین ثم آمین
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
rabab (18-04-10), Real_Light (21-05-09), فیصل ناصر (20-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), راشد احمد (21-05-09), رضی (20-05-09)
پرانا 20-05-09, 08:56 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ انجم بھائی
میں اس سلسلے میں مختلف اخبارات کو یہ مضمون بھیج رہا ہوں۔ اگر کسی نے نہ بھی شائع کی تو دوبارہ بھیجتا رہوں گا۔ ایک دو اخبارات نے اچھا ریسپانس بھی دیا ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-05-09), ایس اے نقوی (21-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), رضی (21-05-09), عبداللہ آدم (17-04-10)
پرانا 20-05-09, 10:51 PM   #5
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

الحمدللہ یہاں‌کرچی میں صورتحال مختلف ہے، نارتھ کراچی، اور شاہراہ فیصل جیسی گنجان علاقوں کی برانچز کا کا تو مجھے ذاتی تجربہ ہے۔
اور کراچی کے سوئی گیس کے محکمے کا بھی بہت بہتر انتظام ہے۔

راشد احمد مجھے آپ سے ہمدردی ہے، شئیرنگ کا شکریہ!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (21-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), راشد احمد (21-05-09), رضی (21-05-09)
پرانا 21-05-09, 12:03 AM   #6
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی کل جب میں ساہیوال پہنچا تو رکشہ پر بیٹھ کر گھر جا رہا تھا صبح 6 بجے کا وقت ھو گا تقریباً ۔ رستے میں نادرہ کے آفس کے سامنے کیا دیکھتا ھوں 20 سے 25 لوگ دھرنا مار کر بیٹھے ھوئے ہیں میں حیران تھا کہ آفس کا وقت تو 8 بجے سے پہلے نہیں ھو گا پھر یہ اتنی جلدی کیوں بیٹھے ھوئے ہیں اب پتا چلا کہ ہم آج بھی وہیں کڑھے ہیں جانے ہم کب سدھریں گے
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے رضی کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-05-09), ایس اے نقوی (21-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10)
پرانا 21-05-09, 02:11 PM   #7
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راشد احمد مراسلہ دیکھیں
شکریہ انجم بھائی
میں اس سلسلے میں مختلف اخبارات کو یہ مضمون بھیج رہا ہوں۔ اگر کسی نے نہ بھی شائع کی تو دوبارہ بھیجتا رہوں گا۔ ایک دو اخبارات نے اچھا ریسپانس بھی دیا ہے۔
ویلکم تو نہیں کہہ سکتا پر یو کم کم کہہ سکتا ہوں
اور روزنامہ جنگ بہے کم کسی کا کالم شائع کرتا ہے اگر آپ کالم شائع کروانے چاہتے ہیں تو روزنامہ اوصاف لاہور،روزنامہ پاکستان اسلام آباد،روزنامہ کائنات اسلام آباد،روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ایڈیٹر کے نام داک ارسال کر سکتے ہیں اور اگر الفاظ بہت کم ہین تو اس کو مراسلہ کی‌صورت میں لکھ کر ارسال کر سکتے ہیں اور ساتھ اپنے شناختی کارڈ کی کاپی
شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
Real_Light (21-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), رضی (22-05-09)
پرانا 21-05-09, 02:15 PM   #8
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اپ اس کی رشوت خوری کے بینر کی ایک تصویر لا کر دیں ہم سرورق پر اسکو مستقل ڈال دیں گے جب تک اس حرام حوری سے عوام کو نجات نہ مل جائے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
rabab (18-04-10), پاکستانی (21-05-09), ایس اے نقوی (21-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), راشد احمد (21-05-09), رضی (22-05-09), عبداللہ آدم (17-04-10)
پرانا 21-05-09, 04:01 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ منتظمین بھائی

میں‌نے اپنے موبائل کیمرے سے اس کی تصویر بنانے کی کوشش کی تھی۔ دھوپ اور موبائل کا کیمرہ کم پکسل ہونے کی وجہ سے دور سے صاف نہیں‌کھینچی جاسکتی تھی۔ میں نے قریب جاکر کھینچنے کی کوشش کی تو سیکیورٹی گارڈ نے اجازت نہ دی۔ میری ان سے تلخ کلامی بھی ہوئی لیکن وہاں موجود دو پولیس اہلکارآگئے اور مجھے دروازہ سے دور رہنے کا کہنے لگے۔

میں نے اس سلسلے میں روزنامہ خبریں‌سے رابطہ کیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہم لگے اس نوٹس اور وہاں لوگوں کی صورتحال ضرور معلوم کریں گے اور اسے اخبار میں شائع کردیں گے۔ مجھے جیسے ہی وہاں کی تصاویر ملتی ہیں میں اسے انٹرنیٹ پر شائع کردوں گا۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (21-05-09), فیصل ناصر (21-05-09), منتظمین (21-05-09), ایس اے نقوی (22-05-09), ام غزل (21-05-09), حیدر (04-05-10), رضی (22-05-09)
پرانا 21-05-09, 05:37 PM   #10
ناظم اعلی
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مراسلات: 2,866
کمائي: 28,498
شکریہ: 10,920
1,995 مراسلہ میں 4,853 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ہمارے ملک کے حالات اور ہماری غریب عوام پر رحم فرمائے !
آمین ۔
ام غزل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ام غزل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (21-05-09), ایس اے نقوی (22-05-09), حیدر (04-05-10), رضی (22-05-09)
پرانا 17-04-10, 05:16 PM   #11
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اچھی تحریر ہے۔ نادرا کے دفتر کے بہت چکر کاٹے ہیں میں نے۔ سفارش کے بغیر تو کام ہونے سے رہا۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (04-05-10)
پرانا 17-04-10, 05:33 PM   #12
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نادرا میںکچھ ایسے لوگوں کو بھی بٹھایا گیا ہے (یا وہ فطرتا ہی ایسے ہیں۔۔ اس میں نادرا کا قصور نہیں )
جو خواتین سے فارم بھروانے کے علاوہ بھی" مشکوک انداز "میں ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں سوالات اور بلا وجہ تنگ کونے کی کوشش کرتے ہیں
اگر کوئی خاتون انھیں اس حرکت ہر ٹوک دے تو خاموش ہوجاتے ہیں۔۔
جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا یہ فارم میں درج معلومات کا حصہ ہے ۔۔۔ تو ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا
شکایت کی جائے تو کہا جاتا ہے کہ ہم تو یہاں ڈیوٹی پر پر ہیں آپ " اوپر " والوں سے رابطہ کریں ۔۔
اور اوپر والے کہیں مل جائیں تو ضرور رابطہ بھی کیا جاسکے ۔۔
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (17-04-10), حیدر (04-05-10)
پرانا 17-04-10, 05:34 PM   #13
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے نادرہ کے عملے کے دوسرے ارکان مہذب ہیں لیکن ایک آدگ کالی بھیڑ موجود ہوتی ہے
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
ARHAM کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (04-05-10)
پرانا 17-04-10, 05:37 PM   #14
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نادرا بحیثیت مجموعی اچھا ادارہ ہے لیکن بہتری کی گنجائش ہے۔ کالی بھیڑیں تو معاشرے میں ہرجگہ موجود ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (04-05-10)
پرانا 17-04-10, 08:24 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 456
کمائي: 10,007
شکریہ: 147
332 مراسلہ میں 834 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ویسے میرا ابھی تک نادرا سے واسطہ نہیں پڑا کیونکہ میں عورتوں سے دور ہی رہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔
شریف آف لائن ہے   Reply With Quote
شریف کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (04-05-10)
جواب

Tags
فوٹو, فارم, کارڈ, پاکستان, لوگ, چینل, آبادی, آج, انسان, احتجاج, بھائی, تصویر, خواتین, خوش, خبر, خدا, دوست, درخواست, رات, زندگی, شام, شخص, عزت, صورتحال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ائیر پورٹ پر خواجہ سراﺅں کی تلاشی عورتیں لیں‘ سندھ ہائیکورٹ کا حکم گلاب خان خبریں 0 29-01-11 03:41 AM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
لاہور کی سڑکوں پر عوام کا راج، جڑواں شہروں میں‌معمولات زندگی معطل ابن جلال خبریں 1 15-03-09 06:38 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM
پاکستانی عوام کے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے پر مشکور ہیں‘ فریدہ بہن جی پاکستانی خبریں 0 15-08-07 05:54 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger