واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


لوٹ کے بدّھو گھر کو آئے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-02-11, 07:00 PM   #1
لوٹ کے بدّھو گھر کو آئے
زارا زارا آف لائن ہے 19-02-11, 07:00 PM

سائنفیلڈ کو جدید نسل ساری دنیا میں بہت اچھی طرح جانتی ہے، اور ان کے ۱۹۹۸-۱۹۹۰ کے دوران پیش کیے جانے والے مزاحیہ پروگرام آج بھی ذوق و شوق سے دیکھے جاتے ہیں۔

جیری سائنفلیڈ ۱۹۵۴ میں لانگ آئیلنڈ نیویارک میں پیدا ہوئے۔ وہ ہنسی خوشی شادی شدہ زندگی گزار رہے ہیں، اور ان کے ۳ بچّے ہیں۔

۔سائنفیلڈ نے ۲ کتابیں تحریر کی ہیں، اور ایک عدد دل چسپ فلم بی مووی بھی بنائی۔ پاکستان میں ان کی مماثلت پاکستانی فنِ مزاح کے ایک بڑے ستون معین اختر سے قرار دی جاسکتی ہے۔ اگرچہ سائنفیلڈ دنیا میں زیادہ مقبول کہے جاسکتے ہیں۔ تاہم وہ خود یہ کہتے ہیں کہ وہ افریقن امریکن ادیب و اداکار، بل کوسبی سے بہت متاءثر ہیں۔

مندرجہ ذیل مضمون ان کی ۱۹۹۳ میں تحریر اور شائع ہونے والی انگریزی کتاب "سائن لینگویج" سے منتخب کیا گیا ہے، اور بلا شبہ یہ عصر حاضر کے امریکی مزاح کی ایک شاہ کار نمائندہ تحریر ہے۔ ہم اُمّید کرتے ہیں کہ یہ آپ کو اتنا ہی پسند آئے گا، جتنا کہ ہمیں اچھا لگا، اور اسی لیے ہم نے اسے آپ کی خدمت میں اردو میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔۔

جب آدمی ایک خاص عمر کو پہنچتا ہے تو اسے کچھ ہوجاتا ہے۔ دنیا بھرکی خبریں اُس کی زندگی کی سب سے اہم چیز بن جاتی ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میرے بابا جان کو بھی یہ خصوصیت لاحق ہوگئی۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے انہیں کبھی بھی خبروں کے سامنے سے اُٹھتے دیکھا ہو۔ مجھے صرف دوسرے کمرے میں ٹی وی چل پڑنے کی آواز آتی، اور مجھے پتہ چل جاتا کہ اب 11 بج گئے ہیں۔ وہ گھر میں جہاں کہیں ہوتے، وہ فضاء میں تحلیل ہوکر ٹی وی کے سامنے نمودار ہوجاتے۔

تمام باباؤں کو ایک دن یہ وہم ہوجاتا ہے کہ بس انہیں محکمہء خارجہ سے فون آنے ہی والا ہے۔ “ سنیے، ہم مشرقِ وُسطیٰ کے جھمیلہِ میں بُری طرح پھنس گئے ہیں۔ آپ تو خبریں دیکھتے رہے ہیں۔۔ اب آپ ہی بتائیے کہ ہم اس مسئلہ سے کس طرح نمٹیں!”۔۔

اب میں اپنی عمر کے اُس حصّہِ میں ہوں، جہاں میرا کردار والدین کے ساتھ اُلٹ پلٹ چکا ہے۔ اب میں جب ان کے ساتھ خریداری کے لیے جاتا ہوں تو مجھے ان کا خیال کسی بطخیوں (بط بچّوں) کی طرح رکھنا پڑتا ہے۔ وہ ہر جانب گھومنے نکل جاتے ہیں، قیں، قیں، قیں کرتے۔ میں انہیں یک جا رکھنے کی کوشش کرتاہوں۔ “ امّی، بابا جان تو 3 بلاک1 آگے نکل چکے ہیں۔۔۔ میں انہیں جا لوں، یا آپ ہی تیزی دکھا کر انہیں پکڑ دکھائیں گی؟ بابا، رُکیں۔ آپ کو اِن چیزوں کو گھُورنے کی ضرورت نہیں، یہ تو ہرجگہ مل جاتی ہیں۔ قیں، قیں، قیں، قیں۔ چلیں ٹھیک ہے۔ اب ایک قطار بنائیے۔ اب ہم اشارہ ملنے پر یہاں سے سڑک پار کریں گے۔ قیں ۔۔ اوکے، چلیں، اب اشارہ سبز ہوچکا ہے۔ چلیں، چلیں۔۔ قیں، قیں، قیں” ۔۔

اب میں ان کے ساتھ بازار جانے سے انکارکردیا کرتا ہوں۔ جب بھی وہ میرے ساتھ باہر جانا چاہتے ہیں، میں انہیں ایک چھوٹے تالاب لے جاتا ہوں۔ انہیں وہاں تیرنے دیتا ہوں، پھر خُشک کرتا ہوں، اور انہیں گھرلے آتا ہوں۔

میرا بوڑھوں کے بارے میں یہ خیال ہےکہ ان کے متعلّق ہر چیز مُختصر ہوتی جاتی ہے۔ آپ جانتے ہی ہیں، ان کا جسم چھوٹا ہوتا جاتا ہے، وہ صرف تنگ جگہوں میں گھوم پھر سکتے ہیں، وہ سونا کم کردیتے ہیں، وہ کھانا کم کھاتے ہیں ۔۔۔ سوائے کار کے یہ خیال ہر دیگر چیز کے بارے میں درست ثابت ہوتا ہے۔ وہ جتنا عمررسیدہ ہوتے جاتے ہیں، ان کی کاریں اتنی ہی بڑی ہوتی جاتی ہیں۔ وہ سب ڈیٹرائٹ کی دیوزاد امریکن گاڑیاں چلاتے ہیں۔ یہ معاملہ میری سمجھ میں کبھی نہیں آیا۔ اور سونے پر سُہاگہ یہ کہ ان کا گھر سےگاڑی نکالنے کا انداز بھی عجیب ہوجاتا ہے۔ وہ نکلتے ہوئے ، ریورس کرتے، ایک طرف نہیں ہوجاتے، بلکہ سیدھا سڑک پر کار لے جاتے ہیں۔ ان کا روّیہ یہ ہوتا ہے: “ میں اب اتنا عمر رسیدہ ہوچکا ہوں، اور میں اب زندگی سے لُطفِ نَو اُٹھانے واپس آرہا ہوں۔۔ میں نے اس دنیا میں خاصہ عرصہ گزارلیا ہے، حضرت، اب آپ ہی خود سنبھلیں۔ میں تواب تک محفوظ رہا ہوں، اب دیکھتے ہیں کہ آپ کیسے بچ نکلتے ہیں مجھ سے ۔۔۔

اور جب وہ سڑکوں پر نکل پڑتے ہیں، تو وہ اپنی کار کو کچھوے کی چال چلاتے ہیں۔ حالانکہ میرا خیال ہے کہ اگر آپ کے پاس زندہ رہنے کے لیے کم وقت رہ گیا ہے تو آپ کو اُتنی ہی تیزرفتاری دکھانا چاہیے! ۔۔ میں سمجھتا ہوں کہ بوڑھوں کو انکی عمر کے حساب سے کار کی رفتار کی اجازت ہونا چاہیے۔ اگر آپ کی عمر 80 ہے، تو 80 میل4 فی گھنٹہ چلائیں۔ اگر آپ 100 برس کے ہورہے ہیں تو 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سرپٹ جائیں۔

ویسے بھی اس عمر میں نظر کمزور ہوجاتی ہے، کم نظر آتا ہے، ایسے میں وہ اگر سڑکوں پر کچھ مزے اُڑالیں تو کیا حرج ہے!۔

اب اوسط عمر مردوں کےلیے 72 اور عورتوں کی 75, 76 کے لگ بھگ ہوچکی ہے۔ یہ کتنا حیرت ناک امر معلوم ہوتا ہے کہ صرف دوہزار برس پہلے لوگوں کی زندگی 30 برس تک ہوتی تھی۔ جس کا آج کے حالات کے مطابق یہ مطلب ہواکہ آپ 5 برس کی عمر میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرلیں، 9 برس کی عمر میں شادی، 15 برس کے ہونے پر طلاق، اور جب آپ تیسرے عشرہ میں داخل ہوں تو اپنا آخری وقت گزارنے فلوریڈا چلے جائیں۔ میرا خیال ہے کہ بہار کی تعطیلات کی ریت کچھ اسی طرح پڑی ہو گی۔

اور پھر لوگ آپ کے بارے میں کچھ اس طرح اظہارِ خیال کررہے ہوں گے، جیسے کہ: ' دیکھیں تو، کتنی انوکھی بات ہے، وہ 28 برس کا ہوگیا ہے، مگر اب بھی بڑا چاق و چوبند ہے۔ اس کا دماغ تو ایسے چلتا ہے، جیسے کہ کسی 11 سال کے آدمی کا! ۔۔

آپ کو اس وقت ادراک ہوجاتا ہے کہ اب آپ بھی بڑھاپے کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں، جب آپ کے (سالگرہ کے) کیک پر صرف ایک عدد موم بتّی جلائی جاتی ہے۔ یہ ایک طرح کا چیلنج ہوتا ہے: ' دیکھتے ہیں کہ آپ اسے بجھا کر دکھا بھی سکیں گے یا نہیں؟ '۔۔ایک اور چیز جس سے مجھے خوف سا آتا ہے، وہ یہ موقع ہوتا ہے، جب سب مل کر آپ کو اس پھُونک بازی میں مدد دینے پر مُصِر ہوجاتے ہیں۔ آپ نے وہ سالگرہیں تودیکھی ہوں گی، جن میں سب لوگ مل کر کسی بابے کے پیچھے کھڑے ہوجاتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ پھونک مارنا شروع کردیتے ہیں۔ یہ ایک دلگداز منظر ہوتا ہے۔ کیوں کہ ان بوڑھے باباؤں کو یہ پتہ نہیں چلتا کہ یہ لوگ ان کی مدد کررہے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں: ' دیکھو ذرا، میں ان تمام موم بتیوں کو بجھائے دیے رہا ہوں۔ حالانکہ میں( پھونک مارنے کے بجائے ) سانس اندرکھینچ رہا ہوں۔ میری صحت کیسی قابلِ رشک ہے۔ میں ایک لمبے عرصہ تک زندہ رہوں گا۔'۔

یہ تو سب ہی جانتے ہیں کہ ہم ہروقت، وقت بچانے میں لگے رہتے ہیں۔ ڈنڈی مارتے ہوئے، مختصر راستے اپناتے ہیں۔

لیکن آپ جتنا چاہیں وقت پس انداز کرلیں، زندگی کے آخری لمحات میں آپ کا وہ بچا یا ہوا وقت کسی کام کا نہیں ہوتا۔

آپ کے ذہن میں یہ خیالات منڈلارہے ہوں گے، “ آپ کا کیا مطلب ہے کہ میرے پاس کوئی وقت نہیں بچا؟ میں تو مائکروویو اوون استعمال کرتا تھا، میرے جوتے بغیر تسمِہ کے تھے، ٹائی تک کلپ والی تھی۔ یہ سب وقت کہاں گیا؟'۔

مگر اب ایسا کوئی محفوظ وقت موجودنہیں ہوتا۔ کیونکہ، جب آپ زندگی میں اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، وہ اس بچت میں سے نکال لیا جاتا ہے۔، جیسے کہ اگر آپ نے سلطان راہی2 کی تمام فلمیں دیکھی ہوں، توایسا وقت منہا کرلیا جاتا ہے۔

چنانچہ آپ کو ہوشیار رہنا چاہیے۔

آپ طویل فاصلہ طےکرنے کے لیے کنکورڈ طیّارہ مِیں سفر کرسکتے ہیں۔۔ لیکن اگر انہوں نے آپ کو دورانِ سفر 'مغلِ اعظم'3 فلم دکھا دی، تو آپ خود کو دوبارہ پہلے قدم پر ہی کھڑا پائیں گے۔

میرا تو یہ خیال ہے کہ زندگی کا حاصل صرف ایک امر ہے۔ وہ ہے حرکت یا انتقال، یعنی گھر منتقل کرنا۔ بدقسمتی سے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم حرکت کرنے اور منتقل ہونے کے لیے بَکس (کارٹن) ہی ڈھونڈنے میں مگن رہتے ہیں۔

جب آپ منتقل ہورہے ہوتے ہیں تو آپ کی دنیا کا محور بَکس ہی ہوتے ہیں۔ آپ صرف ان کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ 'بکس، کارٹن، یہ کہاں ملیں گے؟' آپ سڑکوں پر، دکانوں کے اندر، باہر گھومتے رہتے ہیں۔' کچھ بکس مل جائیں گے؟ کیا آپ نے کوئی بکس دیکھے ہیں؟' آپ صرف یہی سوچتے رہتے ہیں۔ آپ لوگوں سے بات کرنا تک ترک کردیتے ہیں۔ آپ اپنی توجہّ اور کسی بات پر مرکوز ہی نہیں کرسکتے۔ ' کیا آپ خاموش رہ سکتے ہیں،میں بکسوں کی تلاش میں ہوں !۔۔' ۔

کچھ عرصہِ کے بعد آپ کسی جاسوس ، سراغرساں کتّے کی مانند ہوجاتے ہیں، جو کسی مجرم کی بُو سونگھتا پھرتا ہے۔آپ کسی اسٹورمیں داخل ہوتے ہیں۔ ' اوہ بکسے، یہ سامنے ہی تونظر آرہے ہیں۔اب یہ نہ کہیے کہ آپ کے پاس کارٹن بکسے نہیں ہیں۔ لعنت ہو، میں تو سونگھ کر ہی بتاسکتا ہوں!'۔ میں بکسوں کے جنون میں مبتلا ہوچکا ہوں۔ مجھے کارڈ بورڈ کی خوشبو سے محبت ہوگئی ہے اور ہرصبح مجھے یہی پسندیدہ خوشبو درکار ہوتی ہے۔' ۔ آپ کسی جنازہ میں شرکت کررہے ہیں۔ ہر شخص غم زدہ ہے۔ آپ کے اطراف لوگ رورہے ہیں۔ اور آپ تابوت کی جانب پُر شوق نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ ' یہ ایک مناسب بکس ہے۔ کیا کسی کو پتہ ہے کہ اس مُردے نے یہ کہاں سے خریدا تھا؟ جب اُسے اِس کی ضرورت نہیں رہے گی، تو شاید میں اسے حاصل کرسکوں؟ اس میں کتنے اچھے قبضے اور ہینڈل لگے ہیں۔ میرا اسٹیریو میوزک سسٹم اس میں بالکل فٹ آجائے گا۔۔'۔

میرا مطلب ہے کہ، موت اصل میں کیا ہے، یہ آپ کی زندگی کی آخری بڑی منتقلی ہے۔ جنازہ کار ایک سامان لے جانے والی وین کی مانند ہے۔ جنازہ کو کاندھا دینے والے آپ کے دوست ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر آپ اپنی زندگی کی اس سب سے بڑی منتقلی، انتقال، جیسے اہم کام کے لیے بھروسہ کرسکتے ہیں۔ اور یہ بکس بھی شاندار ہے۔ ایک ایسا مناسب ترین بکس، جسے آپ اپنی ساری زندگی تلاش کرتے رہے۔ مشکل صرف یہ ہے کہ جب آپ اسے حاصل کرلیتے ہیں، تو آپ اس کے اندر ہوتے ہیں۔

تحریر: محمد بن قاسم
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 85
Reply With Quote
جواب

Tags
کارڈ, پاکستان, پاکستانی, پسند, پسندیدہ, قدم, نظر, موم, موت, منتقل, منتقلی, محبت, مزاحیہ, معلوم, آج, آدمی, اردو, تلاش, ترک, دیکھو, دوست, زندگی, سالگرہ, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لوٹ کے بدھو گھر کو آئے Hashims قہقہے ہی قہقے 2 28-09-11 09:40 PM
نوٹ بک میں ونڈو ایکس پی انسٹال نھی ھو رھی وقاص0097 Ask Experts ماہرین کی رائے 7 25-07-11 01:26 PM
دیکھو پھر تم ہمیں رلانے بیٹھ گئے ھو The Great شعر و شاعری 0 14-08-09 09:12 PM
5 روپے کا نوٹ ؟ ”لوٹ‌کے بدھو گھر کو آئے“ میاں شاہد دلچسپ اور عجیب 0 09-06-08 11:22 AM
پردۂ شب کی اوٹ میں زہرہ جمال کھو گئے خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 0 05-01-08 01:28 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:44 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger